سرقبیلی مذہبی روایت میں توازن کی تلاش (1)


 \"aasim\"ان تمام مذہبی روایتوں میں جہاں الہامی متون کو مرکزیت حاصل ہو یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ خدائی ارادہ کسی نہ کسی طرح متن سے جڑا ہے۔ یہاں یہ مفروضہ ثابت ہے کہ خدا متن کے ذریعے فرد سے ہم کلام ہونا چاہتا ہے اور خارج سے اس پر ظاہر ہو کر کچھ داخلی تبدیلیوں کا مطالبہ کرتا ہے۔فرد کی نفسیات اور زمانی و مکانی عوامل فہم پر کسی نہ کسی درجے میں اثرانداز ہوتے ہیں لہٰذا الہامی متون کی تعبیر میں ایک ناگزیر تنوع پیدا ہونا یقینی ہے۔فردچونکہ سماج کی بنیادی اکائی ہے لہٰذا پہلے سماج اور پھر مختلف سماجی دھاروں میں بٹی تہذیب و ثقافت کے اندر مذہبی روایات ایک نہایت غیرمحسوس طریقے سے تبدیلی کے عمل سے گزرتی رہتی ہیں۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ متن کے اس مسلسل تغیراتی سفر کا بغور مشاہدہ لمحہ موجود میں ناممکن ہوتا ہے۔ یہ سماج کی کچھ ایسی مجموعی یاداشتیں ہوتی ہیں جنہیں کسی بھی معاشرے میں کچھ افراد اپنے ذاتی رجحاتات کی بنیاد پر تاریخ کا حصہ بنانے کی سعی کرتے ہیں۔ لیکن یہ یاداشتیں کبھی بھی متن کے تعبیراتی تغیرات کی مکمل تصویر نہیں ہوتیں بلکہ اس تصویر کی ایک نامکمل شبیہہ ہوتی ہیں۔

دوسری طرف فرد اپنے آپ کو یہ ناگزیر مفروضہ قائم کرنے پر مجبور پاتا ہے کہ تاریخ کا دھارا خدائی اختیار میں ہے اور خدا اپنی مشیت کے مطابق اس دھارے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرنے کے لئے آزاد ہے بلکہ اپنے پیچیدہ میلانات کی بنیاد پر لمحہ لمحہ ایسا کرتا ہے۔ یہ میلانات پیچیدہ اس لئے ہوتے ہیں کہ خدا ان کو صرف کچھ علامات کے ذریعے ہی آشکار کرتا ہے جو بہرحال اسی متن میں موجود ہوتی ہیں جس کی تعبیر پھر فرد ہی کے ذریعے عمل میں آتی ہے۔ اس صورت میں یہ ایک ایسا دائروی خاکہ ہے جس میں سماج متن سے اس طرح مسلسل برسرِ پیکار ہے کہ اس کی نفسیات متن کو کسی نہ کسی حد تک ساکت تصور کرنے پر بھی مجبور ہے، لیکن تعبیر کے ذریعے متن کو پھیلانے اور سکیڑنے کا عمل بھی جاری رکھے ہے۔

یہاں دو اضافی پیچیدگیاں پیدا ہوتی ہیں۔ ان میں اول اور سب سے دلچسپ پیچیدگی متن کو اپنی مکمل آفاقیت کے ساتھ زمان و مکاں پر اس طرح قابلِ اطلاق سمجھنے کی ہے کہ متن کی تعبیر کو کہیں ماضی کے تصوراتی دور میں منجمد سمجھنے پر اصرار کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ تعبیر بہرحال سماج میں موجود کوئی عملی مظہر ہی ہوتی ہے لہٰذا اگر بغور دیکھئے تو کیا یہ واضح نہیں کہ یہ دعوی کرنے والا انسان خود تصورِ انسان اور سماج کو ہی تاریخ میں منجمد سمجھ رہا ہوتاہے؟ لہٰذا یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ سماج کی رگوں میں مذہب نظری طور پر کوئی بالکل بے معنی اکائی بن کر رہ گیا ہے بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ سماج کا ایک غالب حصہ مذہبی تعبیر کو خارج سے اپنے ہی اوپر وارد ہو تا دیکھ رہا ہے۔ ان حالت میں سماج ہر لمحہ ان گنت عوامل کی بنیاد پر تبدیلی کے عمل سے تو گزر رہا ہے لیکن اپنی تعبیر کو کہیں ماضی میں منجمد تصور کر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ اپنی بنیادوں میں لسانیات کا ایک مسئلہ ہے کیوں کہ یہاں متن کا ایک ایسا تصور قائم کیا جا رہا ہے جس میں کلام عمرانیاتی کشمکش کے باعث معنی ظاہر نہیں کر رہا بلکہ معنی اپنی پوری کاملیت میں ماورائے زمان و مکان اٹل تصور کئے جا رہے ہیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ سماج کلی طور پر الہامی متون کی تعبیرات کو نظر انداز کرتے ہوئے اپنی مخصوص ترجیحات کی بنیاد پر سفر جاری رکھتا ہے۔ ایسے میں مذہبی متون چونکہ تہذیب میں اپنا مثبت کردار کھو بیٹھتے ہیں لہٰذا ان کا واحد مقصد مبلغین کے ذریعے سماج کو احساسِ جرم پر مائل کرنا ہی رہ جاتا ہے۔

دوسری دلچسپ جہت کسی مخصوص تصورِ سماج پر اصرار ہے۔ یہاں عمومی طور پر ایسے مفروضے دیکھنے میں آتے ہیں جہاں مکمل خاندان اور اس کے اندرموجود مختلف اکائیوں جیسے عورت، مرد اور والدین وغیرہ کے لئے کسی بھی درجے میں کچھ اٹل تصورات کو قائم کیا جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ تصورات بھی تعبیرِ متن ہی کے مرہونِ منت ہوتے ہیں لہٰذا عمومی طور پر مفروضہ یہ قائم کیا جاتا ہے کہ خدائی ارادے نے انہیں پہلے سے قائم شدہ کچھ سماجی حقائق تسلیم کرتے ہوئے کچھ ناگزیر ضابطوں میں قید نہیں کیا بلکہ خود اپنی اصل میں ان تصورات کو بامعنی ماننے کے لئے بھی سماج خدا کا محتاج تھا۔ تعبیر کا عمل کم از کم اس حد تک ایک پیچیدہ عمل ہے کہ انسان کو متن سے ایک مسلسل تعلق میں باندھنے کا مطالبہ کرتا ہے۔جب یہ تعلق سماجی بنیادوں پر بامعنی تصور کیا جاتا ہے تو ایک سیاسی عمل کے طور پر سامنے آتا ہے کیوں کہ اس کے نتیجے میں ایک سماجی خاکہ متصور کرنے والے طبقات پیدا ہو جاتے ہیں۔ یوں تعبیر کی جنگ ایک طبقاتی جنگ بن جاتی ہے۔

