مفتی صاحب زندہ باد


hashir irshadمیرے عزیز مفتی صاحب

سچ کہتے ہیں۔ یونہی علم اٹھائے رکھیے۔ یہ چار دن کی جمہوری خدائی تو کوئی بات نہیں۔ یہ ذہنی مفلس، مغرب کے غلام، شعور سے عاری نابکار اسمبلیوں میں کیا پہنچ گئے ہیں، اپنی اوقات ہی بھول گئے ہیں۔ اس ملک میں چلے گا صرف خدائی نظام اور خدائی نظام ظاہر ہے وہ ہے جو آپ بتائیں گے۔ کتاب کے بھید ہر سڑک چھاپ پر تھوڑی کھلتے ہیں۔ جنت کے ٹکٹ ہوں یا جہنم کی تعزیریں، آپ ہی کی کھڑکی سے ملیں گی۔ آپ نے آواز اٹھائی تو کچھ ممبران اسمبلی کی آنکھوں پر پڑا پردہ بھی ہٹا ہے۔ یونہی چلتے رہیں، قافلہ بن ہی جائے گا۔

ایک بات تو طے ہے کہ مشرقی اقدار ہوں یا فلسفہ شریعت، اس کا کلی مقصد خواتین کو سدھارنا ہے۔ مرد تھوڑا ٹیڑھی پسلی سے پیدا ہوا ہے کہ اسے سیدھا کیا جائے۔ مرد توعورت کا مجازی خدا ہے، گھر کا سربراہ ہے، نائب اللہ فی الارض ہے، عقل کل ہے۔ کیا ہوا اگر کبھی عورت کی اصلاح کی خاطر، اس کی فطری کجی کو راہ راست پر لانے کے لئے، اس کی ناقص العقل حرکتوں کی درستی کے لئے اسے کوئی دو چار تھپڑ لگا دئے، چند ٹھڈے رسید کر دئے، ذرا سا سڑک پر گھسیٹ لیا، چند ایک سگریٹ جسم پر بجھا لئے، آدھی پونی بوتل تیزاب کی چہرے پر ڈال دی۔ اب یہ کوئی ایسی باتیں ہیں کہ آپ اپنی قدریں بھول جائیں، شریعت سے بغاوت کر دیں، روایات کو کوڑے دان میں ڈال دیں اور رولا ڈال دیں تحفظ حقوق نسواں کا۔ تحفظ خواتین کے بل کا۔ پھر اسے اسمبلی سے پاس بھی کرا لیں۔ میری تو روح کانپ اٹھتی ہے اس بے حیائی کے آنے والے طوفان کا سوچ کر جو اس قانون کے نتیجے میں آئے گا اور جسے ابھی محض آپ جیسی چند دوربین نگاہیں ہی دیکھ پائی ہیں

مجھے تو سمجھ نہیں آتی کہ یہ لنڈے کے دیسی لبرل، یہ این جی اوز کے فنڈز پر پلنے والے یہودیوں کے ایجنٹ، یہ مادر پدر آزاد میڈیا کے نمائندے شور کس بات کا ڈالتے ہیں۔ آپ جیسے کتنے ہی معتبر عالم برسوں سے دنیا کو یہ بتا بتا کر تھک گئے ہیں کہ ہم سے زیادہ نہ تو عورت کی کوئی عزت کرتا ہے اور نہ ہی ہم سے زیادہ کوئی ان کو حقوق دیتا ہے پر سچ ہے جن کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہو اور جن کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہو انہوں نے “میں نہ مانوں” کی رٹ نہیں چھوڑنی۔

ان کو نظر نہیں آتا کہ مغربی معاشرہ عورت کا کیسے استحصال کرتا ہے۔ چلو مان لیا وہاں غیرت کے نام پر بیوی، بیٹی اور بہن کی گردنیں نہیں اتارتے پر اس سے تو یہی پتہ لگتا ہے کہ اس سماج سے غیرت اور عزت کا جنازہ اٹھ چکا ہے اور غیرت نہ ہو تو درویش کو تاج سر دارا پہنانے کا سوال ہی نہیں اٹھتا۔ ہم اپنی عورتوں کو زمین میں زندہ گاڑ دیتے ہیں پر اپنی غیرت نہیں مرنے دیتے۔ اور ایک وہ ہیں جو عزت، غیرت اور حمیت کے ہجے بھی بھول چکے ہیں۔ اب بھی آپ انہیں بہتر کہیں تو آپ کی عقل پر ماتم ہی ہو سکتا ہے۔

