کشش ثقل، دہشت اور انکار کی نفسیات


akhtar-ali-syed  علم نفسیات کے ساتھ وابستگی کے تیس سال گزرنے کے بعد جو احساس روز بہ روز شدید تر ہوتا جاتا ہے وہ انسان کی انسانی ذہن سے بڑھتی ہوئی مغایرت، دوری اور خوف سے متعلق ہے۔ اس بڑھتی ہوئی دوری اورذہن کو نظر اندازکرنے کا ایک رخ وہ ہے جو جناب مبشر زیدی صاحب نے اپنی تحریر میں بجا طور پر دکھایا ہے۔ میڈیا اس بات سے یکسر بے نیاز دکھائی دیتا ہے کہ اس کی چھاپی یا دکھائی ہوئی خبریں، ان کو بیان کرنے کا انداز اور اس کے لئے استعمال ہونے والے الفاظ عام آدمی کو ذہنی اور نفسیاتی طور پر کس طرح اور کس قدر متاثر کرتی یا کر سکتی ہے۔ آج صبح جب وزیر اعظم ایک بس سروس کا افتتاح فرمانے کے لئے پہنچے تو ایک ٹی وی چینل کی نیوز ریڈر نے وہ خبر ایسے بیان کی کہ لگا وزیر اعظم افتتاح کرنے نہیں، کسی کو قتل کرنے کے لئے پہنچ گئے ہیں۔ اخبارات کی سرخیاں، بیانات میں استعمال ہونے والی زبان، اور ٹاک شوز میں ہونے والی گفتگو سنیے۔ آپ زیدی صاحب سے متفق ہوئے بغیر نہیں رہ سکیں گے۔ تاہم سنسنی پھیلانے اور جلد شہرت کے حصول کی خاطر میڈیا ورکرز کی کار گزاریاں نسبتاً کم نقصان دہ ہیں۔ آیئے چند اور پہلوﺅں کا جائزہ لیتے ہیں جہاں ذہن انسانی کو نظر انداز کرنے اور دیرپا نقصان پہنچانے کی دانستہ اور نادانستہ کوششیں کی گئی ہیں

کوئی بھی انسان جو کچھ کہتا یا کرتا ہے وہ اس کی ذہنی ساخت کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ انسان کا بیان اور عمل اس کے ذہن، اس کی ساخت اور اس کو تشکیل دینے والے عوامل سے الگ کر کے نہیں سمجھے جا سکتے۔ داعش، القاعدہ اور طالبان جیسے گروہوں کی تشکیل میں سیاسی عوامل کی موجودگی سے کون انکار کر سکتا ہے لیکن ان گروہوں نے جس طرح اپنے لشکریوں کو مرنے مارنے کی کارروائیوں پر آمادہ کیا، وہ طریقہ گہرے مطالعے کا متقاضی ہے۔ جس طرح مذہب کی مبادیات اور شعائر سے نابلد افراد کفار کی سرکوبی کے لئے خود کش دھماکوں میں اپنی جانیں دیتے رہے ہیں۔ یہ حقیقت اس بات کو کھول کر بتاتی ہے کہ ان افراد کا عمل کسی خاص بیانیے، تبلیغ یا مذہبی تعلیم کے زیر اثروقوع پذیر نہیں ہوا۔ اس لئے کہ ان افراد کی اکثریت کسی بھی بیانیے، فلسفے یا تعلیم کی تفہیم سے بے بہرہ ہے۔ ان گروہوں میں شامل افراد کی اصلاح بیانئے کی ترمیم یا تصحیح سے نہیں ہوگی۔ بلکہ اس ذہن کو مخاطب کرنا ہوگا جو اس خون آشام بیان اور عمل کا براہ راست ذمہ دار ہے۔ لیکن آپ دیکھ سکتے ہیں کہ مخلص اور قابل ترین حضرات نے ابھی تک اس ذہن کو اپنا مخاطب نہیں بنایا۔ بیان اور عمل صرف ذہنی ساخت کا پتا دیتے ہیں۔ بیان اور عمل کی تبدیلی ذہنی ساخت کو تبدیل نہیں کر سکتی (ان گروہوں کی صدیوں پر محیط حیات اس بات کا ثبوت ہے) نفسیات کے جو مکتبہ ہاے فکر بیان و عمل کو تبدیل کر کے ذہنی ساخت تبدیل کرنے کے مدعی تھے نفسیات میں ہونے والی تحقیق نے ان مکاتیب فکر کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آپ دیکھ سکتے ہیں ہماری زندگیوں پر حالیہ وقتوں میں اثر انداز ہونے سب سے اہم مسلے (دھشت گردی) کے حل کے لئے انسانی ذہن ابھی تک کسی کوشش کا محور اور مرکز نہیں بنا۔

تصویر کا دوسرا رخ دیکھئے۔ 35برس سے مسلسل دہشت گردی کا نشانہ بننے والے معاشرے اور اس کے افراد کے اذہان پر اس قتل و غارت گری کے اثرات کو دیکھیں۔ جن معاشروں نے مسلسل دھشت گردی کا سامنا کیا ہے وہاں پوسٹ ٹراماٹک سٹریس ڈس آرڈر PTSD سے متاثر ہونے والے افراد کی شرح 20 سے93 فی صد تک پائی گئی ہے۔ برطانیہ میں ہونے والی ایک کانفرنس میں اس طالب علم نے یہ عرض کیا تھا کہ PTSD اصل میں فرد کو دہشت زدہ کردینے والے واقعے کے ختم ہونے کے بعد پیدا ہونے والی ذہنی کیفیات کا بیان ہے۔ عراق، پاکستان، افغانستان، شام اور فلسطین جیسے ملکوں کے افراد کے لئے دoشت زدگی کے واقعات ختم نہیں ہوuے بلکہ روز کا معمول ہیں۔ اس لئے PTSD ان ممالک کے باسیوں کی ذہنی حالت جانچنے کا مناسب پیمانہ نہیں ہے۔ ذہنی صحت کی سائنس کو ان افراد کی حالت سمجھنے کے لئے نئی اصطلاح وضع کرنا ہوگی۔

اس خالصتا درسی گفتگو کی اہمیت اپنی جگہ پر لیکن دہشت زدگی کے شکار افراد کی مدد کے لئے کیا کوئی منظم کوشش کی گئی؟ پشاور کے سانحے میں متاثر ہونے والے بچے اور ان کے خاندان آج بھی اپنی ذہنی حالت کے ساتھ ماہرین کے منتظر ہیں۔ ان تک پہنچنے کی ہماری تمام کوششیں نامعلوم وجوہات کے سبب ناکام ہو گئیں۔ آپ دیکھ سکتے ہیں کہ جسمانی طور پر متاثر ہونے والوں کو علاج کے بیرون ملک بھی بھجوایا گیا مگر ذہنی طور متاثر ہونے والوں کو مدد کی فراہمی رکاوٹوں کا شکار ہو گئی۔ یہ بات سمجھنے کے لئے نفسیات کا طالب علم ہونا بھی ضروری نہیں کہ جسمانی زخم ذہنی صدمے سے زیادہ اہم سمجھے گئے۔ جسم کو اہمیت دی گئی اور ذہن نظر انداز ہوا۔ ایک بات PTSD کے حوالے سے یاد رکھنے کے لائق ہے کہ اگر اس کا علاج نہ ہو تو یہ شخصیت میں دور رس اور منفی تبدیلیوں کی وجہ بنتا ہے۔ اس صورت حال کو جب ایک تحقیقاتی مجلے میں بیان کیا گیا تو ایک تبصرہ یہ تھا کہ مصنف نے معاشرے کی اکثریت کو ابنارمل ثابت کرنے کی کوشش کی ہے جبکہ اس طالب علم کا اصرار تھا کہ اتنی طویل اور خوفناک دہشتگردی کا سامنا کرنے کے بعد نارمل رہنے والے نارمل انسان نہیں ہیں۔ بہتے خون، ھوا میں اڑتے ہوئے انسانی اعضا اور جلتے ہوے انسانی بدن دیکھنا اور دیکھتے چلے جانا اور کچھ محسوس نہ کرنا۔ کیا یہ نارمل ہے؟ کانفرنس میں کچھ ماہرین کی راے تھی کہ ہمارے لوگوں کی قوت برداشت بہت اچھی ہے۔ دہشت گردی کی واردات کے چند ہی گھنٹوں کے بعد اس علاقے میں زندگی اس طرح رواں دواں ہو جاتی ہے جیسے وہاں کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ گزارش کی کہ یہ برداشت Resilience نہیں بلکہ بے حسی Numbness ہے۔ یہ کیفیت مسلسل صدمے اٹھانے کے بعد اس وقت ہوتی ہے جب ذہن مزید صدمہ جھیلنے کے قابل نہیں رہتا اور آس پاس سے ذہنی طور پر لاتعلق ہوجاتا ہے۔ وہ اندھی آنکھوں سے دیکھتا، بہرے کانوں سے سنتا اور مفلوج اعضا سے حرکت کرتا ہے۔ اس ذہنی حالت کا علاج نئی سڑکیں، ان پر دوڑنے والی نئی بسوں اور دانشوروں کے نئے رشحات فکر و قلم میں نہیں ہے جن کو عمومی طور علاج گردانا جا رہا ہے۔

انسانی ذہن اور اس کی صلاحیت کو کمزور بلکہ سبوتاژ کرنے کی ایک اور کوشش ان مسکن ادویات کے استعمال میں دیکھی جا سکتی ہے جو ہمارے ملک میں معالج کے نسخوں کے بغیر ہر کسی کو بآسانی دستیاب ہیں۔ مجھے فارمیسی کے ایک سیلز مین کا جملہ آج تک یاد ہے جب اسے ایک ایسی دوا بغیر نسخے کے دیتے دیکھا جو نشے کی عادت کے شکار افراد کثرت سے استعمال کرتے ہیں میرے استفسار پر اس نے کہا “یہ دوائیں تو لوگ چنے کی طرح کھاتے ہیں” غور فرمائیں جو ذہنی کیفیت کسی خاص واقعے یا تجربے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہو اس سے نجات پانے کے لئے صرف دوائیں کھائی جائیں اور اس تجربے کے ساتھ ذہنی ہم آہنگی پیدا کرنے کا کوئی اہتمام نہ ہو توکیا آرام کی کوئی دیر پا صورت ممکن ہو سکتی ہے؟ دواؤں کا حد سے زیادہ، غیر محتاط اور طویل مدت تک استعمال ذہنی کیفیات اور مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت کے فقدان کی نشاندہی کرتا ہے۔

جناب عاصم بخشی صاحب نے اپنی ایک حالیہ تحریر میں ’رد عمل کی نفسیات‘ کا تذکرہ فرمایا ہے۔ انہوں نے اس ترکیب میں معانی کا سمندر سمو دیا ہے۔ نو آبادیاتی استعمار کی شکار محکوم قوموں میں اس نفساتی رجحان کی نشاندہی فرانز فینان اور بھابھا جیسے مفکرین نے کی ہے۔ اس طالب علم نے اپنے کام میں رد عمل کی نفسیات کی چھ ممکنہ صورتیں دریافت کی ہیں۔ اس وقت جو امر غور طلب ہے وہ یہ ہے کہ کیا محکوم قوموں کو علم ہے کہ ان کی ذہنی حالت کیا ہے؟ وہ کس طرح مغرب اور دیگر حاکم قوموں اور گروہوں کے ساتھ ایک معاندانہ اور متضاد جذبات پر مبنی تعلق استوار کر چکی ہیں۔ مغرب سے آنے والی ہر بات انہیں کیسے متاثر کرتی ہے۔ ان کو غصہ دلاتی ہے۔ وہ کس طرح اس کی تردید میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ مغرب سے لڑنے والا کس طرح راتوں رات ان ھیرو بن جاتا ہے خواہ وہ صدام حسین ہی کیوں نہ ہو۔

ایسے میں ذہنی فرار کی بجاے اسے دیکھنے، جاننے، سمجھنے اور بیان کی صلاحیت پیدا کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ حالات کا جبر اور فضا کی گھٹن سے نکلنے کا سفر ذہنی حالت کو سمجھنے سے شروع ہوتا ہے۔ اس سفر میں تشکیک کے دو چار سخت مقام آتے ہیں مگر وہ اس یقین سے بہر حال بہتر ہیں جس کی بنیاد پر کشش ثقل کا انکار لاہور کے پریس کلب میں فرمایا گیا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “کشش ثقل، دہشت اور انکار کی نفسیات

  • 28-02-2016 at 8:52 am
    Permalink

    اختر صاحب؛
    آپ نے بالکل درست تجزیہ کیا ھے، ھمارے ملک میں ھیڈ لائن نیوز سننا دل گردے کا کام ھے. چیختی چنگاڑھتی خواتین، جو نہایت تکلیف دہ خبر کو بھی میوزک اور فل میک اپ کے ساتھ پیش کرتی ھیں،دیکھنا بذات خود ایک تکلیف دہ امر ھے. یہ بھی ان کی بے حسی کو منعکس کرتا ھے. اور ھم بہ حیثیت قوم اتنے بے حس ھو چکے ھیں کہ بڑے سے بڑا سانحہ بھی ھماری حسیات پر جمی کہر کو توڑنے سے قاصر ھے. جناب، آپ نے خوب معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھا ھے. Very impressive

Comments are closed.