یہ بدلنے والے نہیں !


آپ لاکھ انہیں گھر بلائیں ‘ ہیپی برتھ ڈے منوائیں ‘ کیک کٹوائیں یا مری لنچ کروائیں ‘مگر نہ یہ بدلنے والے اور نہ ان سے کسی خیر کی توقع ۔

گودھرا کی جنت شیخ نے بتایا کہ 28فروری کی شام ساڑھے چھ بجے مشتعل ہجوم نے میرے شوہر پر چھریوں ‘ کلہاڑیوں سے حملہ کیا اور تھوڑی ہی دیر میں جب وہ زمین پر گر کر تڑپنے لگا تو لوگوں نے پٹرول چھڑک کر اسے زندہ جلا دیا ‘ اسی دوران چند افراد جنہوں نے کپڑوں سے منہ ڈھانپ رکھے تھے اُنہوں نے پہلے میری نند کو برہنہ کرکے گھمایا‘ اس کے ساتھ زیادتی کی اور پھروہ اور اس کی تین ماہ کی بچی پر پٹرول چھڑک کر دونوں کو آگ لگا دی ‘ ہم5چھ خواتین ایک گھر کی چھت پر دم سادھ کر لیٹے یہ سب دیکھ رہی تھیں ‘ میں نے دیکھا کہ لوگ اب میرے منہ بولے بھائی کو جانوروں کی طرح مار رہے تھے ‘ جب اس میں ہلنے کی بھی سکت نہ رہی تو اس پر بھی پٹرول چھڑک کر آگ لگادی ‘ ہجوم میں کسی نے جب چلنے پھرنے سے بھی قاصر میری ضعیف ساس کے رونے دھونے کی آواز سنی تو اسکے کمرے کا دروازہ توڑ کر پہلے نقدی اور زیورات چھینے ‘ اس کے چار سالہ نواسے کو اسکے سامنے زندہ جلایا اور پھر ان جانوروں نے میری بوڑھی ساس کو بھی آگ لگادی ‘ ان چند گھنٹوں میں ان لوگوں نے ہمارے محلے کی کئی لڑکیوں کو بے آبرو کرکے انہیں موقع پر ہی جان سے مار دیا ‘جب شام سے ذرا پہلے ہجوم دوسرے محلے کی طرف گیا تو ہم بمشکل وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئیں ۔
کھیڈا کی کلثوم نے کہانی کچھ یوں بیان کہ 28فروری کو پچاس سے زیادہ مسلح جنونی ہندؤ گنگو تری سوسائٹی میں ہمارے گھروں پر حملہ آورہوئے‘ہم سب گھبرا کر گھروں سے نکل کر بھاگے توٹولیوں میں بٹے ہندؤں نے ہمارا پیچھا کرنا شروع کیا اور اسی دوران جو لڑکی بھی ان کے ہاتھ لگتی یہ اسکی عزت لوٹ کر اسے آگ لگادیتے ‘ میں نے 2تین گھنٹوں میں 16سالہ مہر النساء سمیت آٹھ دس لڑکیوں کے ساتھ زیادتی ہوتے دیکھی ‘ تمام لڑکیوں کو زندہ جلانے اور 5چھ گھنٹے لوٹ مار کرنے کے بعد یہ لوگ منتشر ہوگئے۔

وست نگر کے محمد افضل نے کہا کہ یکم مارچ کو میں نے دیکھا کہ ہماری محلے کی حاملہ کوثر بانو بلوائیوں کے آگے بھاگتے بھاگتے جب تھک ہار کر گری توہجوم نے اسے نرغے میں لے کر چھریوں اور چاقوؤں سے اسکا پیٹ چیرکر بچہ باہر نکالااور خون میں لت پت کوثر بانو کو آگ لگا کر اسکا بچہ بھی اسی آگ میں پھینک دیا ۔

