عورت عظیم ہے


naseer nasirگوتم کو عمر بھر پتا نہ چلا
کہ دکھ عورت ہے
وہ عورت ہی تھی
جس نے اُسے جنم دے کر موت کو گلے لگا لیا
اور وہ بھی عورت تھی

جسے وہ بستر میں سوتا چھوڑ آیا تھا
اور حالتِ مرگ میں اسے
دودھ اور چاول کی بھینٹ دینے والی بھی ایک عورت تھی

دکھ عورت ہے اور عورت دکھ ہے۔ عورت کسی بھی روپ میں ہو عظیم ہے۔ کیونکہ دکھ عظیم ہے۔ دکھ کی ارفع ترین شکل تخلیق ہے اور عورت خدا کے بعد تخلیق کا سب سے بڑا استعارہ ہے۔ دونوں میں یکتائی کا رشتہ ہے۔ خدا اتنی بڑی کائنات تخلیق کر کے بھی تنہا ہے تو عورت ماں، بیوی، محبوبہ، بہو، بیٹی، بہن یہ سارے روپ دھار کر، ان سارے رشتوں کو جنم دے کر بھی اپنی اصل میں تنہا رہتی ہے۔ اگر مرد صحیح معنوں میں عورت کے دکھ اور عظمت کو سمجھ لے تو خود مرد  سے بڑا فیمینسٹ کوئی نہیں ہو سکتا۔

میں جب بہت چھوٹا تھا، اتنا چھوٹا کہ ابھی پیدا بھی نہیں ہوا تھا تو ایک مرد نے ایک عورت کے پیٹ پر ٹھوکر ماری تھی، اتنے زور سے کہ اس عورت سے زیادہ مجھے درد ہوا تھا اور یوں لگا تھا جیسے میں زندہ ہوئے بغیر ہی مر گیا ہوں۔ لیکن میرے درد کی آواز اس عورت کے علاوہ کسی نے نہیں سنی تھی۔ میری چیخ کو تو اس نے کوکھ کے اندھیرے سناٹوں میں زندگی کی روشن گونج بنا لیا تھا، لیکن خود اُس کے جسم میں درد کی جو ٹیس اٹھی ہو گی اور روح پہ جو سلوٹ پڑی ہو گی وہ کسی نے بھی سنی نہ دیکھی۔ خدائی سوناٹا خاموش تھا۔ کہیں دکھ کا کوئی آرکسٹرا بجا نہ غم کی کوئی سمفنی چھڑی۔ مجھے نہیں معلوم کہ عقیدوں میں بسا خدا اتنی بڑی کائنات میں اپنی تخلیقی سنسناہٹ میں مگن تھا یا دکھ کی شدت سے سکتے میں تھا، بس اتنا یاد ہے خدا، عورت اور میں تینوں بےبسی سے مرد کو دیکھتے رہے جو چارپائی پر بیٹھا مزے سے خربوزہ کھا رہا تھا۔ جسے کوئی پشیمانی تھی نہ پریشانی۔ اور پھر اس کے تئیں ہوا ہی کیا تھا۔ ایک چھوٹے سے گاؤں کے ایک درمیانے سے گھر میں ایک ٹھوکر کے سوا ہو بھی کیا سکتا تھا، کوئی عظیم واقعہ یا سانحہ تو رونما ہونے سے رہا جس سے زمین کانپ اٹھتی زلزلہ آ جاتا۔ ایک خربوزہ ہی تو پھیکا نکلا تھا جو مرد کی طبع مردانگی کو ناگوار گزرا تھا۔ خربوزہ میٹھا تھا یا پھیکا وہ اُس عورت نے تو پیدا نہیں کیا تھا، اُس نے تو چکھا بھی نہیں تھا اور کاٹ کر ساری قاشیں مرد کے آگے رکھ دیں تھیں کہ پہلے چکھنے یا کھا لینے سے مرد کے مقام و مرتبے میں فرق آتا تھا۔ اُس نے تو میرے حصے کی قاش بھی الگ نہیں کی تھی۔ اور وہ عورت کون تھی ماں تھی اور وہ مرد کون تھا باپ تھا۔

میں تو اُس روز ہی مر گیا تھا
جس روز باپ نے ماں کے حاملہ پیٹ پر ٹھوکر لگائی تھی
مگر میں قبر کے اندر بڑا ہوتا گیا
اتنا بڑا کہ ماں مجھے سر جھکائے بغیر دیکھ سکتی ہے

کہتے ہیں میں پیدا ہوا تو جسامت میں بہت چھوٹا سا تھا۔ چوہے جتنا جسے بوتل میں بند کیا جا سکتا ہو۔ لیکن ماں مجھے بہت بڑا سمجھتی تھی اور میرے ننھے ننھے ہاتھ چوم کر میرے بڑے ہونے کا اعلان کرتی تھی۔ یہ دکھ اور خوشی کا جزوی یا مکسور (فریکشنل) اظہار تھا۔ ناقابلِ بیان۔ پورا دکھ اور پوری خوشی کوئی بیان کر سکتا ہے نہ بانٹ سکتا ہے۔ خدا بھی نصف دکھ ہے نصف خوشی۔ ماں پورا دکھ تھی لیکن میں نے خوشی اس کی آنکھوں سے بہتی دیکھ لی تھی اور میں سچ مچ بڑا ہو گیا۔ لفطی اعتبار سے تو پتا نہیں لیکن جسمانی اعتبار سے پورے چھ فٹ کا۔ اور ماں مرتے دم تک میرے ہاتھوں کو چومتی رہی گویا میرے ہونے کا یقین اور قد کاٹھ پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی تھی اور ٹھوکر کا خراج پیش کرتی تھی اور میرے درد کو کم کرتی تھی۔ بتاتی تھی کہ میں نے ابھی چلنا شروع نہیں کیا تھا کہ شدید بیمار ہو گیا۔ بچنے کی کوئی امید نہیں تھی۔ خاندان کے سب مرد اپنے اپنے کاموں میں مصروف تھے، کوئی نوکری میں، کوئی زمینوں پہ تو کوئی بیٹھکوں داروں کی چودھراہٹ میں۔ ماں کسی بھی صورت جیتے جی مجھے دوسری بار قبر میں اتارنا مارنا نہیں چاہتی تھی۔ ایک صبح ماں نے چپکے سے مجھے کاندھے سے لگایا اور تن تنہا کسی کو بتائے بغیر نکل کھڑی ہوئی، حکیموں ڈاکٹروں کی تلاش میں، ایک سے دوسرے گاؤں، دوسرے سے تیسرے، تیسرے سے چوتھے، کوس در کوس بغیر دم لیے بغیر کچھ کھائے پیے چلتی رہی ۔۔۔۔۔

ماں اٹھائے ہوئے چل رہی تھی مجھے
پاؤں جوتوں سے عاری تھے
سر کی ردا مجھ پہ تانے ۔۔۔۔۔۔۔
مِری سانس سے تیز تر اس کی رفتار تھی
راستہ، ایک سے دوسرے کوس تک پھیلتا جا رہا تھا
مگر فاصلہ تھا کہ کم ہی نہیں ہو رہا تھا
طبیبِ ازل دیکھتا تھا ۔۔۔۔۔
کوئی روگ تھا جان لیوا
کسی دکھ کی چنتا کسی پیڑ کی چھاؤں میں اس کو رکنے نہ دیتی تھی
پل بھر بھی تھکنے نہ دیتی تھی اس کو
سحر دم سے جاگی ہوئی تھی مگر چل رہی تھی
اٹھائے ہوئے مجھ کو ہاتھوں پہ اپنے
کوئی تیز نوکیلے پنجوں، بڑے پنکھوں والا پرندہ تھا
جو میرے چھوٹے سے دل سے کہیں دور اڑنے کو بےحال تھا
اور کسی ڈاکٹر کا، کلینک کا کوئی نشاں تک نہیں تھا
زمیں تو زمیں آسماں تک نہیں تھا
کسی ویدِ اعظم، حکیمِ جہاں کا پتا بھی نہیں مل رہا تھا
مسیحا بھی کوئی نہیں تھا جو اپنے زماں سے نکل کر
مِری آخری سانس لیتی ہوئی ننھی بیمار صدیوں میں آتا
صلیبِ اذیت اٹھاتا، مِری جاں کے بدلے سبھی ماؤں کے دکھ مٹاتا،
شفاعت کنندہ ہی بنتا ۔۔۔۔۔۔
عجب راستہ تھا
جو زیرِ زمیں تھا، پسِ آسماں تھا، کہیں تھا مگر ماں کو مِلتا نہیں تھا
عجب دکھ کی شدت تھی جس میں
ہر اک شے تھی ساکت، کوئی پتا ہلتا نہیں تھا
بس اک سانس تھی جو ابھی چل رہی تھی
ہوا تھی جو رک رک کے پہلو بدلتی تھی لیکن، ہوا بھی کہاں تھی
کہ ایک سے دوسرے گاؤں ماں تھی جو پیہم رواں تھی
کہ اس کو خبر تھی یہ رستہ بہت دور جائے گا
رک کر بھی چلتا رہے گا
مجھے زندہ رکھنے کی خاطر خدا کائناتوں کی حکمت بدلتا رہے گا

اور پھر واقعی خدا کو اپنی حکمت بدلنی پڑی۔ خدا ہار گیا۔ ماں جیت گئی۔ بالآخر کوسوں دور ایک قصبے میں ایک ڈاکٹر مل گیا جس کی معجز اثر دوائی نے میری دم بدم رکتی سانسوں کو بحال کیا اور شام کی ملگجی روشنی میں دن بھر کی پیاسی ماں نے ایک کنویں سے پانی پیا اور چہرہ دھویا۔ میں نے اپنی دیے جیسی ننھی ٹمٹماتی آنکھوں سے دیکھا ماں رو رہی تھی اور خدا مسکرا رہا تھا۔

تو صاحبو! ماں واحد ہستی ہے جو خدا سے لڑ سکتی ہے۔ پھر اس کی عظمت میں کیا شک ہے؟ اور ماں کون ہے عورت ہے اور عورت محض ایک جسم نہیں، کئی ٹکڑوں میں بٹی ہوئی روح ہے۔  ماں ہے، بیوی ہے، محبوبہ ہے، بہن ہے، بیٹی ہے۔ ہر روپ میں سروپ میں جی جان سے بار بار کایا پلٹتی ہے۔ ایک زندگی میں کئی بار مرتی ہے کئی بار جنم لیتی ہے۔ آواگون کی زندہ مثال۔ محبت، دکھ اور ہجرت کا عظیم امتزاج۔ جی ہاں یہ عورت ہی ہے جو جسم کا چوغہ بدلے بغیر اندر ہی اندر ایک روپ سے دوسرے روپ میں تا دمِ مرگ ہجرت کرتی رہتی ہے۔ اس کی عظمت جانچنے کے لیے کسی فتوے کی ضرورت نہیں، کسی فقہ کو سمجھنے، کسی مسلک کو اپنانے کی حاجت نہیں۔ کسی مفتی، کسی فقیہہ، کسی مولانا کا سرٹیفکیٹ درکار نہیں۔ کسی عمرانی و سائنسی علم، کسی کیمیا گر، سائنس دان،کسی آرشمیدس، کسی آئن اسٹائن کسی نیوٹن کسی اسٹیفن ہاکنگ، کسی نکولا ٹیسلا کی تھیوری ثابت کرنے، کسی ٹائم اسپیس، کسی قانونِ ثقل کی مساواتِ جبریہ حل کرنے اور کسی بلیک ہول، دم دار ستارے، کسی کہکشاں پر جانے کی ضرورت نہیں۔ زمین گول ہو یا چپٹی عورت کی ساخت کو فرق نہیں پڑتا۔ عورت خود ایک بڑا کائناتی استعارہ ہے، کششِ ثقل کی عظیم لہر ہے۔ سمجھنا ہے تو اسے سمجھو! عورت عورت کا شور مچانے والو! عورت ہر حال میں ہر روپ میں، ہر رشتے کی اضافیت میں عظیم ہے۔ روشنی اور توانائی کا منبع ہے۔ کوئی مرد اس کا روپ دھار کر تو دیکھے، ایک ہی دن میں بلبلاتا ہوا اپنی جون میں واپس آ جائے گا۔ تاریخ بتاتی ہے کہ بڑے بڑے فلاطوں اور فلاسفہ عورت کے آگے گھوڑا بن کر اپنی پیٹھ پر سواری کراتے رہے ہیں۔ “عورت کو مرد کی پسلی سے پیدا کیا گیا ہے” ، خدا کے بندو کبھی اس کے استعاراتی معانی پر بھی غور کرو۔ حیات و کائنات، تخلیق، ادب، ثقافت، مذہب سے استعارے نکال دیے جائیں تو باقی کچھ بھی نہیں بچتا۔ ریگستان میں رہنے والے کے لیے جنت کے معانی اور ہیں اور سائبیریا میں رہنے والے کے لیے اور لیکن استعاراتی جنت دونوں کی ایک ہے۔ انسان کتنا بھی شہری کتنا ہی مہذب ہو جائے اس کے پیچھے ایک گاؤں ہوتا ہے، پس ماندگی کی تاریخ ایک ہوتی ہے، ایک عورت ہوتی ہے، ایک مرد ہوتا ہے۔

اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عورت اور مرد یکساں انسان ہیں، دونوں میں ایک جتنے 23 23 کروموسومز کے جوڑے ہیں۔ 22 جوڑے ایک جیسے صرف 23 واں جوڑا جو جنس کا تعین کرتا ہے مختلف ہوتا ہے، مرد کا ایکس وائی اور عورت کا ایکس ایکس۔ اور یہی وہ فرق ہے جس کی بدولت نسلِ انسانی کا سلسلہ جاری ہے۔ لیکن جنس کا تعین عورت اپنی مرضی یا خواہش سے نہیں کرتی۔ اس کے اختیار میں نہ لڑکا ہے نہ لڑکی نہ مڈل سیکس، یہ سب گمٹوں کا کھیل ہے اور ایکس وائی یعنی مرد کی کارستانی ہے۔ تیسری جنس ایکس ایکس وائی بھی ایکس وائی مرد کی مہربانی ہے۔ چلیے تیسری جنس کو گمٹی کے پیچیدہ نظام میں کسی گمٹے کی گڑ بڑ یا قدرت کی غلطی کہہ لیجیئے۔ جو بھی ہو، کربِ تخلیق جھیلنا اور ماقبل و  مابعد پیدائش اس کا خمیازہ بھگتنا عورت کا مقدر ہے۔ عورت کو کم عقل کہنے والو! اب یہ ڈھکی چھپی بات نہیں رہی کہ انسان میں دماغ،ذہانت، آئی کیو، نروس سسٹم کو 21 نمبر کروموسوم کا جوڑا کنٹرول کرتا ہے جو مرد اور عورت کا ایک ہی ہے۔ اس میں ذرا بھی فرق نہیں۔ مزید براں اگر استعارے کی زبان میں بات کی جائے تو مرد کا وائی کروموسوم تو “عقل سے خالی” ہوتا ہے جبکہ عورت کا ایکس کروموسوم جینز سے بھرا ہوتا ہے۔ نیز عورت کو مرد پر ہارمونل برتری حاصل ہے۔ مرد کے ہارمونز پری کرسر سے ٹیسٹو سڑیران تک ختم ہو جاتے ہیں لیکن عورت میں ایک اضافی ہارمون ایسٹروجن بنتا ہے جو کئی اضافی خوبیوں کا حامل ہوتا ہے۔ انسان علم حیاتیات و جینیات میں جتنی چاہے ترقی کر لے تخلیق کے عمل میں عورت کے بغیر نفسِ واحدہ،ایک خلیہ، ایک نخرِ مایہ اِدھر سے اُدھر نہیں کر سکتا۔ ٹیسٹ ٹیوب بے بی ہو، کلوننگ ہو یا سپر نیچرل کلوننگ، عورت کی کوکھ کا محتاج ہے۔ عورت  انسانی عظمت، خوبصورتی اور تخلیقی اپج کی انتہا ہے۔ عورت عظیم ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

22 thoughts on “عورت عظیم ہے

  • 28-02-2016 at 4:02 am
    Permalink

    بہت خوب
    مہذب اور غیر مہذب معاشرے عورت اور شاعر کی تخلیق ھوتے ۔ ھمارے گھر میں پانی کا کنواں تھا جس سے محلے کی ساری خواتین پانی بھرنے کے لیے آتی تھیں ۔ جب میری داڑھی کے بال نکلنے شروع ھوۓ تو اماں نے مجھے اس وقت ایک نصحت کی کہ بیٹا تمھاری ابّا نے بڑی محنت سے یہ کنواں کھودا ہے تاکہ تمہاری اماں اور بڑی بہن پانی لینے کے لیے در در نہ بھٹکتی پھریں اس لیے جب دوسرون کی بہو بیٹیاں ھمارے گھر پانی لینے آیا کریں تو تم انہیں ھمیشہ عزت کی نگاہ سے دیکھنا جس دن تم نے انہیں بری نظری سے دیکھا تو ھمارے کنویں میں پانی خشک ھو جاۓ گا۔ میری اماں کو گزرے ھوۓ کوئی بائیس سال ھوچکے ہیں مگر ابّا جان نے اب پانی محلے کے گھر گھر تک پہنچا دیا ہے ۔

    • 29-02-2016 at 9:00 am
      Permalink

      کیا خوب فرمایا آپ نے تنویر صاحب۔ شکریہ برادرم!

  • 28-02-2016 at 7:38 am
    Permalink

    Naseer Ahmad nasir sahb.
    Auret ic kaenat mae rehtay huay jin dukhant ko bakhushi sehti hae or phir bhe hansti muskurati hae ap nay beht sechai k sath apni tehree mae bayan kia hae,
    kmal kia hae bl k ant kia hae..ic andaz e bayaan pr daaaaaaad e teseeererrn

    • 29-02-2016 at 9:03 am
      Permalink

      شکریہ عصمت بانو صاحبہ!

  • 28-02-2016 at 4:41 pm
    Permalink

    کمنٹ لیس۔۔۔۔۔ آنکھوؤں سے چھلک چھلک جاتے آنسوآپ کی تحریر پر میرے تاثرات ہیں۔۔۔۔ “عورت انسانی عظمت، خوبصورتی اور تخلیقی اپج کی انتہا ہے۔ عورت عظیم ہے۔۔۔۔”

    • 29-02-2016 at 9:05 am
      Permalink

      شکریہ حذیفہ مسعود! لکھتے ہوئے میری آنکھیں بھی بھیگ بھیگ جاتی تھیں۔

  • 28-02-2016 at 9:01 pm
    Permalink

    دکھ عورت ہے اور عورت دکھ ہے۔ عورت کسی بھی روپ میں ہو عظیم ہے۔ کیونکہ دکھ عظیم ہے۔ دکھ کی ارفع ترین شکل تخلیق ہے اور عورت خدا کے بعد تخلیق کا سب سے بڑا استعارہ ہے۔ دونوں میں یکتائی کا رشتہ ہے۔ بہت کمال کا لکھا… ایک ایک لفظ سے درد چھلکتا ہوا……

    • 29-02-2016 at 9:15 am
      Permalink

      بہت شکریہ منزہ صاحبہ۔ آپ نے پسِ الفاظ بہتے درد کو بھی محسوس کیا۔

  • 28-02-2016 at 9:02 pm
    Permalink

    ہجرت کا عظیم امتزاج۔ جی ہاں یہ عورت ہی ہے جو جسم کا چوغہ بدلے بغیر اندر ہی اندر ایک روپ سے دوسرے روپ میں تا دمِ مرگ ہجرت کرتی رہتی ہے۔ aurat ki azmat per aik intehae umda tehreer.

    • 29-02-2016 at 9:16 am
      Permalink

      شکریہ نازش!

  • 28-02-2016 at 11:20 pm
    Permalink

    واللہ! اس سے اچھا بھی کچھ کہا ہو گا کسی نے؟ کوئی اس سے بہتر بھی لکھ سکتا ہے؟
    نہیں!
    نصیر احمد ناصر ایسا معجز بیاں ہی شاید آئندہ کبھی یہ کر سکے!

    سر، کیا ہی کہنے!
    تعریف بھی کیا کروں، الفاظ کم ہیں!

    “اور پھر واقعی خدا کو اپنی حکمت بدلنی پڑی۔ خدا ہار گیا۔ ماں جیت گئی۔ بالآخر کوسوں دور ایک قصبے میں ایک ڈاکٹر مل گیا جس کی معجز اثر دوائی نے میری دم بدم رکتی سانسوں کو بحال کیا اور شام کی ملگجی روشنی میں دن بھر کی پیاسی ماں نے ایک کنویں سے پانی پیا اور چہرہ دھویا۔ میں نے اپنی دیے جیسی ننھی ٹمٹماتی آنکھوں سے دیکھا ماں رو رہی تھی اور خدا مسکرا رہا تھا۔”

    واہ!

    • 29-02-2016 at 9:18 am
      Permalink

      ایک شخص اِس سے بہتر لکھ سکتا ہے، اس کا نام ہے حسنین جمال ۔۔۔۔۔۔۔۔

  • 29-02-2016 at 12:55 pm
    Permalink

    سب سے پہلے تو معذرت کہ ذرا دیر سے آپ کی یہ تحریر پڑھی جو یاد کے ایسے سچے موتیوں سے لکھی گئی ہے جن کی چمک آج اس لمحے اگر آپ کی شخصیت کو روشن کرتی ہے تو قاری کی آنکھ کی نمی اس احساس کو سلامِ عقیدت پیش کرتی ہے۔
    اب بات نفسِ مضمون کی ۔۔۔
    عورت کے بارے میں ازل سے لکھا جارہا ہے اور نہ جانے کب تک لکھا جاتا رہے گا۔ ہر عورت ایک کہانی ہے اور دنیا کی کوئی بھی داستان عورت کے بغیر نہ تو دھرتی پر اتر سکتی ہے اور نہ ہی لفظ کی صورت کاغذ میں جذب ہو سکتی ہے۔آپ کے الفاظ عورت اور خاص طور پر اس کے ماں کے کردار کے حوالے سے بہت بڑا خراجِ تحسین ہیں۔بحیثیت ایک عورت اور ایک ماں کے میں تہہ دل سے ممنون ہوں ۔اظہارِ تشکر کی کوئی بھی لفاظی آپ کے اندازِبیاں کی گہرائی اور معنویت کا بار اٹھانے سے قاصر ہے اور آپ کی اس تحریر کے ہم پلہ کبھی بھی نہیں ہو سکتی۔
    عورت بےشک ربِ کائنات کی انسانی تخلیق کی سب سے اہم اکائی ہے لیکن یہ بھی سچ ہے کہ عورت سے بڑا مکر وفریب کا جالااور کوئی نہیں بُن سکتا۔اور برداشت کی انتہا کو پہنچ کرعورت کی سی سفاکیت کا مرد تصور بھی نہیں کر سکتا۔ عورت ہو یا مرد جب تک اپنا اصل مقام اور اپنی اپنی حدود پہچانتے ہوئے فرائض ادا کرتے رہیں گے انسان کا انسان پر اعتبار قائم رہے گا۔

    • 29-02-2016 at 8:57 pm
      Permalink

      شکریہ نورین تبسم صاحبہ۔ آپ کا تبصرہ دیر آید درست آید کے مصداق بہت عمدہ اور مبنی بر حقیقت ہے۔

  • 29-02-2016 at 6:24 pm
    Permalink

    Mukhtasar Alfaaz Mein… Be Inteha Pur Ta’sur Tehreer. Bohot Khoob Naseer Ahmed Nasir Sb. Allah Aap Ko Khush Rakhey.

    • 29-02-2016 at 8:58 pm
      Permalink

      بہت شکریہ عابد صاحب۔ اللہ آپ کو بھی خوش رکھے۔ آمین!

  • 02-03-2016 at 12:49 pm
    Permalink

    شام کی ملگجی روشنی میں دن بھر کی پیاسی ماں نے ایک کنویں سے پانی پیا اور چہرہ دھویا۔ میں نے اپنی دیے جیسی ننھی ٹمٹماتی آنکھوں سے دیکھا ماں رو رہی تھی اور خدا مسکرا رہا تھا۔
    سر کوئی لفظ نہیں ہے میرے پاس جو آپ کی تحریر کی مدح کا حق ادا کر سکے ۔۔۔

  • 02-03-2016 at 12:51 pm
    Permalink

    مجھے نہیں معلوم کہ عقیدوں میں بسا خدا اتنی بڑی کائنات میں اپنی تخلیقی سنسناہٹ میں مگن تھا یا دکھ کی شدت سے سکتے میں تھا، بس اتنا یاد ہے خدا، عورت اور میں تینوں بےبسی سے مرد کو دیکھتے رہے جو چارپائی پر بیٹھا مزے سے خربوزہ کھا رہا تھا۔
    ہائے ہائے ۔۔۔نصیر صاحب کہہ تو دیا ہے کوئی لفظ نہیں میرے پاس ۔۔۔۔کہ تحریر کی تعریف کر سکوں

  • 02-03-2016 at 4:44 pm
    Permalink

    وقار ملک صاحب، آپ کے اور میرے علاقوں کا contour ایک ہے، زمینیں ایک سی ہیں، کنوئیں ایک سے ہیں اور فصلیں بھی کم و بیش ایک سی ہیں، سو ہمارا ادراک اور دکھوں کو محسوس کرنا بھی ایک سا ہے۔ خود میرے پاس بھی الفاظ نہیں تھے یہ سب کچھ لکھنے کے لیے، پتا نہیں کیسے لکھا گیا۔ آپ کی محبت زندگی کے حقیقی سرمائے میں اضافہ ہے۔

  • 02-03-2016 at 10:36 pm
    Permalink

    معلوم نہیں آپ اس کو لکھتے ہوئے کس کرب سے گزرے ہوں گے ۔ لیکن اس کو پڑھتے ہوئے میں جس کرب سے گزری ہوں میں اس کو بیان نہیں کر سکتی ۔ میں اس کو سراہوں گی نہیں اس کی تعریف نہیں کروں گی ۔ کیونکہ درد اور کرب کو سراہا تو نہیں جاتا داد نہیں دی جاتی ، درد کوئی تماشہ تو نہیں ہوتا اسے تو محسوس کرنے کی ضرورت ہے ۔ عورت ایک عظیم دکھ ہے تنہائی ہے جسے واقعی ہر کوئی نہیں سمجھ اور سن سکتا یہ تنہائی نہیں بانٹ سکتا ۔۔۔۔۔

  • 02-03-2016 at 10:46 pm
    Permalink

    اسی لیے عورت عظیم ہے، عینی، کیونکہ اس کا دکھ عطیم ہے۔

  • 04-03-2016 at 12:47 pm
    Permalink

    یہ تحریر پس قرات گھنی خاموشی کو جنم دیتی ہے۔ سو میں کچھ دیر کے لیے گھنی خاموشی کے حوالے ہوچکا ہوں

Comments are closed.