ضرورت ہے ایک نئی اردو گرامر کی


 ”اردو قواعد کی جتنی کتابیں موجود ہیں وہ سب عربی ، فارسی یا انگریزی کے تتبع میں لکھی گئی ہیں۔ کسی نے اردو زبان کے مزاج و منہاج کو سامنے رکھ کر اس کے اصول و قواعد مرتب نہیں کئے۔ میں قواعد کی ایسی ہی کتاب لکھنا چاہتا ہوں“۔ اس تمنا کا اظہار معروف ماہر لسانیات ڈاکٹر شوکت سبزواری نے سن ساٹھ کی دہائی میں کیا تھا اور پھر عملاً اس کا آغاز بھی کر دیا تھا یعنی اردو گرامر کی ایک مبسوط اور جامع کتاب لکھنے کے لیے مواج جمع کرنا شروع کر دیا لیکن اپنی دفتری مصروفیات کے باعث وہ اس کام کو مو ¿خر کرتے رہے۔ سن ستر کا عشرہ شروع ہوا تو انہوں نے تمام مصروفیات کو پس پشت ڈال کر اردو کی ایک نئی قواعد مرتب کرنے کا بیڑا اٹھایا لیکن ابھی پہلا ہی باب مکمل کر پائے تھے کہ اوپر سے بلاوا آگیا اور 19مارچ 1973 ءکو گرامر کی کتاب ادھوری چھوڑ کر وہ ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گئے۔

آج ان کی وفات کے چوالیس برس بعد تک بھی کوئی مرد قواعد ان کے کام کو آگے نہیں بڑھا سکا۔سبزواری کے نامکمل مسودے کا کیا ہوا ،اس کی تفصیل ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ آئیے پہلے اس قول کا تجزیہ کیا جائے کہ اردو کی کوئی مستند گرامر آج تک شائع نہیں ہوئی اور اب تک جو کتابیں بھی سامنے آئی ہیں وہ عربی، فارسی یا انگریزی کے نمونے پر لکھی گئی تھیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اردو قواعد کے قدیم رسالے لاطینی گرامر کی طرز پر لکھے گئے تھے حتیٰ کہ ان میں اردو اسما کی ’حالت‘ کو بھی لاطینی گردان کی شکل میں بیان کیا گیا تھا۔

اب تک کی تحقیق سے واضح ہوتا ہے کہ اردو کی اولین معلومہ قواعد ہالینڈ کے ایک باشندے نے مرتب کی تھی۔ جان جوشوا کٹیلر نامی یہ ڈچ باشندہ اٹھارہویں صدی کے آغاز میں ہندوستان آیا تھا اور سورت کے شہر میں ڈچ ایسٹ انڈیا کمپنی کا ناظم تجارت مقرر ہوا تھا۔ ہندوستان میں اس کے قیام کی تاریخوں سے اندازہ لگا کر مولوی عبدالحق نے خیال ظاہر کیا تھا کہ ہندوستانی زبان کی یہ اولین گرامر 1715 ءکے لگ بھگ لکھی گئی تھی لیکن اب سے چند برس پہلے معروف محقق محمد اکرم چغتائی نے خود یورپ جا کر جو تحقیق کی اس سے ثابت ہوا کہ یہ کتاب مذکورہ زمانے سے پچیس برس پہلے لکھی گئی تھی۔ کتاب لاطینی میں ہے اور ہندوستانی زبان کے الفاظ اور جملوں کی مثالیں رومن رسم الخط میں دی گئی ہیں۔ یہ کتاب محض اپنی اولیت کی وجہ سے اہمیت کر گئی ورنہ اس میں ہندوستانی زبان کا کوئی مفصل تجزیہ موجود نہیں ہے۔

