شام میں جنگ بندی کا آغاز


saham jangعالمی طاقتوں کے معاہدے کے بعد شام میں 5 سال سے جاری خانہ جنگی میں پہلی بار جنگ بندی کا آغاز ہو گیا۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے سٹافن ڈی میستورا نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ ابتدائی رپورٹس میں دمشق اور درعا میں اچانک سکون آیا ہے۔لبنان میں قائم شام سے متعلق انسانی حقوق کی تنظیم کے ڈائریکٹر رمی عبدالرحمن کا کہنا تھا کہ شام کے شمالی علاقوں سے کچھ دھماکوں کی آوازیں ضرور آئی ہیں البتہ ان کی نوعیت کا اندازہ نہیں ہو سکا۔
اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے مطابق کوئی بھی راتوں امن کے قیام کی توقع نہیں کر رہا، اگرمعاہدے کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو ایسے واقعات کو فوری کنٹرول کرنا ہوگا۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی نے رپورٹ کیا کہ شام کے لیے اقوامِ متحدہ کے خصوصی ایلچی سٹافن ڈی میستورا نے اعلان کیا کہ اگر جنگی کارروائیاں رکی رہیں تو شام میں قیامِ امن کے لیے مذاکرات کا عمل سات مارچ کو دوبارہ شروع ہوگا۔
شام میں جنگ بندی کا آغاز رات بارہ بجے سے ہوا، معاہدے میں سرکاری فوج اور باغی گروپ شامل ہیں لیکن اس کا اطلاق شدت پسند گروہ داعش اور القاعدہ کے حامی گروہ النصرہ فرنٹ پر نہیں ہوگا۔دوسری طرف شدت پسند تنظیم النصرہ فرنٹ نے سرکاری فوج اور اتحادیوں کے خلاف کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خیال رہے کہ 5 سال میں ایک اندازے کے مطابق 2 لاکھ 50 ہزار افراد خانہ جنگی سے ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ 40 لاکھ افراد نے ملک سے نقل مکانی کی ہے۔
واضح رہے کہ جنگ بندی کے اس معاہدے کو اقوام متحدہ کا امن کے لیے روڈ میپ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے تحت شام کی حکومت اور اس کا اتحادی روس داعش اور القاعدہ کے علاوہ دیگر گروپس کو نشانہ بند کر دیں گےکیونکہ یہ دونوں تنظیمیں معاہدے کا حصہ نہیں ہیں، معاہدے پر عملدرآمد کی صورت میں شام میں جنگ زدہ علاقوں میں امداد پہنچانا آسان ہو جائے گا۔
اقوام متحدہ کے مطابق شام میں 30 شہر ایسے ہیں جہاں شہریوں کو امداد پہنچانے کی ضرورت ہے، ان میں حلب، دارالویز سمیت کئی بڑے شہر بھی شامل ہیں۔
بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق جنگ بندی پر 100 کے قریب بشار الاسد مخالف گروہ رضا مند ہو چکے ہیں۔
روسی نشریاتی ادارے آر ٹی کی رپورٹ کے مطابق شام میں معاہدے کے تحت ہونے والیہ جنگ بندی کو ماسکو اور واشنگٹن کی مشترکہ ٹاسک فورس مانیٹر کرتی رہے گی۔
واضح رہے کہ امریکا اور روس کی جانب سے جنگ بندی کے مشترکہ اعلان کے بعد شام کے صدر بشار الاسد نے ملک میں پارلیمانی انتخابات کا بھی اعلان کردیا تھا جس کے لیے 13 اپریل کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments