بے خبری میں ہم کتنا بدل گئے ہیں!


naseer nasir انوار فطرت! روشنی کرتے کرتے
میری ہڈیوں کا فاسفورس بجھ چکا ہے
اور اُدھر خبریں بناتے بناتے
تمہیں بھی خبر نہیں رہی
کہ تمہارے ہاتھ اب لکھنے کے بجائے
سیاہی کے ٹھپے لگا رہے ہیں
اور خون کے چھینٹے اڑا رہے ہیں
اور گوشت کے لوتھڑے چن رہے ہیں
انوار فطرت! کب تک قتل ہوتے رہو گے
کب تک خود کشی کرتے رہو گے
اخبار کا پیٹ بھی کبھی بھرا ہے
یہ تو ساری دنیا کی خبریں کھا کر بھی بھوکا رہتا ہے

انوار فطرت! وہ دن اچھے تھے
جب تم بے کار تھے
اور میں سارا سارا دن
نقشوں کے پلندے اٹھائے
کھدائیوں کے ڈھیروں اور کنکریٹ کی چھتوں پر کام کرتے ہوئے
آندھی اور بارش کی طرح امنڈنے والی
شاعری کو التوا میں ڈالتا رہتا تھا
تب کوئی این ۔جی ۔ او تھی نہ سول سوسائٹی
نہ فوڈ اسٹریٹ نہ گلوریا جینز
نہ سینتورس نہ مونال
کھوکھوں سے چائے پی کر
اور خرکاروں کے کیمپوں میں
گدھوں اور انسانوں کو زنجیروں میں جکڑے ہُوئے دیکھ کر
ہم اداس ہو جاتے تھے
نظموں سے دنیا بدلنے
اور جبری مشقت کے خاتمے کے خواب دیکھا کرتے تھے
خرکاروں کی جگہ اب بھاری بھرکم مشینری نے لے لی ہے
ہش ہش کی آوازیں مشینوں کی گھرگھراہٹ میں بدل چکی ہیں
لیکن جبری مشقت اب بھی جاری ہے
نت نئے ناموں اور داموں کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔

انوار فطرت! ہم دو چار تھے
لیکن شہر کے سارے منظروں، پارکوں، سنیما گھروں، چائےخانوں
اور ادیبوں پر بھاری ہوتے تھے
اسلام آباد کی سڑکیں
ہمارے قدموں تلے بچھ بچھ جاتی تھیں
دامنِ کوہ کے درخت اور جھاڑیاں
روز گارڈن کے پھول اور روشیں
شکر پڑیاں کی مِنی پہاڑیاں
میلوڈی اور آب پارے کی شامیں
ہماری دوستی کا دم بھرتی تھیں
سپر مارکیٹ کے ریستوران
ماہِ صیام میں بھی جیسے ہمارے ہی لیے کُھلے رہتے تھے
سیاحوں اور ہپیوں کے سفری خیمے
عجیب کشش رکھتے تھے
اور ہمیں اپنی طرف بلاتے تھے
سید پور کے چشمے اور آبشاریں
ہمارے جسموں کی مَیل دھویا کرتی تھیں
اور ہماری روحوں کی اجلاہٹ دیکھ کر شرماتی تھیں
پتھروں پر بیٹھ کر باتیں کرتے ہوئے
ہوا بِن بلائے ہماری گفتگو میں شریک ہو جاتی تھی
یہاں تک کہ بادل
مرگلا کی پہاڑیوں سے نیچے اتر کر
ہماری نظمیں سننے آ جاتے تھے
صدر کی بُک شاپس اور پرانی کتابوں کے تھڑے
ہمارے اتواروں کی سب سے بڑی عیاشی ہوتے تھے
اور ہم ایک دوسرے سے ملے بغیر
ایک دن بھی بمشکل گزارتے تھے
اب ہم ایک ایک اکیلے ہو چکے ہیں
اور مہینوں، برسوں ایک دوسرے کو دیکھے بغیر زندہ رہ سکتے ہیں
انوار فطرت! اک دن بس اک دن
خبر کی دنیا سے باہر نکل کر دیکھو
بے خبری میں ہم کتنے بدل چکے ہیں

انوار فطرت! آبِ قدیم کے ساحلوں پر
کب تک کھڑے رہو گے ؟
دنیا نئے آبی ذخیروں کے لیے بر سرِ پرخاش ہے
گرم پانیوں اور برفانی چوٹیوں کے درمیان
نئی شاہراہیں تعمیر ہو رہی ہیں
سمندر جو تمہیں دیکھنے کے لیے ہلکان ہوتا تھا
اور آبی پرندوں کے شور اور ماہی گیروں کے گیتوں سے بھرا رہتا تھا
گہرے پانیوں کی بندر گاہ میں تبدیل ہو چکا ہے
اب وہاں جل پریاں اور بادبانی کشتیاں نہیں
کوئلے اور یوریا سے لدے جہاز آتے ہیں!!


Comments

FB Login Required - comments

6 thoughts on “بے خبری میں ہم کتنا بدل گئے ہیں!

  • 27-02-2016 at 7:41 pm
    Permalink

    آندھی اور بارش کی طرح امنڈنے والی
    شاعری کو التوا میں ڈالتا رہتا تھا
    کیا بات ہے سیدنا نصیر احمد ناصر!

  • 27-02-2016 at 10:35 pm
    Permalink

    واہ. بے خبری میں سب کچھ ہی بدل گیا

  • 27-02-2016 at 11:13 pm
    Permalink

    شکریہ جناب مجاہد مرزا صاحب اور جنید جی

  • 28-02-2016 at 7:39 pm
    Permalink

    یہ بے خبری کا نہیں،،لاتعلقی کا نتیجہ ہے جناب

  • 28-02-2016 at 8:50 pm
    Permalink

    انکل! آپ کی شاعری۔۔۔۔ آپ کے تخیلات ہمیشہ کی طرح خوبصورت اور دل کو چھو لینے والے۔۔۔۔ آپ کی نظموں میں امڈتی چلی آتی سلاست، منظر نگاری اور حسن۔۔۔۔ سب کچھ ہمیشہ کی طرح روح تک پہنچتا ہے آپ کے قلم سے نکلا ہوا ہر حرف!! اوریہ نظم واقعی افسردہ کر دینے والی ہے!

  • 01-03-2016 at 3:07 am
    Permalink

    پتھروں پر بیٹھ کر باتیں کرتے ہوئے
    ہوا بِن بلائے ہماری گفتگو میں شریک ہو جاتی تھی
    یہاں تک کہ بادل
    مرگلا کی پہاڑیوں سے نیچے اتر کر
    ہماری نظمیں سننے آ جاتے تھے
    صدر کی بُک شاپس اور پرانی کتابوں کے تھڑے
    ہمارے اتواروں کی سب سے بڑی عیاشی ہوتے تھے
    اور ہم ایک دوسرے سے ملے بغیر
    ایک دن بھی بمشکل گزارتے تھے۔۔۔۔۔۔
    آپ کی نظمیں پڑھتے ھوۓ کبھی کبھی یوں محسوس ھوتا ہے جیسے کسی سیمنا کے پردے پر ہالی ووڈ کی کوئی بہترین کلاسک فلم چل رہی ھواور میوزک کا اپنا ہی لطف محسوس ھوتا ہے ۔۔ نصیر احمد ناصر صاحب کی شاعری پڑھتے ھوۓ یوں محسوس ھوتا ہے کہ قاری کی روح پرندہ بن کر گزرے زمانوں اور کائناتوں کی سیر کر رہی ھو۔۔ بہت عمدہ بہت خوب

Comments are closed.