اردو گرامر کی دوسری معروف کتاب 1743 ءمیں شائع ہوئی۔ اس کو ایک جرمن مشنری بنجمن شلزے نے مرتب کیا تھا۔ یہ بھی لاطینی زبان میں تھی لیکن اردو کے الفاظ اردو ہی کے رسم الخط میں درج تھے۔ یہ کتاب بھی ایک ایسے شخص کے نقطہ نظر سے لکھی گئی تھی جو لاطینی کو ام لالسنہ گردانتا تھا۔ اردو کو بھی لاطینی قواعد کے اصولوں پر پرکھتا تھا۔ شلزے کو جتنی بھی ہندوستانی (اردو) آتی تھی، اس پر بنگالی کا اثر نمایاں تھا اور بہت سے الفاظ جو اس نے اردو یا ہندوستانی کے نام پر درج کئے ہیں، دراصل بنگالی الفاظ ہیں۔

اردو گرامر کی ابتدائی کتابوں میں ایک اہم نام جان گلکرسٹ کی ’قواعد زبان اردو‘ کا ہے جو بنیادی طور پر ایسٹ انڈیا کمپنی کے انگریز ملازمین کو مقامی زبان سے آشنا کرانے کے لیے لکھی گئی تھی۔ متن انگریزی میں تھا اور اردو کے اسما و افعال کا تجزیہ لاطینی، یونانی اور انگریزی اصولوں کے مطابق کیا گیا تھا۔

انیسویں صدی کے دوران مغربی انداز میں لکھی ہوئی گرامریں اتنی بڑی تعداد میں پائی جاتی ہیں کہ ان کے سرسری تذکرے کے لیے بھی ایک پوری کتاب درکار ہو گی البتہ جان ٹی پلیٹس کی گرامر ان میں نمایاں ترین مقام رکھتی ہے۔ اس کی تمام عمارت بھی لاطینی بنیادوں پر استوار کی گئی ہے لیکن کتاب چونکہ انگریزی میں ہے اس لیے لاطینی، ڈچ، پرتگیزی اور جرمن زبان میں لکھے گئے متون کے مقابل اہل ہند کے لیے زیادہ مفید رہی اور 1874ءمیں شائع ہونے والی یہ کتاب آج ڈیڑھ صدی گزرنے کے بعد بھی مقامی اہل قواعد کے لیے اپنے اندر ایک کشش رکھتی ہے۔

خود اہل ہند میں انشا اللہ خان انشا پہلے شخص تھے جنہوں نے اردو زبان کے قواعدی ڈھانچے کا مطالعہ کیا اور ’دریائے لطافت‘ کی شکل میں ایک سدا بہار تحفہ اردو کو دیا گیا۔

انیسویں صدی میں چھپنے والی اردو گرامر کی تین کتابوں کا ذکر یہاں بے جا نہ ہو گا۔

1 ۔ مولوی احمد علی دہلوی کی فیض کا چشمہ : 1825 ئ

2 ۔ سرسید احمد خان کا رسالہ ’اردو صرف و نحو‘ : 1842 ئ

3 ۔ مولوی امام بخش صہبائی کی ’اردو صرف و نحو‘ : 1849 ئ

یہ تینوں کتابیں بھی عربی، فارسی قواعد کے زیر اثر ہیں اور اردو کو ایک مقامی اور ہندوستانی زبان کے طور پر دیکھنے کا رجحان ان میں نہیں پایا جاتا۔

بیسویں صدی کے شروع میں سب سے زیادہ مقبول ہونے والی گرامر تھی فتح محمد جالندھری کی مصباح القواعد، لیکن اس کی مقبولیت کا راز اردو زبان کی ساخت کا تجزیہ نہیں بلکہ ہر قواعدی زمرے میں حسب حال دیے ہوئے اشعار تھے۔ چونکہ زبان کا تعلق اس وقت تک صرف شعر و ادب سے جوڑا جاتا تھا اور (سوائے انشا کے) کسی نے بھی عوامی بول چال کو تجزیہ کے قابل نہ جانا تھا، اس لیے فتح محمد جالندھری کی کتاب بھی اعلیٰ و ارفع زبان کے خصائص بیان کرتی ہے۔ مرتب کلاسیکی عربی کے عالم تھے اور ان کا کیا ہوا قرآن پاک کا ترجمہ آج بھی ایک سند کا درجہ رکھتا ہے۔ عربی سے اپنے گہرے شغف کے باعث وہ اردو زبان کا تجزیہ کرتے ہوئے کہیں بھی عربی کے اثر سے آزاد نہیں ہوئے۔