اب اس تناظر میں اگر ہم مذہب ِ اسلام میں عورت و مرد کے باہمی تعلقات اور پھر اس سے جنم لیتے تصورِ خاندان کے ضمن میں اپنے سماج کا ایک سرسری سا جائزہ لیں تو بہت ہی کم مستثنیات کے ساتھ ایک بہت واضح تعبیری خاکہ ابھر کر سامنے آتا ہے۔ یہ تعبیری خاکہ اسلام کو ایک قدیم سرقبیلی روایت کے طور پر مان کر ہی آگے بڑھتا ہے جہاں داخلی کشمکش کے بعد پھر تعبیر کے عمل کے ذریعے ہی کچھ سمجھوتے کی راہیں تلاش کی جاتی ہیں۔ روایتی تعبیرات ایک ایسی عورت کا تصور سامنے لاتی ہیں جو وجودی اعتبار سے مرد کے لئے تخلیق کی گئی ہے اور مرد کی نسبت سے ہی خاندانی اکائی کے طور پر متعارف ہوتی ہے۔ اس کی وجودی ناگزیریت مرد کے اطمینان ، خوشی اور جنسی تسکین کے ذریعے معقول ٹھہرتی ہے اور مرد کے بغیر اپنے معنی میں تخفیف کا باعث ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ ہم فی الوقت ان تعبیرات کی قدری حیثیت میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ یہ کہنا مقصود ہے کہ انہی متون میں ان کے مقابل یا ان کو توازن فراہم کرتی تعبیرات اور حوالے ایک سرقبیلی سماج کی نفسیات اور متن کی کشمکش کے بعد پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور آہستہ آہستہ سماجی یاداشت میں فوری حوالے کے طو ر پر محو ہو جاتے ہیں۔ یہ سرقبیلی سماج کی نفسیات ہی ہے کہ جہاں ہمارے مرد مبلغین خاص طور پر ان حوالوں کو منتخب کرتے ہیں جہاں عورت سے جنسی لذت پانے، اس دنیا میں اسے ضرورت سے زیادہ ’استعمال‘ نہ کرنے اور اگلے جہان میں اس کو ’انعام‘ کے طور پر پانے کا ذکر ہوتا ہے وہیں خواتین مبلغین عورت کو بستر میں مرد کی ’طلب‘ کی تقدیس اور اس کو اپنا مجازی خدا تسلیم کرنے پرابھارتی نظر آتی ہیں۔اسی طرح ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ مرد کے جنسی محرکات کی نسبت سے عورت کے جسمانی اظہار کو مختلف تعبیرات کے ذریعے سماج میں جنسی افراتفری کا ایک بنیادی محرک مانا جاتا ہے جس پر پابندی کی ضرورت لازم سمجھی جاتی ہے۔

یہ امر بھی دلچسپ ہے کہ ان تعبیرات پر وارد ہونے والا کوئی بھی تعبیراتی اعتراض جو کسی متبادل حوالے کو اپنی بنیاد بنائے فوراً ایک ایسے ردعمل کو دعوت دیتا ہے جو متن کی حدود سے نکلتا ہے اور کچھ ایسے اضافی حوالوں سے مدد لیتا ہے جو کچھ تاریخی، سماجی یا اخلاقی مفروضوں پر استوار ہوتے ہیں۔ مثلاً ان استبدادی یا انتخابی تعبیرات کو ابھارتے اور ان کے مقابل موجود متبادل تعبیرات کو پسِ پشت ڈالتے مبلغین فوراً کچھ ایسے کلیشے دہراتے نظر آتے ہیں کہ اسلام نے تو عورت کو ظلم و ستم سے آزادی دلائی اور سماج میں محترم مقام دیا،وغیرہ وغیرہ۔ ظاہر ہے کہ ان کلیشوں میں یقیناً صداقت ہے لیکن یہاں ان میں موجودآزادی اور خیر کے اصولوں کا اطلاق ہمارے مخصوص سماجی منظرنامے میں ظلم کا شکار عورت کو آزادی دلانے کی بجائے محض اپنی استبدادی تعبیرات کا ایک دفاعی ڈھکوسلا ہوتا ہے۔

ایسے میں جہا ں ہمیں پھکڑ بازی کرتے اور آوازے کستے مذہبی اور سیاسی علما کا دوغلا پن آشکار کرنے کی ضرورت ہے وہیں مذہبی تعبیر کو ایک مخصوص طبقہ علما کے چنگل سے نکال کر واپس عوامی دائرہ کار میں لانے کی ضرورت بھی ہے۔اس کی بنیادی وجہ صرف بدلتی ہوئی سماجی صورتِ حال نہیں بلکہ خود طبقہ علما کا فکری بانجھ پن بھی ہے۔ سماج اپنے رویوں سے یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ تاریخ کا عمل کے ذریعے ان تمام استبدادی تعبیرات کو مسترد کر رہا ہے جو فرد کو کسی نہ کسی طرح ان طبقات کے تابع کرنا چاہتی ہیں جن کی مذہبی متون پر حکومت ہے۔ہمیں یہ سوال اٹھانے کی ضرورت ہے کہ کیا اسلامی روایت اپنی کاملیت کے ساتھ ایک قدیم سرقبیلی سماج ہی کو متصور کرتی ہے یا اسے ایک ایسا جدید سماج بھی قابلِ قبول ہے جہاں مرد اور عورت اپنی اپنی متنوع انفرادی ترجیحات کی بنیاد پر خاندان کی تشکیل کے عمل اور اس میں حفظِ مراتب قائم کرنے کے لئے آزاد ہوں؟ اس تناظر میں اسلامی روایت کے اندر کونسے تعبیری آلات اور تکنیکی مال مسالہ موجود ہے جسے ایک عام تعلیم یافتہ شخص بھی بخوبی سمجھ سکے اور طبقہ علما کے سامنے کچھ بامعنی سوالات رکھ سکے؟ کیا الہامی متون کی تعبیرات کسی ایک مخصوص سماج ہی کو تصور کرتی ہیں جو تاریخ میں کسی ایک زمانی ومکانی دائرے میں منجمد ہے اور دریافت کیا جا سکتا ہے یا پھرمذہبی تعبیر کا عمل خود ایک تہذیبی تعامل ہی کا نتیجہ ہے اور ایک مسلسل عمل کے ذریعے اپنے خاکے میں نئے رنگ بھرتا رہتا ہے؟ کیا متن کی تعبیر کا عمل یک جہتی ہے یا متن میں ملفوظ ارادہ خدا بہرحال اپنی تفہیم کے لئے فرد کی توجہ کا متقاضی ہے؟ دوسرے لفظ میں کیاالہامی متون کی تعبیرات خارج سے سماج پر جبری نفاذ کے لئے ہیں یا فرد کو اس پر اس طرح قائل کرنا ضروری ہے کہ جبر کسی کم سے کم درجے میں معقول ٹھہرے؟ مذہب پسند طبقات کو عوامی دائرہ کار میں ان سوالوں کے جواب واضح کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہر فرد یہ فیصلہ کر نے میں آزاد ہو کہ مذہب اپنی رائج تعبیرات کے ساتھ اس کی زندگی میں کتنا بامعنی ہے اور اسے کسی ڈر ، خوف اور اخلاقی و روحانی فاشزم کے بغیر اس کے بے معنی حصے کو مسترد یا نظر انداز کر کے جینے کا حق دیا جائے۔

کوشش کی جائے گی کہ اس مضمون کے اگلے حصے میں قارئین کو کچھ اہم حوالوں کے ذریعے اشارے فراہم کئے جائیں تاکہ اسلامی روایت میں اس موضوع کے سیاق میں جدید رجحانات کا ایک خاکہ سامنے آ جائے۔

(جاری ہے)


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 60 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

7 thoughts on “سرقبیلی مذہبی روایت میں توازن کی تلاش (1)

  • 28-02-2016 at 7:18 pm
    Permalink

    Well said Bakhshi sb

    • 28-02-2016 at 8:36 pm
      Permalink

      شکریہ طاہر یونس صاحب۔

  • 28-02-2016 at 10:58 pm
    Permalink

    اس مضمون کے مکمل ہونے کا منتظر ہوں

  • 29-02-2016 at 1:10 am
    Permalink

    جناب کچھ باتیں عرض کرنی ہیں
    پہلی بات یہ کہ آپ کچھ ایسی اصطلاحات اپنے متن میں استعمال کرتے جو بظاہر آپ کی ہی اختراعی ہوتی ہیں اور یوں عام دستیاب لغات میں ناپید، یہاں تک کہ اردو میں موجود بعض اصطلاحی لغات میں بھی ناپید. اب چونکہ آپ کا یہ علمی کام فیس بک اور ویب ہر دو پر، عام و خاص کے لیے شائع ہوتا ہے لہذا ہم جیسے عامی اس کے فہم سے قاصر رہ جاتے ہیں، جیسا کہ اس تحریر کا سرنامہ ہی ایک ایسی اصطلاح سے مزین ہے جو پورے طور سمجھ نہ آ سکا یعنی “سر قبیلی” ، سو اگر ہو سکے تو ایسی اصطلاحات کا انگلش مترادف ضرور لکھ دیا کیجیے.
    دوسری بات بھی کچھ اسی ذیل سے تعلق رکھتی ہے کہ آپ کی تحریر میں ایک خاص رنگ و انداز کا پایا جانا تو کچھ یوں ہو سکتا ہے کہ آپ کا مضمون خاص فلسفہ یا فلسفیانہ ادب لگتا ہے اور اسی کی پرچھائیں آپ کی تحریر کو تحیر کے رنگ میں ڈھالتی ہے تاہم بعض جگہ آپ بظاہر قصداً کچھ ابہام پیدا بھی کرتے ہیں اب یہ جو الہامی متون یا پھر خاص اسلام کے حوالے سے متن کی بات آپ نے کی وہ میرے خیال میں زیادہ واضح ہو سکتی تھی، نجانے کیوں آپ نے ایسا نہیں کیا اب اگر متن کی ہی وضاحت نہ ہو تو بقیہ آپ کے خیالات بھی چاہے وہ تعبیرات سے متعلق سے ہوں یا اس کے نتیجے میں سماجی تغیرات سے بحث کرتے ہوں غوامض کے دھندلکوں میں ہی رہیں گے.
    آپ کا مضمون اسی علمی سطح کا ہو لیکن ابلاغ قدرے نزولی، یعنی آسان زبان میں ہو تو ہم جیسے عامی بھی بہت کچھ استفادہ کر سکتے ہیں. شکریہ

    • 01-03-2016 at 12:58 pm
      Permalink

      فہد انوار صاحب، تبصرے کا بہت شکریہ۔ میں بہت شرمندہ ہوں کہ آپ کو زحمت ہوئی۔ پوری کوشش ہو گی کہ خود سے وضع کردہ اور غیر مستعمل اصطلاحات کے انگریزی متبادل دے دئیے جائیں۔ یہ اصطلاح ’سرقبیلی‘ patriarchal کا ترجمہ ہے۔ کسی ترجمے کے دوران شاید لغت میں دیکھا ہو گا تو ذہن میں رہ گیا۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ یہ قدیم سماج کی ایک شکل تھی جس میں قبیلہ یا خاندانوں کا کوئی گروہ کسی مرد سربراہ کے ماتحت ہوتا تھا۔ قدیم سماج میں یہ مرد سربراہ ہر لحاظ سے مطلق العنان ہوتا تھا۔ اگر آپ انگریزی میں زیادہ سکون سے پڑھ سکتے ہیں تو مکمل فلسفیانہ نکتۂ نظر سے واقفیت کے لئے میرے ان دو پرانے مضامین سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ آپ کی تنقید یقیناً بیش قیمت ہو گی۔

      https://hangingodes.wordpress.com/2011/06/17/is-islam-a-patriarchical-tradition-i-understanding-the-hermeneutical-gap/

      https://hangingodes.wordpress.com/2011/06/22/is-islam-a-patriarchical-tradition-ii-exegesis-or-eisegesis/

      یہاں پیش کئے گئے اردو مضمون میں ان انگریزی مضامین کے کچھ حصوں کو استعمال کیا گیا ہے گو کہ وہاں موضوع مختلف ہے۔ امید ہے کہ انگریزی مضامین پڑھنے کے بعد آپ کو اس سوال کا جواب بھی مل جائے گا کہ اردو میں میرا رجحان کسی حد تک قصداً ابہام گوئی کا کیوں ہے۔ اس کی ذمہ دار میری مفلس الکلامی ہے کیوں کہ مدعا اگر پوری طرح بیان کرنے کی قابلیت نہ ہو تو کچھ خلا قاری کے فہم پر چھوڑنا ہی زیادہ مناسب ہوتا ہے۔

  • 29-02-2016 at 3:59 am
    Permalink

    بہت خوب۔ اچھی کاوش ھے،اغلب گمان ھے کہ پیچیدگی و ابہام دانستہ اور قصداً ھے۔ اگلی قسط کا انتظار ھے۔ مجیب طاھر پشاور۔ [email protected]

  • 29-02-2016 at 2:16 pm
    Permalink

    فہد انوار صاحب کا تبصرہ لائق توجہ ہے۔

Comments are closed.