یہ بھی ٹھیک ہے کہ وہاں اپنی بچیوں کو ونی نہیں کرتے، اپنی بہنوں کا سوارا نہیں کرتے، متعہ اور مسیار بھی خارج از بحث ہیں۔ پنچایتوں میں عورتوں کو بھائیوں اور شوہروں کے جرم کی سزا دینے کا رواج بھی نہیں ہے۔ گاؤں کی گلیوں میں عورتوں کو برہنہ گھمانے کے قصے بھی سننے میں نہیں آتے۔ کھلا تیزاب ذرا مشکل سے ملتا ہے اس لئے شرمین عبید کو وہاں کوئی بگڑا چہرہ فلم بنانے کے لئے نہیں ملتا ۔ پکی عمر کے مرد کو کچی کلی جیسی لڑکی شادی کے لئے ولی کی مرضی کے بمطابق دستیاب نہیں ہوتی۔ لڑکیوں کے اسکولوں کو بم سے نہیں اڑاتے۔ مرد چار کیا دو بیویوں کا حرم بھی نہیں بنا پاتے۔ بیٹی کے حصے کے نوالے بیٹے کے منہ میں نہیں ڈالتے۔ تین لفظ بولنے سے عورت گھر سے بے گھر نہیں ہوتی۔ بہنوں کی شادی مقدس کتابوں سے نہیں ہوتی۔ میدانوں میں چونکہ وہاں پتھر نہیں ہوتے اس لئے سنگ ساری سے بھی پرہیز ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ پر چونکہ ابھی مفصل فتوٰی دستیاب نہیں اس لئے امیدواروں کا کوئی اکٹھ عورتوں کو حق رائے دہی سے محروم نہیں کرتا۔ عورتوں نے کیا پہننا ہے اور کیسے پہننا ہے یہ اہم فیصلہ تک ان کے لئے مرد نہیں کرتے بلکہ انہیں اپنی مرضی کرنے دی جاتی ہے۔ عورتوں کے لئے خصوصی پیشوں کی بھی تخصیص نہیں ہے۔ عورت کو بازار میں تو کیا، نیم برہنہ ساحلوں پر بھی آنکھوں سے سالم ہضم کرنے کا رواج نہیں ہے۔ بیٹی کی پیدائش پر کوئی افسوس نہیں کرتا اور بیٹیاں زیادہ پیدا ہو جائیں تو کوئی چٹیا سے پکڑ کر گھر سے بھی نہیں نکالتا۔ بیوی اور گھر کی باقی عورتوں کو تفریحاً پیٹنے کی آزادی بھی میسر نہیں ہے۔ عورت کی گواہی مرد جتنی ہی معتبر ٹھہرتی ہے۔ عورتوں کے خلاف جرائم ہوتے ہیں پر یہ نوبت نہیں آئی پاتی کہ انہیں پولیس اسٹیشن کے آگے یا پریس کلب کے باہر اپنے آپ کو آگ کے شعلوں کی نذر کرنا پڑے تاکہ حکمران عظام نوٹس لینے کا اہم فریضہ سر انجام دے سکیں۔ غلط کو غلط کہنے والی بچیوں کے سر میں گولی مارنے کی روایت بھی نہیں ہے۔ سچ بولنے والی کسی لڑکی یا اپنی لٹی عزت کی جنگ لڑنے والی کوئی مائی من حیث القوم سازشی ٹھہرا کر مطعون بھی نہیں کی جاتی۔ نہروں اور دریاؤں کو ماں اور بچوں کی اجتماعی خودکشی کی تقریب کے لئے استعمال کرنے کی روایت بھی نہیں پنپ سکی۔ کم عمر کافر لڑکیوں کو گھروں سے اٹھا کر انہیں سچے مذاہب میں داخل کرنے کا ثواب بھی کوئی نہیں کماتا۔ بیٹی کے فرائض میں گول روٹی پکانا بھی شامل نہیں ہے اور تو اور لڑکیوں کے چست جینز پہننے پر زلزلے نہیں آتے۔ عورتیں بچے پیدا کرنے اور شوہر کی خدمت کے علاوہ کچھ اورکاموں کے لئے بھی مناسب سمجھی جاتی ہیں۔ ڈرائیونگ کرنے والی عورتوں کا چالان تو کبھی کبھی ہو جاتا ہے لیکن کوئی انہیں فحاشی کا سرٹیفیکیٹ جاری نہیں کرتا۔ پسند کی شادی کو کوئی جرم سمجھتا ہی نہیں۔ شادی سے پہلے لڑکی کی عزت نفس کی لڑکے والوں کے آگے پریڈ اور جہیز کے سودے ہونے کا کاروبار بھی ان معاشروں میں ترقی نہیں کر پایا۔ کوئی سیاسی اور مذہبی پیشوا جبر کی شکار لڑکیوں کو قومی میڈیا پر نہ چار گواہوں کی شرط یاد کراتا ہے اور نہ ہی انہیں چپ رہنے کا اور صبر کرنے کا گراں قدر مشورہ دیتا ہے۔ کوئی وزیر یہ جرات نہیں رکھتا کہ اسمبلی میں کھڑا ہو کر یہ کہ سکے کہ کاروکاری ان کی ثقافت کا اٹوٹ انگ ہے۔ پولیس جرائم کی بیخ کنی کے لئے مجرموں کے گھروں کی عورتوں کو اٹھانے سے کتراتی ہے۔ عورتوں کی حکمرانی کو ناجائز کہنے والا بھی ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ فیس بک پر عورتوں کو مٹھائی اور مردوں کو مکھیوں سے تشبیہ دے کر کوئی پردے کی تلقین بھی نہیں کرتا۔

