کوریڈور کی سیاست


muhammad razaپاکستان کی تقدیربدلنے والی پاک چین اقتصادی راہداری پچھلے کئی دنوں سے متنازع بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ حکومتی پارٹی کے احسن اقبال کے علاوہ باقی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں سوال اٹھا رہے ہیں۔ ’گیم چینجر‘ منصوبہ کیا ہے؟ اس سے پاکستان کی معیشت، سیاست اور سماج پر کیا اثرات مرتب ہوں گے اور سب سے بڑھ کر عالمی اور علاقائی طاقتیں اس منصوبے کو کس نظر سے دیکھ رہی ہیں۔ یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب حکومت وقت کے کارندوں اور ان کے سیاسی ہم نواﺅں کے پاس موجود نہیں ہے یا حکومت ان سوالوں کے جوابات دینا نہیں چاہتی۔
پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں جو معلومات میسر ہیں ان کے مطابق چین اپنی مصنوعات مشرق وسطیٰ کے راستے عالمی منڈیوں تک کم وقت اور کم نرخ پر پہنچانے کے لیے خنجراب سے گوادر تک سڑکوں اور ریلوے لائنز کا ایک جال بچھا رہا ہے جس پر لاگت کا تخمینہ 46 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ اتنا بڑا سرمایہ نہ تو پاکستان کو امداد کی مد میں دیا جا رہا ہے اور نہ قرضے کی صورت میں بلکہ یہ سرمایہ چینی حکومت اور نجی کمپنیاں بہ نفس نفیس اپنے اختیار میں لگائیں گی۔ سرمایہ کاری کے اپنے اصول ہیں اور سرمایہ اپنے راستے خود متعین کرتا ہے۔ بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا چین یہ سرمایہ کاری پاکستان کے وفاق کو مضبوط کرنے اور اقتصادی ترقی کی خاطر کر رہا ہے یا اپنی مصنوعات کو سستے داموں فروخت کرنے اور اپنی بڑھتی ہوئی معیشت کو توانائی کے ذرائع تک رسائی کے خرچ کر رہا ہے۔ چین ہمارا قابل بھروسہ دوست رہا ہے اور مختلف مدوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون کرتا رہا ہے لیکن 46 ارب ڈالر کی خطیر سرمایہ کاری کا بنیادی مقصد چین کی معیشت ہے جس کا فائدہ پاکستان کو بھی ہو گا لیکن اتنی بڑی سرمایہ کاری سے نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ کیا پاکستان نے اس کے ممکنہ منفی اثرات کا جائزہ لیا ہے۔ ان سوالا ت کا تسلی بخش جواب تاحال موجود نہیں ہے۔
پاکستان مسلم لیگ نواز کی حکومت یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ گویا یہ پروگرام چین کی کمیونسٹ پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نواز کی بڑی کامیابی ہے۔ نواز شریف او ر شہباز شریف کا بار بار چین کا دورہ کرنا، چینی سرمایہ کاروں کے پنجاب حکومت کے ساتھ معاہدے اور پاک چین اقتصادی راہداری کے بارے میں نواز شریف حکومت کی رازداری سے یہی تاثر ابھر رہا ہے کہ نواز شریف اور شہباز شریف پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو اپنی اگلی انتخابی مہم کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ ان حالات میں پاکستان تحریک انصاف اور چھوٹے صوبوں کے تمدنی اور سیاسی حلقوں کی طرف سے اس منصوبے کی شفافیت پر سوال اٹھانا حق بجانب لگتا ہے کہ نواز حکومت اس منصوبے کی تمام تفصیلات قوم کو بتائے۔ احسن اقبال کی اب تک کی فراہم کردہ معلومات سے تو یہ لگتا ہے کہ اس منصوبے کے بارے میں ’حسب ضرورت‘ معلومات فراہم کی جائیں۔ اس حکمت عملی کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ منصوبہ سکیورٹی کے لحاظ سے اتنا اہم ہے کہ اس کی تفصیلات اس وقت قوم کے سامنے پیش نہیں کی جا سکتیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ پاکستان مسلم لیگ (نواز) اس منصوبے سے سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے تاکہ اس منصوبے کی بدولت اپنی انتخابی مہم چلانے والے سرمایہ کاروں کو نواز کر 2018ءکا الیکشن جیت سکے۔ اگر شریف برادران کی سوچ مو¿خر الذکر ہے تو یہ ان کی سیاست میں آخری کیل ثابت ہو گا کیونکہ پاکستان کا کوئی بھی مقتدر حلقہ اتنے بڑے قومی منصوبے کو جماعتی رنگ دینے اور اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دے گا۔ آئندہ چند مہینے پاک چین اقتصادی راہداری سے قومی سیاست اور حکومت پر بھی اثرات مرتب ہوں گے۔ دیکھتے ہیں کہ شریف برادران اس گرداب سے کیسے نکلتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments