ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے


ایران میں جمشید نام کا ایک بادشاہ تھا۔ اس کا زمانہ تقریباً آٹھ نو سو قبل مسیح کا ہو گا۔ بہت جینئیس آدمی تھا، سولر کیلنڈر، ریشمی کپڑا، مختلف آلات حرب اور پتہ نہیں کون کون سی چیزیں اس نے ایجاد کیں یا پھر ان کو نئی شکل دی۔ وہ جو ایک مشہور تیوہار ہے نوروز کا، وہ جمشید بادشاہ کے ہی بنائے گئے کیلنڈر میں سال کی پہلی تاریخ کو ہوتا ہے۔ وہیں سے مغلوں نے اختیار کیا اور بعد میں پارسی، شیعہ اور آغا خانی بھائیوں کے ساتھ پاکستان چلا آیا۔ تو اس تیوہار کی شروعات بھی جمشید سے منسوب ہے۔ ایک چیز اور تھی جو اس بادشاہ کی سب سے مشہور نسبت ٹھہری، وہ جام جمشید تھا۔ کہتے ہیں کہ ایک گول سا پیالہ تھا جس میں اسے دنیا بھر کے تمام حالات نظر آ جاتے تھے۔ اب یہ کیفیت اس پیالے کے اندر موجود مشروب کے ہاتھوں ہوتی تھی یا واقعی کچھ ایسا سین تھا، خدا بہتر جانتا ہے۔ ویسے بعض تند و تلخ مشروبات بھی جمشید ہی کی ایجاد تھے۔ تو اس پیالے کو جام جمشید یا تھوڑا مختصر کر کے جام جم کہا کرتے تھے۔
ٹرمپ سعودی عرب گئے تو وہاں بہت گرمجوشی سے ان کا استقبال ہوا، میڈیا نے پل پل کوریج دی۔ یہ الگ بات کہ باہر دنیا میں بھی ان کے مخالفین اتنے ہی موجود ہیں جتنے پاکستان میں اینٹ اٹھاؤ تو نظر آتے ہیں۔ ان کے بارے میں رپورٹنگ ہمیشہ اینگل کا شکار رہتی ہے، مثبت یا منفی بہرحال کسی رخ پر جھکاؤ لازماً پایا جاتا ہے اور وہ درست ہے کیوں کہ وہ ہمیشہ سے غیر محتاط بیان دینے والی شخصیت رہے ہیں۔

اس دورے میں جہاں اسلحے کے بہت سے معاہدے ہوئے وہاں ایک اور بڑا مزے کا واقعہ ہوا۔ ہوا یوں کہ ٹرمپ، شاہ سلیمان اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی ایک اندھیرے کمرے میں داخل ہوئے جس میں قطار اندر قطار کمپیوٹر لگے ہوئے تھے۔ پراسرار سا ماحول تھا، اندھیرا کافی زیادہ تھا۔ لائٹنگ کچھ ایسی تھی جیسی جہازوں میں پاؤں کے ساتھ ساتھ ہوتی ہے۔ خواتین اور مرد عملہ الگ الگ اپنی جگہوں پر بیٹھے تھے۔ کمپیوٹر سکرینوں پر دنیا بھر کے حالات حاضرہ موجود تھے۔ اس کمرے کی سیٹ ڈیزائننگ موقع پر موجود رپورٹروں کو یوں نظر آئی جیسے کسی سائنس فکشن فلم کا منظر چل رہا ہو۔ تینوں شاہان چلتے چلتے کمرے کے وسط میں پہنچے اور ایک شیشے کے گلوب پر اپنے ہاتھ رکھ دیے۔

یہاں ایک چیز کی وضاحت ضروری ہے۔ فلموں ڈراموں یا فوٹوگرافی میں عموماً چہرے کے منفی نقوش دکھانے ہوں تو لائٹنگ چہرے کے نیچے سے ڈالی جاتی ہے۔ یعنی چہرہ اوپر ہے اور روشنی نیچے سے پڑ رہی ہے، یا کیمرہ بھی نسبتاً نیچے کے اینگل پر ہوتا ہے۔ اس ایفیکٹ سے اچھے بھلے چہرے ولن کا روپ دھار لیتے ہیں۔

تو وہ کمرہ کچھ اندھیرا سا تھا اور گلوب سے روشنی پھوٹی پڑ رہی تھی۔ ایک تو ویسے ہی میڈیا ٹرمپ کے پیچھے ہے، رہی سہی کسر اس لائٹنگ ایفیکٹ نے پوری کر دی اور وہ تصویر بہت دلچسپ کیپشنز کے ساتھ پورے سوشل میڈیا پہ گشت کرتی رہی جس میں تینوں حکمران اسی گولے پر ہاتھ رکھے کھڑے ہیں اور روشنی ان کے چہروں پر آ رہی ہے۔ کسی نے ہیری پوٹر کے ایک کردار سے تشبیہہ دی، کسی نے سٹار ٹریک یاد کیا، کسی نے کہا اب یہ وقت بھی دیکھنا تھا، اور یاد کرنے والوں کو جام جم یاد آ گیا کہ جمشید بھی ایسے ہی پیالے پر ہاتھ رکھ کے نہ جانے کس ترنگ میں کیا کیا کچھ دیکھا کرتا تھا۔

کھربوں ڈالر ہتھیاروں کی خریداری میں اڑانے کے سودے ہوئے اور اس کے بعد ان تینوں بادشاہوں نے امن کے فروغ کا راگ گانے کے لیے اس گلوب پر ہاتھ رکھ کے تصویر بنوائی۔ گلوبل سینٹر فار کومبیٹنگ ایکسٹریمسٹ آئیڈیالوجی نامی سینٹر کی یہ افتتاحی تقریب عین ویسی تھی جیسے کسی پوش سکول میں بچے غربت ختم کرنے کے لیے فل اے سی والے ہال میں ٹیبلو پیش کریں اور وہاں سے باہر نکل کر فائیوسٹار ہوٹلوں کی ضیافت اڑائیں۔ ان بچوں کو غربت کا حقیقی احساس اس لیے نہیں ہو سکتا کہ انہوں نے وہ دن دیکھیے ہی نہیں۔ تو جو صدر ہتھیاروں کا بزنس کرتے ہوئے امن کی بات کرے وہ گھوڑے اور گھاس کی دوستی جیسا معاملہ ہو گا۔

اس ادارے کو عربی میں ”اعتدال‘‘ کا نام دیا گیا اور پوری دنیا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے خلاف اسے مرکز بنائے جانے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس کے بنیادی مقاصد میں برداشت، رواداری اور ہم آہنگی پیدا کرنا اہم ہیں۔ بنیاد پرست فلسفے اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے مسائل پر قابو پانے کا بندوبست اسی ادارے سے شروع کیا جائے گا۔ دہشت گردی کے سہولت کاروں سے نمٹنے کا پروگرام بھی بتایا گیا ہے۔

اعتدال کی ویب سائیٹ پر جائیں تو وہاں ایک بروشر موجود ہے جو اس ادارے کے اغراض و مقاصد ظاہر کرتا ہے۔ اس دس صفحاتی کتابچے میں ایک عنوان ہے، ”کیوں‘‘ وجہ بیان کی گئی، ”چوں کہ دنیا خطرے میں ہے۔‘‘ اسی مد میں آگے جا کر بتایا گیا ہے دنیا میں دہشت گردی کی جو لہر امڈتی چلی آ رہی ہے، نت نئی دہشت گرد تنظیمیں بن رہی ہیں اور مختلف قوموں کے لوگ ان میں شامل ہو رہے ہیں، یہ سینٹر ان کے خلاف کام کرے گا۔ سوشل میڈیا پر ان گروپس کی موجودگی کو ایک اہم خطرہ بتایا گیا ہے۔ ساتوں براعظموں کی نگرانی اور ان میں ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی جانچ پڑتال یہیں سے بیٹھ کر ہو گی۔ پھر اس سینٹر کی ایک اور گورننگ باڈی ہو گی جو یہاں موجود نظر رکھنے والوں پر نظر رکھے گی۔ دو تین جگہ سافٹ وئیر ٹیکنالوجی پر بہت زور دیا گیا ہے اور بتاتے ہیں کہ ایسا سوفٹ وئیر اس ادارے کے پاس موجود ہے جو کوئی بھی غیرپسندیدہ بات آن لائن ہونے کے چھ سیکنڈ میں اعتدال ڈیسک پر پہنچا دے گا اور اسی فیصد تک یہ نتیجہ درست ہونے کی یقین دہانی ہے۔

نہ جانے کیوں لیکن یہ بروشر کچھ خالی خالی سا لگا۔ ایسے بڑے اور اہم ادارے کا تعارف کچھ ٹیکنیکل تفصیلات کے ساتھ ہونا چاہیے تھا۔ یہ پریزینٹیشن نما وضاحت کوئی بھی ایم بی اے کا بچہ آرام سے دو گھنٹے میں تیار کر سکتا ہے۔ ایسا اہم مرکز جہاں بیٹھ کر زمینی مسائل پر نظر رکھی جائے گی اس کا ہلکا پن گولوں پر ہاتھ رکھ کے تصویریں کھنچوانے اور گول مول سی تفصیلات میں سامنے نہیں آنا چاہئیے تھا۔ خیر، سوال یہ ہے کہ اگر ٹرمپ کی جگہ اوباما آتے تب بھی یہی سیٹ ڈیزائننگ ہوتی؟ ولی را ولی می شناسد!

اوباما دور حکومت میں پالیسی کچھ ایسی رہی کہ توجہ کا مرکز ایران تھا اور سعودی عرب سے مناسب فاصلہ رکھا گیا۔ ٹرمپ چوں کہ شروع سے ایران کے ناقد رہے ہیں اس لیے حکومت سنبھالتے ہی یو ایس پالیسی کا ایک واضح جھکاؤ سعودی عرب کی طرف نظر آیا لیکن جو ڈرامائی تبدیلی بحیثیت مجموعی مسلمانوں کے لیے ان کے رویے اور تقریر میں نظر آئی اس کے پیچھے شاید وہی مالی معاہدے تھے جو کسی بھی کاروباری ذہنیت کو مرغوب ہوتے ہیں۔

وہ ٹرمپ جو ہر بیان میں مسلمانوں کو رگڑتے نظر آتے تھے اپنی تقریر میں انہوں نے بڑے مزے سے کہا کہ ہم کچھ سکھانے نہیں آئے ہم پارٹنرشپ آفر کرنے آئے ہیں، جو مشترکہ مفادات کے لیے ہو گی۔ اسی طرح انسانی حقوق کی بات ہوئی، ایران کو سفارتی سطح پر تنہا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا، شام کے حالات کو دوبارہ بہتر بنانے کا عندیہ دیا، گرم جوشی سے سعودی حکومت کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ مسلم ممالک کو بنیاد پرستی ختم کرنے کے لیے یقیناً سب سے پہلے آگے بڑھنا ہو گا۔ اگلے دن ٹرمپ اسرائیل کوچ کر گئے۔

پاکستان نے پوری تقریب میں کونا پکڑے رکھا، اچھا کیا۔ بنیادی طور پر اگر ٹرمپ کی تقریر ڈپلومیسی کی عمدہ مثال تھی تو سعودیوں کے تمام سائنس فکشن انتظامات بھی گونگلوؤں سے مٹی جھاڑنے والے تھے۔ اس سارے معاملے کا حاصل صرف وہ دفاعی معاہدے تھے جو ٹرمپ بہت کامیابی سے کر کے نکل چکے ہیں یا وہ تصویریں تھیں جو اگلے کئی دن شغل لگاتی رہیں گی۔ سی پیک کے بعد ویسے بھی کم از کم غالب کا یہ شعر تو پڑھا جا ہی سکتا ہے؛

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے

بشکریہ روزنامہ دنیا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 464 posts and counting.See all posts by husnain