پر مفتی صاحب، ان باتوں کا شریعت سے کیا لینا دینا۔ ہوتا تو آپ جیسا صاحب نظر اس کی نشاندہی ضرور کرتا۔ یوں بھی ایسی چھوٹی موٹی باتوں سے معاشرے تھوڑی تباہ ہوتے ہیں۔ ہاں اگر عورتوں کو ذرا ذرا سی بات پر اس قانون کے تحت اپنے گھر کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے فون پر شکایت کرنے کا حق مل گیا تو ہماری اقدار مٹی میں مل جائیں گی۔ معاشرے کے تاروپود بکھرجائیں گے۔ دیں کے ستونوں میں دراڑیں پڑ جائیں گی۔ ہماری عزتیں سر بازار نیلام ہوں گی۔ بے راہ روی اور فحاشی عام ہو جائے گی۔ خاندانی روایات کا جنازہ اٹھ جائے گا۔ عورتیں جنس بازار بن جائیں گی اور ہم کچھ نہیں کر پائیں گے۔ میں آپ سے متفق ہوں اور اس طوفان بلا کے آگے بند باندھنے کے لئے آپ کی کاوشوں کا معترف۔ مجھے آپ قدم بہ قدم اپنے ساتھ پائیں گے۔

تحفظ حقوق نسواں مردہ باد۔ تحفظ خواتین بل مردہ باد بلکہ خواتین ہی مردہ باد۔ مرگ بر مغرب۔ نہیں چلے گی۔ نہیں چلے گی۔ فحاشی نہیں چلے گی۔ عورت گھر کی مولی ہے۔ پیر کی جوتی سر پر۔ ۔ ۔ نہیں چلے گی، نہیں چلے گی۔ مفتی صاحب زندہ باد ۔ ۔ ۔

خیر اندیش

ایک مشرقی، پاکستانی، پابند شرع مرد


Comments

FB Login Required - comments

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 43 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

One thought on “مفتی صاحب زندہ باد

  • 27-02-2016 at 2:04 pm
    Permalink

    behtreen sir, kamal likha hai aap nein mufti sahab se hat ker bohat sarey loug hain jin ke liaye eye opner hona chahyee.

Comments are closed.