مولوی عبدالحق اردو کے پہلے قواعد نویس ہیں جنہوں نے اردو کو ایک آریائی زبان کے طور پر دیکھا ہے۔ اپنی معروف کتاب قواعد اردو کے دیباچے میں وہ لکھتے ہیں ’اردو خالص ہندو زبان ہے اور اس کا شمول آریاوی السنہ میں ہے۔ بخلاف اس کے، عربی زبان کا تعلق سامی السنہ سے ہے لہٰذا اردو زبان کی صرف و نحو لکھنے میں عربی زبان کا تتبع کسی طرح جائز نہیں۔ دونوں زبانوں کی خصوصیات بالکل الگ ہیں ….‘۔

آگے چل کر مولوی صاحب نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ اردو کے ہندی الاصل ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس کا موازنہ سنسکرت سے کیا جائے(جیسا کہ کچھ یورپی سکالرز کرتے تھے) تاہم اس تمام تر جدت طرازی کے باوجود مولوی عبدالحق کی لکھی ہوئی قواعد بھی اسم، فعل اور حرف کی کلاسیکی تقسیم ہی پر استوار ہوئی ہے اور اس میں بیسوی صدی کے ان رجحانات کی جھلک نہیں دکھائی دیتی جو مطبوعہ حرف کی بجائے صوتی اکائیوں کو زبانکی بنیاد مانتے ہیں۔

صوتی اصولوں کا ہلکا سا پرتو ہمیں 1971 ءمیں شائع ہونے والی جامع القواعد میں نظر آتا ہے جس کے مو ¿لف ہیں ابواللیث صدیقی۔ تاہم اس کتاب میں بھی جدید لسانیاتی اصولوں کا ذکر محض حواشی میں نظر آتا ہے اور اردو جملے کے تجزیے میں کلاسیکی اصول ہی کارفرما نظر آتے ہیں۔

اس تمام پس منظر میں ڈاکٹر سبزواری کا یہ اعلان انتہائی حوصلہ افزا تھا کہ وہ اردو زبان کو عربی، فارسی، انگریزی، لاطینی یا سنسکرت کی بجائے خود اردو ہی کے اصولوں پر پرکھنا چاہتے ہیں۔ افسوس کہ عمر نے وفا نہ کی اور وہ اپنے تمام تر علمی سرمائے اور تحقیقی جذبے سمیت اس دنیا سے کوچ کر گئے۔

ان کے نامکمل کام کو 1971ءمیں کراچی کے مکتبہ اسلوب نے ڈاکٹر قدرت نقوی کے حواشی اور مشفق خواجہ کے دیباچے سے آراستہ کر کے شائع کر دیا تھا۔ اس ادھورے کام میں بھی اردو اسم کی بحث مکمل طور پر موجود ہے اور یہ شائقین اردو کے لیے ایک گراں قدر تحفے کی حیثیت رکھتی ہے۔ آج جبکہ پاکستان میں ادارہ برائے فروغ قومی زبان، مجلس ترقی ادب اور اردو سائنس بورڈ جیسے جید ادارے موجود ہیں، توقع کرنی چاہیے کہ ڈاکٹر شوکت سبزواری کے کام کو آگے بڑھایا جائے گا اور اردو زبان کی ایک مکمل اور مستند گرامر منظر عام پر آ سکے گی۔

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں