عقل سے دشمنی….  جہل عیار ہے


 \"sajidانجینئر فریداختر صاحب نے اخباری اشتہار کیا دیا کہ یاروں نے اسے مصرع طرح سمجھتے ہوئے طبع آزمائی شروع کر دی ہے۔ اس شعرکا پہلا مصرع لکھنے کی تو ہمت نہیں مگر دوسرا مصرع کچھ یوں ہے :ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔ گزشتہ صدی کی اسی کی دہائی کی بات ہے جب پہلی دفعہ یہ خبر آئی کہ ایڈز نام کا کوئی نیا مرض دریافت ہوا ہے۔ اس وقت ہمارے میڈیکل ڈاکٹروں کو بھی اس مرض کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں مگر اگلے دن کے اخبار میں ایک حکیم صاحب کا بیان چھپا ہوا تھا کہ ان کے پاس اس مرض کا علاج موجود ہے۔ یہاں کونسا حکیم ہے جو دل،سرطان ، شوگر، ہیپا ٹائٹس کا علاج کرنے کا دعوی نہ رکھتا ہو۔ کتنے پڑھے لکھے ہیں جو عجوہ کھجور کے ذریعے دل کے بائی پاس آپریشن کو کامیابی سے ٹال رہے ہیں۔

اس قسم کی باتوں کو ہماری تعلیمی پس ماندگی کا نتیجہ گردانا جاتا ہے؟ مفروضہ یہ ہے کہ اگر ہمارے ہاں شرح خواندگی بڑھ جائے تو معاشرے میں عقل و خرد پر مبنی سائنسی سوچ رواج پکڑ لے گی اور توہمات و تعصبات کا خاتمہ ہو جائے گا۔ کچھ لوگ ہمارے مذہبی مدارس کے نظام کو اور معاشرے میں ملا کے اثرات کو اس خرابی کا سبب قرار دیتے ہیں۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گزرا جب ایک وردی پوش حاکم کے دور میں روشن خیالی کا چرچا شروع ہوا اور مسائل کا حل یہ تجویز کیا گیا کہ مدارس میں بھی سائنس پڑھائی جائے۔ اس بات کے پیچھے یہ ایقان کارفرما تھا کہ سائنس پڑھنے والے روشن خیال ہوتے اور شدت پسندی سے نفرت کرتے ہیں۔

اگر ذرا تامل سے کام لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ یہ حالات کا انتہائی سطحی تجزیہ ہے جس کا حقائق کی دنیا سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ جدید سائنس نے مغرب میں جنم لیا اور اس کے نتیجے میں ایک مضبوط عقلی روایت بہت مستحکم بنیادوں پر استوار ہو چکی ہے۔ سائنسی انقلاب کو برپا ہوئے چار صدیوں سے زاید عرصہ گزر چکا ہے۔ تعلیمی اداروں میں ابتدائی سے لے کر اعلی درجوں تک سائنس کی تعلیم دی جا رہی ہے۔ کھربوں ڈالر سائنسی تحقیق پر صرف کیے جا رہے ہیں۔ نت نئے انکشافات ہو رہے ہیں، کائنات کے اسرار سے پردہ ہٹایا جا رہا ہے۔ آج خلائی جہاز زمین کے مدار سے نکل کر مریخ تک جا پہنچے ہیں۔ اس سائنس کے نتیجے میں جنم لینے والی ٹیکنالوجی نے عام انسانوں کو جو آسودگی اور راحت عطا کی ہے وہ پرانے زمانے کے بادشاہوں کو نصیب نہیں تھی۔ شہنشاہ ہند ظل سبحانی حضرت نورالدین جہانگیر کو اپنے من پسند مشروب کو ٹھنڈا کرنے کے لیے نامعلوم کیا کیا جتن کرنے پڑتے تھے۔ تاہم سوال یہ ہے کہ سائنس اور ٹیکنالوجی کی اس تمام تر ترقی کے بعد کیا ان معاشروں میں توہمات کا خاتمہ ہو چکا ہے؟ اگر سبھی نہیں تو کیا بہت بڑی تعداد میں لوگ سائنسی اور عقلی انداز میں سوچنا شروع ہو گئے ہیں؟

اگر امریکی معاشرے کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ تمام تر سائنسی تعلیم کے باوجود معاشرے کی ایک بڑی تعداد توہمات سے اپنا پیچھا چھڑانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ 2001ء میں ایک گیلپ پول کے نتائج حیران کن ہی نہیں بلکہ پریشان کن ہیں۔54   فی صد امریکن شہری روحانی علاج پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ انسان کی ذہنی قوت اس کی جسمانی بیماریوں کا علاج کر سکتی ہے۔50 فی صد امریکن ESP پر یقین رکھتے ہیں۔ 42 فی صد گھروں کے آسیب زدہ ہونے پر یقین رکھتے ہیں۔ 36 فی صد ٹیلی پیتھی کو حقیقت قرار دیتے ہیں اور مانتے ہیں کہ حواس خمسہ کے علاوہ دیگر ذرائع سے دور دراز کے لوگوں سے رابطہ کرنا ممکن ہے۔ 33 فی صد کو یقین ہے کہ اس زمین پر خلائی مخلوقات اترتی رہتی ہیں۔

گزشتہ صدی کی ستر کی دہائی کی بات ہے جب ہم گورنمنٹ کالج میں فلسفے کے طالب علم تھے، ہمارے استاد محترم نے ہمیں بتایا تھا کہ امریکہ میں ایک نوجوان ہے جس کا دعوی ہے کہ وہ محض نظر کی قوت سے لوہے اور سٹیل کی بنی ہوئی چیزوں کو موڑ سکتا ہے۔ اس شخص کا نام یوری گیلر ہے۔ بے شمار دفعہ اس کی جعل سازیوں کا پردہ چاک کیا جا چکا ہے اور یہ کہ وہ عام سی شعبدہ بازی کرتا ہے مگر اس کے ماننے والوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی۔ کتنی کتابیں لکھی جاتی ہیں، کتنے جرائد چھپتے ہیں جن کا مقصد ہی ناقص اور جعلی سائنسی دعووں کا پردہ چاک کرنا ہے مگر دیکھنے میں یہی آتا ہے کہ ایسی کاوشوں کو کامیابی نصیب نہیں ہوتی۔ لوگوں کے معتقدات چونکہ دلائل و شواہد پر مبنی ہوتے ہی نہیں اس لیے دلائل و شواہد ان پر کم ہی اثر انداز ہوتے ہیں۔ لوگوں کے کسی بات پر یقین کا ایک ہی سبب ہوتا ہے کہ وہ اس پر یقین کرنا چاہ رہے ہوتے ہیں۔ کسی نے خوب کہا ہے کہ معتقدات ربڑ کی بنی ہوئی بطخیں ہیں جو ہمیشہ تیرتی رہتی ہیں اور جن کے ڈوبنے کا کوئی اندیشہ نہیں ہوتا۔

مغربی یورپ کے دیگر ترقی یافتہ معاشروں کا حال بھی اس سے کچھ زیادہ مختلف نہیں۔ Horoscope وہیں چھپتے ہیں اور آج بھی ایک بڑی تعداد اس بات کی قائل ہے کہ ستاروں اور سیاروں کے انسانی زندگیوں پر اثرات ہوتے ہیں۔ خلائی مخلوق اور اڑن طشتریوں کے بارے میں کتابیں اب تو بڑی اعلی شہرت کے حامل اشاعتی اداروں نے بھی چھاپنا شروع کر دی ہیں کہ ان کی مانگ بہت زیادہ ہے اور وہ بہت آسانی سے بیسٹ سیلر بن جاتی ہیں۔ ان کے بارے میں ہالی وڈ میں بننے والی فلموں کی بھرمار ہے۔

عام لوگوں کی بات تو رہی ایک طرف، امریکہ برطانیہ اور مغربی یورپ کی یونیورسٹیوں میں گزشتہ سو سال سے جو فلسفہ پڑھایا جا رہا ہے اس کا غالب حصہ عقل و خرد کی مذمت پر مشتمل ہے۔ پچھلی کئی دہائیوں سے ادبیات، بشریات، عمرانیات اور بعض جگہ فلسفے کے شعبوں میں بھی دور تنویر کے فلسفے کا رد یا مابعد جدیدیت کے نام پر جو کچھ پڑھایا جا رہا ہے وہ ہمارے مولویوں کے لیے بھی لائق عبرت ہو گا۔

مغرب کی تعلیمی درسگاہیں خرد دشمنی کے سیلاب کی زد میں ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ ہمارے ہاں جدید پڑھے لکھے اور بہت ماڈرن دانشوروں میں بھی یہ فلسفے مقبول ہو رہے ہیں۔ پندرہ بیس سال پرانی بات ہے ایک نوجوان دانش ور پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ فلسفہ میں تشریف لائے اور میرے ایک رفیق کار سے سوال پوچھا اور مجھے کہا کہ آپ بھی جواب دے سکتے ہیں۔ پہلا جملہ جو ان کی زبان سے ادا ہوا وہ یہ تھا کہ مغرب میں سائنس ختم ہو چکی ہے۔ مجھ سے رہا نہ گیا اور میں نے انہیں وہیں روک کر سوال پوچھا کہ یہ اطلاع انہیں کن ذرائع سے ملی ہے تو ان کا جواب تھا کہ اڈورنو نے ایسا لکھا ہے۔ میرے لیے یہ بات بہت صدمے کا باعث تھی کہ کسی ایک شخص کی رائے پڑھ کر کوئی اتنا بڑا دعوی اپنی زبان پر لا سکتا ہے۔ مغرب میں سائنس کے ختم ہونے کا فیصلہ اڈورنو یا کسی دریدا کی رائے سے نہیں ہوگا بلکہ یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا وہاں سائنس پڑھنے والے طلبہ کی تعداد کم ہو رہی ہے؟ کیا تجربہ گاہیں بند کی جا رہی ہیں؟ کیا سائنسی تحقیق کا باب بند ہو گیا ہے؟ اگر ان سب سوالوں کا جواب نفی میں ہے تو سائنس ختم ہونے کی بات پر یقین کر لینا خود فریبی کے سوا اور کیا ہے؟

آج ہمارے لیے بڑا خطرہ انجینئر فرید صاحب جیسے افراد نہیں اور نہ مذہبی انتہا پسندوں کی طرف سے سائنس کو زیادہ خطرہ لاحق ہے بلکہ اصل طوفان اس وقت بھی مغرب سے ہماری طرف رخ کر رہا ہے۔ انجینئر فرید صاحب جیسوں کا مضحکہ اڑانے والے ہائڈیگر، میشل فوکو، ژاک دریدا، لاکاں، اڈورنو ،ہابرماس اور فیرابینڈ کے نام بہت عقیدت و احترام سے لیتے ہیں۔ یہ لوگ پورے بلند آہنگ کے ساتھ بیان کر رہے ہیں کہ معروضی صداقت کوئی شے نہیں۔ سماجی علوم ہی نہیں بلکہ طبعی علوم ،ریاضی اور منطق بھی سماجی تشکیلات کے سوا کچھ اور نہیں۔ سائنس کے قوانین اور کشش ثقل کا قانون بھی موضوعی اور سماجی تشکیلات کے مظہر ہیں۔ افریقا کے ووڈو اور کوانٹم فزکس میں عقلی اعتبار سے کوئی فرق نہیں ۔ اہل مغرب کوانٹم فزکس کو اس لیے مانتے ہیں کہ وہ اس معاشرے میں پیدا ہوئے ہیں جہاں اسے ایک حقیقت کے طور پر قبول کیا جاتا ہے اور درسگاہوں میں صداقت کے طور پر پڑھایا جاتا ہے۔ افریقا کے لوگ سحر و ساحری پر یقین رکھنے میں اتنے ہی حق بجانب ہیں کیونکہ یہ ان کے سماج کے مسلمات ہیں۔ گویا صداقت صرف وہ ہے جسے کسی سماج کے باشندے صداقت تسلیم کرتے ہوں۔ چنانچہ ہمارے مذہبی طبقات بھی انہی لوگوں کے حوالے دے دے کر یقین دلا رہے ہیں کہ سائنس کو تو اہل مغرب خود رد کر چکے ہیں۔

اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ صدی کی نوے کی دہائی میں پیش آنے والے ایک تہلکہ انگیز واقعہ کا ذکر کر دیا جائے۔ مابعد جدیدیت اور اس قبیل کے دیگر افراد نے سائنس کے بارے میں جس طرح کی انٹ شنٹ تحریروں کا انبار لگانا شروع کیا ہوا ہے اس پربالعموم سائنس دانوں کا رد عمل بس خندہء استہزا ہی ہوتا ہے تاہم دو سائنس دانوں نے اس کا سامنا کرنے کا فیصلہ کیا اور ان کے رد میں ایک کتاب لکھی جس کا عنوان تھا:

Higher Superstition: The academic Left and its Quarrels with Science, by Roger R. Gross &Norman Levitt. 1994. 1998

یہ کتاب ایک ماہر طبیعیات، ایلن سوکل [Alan Sokal ] کی نظر سے گزری۔ سوکل کا مزید تعارف یہ ہے کہ وہ سیاسی طور پر خود کو بائیں بازو سے منسوب کرتا ہے۔ کتاب پڑھنے کے بعد اس کا پہلا ردعمل یہ تھاکہ آیا اس کتاب میں دیے گئے حوالے درست ہیں۔ اس کے لیے یہ تسلیم کرنا مشکل تھا کہ کوئی معقول شخص اس قسم کی جاہلانہ باتیں لکھ کر چھپوا بھی سکتا ہے۔ اس نے لائبریری کا رخ کیا تا کہ وہ حوالوں کی صحت کا تعین کر سکے۔ اس کو یہ جان کر صدمہ ہوا کہ وہ تمام حوالے درست تھے اور ان میں کوئی علمی بددیانتی نہیں تھی۔ اس پر اسے ایک شرارت سوجھی اور اس نے مابعد جدیدیت کے بھاری بھرکم اسلوب میں ایک مقالہ لکھا [ Trangressing the boundries: Toward a Transformative Hermeneutics of Quantum Gravity ]اور امریکہ میں چھپنے والے ایک جریدے Social Text کو بھجوا دیا۔یہ جریدہ اسی مکتب فکر کا ترجمان ہے اور وہ مندرجہ بالاکتاب کے جواب میں اپنا خصوصی نمبر چھاپ رہے تھے جس کا عنوان تھاScience Wars [ 1996] ۔ اس شمارے میں انہوں نے سوکل کا مضمون بھی چھاپ دیا۔ مضمون چھپنے کے بعد سوکل نے ایک اور رسالے Linguafrance میں مضمون لکھا اور وضاحت کی کہ اس کا مضمون قطعاً کوئی سنجیدہ مضمون نہیں تھا بلکہ محض ایک پیروڈی تھی جس کا مقصد صرف یہ ظاہر کرنا تھا کہ ان لوگوں کے کوئی علمی معیارات نہیں ہیں اور یہ محض سیاسی پروپیگنڈے سے کام لے رہے ہیں۔ اس پر بحث مباحثے کا ایک بازار گرم ہو گیا۔ کچھ لوگ سوکل کی حمایت میں لکھ رہے تھے کہ اس نے مابعد جدیدیت والوں کی علمی سطحیت کو بے نقاب کر دیا ہے جبکہ مخالفین اسے گھٹیا فریب کاری قرار دے رہے تھے۔ جو صاحب اس کی مزید تفصیل معلوم کرنا چاہتے ہوں وہ ایلن سوکل کا نام لکھ کر گوگل پر تلاش کر سکتے ہیں۔ سوکل نے اپنی سائٹ پر بہت سا مواد ڈالا ہوا ہے۔

گنجلک اور ژولیدہ نثر ، بھاری بھر کم الفاظ کے بوجھ تلے دبا قاری یہ سوچ کر پریشان ہوتا رہتا ہے کہ لکھنے والا ضرور کوئی گہری اور مشکل بات کر رہا ہے جسے وہ اپنی ذہنی کم مائیگی کے سبب سمجھے سے قاصر ہے۔ یہ لوگ یہی دعوے کر رہے ہیں کہ زمان و مکان کی کوئی معروضی حقیقت نہیں۔ جیومیٹری بھی آفاقی صداقت کی حامل نہیں بلکہ اضافی اور سیاق و سباق کی پابند ہے۔ دلیل اور منطقی قوانین محض بالا دست طبقوں کے حربے ہیں جو وہ مفلوک الحال لوگوں کے استحصال کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ نسائی تحریک کی علم بردار ہیں جن کے نزدیک سائنس سفید فام مردوں کی خودسری کا نام ہے اور اس میں عورتوں کی تحقیر و تذلیل کی جاتی ہے۔

 اب سوچنے کی بات ہے کہ یہ سب دعاوی بیچارے انجینئر فرید اختر صاحب کی بات سے کیوں کر مختلف ہیں۔ لیکن یہ سب اس لیے قابل قبول ہیں کہ ان کے لکھنے والے ترقی یافتہ دنیا کی بڑی بڑی جامعات میں پروفیسروں کی مسند پر براجمان ہیں۔ ترقی پذیر اور غیر ترقی یافتہ ملکوں کی حکومتیں کثیر زر مبادلہ خرچ کرکے ان جامعات میں اپنے طلبہ کو بھیجتے ہیں اور وہ جو کچھ وہاں سے سیکھ کر آتے ہیں وہ مقامی انجینئر صاحب بہت کم خرچ میں سکھا سکتے ہیں۔

لمحہ فکریہ یہ ہے کہ ہماری اعلی تعلیمی درسگاہوں میں بھی سماجی علوم اور ادبیات کے شعبو ں میں اس قسم کے نظریات جڑ پکڑ رہے ہیں۔ مولوی عقل کو شیطان کی کنیز قرار دیتا ہے ، یہ لوگ عقل کو غالب طبقوں کے ہاتھ میں استحصال کا آلہ قرار دیتے ہیں۔ نتیجہ دونوں صورتوں میں ایک ہی نکلے گا۔ جب معاملات کو طے کرنے میں عقل کے استعمال سے انکار کر دیا جائے گا تو پھر تشدد کے سوا کوئی اور راستہ باقی نہیں رہے گا۔ اگر ہم معاشرے سے متشددانہ رجحانات کا خاتمہ چاہتے ہیں تو ہمیں ملا کی قدامت پرستی کے ساتھ اس جدید خرد دشمنی کے سامنے بھی بند باندھنا ہو گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

9 thoughts on “عقل سے دشمنی….  جہل عیار ہے

  • 27-02-2016 at 6:53 pm
    Permalink

    بہت خوب ڈاکٹر صاحب۔ یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ آپ جیسے اساتذہ ہمارے درمیان موجود ہیں اور مکالمے میں راہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ مغربی یونیورسٹیوں میں مابعدالجدیدیت کے نام پر سائنس مخالف یلغار کا بڑا حصہ یقیناً ژولیدہ فکری کا ہی شاخسانہ ہے۔ وہاں سے یہ پچھلے پچاس سال سے ہمارے ہاں بھی Traditionalism کے نام پر درآمد ہو چکی ہے اور ہمارے مذہب پسند جدیدیت مخلاف نقاد اس کی مدد سے ’سائنسی علمیت پر نقد‘ کے نام پر چربے تیار کرنے میں لگے ہیں۔ آپ سے جزوی اتفاق کرتے ہوئے میری طالبعلمانہ رائے میں فلسفۂ سائنس کے تناظر میں شاید متوازن رویوں کی تلاش دورِ جدید میں سب سے اہم کام ہے۔ مثال کے طور پر نیوٹن اور لائئبنز وغیرہ جیسے قدماء کو چھوڑ کر جہاں طبعی فلسفہ اور متعین سائنس کی درمیانی سرحدیں مستحکم نہیں، دورِ جدید میں ایڈنگٹن، ہنری پوان کارے بلکہ خود ہائزن برگ کے متون کئی ایسے اہم فلسفیانہ سوال اٹھاتے ہیں جہاں کم از کم نظری طور پر سائنسی تناظر کی معروضیت و موضوعیت کی طرف کچھ اہم اشارے ملتے ہیں۔ ایسے میں سوکل کا مضمون گو ’پیروڈی‘ ہی سہی اپنے اندر کسی حد تک دلچسپ سچائیاں بھی رکھتا ہے۔

    آپ نے جیومیٹری کی آفاقیت کی طرف بہت دلچسپ اشارہ کیا اور یقیناً آپ کے ذہن میں کوئی ایسا نکتہ رہا ہو گا جس کے بارے میں پوری معلومات نہ ہوتے ہوئے میرے جیسے طالبعلم کا جزوی اختلاف بھی شاید ایک غیرمعقول جسارت ہو، لیکن میرے ذہن میں فوراً یہ خیال آیا کہ خود آئن سٹائن کے نظریہ اضافت کے اہم ترین اشاروں میں سے ایک اشارہ یہی ہے کہ زمانی و مکانی کرّے کی جیومیٹری اصل میں اقلیدسی نہیں بلکہ ایک approximation ہے۔ یہاں کششِ ثقل کے باعث کسی تصوراتی تکون کے اندرونی زاویوں کا مجموعہ بالکل ٹھیک ٹھیک ایک سو اسی تو نہیں ہو گا۔ تقریباً ایک سو اسی ہو گا لیکن پورا پورا نہیں۔ میں نے ایک بار اپنی انڈر گریجویٹ کلاس میں ذکر کیا تو طالبعلم ماننے سے ہی انکاری تھے کیوں کہ ان کے ذہن میں جیومیٹری کا ایک ایسا معروضی تصور ہے جہاں ایسی عجیب و غریب تکونیں خطرے کا باعث ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ سیاق و سباق کا ایک مسئلہ تو ہے کیوں کہ دیکارتی ریاضیاتی نظام اور اقلیدسی جیومیٹری کے اطلاق سے نظری فزکس میں مسائل حل نہیں ہوتے۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ کتنے ہی قسم کی غیراقلیدسی جیومیٹریاں اب ایجاد ہو چکی ہیں اور ان کی مدد سے کئی اہم مسائل حل ہو رہے ہیں۔ پھر یہ بھی ہے کہ مغرب میں سائنس سماج میں ایک اپنی عملی جہت رکھتی ہے اور باہر سے ہونے والی تنقیدوں پر کئی معاشی مفادات کے باعث بھی سوال اٹھتے ہیں جو سائنسدانوں کے طبقات کے درمیان سیاسی کشمکش پر بھی مبنی ہیں۔ روپرٹ شیلدریک جیسے سنجیدہ محققین کے ساتھ ہونے والا برتاؤ چشم کشا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ کارل پاپر اور تھامس کوہن کے درمیان دلچسپ اختلافی مباحث کے بارے میں آپ مجھ جیسوں سے کہیں زیادہ واقف ہوں گے۔ اب دلچسپ سوال یہی ہے کہ اس آفاقی عقلیت پسندی اور سائنسدانوں کی بطور انسان موضوعی ترجیحات کے درمیان توازن کہاں موجود ہے؟ آپ یقیناً اتفاق کریں گے کہ اس کا پوری طرح ظاہر ہونا بھی ہمارے تیسری دنیا کے طالبعلم کے لئے بہت ضروری ہے اگر ہم سائنسی فکر کو اپنا چاہتے ہیں اور اس میں ایک تعمیری کردار ادا کرنے کی ضرورت کو محسوس کرتے ہیں۔

    بہرحال آپ کی تحریر بہت دلچسپ اور مفید تھی۔ ایک بار پھر بہت شکریہ اور مبارکباد۔ اس ٹوٹے پھوٹے پریشان خیال تبصرے کی بہت معذرت۔

  • 27-02-2016 at 8:44 pm
    Permalink

    محترم عاصم بخشی صاحب! آپ نے اس خامکار کی تحریرکو اس توجہ سے پڑھا اور اس پر ایک مبسوط اور فکر انگیز تبصرہ رقم کیا، اس پر از حد سپاس گزار ہوں۔ مجھے آپ کی کسی بات سے خلاف نہیں مگر چند نکات کی وضاحت سے پیشتر یہ عرض کر دوں کہ سائنس کے معاملے میں جاہل مطلق ہوں۔ میں وہ بدنصیب ہوں جس نے سکول میں بھی سائنس پڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔ ہمارے ہاں سائنس کے مضامین کا انتخاب صرف اس وجہ سے ہوتا ہے کہ آپ ڈاکٹر یا انجینئر بننا چاہتے ہیں۔ میں چونکہ ان دونوں راہوں میں سے کسی کو بھی اختیار کرنا نہیں چاہتا تھا اس لیے سائنس پڑھنے سے محروم رہا۔ ہمارے تعلیمی نظام میں اس کی کوئی گنجائش بھی نہیں۔ البتہ زندگی کی کئی دہائیاں کارل پوپر اور اس کے ساتھ دیگر مصمفین کر پڑھنے میں بسر کی ہیں۔
    ہمیس سائنس اور فلسفہ سائنس میں امتیاز کرنے کی ضرورت ہے۔ سائنس دانوں میں جو بھی نظری مباحث ہوتے ہیں وہ سائنس کے فریم ورک میں ہی ہوتے ہیں مثلاً آئن سٹائن اور نیلز بوہر اور دیگر کا کوانٹم فزکس کی تعبیر پر اختلاف۔ مگر یہ اختلاف سائنس کی معروضی حیثیت کو متاثر نہیں کرتا. اقلیدسی جیومیٹری کے بعد غیر اقلیسدسی جیومیٹری بھی ریاضی کے فریم ورک میں ہی ہے۔ مراد صرف یہ ہے کہ ان اختلافات سے سائنس، ریاضی اور منطق کی آفاقی حیثیت ختم نہیں ہو جاتی۔ ان میں سے کسی کو بھی ثقافتی مظہر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ نازیوں نے اس بنا پر آئن سٹائن کی فزکس کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا کہ وہ یہودی تھا اور اس کے مقابلے میں نازی فزکس بنانا چاہتے تھے۔ کمیونسٹوں نے بھی فزکس کو سرمایہ دارانہ قرار دے کر جدلیاتی فزکس بنانے کی سعی کی تھی۔ ہمارے اسلامی بھائی بھی اسلامی سائنس بنانا چاہتے ہیں۔ ان سب حماقتوں کا نتیجہ ایک سا ہی برآمد ہو تا ہے۔ فزکس ان معنوں میں معروضی اور آفاقی ہے کہ ڈاکٹر سلام جو ایک موحد تھے اور ان کا دعوی تھا کہ وہ قراآن حکیم سے روشنی حاصل کرتے تھے۔ سٹیون وائن برگ خود کو ملحد قرار دیتا ہے۔ پس منظر کے اس بعد کے باوجود دونوں کی فزکس میں کوئی فرق نہیں آتا۔ بر سبیل تذکرہ، ایک زمانے میں ہمارے بعض سیکولر حضرات ڈاکٹر سلام سے اس لیے خفا رہتے تھے کہ وہ بات بے بات خدا کر ذکر کرتے رہتے ہیں۔
    اس تحریر کا مقصد صرف یہی تھا کہ مختلف نظریات کا عقلی تجزیہ و تحلیل ہی علمی ترقی کا ضامن ہے۔ ٹھیک ہے اس طریقے سے ہمیں حتمی نتائج حاصل نہیں ہوں گے مگر انسانی علم نمو پذیر ہے اس لیے اس میں حتمیت کی کوئی گنجائش نہیں اور ہمیں خرد دشمن خیالات سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ ایک بار پھر آپ کا شکریہ

  • 27-02-2016 at 9:35 pm
    Permalink

    عاصم بخشی صاحب! آپ کی علمی نقطہ دانیوں کا تو واقعی کو ءی جواب نہیں کہ میرے جیسے جاھل تو مختلف سطروں کو بار بار پڑھ کر متن کو سمجھنے کی ہی کوشش کرتے رہتے ہیں اور آخر میں اگر بیگم آ کر شکل دیکھ لیں تو فوراً پوچھ بیٹھتی ہیں کہ شکل پر بارا کیوں بج رہے ہیں؟
    مگر پھر بھی عادت سے مجبور ہو کر ذہن میں اٹھنے والے سوالات, چاھے جتنے بھی بچکانہ ہو پوچھنے کی جسارت کر لوں امید ھے آپ جیسے باقاعدہ استاد پر بارِخاطر نہ ہوگا. آپ کا یہ کہنا تو غالباً صحیح ہے کہ ہمارے ہاں کے مذہب پسند جدیدیت مخالف نقاد تو Traditionalism کی بنیاد پر سائینس و خرد مخالف مابعدالطبیعاتی چربے پیش کرنے میں مشغول ہیں. مگر ہمارے ہاں کے خرد افروزی کے مویدین ایک مخصوص علمی منہج پر استوار چند قضآیا جن کے پیچھے کم از کم چار صدیوں کی معرکۃالآرا علمی کاوشیں ہیں اسے ہمارے جیسے مبینہ خرد دشمن معاشرے جو کہ غالب طور پر مذہبی یعنی وحی پسند معاشرہ ہے وہاں اس خالص عقلیت پسند علمیت کو اس چار صدیوں کی تاریخ سے کاٹ کر واحد قابلِ تفہیم علمیت باور کروانا مغرب کا چربہ نہیں تو اور کیا ہے. کیا یہ ضروری نہیں کہ پہلے اس “صدیوں پرانے وحی پسند معاشرے کو مطلق عقل کی کسی تہدید اور اس پر کسی بھی درجے میں وحی کی فوقیت جیسے “شاید پسماندہ” نظریات سے روگردانی کرنے پر مجبور کرنے والی دلیل دی جائے.. جو بظاہر چربہ بھی نہ ہو ؟

  • 27-02-2016 at 11:08 pm
    Permalink

    An eye-opener.

  • 27-02-2016 at 11:11 pm
    Permalink

    صاحب!عالمانہ جواب تو بخشی صاحب کو ہی سزاوار ہے مگر ایک عامیانہ جواب یہ ہے کہ خارجی کائنات کا علم، جسے سائنس کہا جاتا ہے، اور ریاضی و منطق جیسے عقلی علوم نہ مشرقی ہیں نہ مغربی۔ ان علوم کا آغاز بابل کے علاقے سے ہوا تھا، پھر ہندی، چینی اور مصری تہذیبوں نے اپنا حصہ ڈالا۔ مصر سے یہ شمع یونان پہنچی اور خوب روشن ہوئی اور عہد روما میں ٹمٹماتی رہی۔ پھر مسلم تہذیب نے اسے اپنایا۔ مسلمانوں نے سیاسی غلبہ کے باوصف نصرانی، صابی اور مجوسی اساتذہ کے قدموں میں بیٹھ کر ان علوم کی تحصیل کی۔ آٹھویں صدی سے لے کر پندھرویں صدی کے نصف تک مسلم تہذیب ہی علم کی شمع بردار تھی۔ بس اس کے بعد وہ یورپ منتقل ہو گئی۔ باقی وحی اور سائنس میں کوئی تصادم ہے یا دونوں کے جداگانہ دائرہ ہائے کار ہیں تو یہ بحث ایسی ہے جوکبھی ختم نہیںہو سکتی۔ مسلمان سائنس دانوں نے بھی کتنے ہی معاملات میں عقل اور تجربے کے مقابلے میں شرع کو سند ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ یہی موقف گیلی لیو کا تھا کہ طبعی معاملات میں بائبل سند نہیں ہو سکتی۔ غزالی نے بھی ارسطو کی منطق کو قبول کر لیا تھا اور روایت پسندوں کے اعتراضات کو رد کر دیا تھا۔ مغرب میں چار صدیاں پہلے جس فکر کا آغاز ہوا تھا وہ فکر وہاں ٹھہر نہیں گئی بلکہ اس کا ارتقائی سفر جاری و ساری ہے۔ اس عہد کے بہت سے مفروضات رد ہو چکے ہیں اور بہتوں میں ترامیم ہو چکی ہیں۔ زندگی بہتا دریا ہے اس میں سکون اور ٹھراؤ موت ہے۔

  • 28-02-2016 at 12:56 am
    Permalink

    سر بہت ممنون ہوں کہ آپ نے اتنا وقت نکالا اور میرے تبصرے کے جواب میں ایسے اشارات کئے جن سے میرے ذہن میں بننے والے خاکے کے خدوخال مزید واضح ہوئے۔ میں ذہن میں ایک مضمون کا خاکہ بُن رہا تھا جس میں سائنس اور سماجی مباحث کے اعتبار سے مختلف جہتوں پر اظہارِ خیال اور کچھ سوالات قائم کرنا مقصود تھے تاکہ میرے پچھلے تمہیدی مضمون سے بات آگے بڑھے کہ اتنے میں آپ کا خوبصورت مضمون سامنے آ گیا۔ اس لئے سوچا کہ جب اساتذہ موجود ہیں تو لکھنے سے پہلے ان سے رائے لے لی جائے تاکہ کوئی کمزور اور غیرمستند بات سپردِ قلم نہ ہو۔ میں آپ کے کارل پاپر پر کام سے بخوبی واقف ہوں اور آپ کے مداحوں میں سے ہوں۔ سلامت رہئے اور اسی طرح علم پھیلاتے رہئے۔

    مدیر محترم نے میرے ٹوٹے پھوٹے تبصرے کو ایک علیحدہ بلاگ کی شکل میں پوسٹ کر دیا تاکہ مزید طالبعلموں اور قارئین کے سامنے آ جائے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو اپنا تبصرہ وہاں بھی عنایت کر دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک بات پہنچ جائے۔ آداب و سلام۔

  • 28-02-2016 at 1:20 am
    Permalink

    محترم عابد صاحب، جناب ڈاکٹر ساجد علی صاحب نے آپ کے تبصرے کے جواب میں ایک ناگزیر تناظر کی جانب اشارہ کیا ہے جس میں پتے کی بات آخری جملہ ہے۔ میں اسی بات کو مزید آگے بڑھاتا ہوں۔

    دیکھئے آپ کی بات سے نہ تو مجھے کلی اختلاف ہے اور نہ ہی کلی اتفاق۔ یہ پہلے اور بعد کا مسئلہ تو ایک ذوقی سا مسئلہ ہے۔ ظاہر ہے سماج میں ایک سے زیادہ فکری جہتیں ہوتی ہیں جو متنوع محرکات کا مرہونِ منت ہوتی ہیں۔ یہ تمام جہتیں ایک طرف تو اپنا اپنا نظریۂ علم فرض کرنے کے لئے آزاد ہوتی ہیں بلکہ خود علم کی تعریف میں بھی اختلافات رکھتی ہیں۔ پھر ان کی اپنی اپنی ترجیحات بھی ہوتی ہیں۔ کیا سماج میں وحی کی تبلیغ و ترویج کا کام نہیں ہو رہا؟ اسی طرح علم و فنون کی ترویج پر بھی کوئی پابندی نہیں۔ پھر غالب طور پر وحی پسند معاشرے میں اگر وحی پسند اخلاقیاتی، جمالیاتی اور علمی مظاہر نظر نہیں آتے تو اس کا دوش خارجی عوامل کو بھی دیا جا سکتا ہے اور اس مفروضے پر بھی سوال اٹھایا جا سکتا ہے کہ آیا یہ واقعی کوئی وحی پسند معاشرہ ہے۔ آخر اس معاشرے کی بنیادی ترجیحات کیا ہیں؟ کیوں نہ ان کو دریافت کیا جائے اور پھر ان کو معقول مان کر آگے بڑھا جائے؟ اسی طرح پھر وحی میں بھی تعبیرات متنوع ہیں اور خود نظریہ علم بھی اس میں سے برآمد کیا جا سکتا ہے۔

    لہٰذا آپ یہ سوال اس وقت پوچھئیے جب کوئی حتمی دعویٰ سامنے ہو جس سے کوئی سرا ہاتھ میں آنے کے بعد بحث آگے بڑھائی جا سکے۔ اگر آپ ایک مکرر نظر ڈالئیے تو ڈاکٹر ساجد علی صاحب تو خود یہی کہہ رہے ہیں کہ مغرب میں فکری پسماندگی اور توہمات وغیرہ کسی طرح بھی ہم سے کم نہیں۔ انہوں نے تو عقل اور وحی کے مخالف ہونے کی بحث چھیڑی ہی نہیں۔ جہاں تک میری ذاتی رائے کا سوال ہے تو یہ بحث ابھی ہمارے مخصوص سماجی تناظر میں قبل از وقت ہے۔ ہاں علمی دائروں میں بدستور جاری ہے۔ عوامی دائرے میں یہ بحث مکالمے کے کچھ ایسے ضوابط کی متقاضی ہے جہاں تصورات واضح ہوں اور ابہام و ایہام کم سے کم ہو۔ فی الحال ہمارے سماج میں فکری طبقات کے درمیان کچھ عدم تحفظات ہیں کیوں کہ فکر کو جبر و استبداد کے ذریعے قید کرنے کو سماجی طور پر معقول مانا گیا ہے اور ایک بڑے طبقے نے اس استبداد کو خوش آمدید کہا ہے۔ سماج ایک ناگزیر فکری ارتقاء اور آزادی کے بعد ہی ان بحثوں کو بامعنی طور پر چھیڑنے کے قابل ہوتے ہیں۔

  • 28-02-2016 at 6:34 pm
    Permalink

    شکریہ۔ آج ہمارے معاشرے کو مہذب اور شائستہ مکالمے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمارے ایک بزرگ دوست تھے شیخ صلاح الدین۔ ناصر کاطمی کے حلقے کے رکن تھے۔ تقریباً پچیس برس تک ان سے ملاقات رہی۔ ایک بات وہ بڑے اصرار سے کہا کرتے تھے کہ یہاں جو شخص لکھنے پڑھنے کا کام کرتا ہے اس کہ یہ ذمہ داری بھی ہےکہ اپنے گرد چند ایسے افراد ضرور جمع کرے جو اس کےساتھ شدید اختلاف رکھتے ہوں۔ الحمد للہ میں اس معاملے میں بہت خوش نصیب رہا ہوں کہ ایسے دوست ملے جن سے فکری اختلاف کے باوجود دوستی کا سفر کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ ہم سب کے حوالے سے امید ہے کہ ایسے اور دوست بھی میسر آئیں گے جن سے بامعنی مکالمے کا موقع میسر آئے گا۔

  • 29-02-2016 at 1:19 pm
    Permalink

    Mohtram Sajid Sb Aor Asim Sb, Apney comments Mein Mera Kahin Bhi Ye matlab Nahi Tha K Wahi Ya Science Baham Mutazaad Ya Mukhalif Hien. Mera Kehna Sirf Ye Tha K Hamarey Haan Ye Soch Bohot Rasikh Hey K Aqal-e-Mehez Ki Kuchh Limitations Hein Jinn Ke Baad Wahi Ki Foqiyat (Ya Zaroorat) Shuroo Hoti Hey. Ab Yaqinun Inn Limitations Aor Wahi Ki Sahi Ya Galat Foqiyat Ka Bayan Ek Ilmi Mozoo Hey, Jiss Par Mukalma Ahle Ilm Ka Maidan Hey. (Sorry I don’t have INPAGE so I couldn’t participate so quickly in this dialogue. For previous comments I used my mobile phone)

Comments are closed.