کہانی تھک کر سو گئی ہے


asghar nadeemمیں نیشنل ہسپتال کے آئی سی یو میں انتظار حسین کو آخری سانسیں لیتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ کہانی آخری سانسیں لے رہی ہے۔ کہانی تھک گئی ہے۔ کچھ دیر آرام کرنا چاہتی ہے تو کوئی بات نہیں آرام کر لے۔ کسی صبح چڑیوں کے شور میں تازہ دم ہر کر اٹھے گی اور پھر سے جاری ہو جائے گی۔ لیکن کہانی خاموش تھی۔ پھر میں نے انتظار حسین کے مجموعے “آخری آدمی” کو یاد کیا، جس کے آغاز پر قرآنی آیت لکھی تھی۔ “اور تم کہانیاں کہتے رہو تاکہ لوگ سوچ بچار کریں”۔ اس کا تو مطلب یہ ہوا کہ کہانی تو انسانوں کے بیچ جاری رہے گی، ہم لوگ ہی بیچ میں اٹھ جائیں گے۔ تو کیا قصہ گو قصہ سناتے سناتے خود بھی سو سکتا ہے؟ ایسا سنا تو نہیں مگر کسی نے یہ بھی تو کہا ہے

زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا

ہمی سو گئے داستاں کہتے کہتے

تو کیا انتظار حسین کو کہانی کے بیچ ہی میں نیند آ گئی ہے؟ یا وہ کہانی کے بیچ میں سے اٹھ کر جا رہے ہیں۔ مگر یہ تو کہانی کے ساتھ بے وفائی ہے۔ “شہرزاد” نے تو الف لیلہ کی ہزاروں راتوں میں کبھی تھکنے کا ذکر نہیں کیا، نہ اسے اونگھ آئی۔ ارے کوئی کہانی کے درمیان میں سے اٹھ کر جاتا ہے؟ نہیں انتظار صاحب آپ اپنے قول کا پالن کریں، آپ تو وضعدار آدمی ہیں۔ آپ کیسے کہانی کو ادھورا چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔ آپ کا ایک پسندیدہ شعر ہے جو اکثر آپ کی کتابوں میں لکھا ملتا ہے

نہر پر چل رہی ہے پن چکی

دھن کی پوری ہے کام کی پکی

intizar-hussain-feb0کہانی تو اس پن چکی کی طرح ہوتی ہے اور قصہ گو دھن کا پورا اور کام کا پکا ہوتا ہے۔ پھر آپ کیوں ایسا کر رہے ہیں۔ آپ نے خود ہی لکھا ہے کہ نانی اماں کہا کرتی تھیں کہ کہانی دن میں نہیں کہتے، مسافر راستہ بھول جاتے ہیں۔ آپ نے میرا راستہ بھلا دیا ہے۔ آپ چلے گئے۔ کہانی چلی گئی۔ جن کبوتروں اور چڑیوں کو آپ چوگا دیا کرتے تھے، وہ اب منقار زیر پر ہیں اور جنگل اداس ہے۔ اگلے لمحے میں نے سوچا کہ کہانی سو گئی ہے مگر وہ تو میرے اندر بسرام کر چکی ہے۔ کہانی ان دیکھے راستوں اور وادیوں کے سفر پر روانہ ہو چکی ہے۔ لیکن جو کہانی اپنی جڑوں کی تلاش میں نکلی تھی، وہ تو ہمارے پاس ہے۔ میں اس کہانی کو محسوس کرسکتا ہوں۔ کہتے ہیں کہ کہانی بھی سانس لیتی ہے۔ وہ میرے اندر سانس لے رہی ہے۔

کہانی دیس دیس گھومتی ہے۔ گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتی ہے۔ دنیا جہان کی صحبتوں میں رہتی ہے۔ تب کہیں اس کا شیرہ گاڑھا ہوتا ہے۔ میرٹھ کی آب و ہوا میں پلنے والا پودا لاہور کی مٹی میں جڑ پکڑ لیتا ہے۔ اور پھر لاہور کے چائے خانوں اور مجالس میں طوطیَ شیریں مقال کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگتا ہے۔ مگر وہ نہ تو نعرہ لگاتا ہے نہ گھن گرج سے دوسروں کو زیر کرتا ہے۔ وہ تو دھیمے سروں میں بس ناصر کاظمی کے شعر کی طرح بس تازہ ہوا کی طرح دل میں لہر بن کر اٹھتا ہے۔ نام اس کا انتظار حسین ہے۔

دل میں اک لہر سی اٹھی ہے ابھی

کوئی تازہ ہوا چلی ہے ابھی

اب تازہ ہوا جو چلی تو کہانی کے بن میں کوئی نئے انداز کی کوئل کوکی۔ آواز سب نے سنی۔ کسی نے کہا یہ آواز تو ماضی کی بھول بھلیوں سے آ رہی ہے، کسی نے کہا کہانی میں نظریے کا تڑکا نہیں لگا ہوا۔ اور پھر “آخری آدمی” سے ایک حیرت کدے کا جنم ہوا جس نے ترقی پسندوں اور جدت پسندوں کو ششدر کر دیا۔ ان کا ماتھا ٹھنکا کہ یہ یاد نگاری سے اچانک استعارے اور علامت کے ساتھ داستانوں کا لبادہ اوڑھ کے اپنے زمانے کے سیاسی سماجی اور تہذیبی ڈھانچے کو چیلنج کر رہا ہے۔ یہ تو ہند اسلامی ثقافت کے تال میل سے جادوگر کی طرح ہمیں ہمارے زوال کی نشانیاں دکھا رہا ہے۔ اب تو پورے ہندوستان کی تنقید کو بس انتظار حسین مل گیا۔ قرۃ العین حیدر، عبداللہ حسین اور ترقی پسندوں کے قافلے منہ تکتے رہ گئے۔ پھر سانحہ مشرقی پاکستان ہو گیا۔ تاریخ نے ایک اور جلوہ دکھایا۔ انتظار حسین پہلے پورے پاکستان کا فکشن رائٹر تھا اب سکڑ کر صرف مغربی پاکستان کا رائٹر رہ گیا۔ چلو کوئی بات نہیں۔ یہی اپنے وطن سے طاقت لے کر پوری اردو دنیا پر راج کریں گے۔ رائٹر کی سرحد تھوڑی ہوتی ہے۔ سو یہ تو انتظار حسین نے سوچ لیا۔ لیکن سانحہ مشرقی پاکستان پر خاموش رہنا جرم تھا۔ انتظار حسین نے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔ مگر کیسے؟ خاکسار کو یہ اعزاز حاصل رہے گا کہ سانحہ مشرقی پاکستان پر پہلا بڑا افسانہ “شہر افسوس” میری خواہش پر انتظار صاحب نے سب سے پہلے ملتان کی “شام افسانہ” میں پڑھا۔ یہ اگست 1972 ہے۔ انتظار صاحب دوپہر میں ریل گاڑی سے ملتان پہنچے۔ میں انہیں لے کر اپنے گھر آیا۔ اماں نے کھانا بنایا ہوا تھا کہ ڈاکیا آیا۔ خط دیا۔ انتظار صاحب کے سامنے کھولا۔ میری لیکچرر کی تقرری کا سرکاری پروانہ تھا۔ نہال ہو گیا۔ انتظار صاحب میری زندگی میں تبرک بن کر آئے۔ اور پھر اب تک برکت بن کر رہے۔ مجھ پر حملہ ہوا تو سب سے پہلے ڈاکٹرز ہسپتال میں انتظار حسین پہنچے۔ لیکن پہلے یہ بتا دوں کہ ملتان کی “شام افسانہ” میں جب انتظار صاحب نے “شہر افسوس” پڑھ تو یہ چالیس منٹ کی ریڈنگ تھی۔ جب افسانہ ختم ہوا تو سننے والوں کی سسکیاں سنی جا سکتی تھیں۔ دس منٹ تک خاموشی میں سب رو رہے تھے۔

Intizar-Hussain-Pictureاب مڑ کر پیچھے دیکھتا ہوں تو انتظار حسین میرے ساتھ تہران میں ہیں اور ہم ایک ہی کمرے میں ٹھہرے ہیں۔ ہم دونوں ایران کے تھیٹر فیسٹیول میں آئے تھے۔ پندرہ دنوں میں انتظار صاحب نے اپنے معمولات کا اسیر بنا لیا۔ صبح ناشتے میں “تخم مرغ” (انڈے) کھائے کہ انتظار صاحب نے سری پائے کھانے کی فرمائش کر دی۔ اگلی صبح ناشتے میں جب سری پائے کی ڈش سامنے آئی تو بکرے کی دونوں آنکھیں ہمیں ڈش میں سے گھور رہی تھیں۔ انتظار صاحب نے چیخ ماری اور “تخم مرغ” پر گزارا کیا۔ ایک دن میزبانوں سے کہا کہ اتنے دن چلو کباب اور جوجہ کباب کھا کے بور ہو گئے ہیں۔ کوئی اپنا روایتی فوڈ تو چکھائیں۔ وہ لے گئے ایک زیر زمین ریستوران میں۔ عجب نظارہ تھا جیسے الف لیلوی سیٹ لگا ہوا ہو۔ حسیانئیں ایرانی لباس میں شیشہ پی رہی تھیں۔ بیرے روائیتی عربی لباسوں میں خدمت پر مامور تھے۔ انتظار حسین خوش ہوئے کہ میں الف لیلہ کے زمانے میں آ گیا ہوں۔ وہ شہرزاد بیٹھی کہانی سنا رہی ہے۔ ادھر کوئی مرجینا مہمانوں کی تواضع کر رہی ہے۔

اب میں دیکھتا ہوں انتظار حسین پرانی دلی میں میرے ساتھ ہیں۔ کبھی غالب کی دلی تلاش کرتے ہیں اور کبھی ظفر اور ذوق کی دلی کا تماشا کرتے ہیں۔ کھانے کے شوقین ہیں۔ دلی کے ذائقے ڈھونڈتے ہیں۔ مگر دلی کی نہاری پسند نہیں آ رہی۔ لاہور کی یاد کرتے ہیں۔ یہ کوئی اور کانفرنس ہے مگر ہے تو دلی۔ میری بیوی شیبا انہیں لئے لئے پھر رہی ہے۔ کہیں سیڑھیاں چڑھنے میں مشکل نہ ہو۔ ان کے بچپن کے دوست ریوتی شرما آئے ہیں۔ شیبا چائے بنا رہی ہے۔ کیا صحبتیں ہیں۔ کبھی انڈیا انٹرنیشنل سینٹر ہے تو کبھی گوپی چند نارنگ کا ڈنر۔ چہک رہے ہیں۔ پھر شمیم حنفی کے گھر کا پلاؤ انہیں کھینچے جاتا ہے۔ ہم ان کے ساتھ ہیں۔ ارے یہ تو بنگلور آ گیا۔ یہاں شیبا انہیں بھانجیوں کے لئے ساڑھیاں پسند کر کے دے رہی ہے۔ گریش کرناڈ انتظار صاحب کو ان کی وہ کہانی یاد کراتے ہیں جو بکرم بیتال سے تھی۔ اب ہم ٹیپو سلطان کے مزار پر کھڑے ہیں۔ انتظار صاحب ہمیں تاریخ سنا رہے ہیں۔ اب میسور یونیورسٹی میں گفتگو کر رہے ہیں۔ ارے یہ کیا ہم لکھنؤ پہنچ گئے ہیں۔ چھوٹا امام باڑا۔ بڑا امام باڑا۔ سب جگہ علم تعزیہ کی زیارت کرتے ہیں کہ ایک سوز خواں ملتا ہے۔ اس سے شام غریباں کا نوحہ سنتے ہیں۔ آصف الدولہ اور حضرت گنج کو یاد کرتے ہیں۔

اتنی بے شمار محفلیں اور سفر کر کے اور ان کی کتابیں پڑھ کے میں بھی خود کو ان کے زمانے کا آدمی سمجھنے پر مجبور ہو گیا ہوں۔ لگتا ہے کہ ڈبائی کی کربلا میں ان کے ساتھ کھڑا ہوں۔ بائیس رجب کے کونڈوں کی نیاز پر ان کے گھر ہر سال باقاعدگی سے جاتے۔ اب یاد کرتا ہوں کہ میں ان کے ساتھ ساتھ بڑا ہوا ہوں۔ حسن عسکری، کرار حسین، ناصر کاظممی، احمد مشتاق، شہرت بخاری، مظفر علی سید جیسے ان کے دوست، ویسے میرے دوست۔ آصف فرخی انہیں لندن گھما رہے ہیں۔ دلی گھما رہے ہیں اور وہ ان کی انگلی تھامے مسرور ہیں۔ ادھر میں انہیں کراچی لے کر جا رہا ہوں۔ اسلام آباد کی فلائٹ کے انتظار میں دنیا جہاں کے واقعات چل رہے ہیں۔ یہ داستان گو کیسا ہے۔ داستان سوتے جاگتے میں جا رہی ہے۔ قصہ سوتے جاتے کا تو سنا تھا۔ شاید وہ انتظار صاحب کا ہی قصہ تھا۔ عجیب زمانہ ہے۔ ان کے آئیڈیل قصہ گو میر باقر علی کا انجام تو کچھ اچھا نہ ہوا۔ قصے کا دفتر لپیٹا گیا۔ کہانی سننے والے بائیسکوپ دیکھ ک ردل بہلانے لگے۔ وہ چھالیہ بیچنے لگے مگر کچھ اس ڈھنگ سے کہ گاہکوں کو کہانی کا مزا آنے لگا۔ لیکن انتظار کے سننے والے تو اٹھ کر نہیں گئے۔ مجمع ہے کہ بڑھتا جاتا ہے۔ ان کی داستان کے دور چل رہے ہیں۔ مگر کیا ہوا کہ کہانی تھک کر سو گئی۔ مجمع تو موجود ہے۔ کہانی کے انتظار میں بیٹھا رہے گا۔ کہانی ضرور آئے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “کہانی تھک کر سو گئی ہے

  • 28-02-2016 at 2:38 am
    Permalink

    واہ ! کیا خوب لکھا ہے آپ نے ۔ گویا فلم چل رہی ہو آنکھوں کے سامنے ۔ لاجواب

  • 28-02-2016 at 7:04 pm
    Permalink

    اچھی تحریر ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زمانہ بڑے شوق سے سن رھا تھا ،،، ھمیں سو گئے، داستاں کہتے کہتے

Comments are closed.