ستیہ پال جی، تلہ گنگ آپ کا اپنا گھر ہے!


waqar ahmad malikستیہ پال آنند صاحب، شرمندہ ہوں کہ آپ کو اپنی جنم بھومی آنے کے لیے بھارت کی بجائے امریکہ کے ویزے کی ضرورت پڑی اور اس قدر انتظار کرنا پڑا۔

فخر ہے کہ اتنے عظیم شاعر کا تعلق تلہ گنگ کے قصبے کوٹ سارنگ سے ہے۔

ستیہ جی تلاگنگ آج بھی آپ کااپنا گھر ہے۔ ہم آپ کے متر ہیں، دوست ہیں ، بھائی اور بھتیجے ہیں۔

آپ نے میرا ایک بڑا قضیہ حل کر دیا۔ مجھے سمجھ نہیں آتی تھی کہ تلہ گنگ کے کھیتوں کھلیانوں میں شام اس قدر بوجھل کیوں ہوتی ہے۔

سرمئی سرخیلا رنگ دل میں جگہ کر لیتا ہے۔ بینڈے شام سمے بھی ٹیں ٹیں جاری رکھتے ہیں۔ کاش یہ بینڈے ہی چپ کر جاتے۔

میں نے بینڈوں کوانسانی جذبات کے احترام کے حوالہ سے ہمیشہ بے حس پایا ہے۔

اتنی وجہ تو معلوم تھی کہ اداس دھریکیں ہیں اور اداس نیاز بو (تلسی) ہے ۔کیا سارا ماحول دھریکوں اور نیاز بوکی اداسی کی وجہ سے بوجھل ہے؟

سر جھکائے یہ گھنی دھریکیں شام کو سبز نہیں سیاہ ہیولے سی نظر آتی ہیں۔ شام کو نیاز بو کے پتے مرجھا سے جاتے ہیں، خوشبو نہیں دیتے ہیں۔

ان کے اداس ہونے کی وجہ کا علم آج ہوا۔

دھریک کے نیچے محمد عبداللہ اور ستیہ پال آنند دو بچے کھیلتے تھے۔ اس کے ’دھرکانووں ‘سے ایک دوسرے کو مارتے تھے اور دھریک ہنس ہنس کر اپنی شاخوں کو زور زور سے ہلاتی تھی…. پھر ایک واویلا سا سنائی دیا، شور تھا ۔ صاف سنائی نہیں دیتا تھابس درمیان میں تیری مسجد، میرا مندر اور میرا مندر، تیری مسجد جیسے بول سنائی دیتے تھے۔

محمد عبداللہ تو دھریک کے پاس رہا لیکن ستیہ پال آنند کہیں دور چلا گیا۔

ستیہ جی، دھریکیں بیٹیوں کی طرح صرف جلد جوان ہی نہیں ہوتیں، اپنی فطرت میں بھی عورتیں ہی ہوتی ہیں۔ عشق کرتی ہیں تو مذہبی وابستگیوں اور رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر کرتی ہیں۔

412784nہم سب ستیہ پال آنند کو بھول سکتے ہیں لیکن بھلا ایک دھریک کیسے بھولے؟

وہ نیاز بو کیسے بھولے جو ستیہ پال آنند کے آنگن میں زیادہ مہکتی تھی۔

ستیہ پال کو ایک’ بھوآڑا‘ کیسے بھولے۔ داتری ، گھڑونجی، چھج، بوکا، ٹاہلی، ہل ، پنجالی، تندور، کاچ ماچ ۔۔یہ سب ستیہ جی کو کیسے بھول جائیں؟

آپ نے محل کا ذکر کیا ، یقینا ’ماحل‘ ہی کہنا چاہتے ہوں گے ۔ ماحل کو اگر ح کے اوپر زبر لگا کر نہ پڑھا جائے ۔

ستیہ جی ہو سکتا ہے آپ کا حافظہ بہت اچھا ہو اور آپ کو اپنی جنم بھومی میں رہن سہن سے متعلقہ الفاظ یاد ہوں ۔ ہو سکتا کچھ بھول گئے ہوں ۔ میں اپنے اس مضمون کو انہی لفظوں سے مزین کرنا چاہتا ہوں۔

اگر آپ کو ماحل یاد ہے تو اس میں لگی ’کانس‘ بھی یاد ہو گی جس کی محرابی ڈھیر ساری کھڑکیاں سی ہوتی تھیں اور یہ لمبی کانس جو پوری دیوار کے ساتھ لگی ہوتی تھی کس قدر شوخ رنگوں سے سجائی جاتی تھی۔ اس کے اوپر نیلے سفید سرخ اور سفید رنگوں سے بنائے پھول۔پھر ان محرابوں میں رکھے پیتل کے برتن۔

وہ پیلا سا پیتل والا گلاس بھی شاید آپ کو یاد ہو جس پر باریک لکیروں سے پھول بنے ہوتے تھے۔

چھت پر کڑی اور ورگے بھی یاد ہوں گے۔ کڑی کے اوپر نقش و نگار اور الٹے لگے شیشے بھی یاد ہوں گے۔

پرانی ڈھوکیں ایک برآمدے اور برآمدے کے اند ر دو یا تین کمروں پر مشتمل ہوتی تھیں۔

ایک کمرے کو ’ڈنگروں کا کوٹھا‘ کہا جاتا جو جانوروں کے لیے مخصوص تھا۔

ایک اندھیری سی کوٹھڑی جہاں اناج کی بوریاں دھری ہوتیں۔

127849841_nستیہ جی کوٹ سارنگ میں آپ کو کنویں یا نزدیکی نالے پر پانی بھرنے کا اتفاق تو ہوا ہو گا۔ اگر ہوا تو یہ بھی یاد ہو گا کہ کھوتی کے اوپر تین گھڑوں کو رکھنے کے لیے لکڑی کی ایک ’جندری‘ ہوا کرتی تھی۔ اور شاید آپ جندری اور کھوتی کی پیٹھ کے درمیان رکھے ’پیڑ‘ کو بھول گئے ہوں جو خالی بوریوں اور پرانے کپڑوں پر مشتمل ہوتا تھا ۔

گھڑوں کی دو قسمیں بھی یاد ہوں گی۔ ’تتے گھڑے‘ اور ٹھنڈے گھڑے۔ تتے گھڑے ایسی چکنی مٹی سے بنے ہوتے کہ پانی مساموں سے باہر نہیں آ سکتا تھا جبکہ ٹھنڈے گھڑے مساموں سے پانی رسنے کی وجہ سے سبزی مائل سے ہو جاتے۔ لسی اور ان گھڑوں کے پانی کا تناسب ایک چار کا تھا۔ یعنی ایک حصہ لسی کا لیا جاتا اور چار حصے ٹھنڈے پانی کے گھڑے سے پانی کے لیے جاتے۔ ہل چلا کر آئے پسینے سے شرابور کسانوں کے سینے میں ٹھنڈ پڑ جاتی تھی۔

ڈھوکوں کا باورچی خانہ گرمیوں میں باہر صحن میں شفٹ ہو تا تھا۔ چولہے کی آگ کو ہوا سے بچانے کے لیے اس کے گرد بنائی دیوار کو ’کدوڑھری‘ کہتے تھے۔

آپ کو بچپن میں کنک (گندم) کاٹنے کا بھی اتفاق ہوا ہو گا۔ اور داتری (درانتی) کا استعمال خوب جانتے ہوں گے۔

میں نہیں جانتا تھا اس لیے دادا سے ڈانٹ پڑتی تھی۔ گندم کی کٹائی کرتے وقت کنک کا ’تیلا‘ نیچے نہیں گرنا چاہیے اور ’تھدا‘ خوبصورتی سے بنانا چاہیئے۔ میں تیلے گراتا تھا۔ بابا کو غصہ آتا تھا کہ میرے کھیتوں کے پاس سے لوگ گزریں گے تو کیا کہیں گے شادی خان کیسا زمیندار ہے ۔ اس کے خاندان سے گندم بھی صحیح نہیں کاٹی جاتی۔ گندم کاٹنے والے کے لیے لفظ ’کاپا‘ استعمال ہوتا تھا۔ بابا کہتا تھا لوگ کیا کہیں گے یہاں کیسے کاپے لگے رہے ہیں۔ بابا مجھے کہتا تھا کہ میراباپ مزاللہ خان، اور اس کا باپ محمد خان اور اس کا باپ لال خان…. پوری نسل میں ایسا برا ’کاپا‘ پیدا نہیں ہوا جیسے وقار تم ہو۔

ہو سکتاہے گندم کی کٹائی کے موسم سے پہلے ستیہ صاحب آپ داتری کو دندانے کے لیے لوہار کے پاس بھی گئے ہوں اور وہاں تپتی بھٹی اور اس میں سرخ اور پھر سفید ہوتی داتریاں دیکھی ہوں۔ مجھے انتظار رہتا تھا کہ کب لوہار بابا، ان داتریوں کو ٹھنڈے پانی میں پھینکے گا اور شوں کی آواز آئے گی۔

گاﺅں اور بالخصوص کھیتوں میں بنے گھروں میں شام کو کیا خاموشی ہوتی ہے۔ کھانا کھاتے ہوئے چند منظر ہر گھر میں نمایا ں ہوتے تھے۔

12784nایک کھانا کھاتے کنبے کے ساتھ تھوڑی دور بیٹھا روٹی کے انتظار میں دم ہلاتا کتااور….
جانوروں کے زمین پر پاﺅں مارنے کی آواز….
گائے اوربیلوں کے نتھنوں سے آتی سانس کی آواز۔

نہ جانے ہر گھر میں ایک شریر بکرا کیوں ہوتا تھا ستیہ جی، جو اپنی ہیت، طاقت اور وجود سے غافل ہوتا تھا۔ اور سیدھا جا کر طاقتور بیل سے پنگا لیتا تھا۔ دونوں سر جوڑ کر کھڑے ہو جاتے، ایک دوسرے کو ماتھے پر ہٹ ہٹ کر ٹکریں مارتے ۔ میں گھنٹوں دیکھتا کہ شاید اب بیل اس کے ساتھ ڈرامہ بند کرے گا اور اس کو زور کی ٹکر مار کر مزہ چکھائے گا ۔ لیکن نہیں بیل ڈرامہ کرتا رہتا اور بکرا اپنی طرف سے انتہائی سنجیدگی سے لڑتا رہتا۔

ستیہ پال آنند جی میں نے گاﺅں میں مرغوں ، بیلوں،کمی کمینوں اور اس ماں کو جس کی جوان اولاد مر جائے …. ہمیشہ اعلیٰ ظرف پایا ہے۔

کھانا کھانے کے بعد سردیوں میں چولہے پر اس وقت تک بیٹھے رہنا کہ جب تک انگارے بجھ نہیں جاتے اور ستیہ صاحب کیکر کے انگارے جلد کہاں بجھتے ہیں۔اور اس دوران منہ میں گڑ کی روڑی اور آس پاس چند ڈھوکوں کے باشندوں کے حوالے سے وہی مخصوص دہرائی جانے والی غیبت بھری کہانیاں۔

آج میڈیا اور معلومات کی بھرمار، والے اس دور میں تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ ساٹھ ستر سال ایک ایسی جگہ زندگی گزرے کہ آس پاس چار پانچ گھروں اور مل ملا کربیس لوگوں سے واسطہ ہو۔ ستیہ صاحب آپ تو جانتے ہی ہیں غیبت کے لیے کتنا کم مال دستیاب تھا۔

میں سوچتا تھا کہ روزانہ وہی باتیں دہرا دہرا گھر والے تنگ بھی نہیں پڑتے۔

مثال کے طور پرایک کہے گا ، وہ یاد ہے ممبریز خان آ رہا تھا کھوتی پرکنک لادے اور کھوتی نے کنک گرا دی تھی۔

دوسری آواز طنزیہ ہنسی کے ساتھ’ اونہہ ‘ کہتی۔ ہاں بڑا زمیندار بنا پھرتا ہے ایک کھوتی پر کنک تو سنبھالی نہیں جاتی۔ ا

تیسری آواز آئے گی۔ اس کے باپ سے بھی کھوتی پر سے کنک گری تھی۔واہ واہ باتیں سن لو جتنی مرضی ۔۔کام ہوتا نہیں!

گاﺅں کی زندگی میں قدم بڑا بڑا پھونک کر رکھنا پڑتا ہے ایک چھوٹی سی غلطی نسلوں کے لیے شرمندگی ٹھہرتی ہے ۔

اب دیکھئے ناں۔ ممبریز خان کا باپ اگر غفلت نہ کرتا تو طعنے دوسری اور تیسری نسل تک تو نہ پہنچتے۔

یقینا ممبریز خان اپنی اسی سالہ زندگی میں ہزاروں دفعہ کنک کو کھوتی پر کھیت سے کھلواڑے (کھلیان) تک لایا ہو گا اور کامیاب لایا ہو گا۔۔

لیکن ہائے شو مئی قسمت کاش اس دن بھی دھیان رکھتا۔ چلیں باپ سے زندگی میں ایک دفعہ غلطی ہو گئی لیکن بیٹے نے بھی وہی غلطی دہرا دی۔

1935786915_nتوبہ توبہ ۔ اب اس کو صرف اتفاق تو نہیں کہا جا سکتا۔

گاﺅں میں غلطی کی گنجائش بہت کم ہوتی تھی لیکن ستیہ صاحب غلطی بڑی ہو یا چھوٹی مان تو لی جاتی تھی۔ شرمندہ تو ہوا جاتا تھا۔

انسانوں کے جنگل کیا اگے…. نادم ہونے کا تصور ہی چھن گیا۔

ارے کیا مزے کا قصہ یاد آیا۔ میں شہر سے کبھی طویل وقفے کے بعد گاﺅں جاتا تو دوبارہ ایڈجسٹ ہونے میں وقت لگتا۔ مثلا اگر ڈھوک سے دو کلومیٹر دور کچھ لوگ جا رہے ہوتے اور دادی کی نظر پڑ جاتی تو دادی سارے کام چھوڑ کر کھیتوں کے پار اس افق کو دیکھنا شروع کر دیتی ۔

دیکھنے کا مخصوص انداز تو آپ کو معلوم ہی ہے۔ ماتھے پر ہاتھ کی چھتری سی، چھجا سا بناکر…. دیکھ کر خود ہی کہتی، یہ کون ہیں؟

یہ کہاں جا رہے ہیں؟

ان میں دو عورتیں اور ایک مرد ہے …. ہے ناں؟

میں کہتا پتہ نہیں دادی۔ چھوڑو ان کو جو بھی ہیں۔ (آپ کو بتایا ہے میں شہر میں وقت گزار کے تازہ تازہ گاﺅں گیا ہوں)

دادی اپنی توجہ قائم رکھتی۔ کہتی۔۔لیکن یہ چال سے تو فلاں ڈھوک کے لگتے ہیں۔

لیکن ایک عورت کی چال اس ڈھوک والیوں کی طرح نہیں ہے ۔ ہو سکتا ہے کنی (پردیس) سے آئی ہو۔

دوسری عورت تو مجھے لگتا ہے وہ والی ہے۔۔ لیکن مرد ؟ مجھے لگتا ہے یہ اسی ڈھوک والے ہیں۔

میں کہتا دادی خدا کے لیے جو بھی ہیں جانے دو ان کو۔ دادی میری بات پر توجہ نہیں کرتی تھی۔

اب ایک مہینہ بعد کا منظر دیکھیں۔ فلم فاسٹ فارورڈ کریں ۔ اور چشم تخیل سے دیکھیں کہ وقار ایک کھیت میں جانوروں کے لیے چارہ کاٹ رہا ہے۔ اچانک ایک ’تھدا‘ رکھتے ہوئے اس کی نظر پڑتی ہے کہ کچھ لوگ دو کلومیٹر دور نظر آرہے ہیں۔ یقین کیجئے پچھلے پیرا گراف میں دادی پر تنقیدی حرف لکھنے والا خود ایک ہاتھ میں داتری لیے اور دوسرے ہاتھ کو ماتھے پر چھتری بنائے ان لوگوں پر غور کر رہا ہے۔

یہ کون ہیں؟
یہ کہاں جا رہے ہیں؟
امم چال سے تو لگتا ہے یہ اس والی ڈھوک کے ہیںلیکن ان میں ایک آدمی کی چال ان کی طرح نہیںہے۔ ہو سکتا ہے کنی (پردیس) سے آیا ہو۔

پس نوشت (ستیہ آنند پال صاحب لکھنے بیٹھا تو خیال یہی تھا کہ تلہ گنگ کی زمین سے جڑی پرانی زبان کے لفظ استعمال کر کے آپ کے ذہن میں تھر تھلی مچا ﺅں گا، لیکن یادوں کا بیڑا سنبھالا نہیں گیا، ہوا کسی اور رخ کی چل پڑی۔ مجھے ایک موقع اور دیں گے؟ اس کو پہلی قسط کہہ دیتے ہیں اور اگلی قسط تلہ گنگ کی مخصوص زبان کے لیے وقف کر دیتے ہیں)


Comments

FB Login Required - comments

وقار احمد ملک

وقار احمد ملک اسلام آباد میں مقیم ایک صحافی ہے۔ وہ لکھتا نہیں، درد کی تصویر بناتا ہے۔ تعارف کے لیے پوچھنے پر کہتا ہے ’ وقار احمد ملک ایک بلتی عورت کا مرید اور بالکا ہے جو روتے ہوئے اپنے بیمار بچے کے گالوں کو خانقاہ کے ستونوں سے مس کرتی تھی‘ اور ہم کہتے ہیں ، ’اجڑے گھر آباد ہوں یا رب ، اجڑے گھر آباد۔۔۔‘

waqar-ahmad-malik has 61 posts and counting.See all posts by waqar-ahmad-malik

2 thoughts on “ستیہ پال جی، تلہ گنگ آپ کا اپنا گھر ہے!

  • 28-02-2016 at 4:08 am
    Permalink

    کوٹ سارنگ کی بولی میں کہی گئی ایک غزل کے چند اشعاریاد آ گئے ہیں۔ پیش کر رہا ہوں۔
    کمرہ بند، ہُنالا، ہُسّڑ، گھڑے روڑھ اے مُڑھکا وہندا
    کہہ آکھاں اپنے ماہی آں، تنگ کرن تو وت نئیں رہندا
    ڈھیندا گُڑھدا، رُڑھدا کھُڑدا، امریکا تک اپڑ گیا آں
    گوریاں رنّاں گِٹ مِٹ مارن، تے میں آکھان، مینڈا، تینڈا
    کل سات اشعار تھے۔ باقی کےاس سلسلے کی دوسری قسط آنے پر یاد کر کے رقم کروں گا۔ (ستیہ پال آنند)

  • 29-02-2016 at 4:24 am
    Permalink

    وقار احمد ملک جانے کون شے ہے، کیا بیچتا ہے؟ ‘ہم سب’ سے پہلے نہ کچھ خبر تھی نہ اب کوئی دلچسپی ہے۔
    پر اس ظالم نے آج جو شدھ بہارکی تان کھینچی ہے تو جانو جذبات مانندِ رقص شرر آنکھوں میں در آئے۔
    اب پوچھو کہ میاں تم کو ستیہ پال جی، تلہ گنگ، یا اِس وقار ملک سے کیا علاقہ کہ تم ایک بڑے شہر کے باسی جہاں کنکریٹ کی فلک بوس اور مردہ عمارتیں تو ملیں گی پر کٹی ہوئی گندم کا تھدا ڈھونڈنے سے بھی نہ ملے گا۔ جہاں لوگ چند ٹکوں کی ہوس میں ایک دوجے کی نظروں سے تو گرتے ہیں پر کوئی کنک کا مطلب بھی شاید ہی جانے۔
    تو صاحِبان، عاجز کی یہ فغاں صرف اُس حسرت کا اظہار ہے جو ہم شہری بابوں کے جلے نصیبوں میں آئی ہے۔
    وقار احمد ملک، کباب کند، سوختہ کند۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (وائے برمن وائے برحال من افسوس کہ کوٹ سارنگ کی بولی میں کہی گئی غزل کا لطف بھی نہیں اٹھا سکتے کہ کنی جو ہیں۔)

Comments are closed.