گزشتہ 15سال سے ننگے سر اور ننگے پاؤں روتی دھوتی لوڑ گاؤں کی عاقلہ بی بی نے اپنے دُکھوں کی پوٹلی کچھ اس طرح کھولی کہ’’ حا لات بہت خراب ہو چکے تھے لیکن میرے ریٹائرڈ سکول ٹیچر سسر اس لیئے گاؤں نہیں چھوڑ رہے تھے کہ چونکہ علاقے کے ہندو ان کا احترام کرتے ہیں لہذا وہ انہیں نقصان نہیں پہنچائیں گے ‘لیکن ان کا خیال غلط نکلا اور 3مارچ کی سہ پہر مشتعل ہجوم نے ہمارے گھر پر بھی حملہ کر دیا ‘ہم افراتفری میں گھر سے نکل کر مختلف سمتوں میں بھاگتے ہوئے قریبی کھیتوں میں جا گھسے مگر لوگوں نے ہمیں وہاں بھی ڈھونڈ نکالا اور میری نظروں کے سامنے میرے سسر کے شاگردوں نے سب سے پہلے انہیں ہی بے دردی سے قتل کرکے لاش کو آگ لگائی‘ پھر انہوں نے میرے خاندان کے ایک ایک فرد کو ڈھونڈ کر مارنا شروع کر دیا‘ میں اپنے خاندان کے لوگوں کی چیخیں سن رہی تھی‘یہ سب منتیں‘ سماجتیں کر رہے تھے مگر کوئی ان کی نہیں سن رہا تھا ‘ اسی دوران میں نے اپنے محلے کے گانو باڑیا اور سنیل کو اپنی بیٹی شبانہ کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے جاتے دیکھا ‘وہ بہت خوفزدہ لگ رہی تھی ‘ میں نے بہت کوشش کی مگر مجھ میں اتنی طاقت بھی نہ تھی کہ اُٹھ کر اپنی بیٹی کو بچانے کی ایک کوشش ہی کر لیتی ‘ پھر میں نے اپنی بیٹی کی آخری چیخیں سنیں ‘ اسکے بعد میں نے اپنی چچا زاد‘ شاہانہ اور رقیہ کی آوازیں بھی سنیں جو لوگوں سے اپنی عزت کی بھیک مانگ رہی تھیں‘ میرا دماغ ماؤف ہو چکا تھا اور میرے ہوش جواب دے رہے تھے اور پھر بے ہوش ہوتے ہوئے مجھے یہ آخری آواز سنائی دی کہ ’’ سب لاشوں کو آگ لگا دو‘ کوئی ثبوت نہیں رہنا چاہیے ‘‘اسکے بعد مجھے کچھ پتا نہیں کہ کیا ہوا،مجھے جب ہوش آیا تومیں اسپتال میں تھی ۔

کل کی طرح آج بھی آنسو بہاتے گلبرک سوسائٹی کے جیون سلطان کہتے ہیں کہ 15مارچ 2002کو چارہ نگر اور کوبرنگر کی طر ف سے آیا ہجوم شام چھ بجے کے قریب ہمارے گھروں میں گھسا‘ یہ گھروں میں لوٹ مار کرتے ‘ مردوں کو قتل کرتے اور عورتوں سے زیادتی کرکے انہیں آگ لگاتے جار ہے تھے ‘ ہم نے پولیس سمیت ہر محکمے کو فون کرکے مدد مانگی مگر کوئی بھی مدد کیلئے نہ آیا‘ اُس روز نہ صرف میری 22سالہ بیٹی جس کی ایک ماہ بعد شادی ہونے والی تھی ‘ اسے زیادتی کے بعد قتل کردیا گیا ‘بلکہ میرے خاندان کے5افراد جن میں میری 45سالہ بیوی ‘16اور 18سال کے 2بیٹے اور8اور20سال کی2بیٹیاں شامل تھیں کو بھی زندہ جلا دیا گیا ‘ اسی روزمیں نے یہ بھی دیکھا کہ حسین نگر کی 13سالہ فرزانہ کو زیادتی کے بعد زندہ
جلا نے والے گڈو‘ سریش‘ اور نریش نے 12سالہ نورجہاں کو بھی زیادتی کے بعد قتل کر دیا اور میرے سامنے ہمارے علاقے کے بھوانی سنگھ نے ساتھیوں کی مدد سے 5مردوں اورایک کم سن لڑکے کو قتل کیا ۔

صاحبو!یہ کسی ناول کے اقتباسات ہیں اورنہ کسی افسانے کے حصے اور یہ کسی فلم کے مناظرہیں اورنہ کسی ذہن کی اختراع‘ بلکہ یہ کڑوے سچ ‘یہ تلخ حقیقتیں ‘ یہ سب بے بسیاں ‘ یہ تمام بے کسیاں ‘ یہ تذلیل ‘ یہ رسوائی ‘ یہ حیوانیت،یہ بربریت مطلب یہ سب کچھ سیکولر بھارت کے صوبے گجرات کے 26علاقوں میں فروری 2002ء سے مئی 2002ء کے دوران بدنصیب مسلمانوں کو سہنا پڑا ‘ وہاں جو ہوا‘ یقین جانیئے یہ اس کی ایک جھلک ‘ورنہ ان 3مہینوں میں ہونے والا بہت کچھ تو ناقابلِ بیان اور ناقابلِ تحریراور د وستو! ہو سکتا ہے کہ بدقسمتیوں اور بدنصیبیوں میں گھری مجبور وبے کس مسلم برادری کی یہ دل دہلا دینے والی آپ بیتیاں ‘ جنونی ہندؤں کے ظلم وستم اور انتہا پسندوں کے بھیانک جرائم کبھی سامنے نہ آتے‘اگر دہلی کی سیدہ حمیدہ اور مالتی گھوش‘ بنگلور کی اوتھ منورما ، احمد آباد کی شیبا جارج ، تامل ناڈو کی ساری ٹھیکا اور گجرات کی فرح نقوی جیسی بہادر خواتین اپنی مد د آپکے تحت گجرات کے لٹے پٹے 20ہزار مسلمانوں کے 7امدادی کیمپوں میں 15روز گذار کر ان زندہ لاشوں کے دُکھ پوری دنیا میں نہ پھیلاتیں ‘ اور اگر بھارتی رسالے تہلکہ کی رپورٹر رعنا ایوب فلم ساز کے روپ میں گجرات جا کر وہاں ہوئے مظالم پر ’’گجرات فائلز‘‘ نامی کتاب نہ لکھتیں ‘ گو کہ یہ سب کچھ سامنے آنے اور اقوام متحدہ سمیت دنیا کے ہر ادارے کو تمام ثبوت بھجوانے کے باوجود بھی نہ کچھ ہونا تھا اور نہ کچھ ہوا‘ لیکن یہاں زیادہ اہم بات یہ کہ یہ مسلم کش فسادات جن میں 3ہزار سے زیادہ مسلمان قتل کر دیئے گئے ‘2ہزار لاپتہ ہوئے ‘11سو خواتین کی عزتیں لوٹیں گئیں اور1لاکھ لوگ بے گھر ہوئے ‘ ان کا سکرپٹ رائٹر‘ہدایتکار او رماسٹر مائنڈ صوبائی وزیراعلیٰ نریندر مودی تھا‘جی ہاں پاکستان توڑنے پر فخر کرنے والا مودی‘ وہی مودی جواُ س وقت گجرات کاوزیراعلیٰ تھا اور آج بھارت کا وزیراعظم ‘ وہی مودی جس نے ان فسادات کے سینکڑوں مجرموں کو بچا کر صرف 60ہندؤں کو معمولی سزائیں دلواکر معاملہ دبادیا اور وہی مودی جسکے ظلم وستم کے 15سال بعد آج بھی گجرات کے ’’گھیٹو‘‘ میں 5لاکھ مسلمان جانوروں جیسی زندگیاں گذارنے پر مجبور ‘ دوستو! گذرے کل مودی کے گجرات کا سوچ کر اورآج مودی کے ہندوستان کو دیکھ کر میں تو اس نتیجے پر پہنچ چکا کہ آ پ لاکھ انہیں گھر بلائیں ‘ ہیپی برتھ ڈے منوائیں ‘ کیک کٹوائیں یا مری لنچ کروائیں ‘مگر نہ یہ بدلنے والے اور نہ ان سے کسی خیر کی توقع ۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں