احتساب کو ہونے دیں


 shanilaآج کل ملک میں احتساب کا بہت چرچا ہورہا ہے اس لئے نہیں کہ لوگوں کا احتساب ہورہا ہے اور اس پر سراہا جارہا ہے بلکہ اس لئے کہ احتساب ہو کیوں رہا ہے؟۔ پاکستان میں احتساب کا نام آتے ہی ذہن میں سیاسی مقدمات گھو منے لگ جاتے ہیں اور حقیقت بھی یہی ہے کہ پچھلی کئی دہائیوں سے احتساب کے نام پر بے شمار مقدمات بنے لیکن کبھی کسی پر فیصلہ ہوتا یا سزا ہوتے نہ دیکھ سکیں۔ سابق صدر زرداری کے خلاف چلنے والے تمام مقدمات سالوں بعد ثبوت کی عدم موجودگی کی وجہ سے خارج کئے جا رہے ہیں اور تمام کیسز جن کے نام بچے بچے کو ازبر تھے سب سے بریت مل گئی۔ اور تواور مشہور زمانہ سوئس کیسز جن پر پیپلزپارٹی کے دور حکومت میں ان کا ایک وزیراعظم بھی نااہل ہوگیا اس کے بارے میں بھی اطلاعات آرہی کہ وہاں بھی ثبوت کی کمی ہے۔ جانے کیا گورکھ دھندہ ہے جو عقل سمجھنے سے قاصر ہے۔

سندھ میں جب سابق صدر زرداری کے دست راست ڈاکٹر عاصم کی گرفتاری عمل میں آئی تو تمام پیپلزپارٹی بلبلا اٹھی اور جس کے جو دل میں آیا اس نے بولا ، اینٹ سے اینٹ بجانے کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ جب کچھ بس نہ چلا اور تفتیش جار ی رہی تو مستقبل میں ایسی کارروائی کو روکنے کے لئے سندھ اسمبلی میں کریمنل پراسیکوشن کا قانون، اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود پاس کردیا گیا جس کے تحت حکومت کو کوئی بھی زیرسماعت مقدمہ واپس لینے کا اختیار دے دیا گیا۔ ناقدین اس کو منی این آراو بھی کہتے ہیں۔ اسی طرح سینٹ کی قائمہ کیمٹی برائے قانون وانصاف نے نیب آرڈنینس میں ترمیم کے لئے پیپلزپارٹی کے سنیٹر تاج حیدر کے بل کو کثرت رائے سے منظور کیا تھا جس کے تحت صوبوں کے اندر نیب کے اختیارات ختم کرکے وفاق تک محدود کردیا گیا۔ اس ترمیم کے تحت ہر صوبے کو کرپشن کے خلاف احتساب کمیشن بنانے کا اختیار مل جائے گا۔

خیبر پختونخواہ کی حکومت جوکہ تبدیلی کا نعرہ اور نوے دنوں میں کرپشن ختم کرنے کا عزم لے کر حکومت میں آئی تھی اپنے ہی بنائے ہوئے احتساب بل میں ترمیم کر دی جس کہ اوپر احتجاجا صوبائی نیب چیئرمین لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ حامد خان نے استعفی دے دیا۔ خیبر پختونخواہ کے اندر احتساب کا عمل بہت کامیابی سے جاری وساری تھا بہت سی گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں حتی کہ ایک وزیر کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ لیکن جب احتساب کی کارروائیاں بڑھنے لگیں اور لگنے لگا کہ اب بہت سے طاقتوروں پر ہاتھ ڈال دیئے جائے گئے تو نیب کے پر کاٹ دیئے گئے۔ مجوزہ ترمیم کے تحت نیب کو کسی بھی سرکاری افسر یا وزیر کی گرفتاری سے پہلے چیف سیکرٹری اور سپیکر کو پیشگی اطلاع دینی ہوگی۔ اب یہ اطلاع کس لئے دینی ہوگی سب جانتے ہیں اس کے پیچھے کیا عنصر کارفرما ہےظاہر ان کو قبل ازوقت بتا دیا جائے گا کہ میاں اپنا بندوبست کرلوں تم پر ہاتھ پڑنے والا ہے۔ یہ صورت حال اس حد تک مضحکہ خیز ہو گئی ہے کہ عمران خان نے اعلان کیا ہے کہ وہ اب خود نیب کا ادارہ تشکیل دیں گے۔ صوبائی قوانین کی اس سے زیادہ ہتک نہیں ہو سکتی۔

نیب کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں اورکچھ بااثر لوگوں پر ہاتھ ڈالنے اور وزیراعظم اور پنچاب کے وزیراعلی کے خلاف قائم مقدمات کے متوقع فیصلے نے وزیراعظم کو بھی مجبور کردیا کہ وہ بھی میدان میں اتر آئے۔ اپنے ایک حالیہ بیان میں وزیراعظم نے نیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ “نیب لوگوں کی عزتیں اچھالنا بند کرے ورنہ کارروائی کریں گئے۔ ادارے کے لوگ گھروں میں گھس کر معصوم لوگوں کو تنگ کرتے ہیں اور سرکاری افسروں کو فیصلے سے پہلے خوفزدہ کرتے ہیں یہ رویہ ناقابل برداشت ہے”۔ بہت سے لوگوں کی رائے ہے کہ وزیراعظم کے ایک قریبی کاروباری دوست پر ہاتھ ڈالا جانا تھا اس لئے انہوں نے قبل ازوقت تنبیہ کر دی ہے۔ یہ نیب کا قانون ضرور جنرل مشرف کا بنایا ہوا لیکن چیئرمین تو وزیراعظم کی مرضی سے بنا ہےاور آج اسی سے نالاں ہے۔ اور اپوزیشن جو اس کی مخالف رہی آج اس کی محبت میں گرفتار ہورہی ہے۔

پاکستان میں احتساب ہمیشہ سے ایک مذاق ہی بنا رہا ہے لوگوں کی طرف سے کبھی اس کے بارے میں کوئی سنجیدہ رویہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس کی وجہ اس کی انتقامی کارروائیاں سال ہا سال مقدمات کا چلنا اور بغیر نتیجہ ختم ہوجانا۔ نوے کی دہائی میں بےنظیر اور نوازشیریف کے ادوار میں ایک دوسرے کے خلاف بے تحاشہ کرپشن کے مقدامات قائم کئے گئے مشہور زمانہ سیف الرحمان کے زیر ماتحت نیب کمیشن بھی بنا اس کے متعلق جو کہا نیاں نکلیں وہ آج بھی زبان زد عام ہیں۔ سابق صدر زردای نے جیلیں بھی کاٹیں لیکن ان کا کیا نیتیجہ نکلا وہ آج کل ہم دیکھ ہی رہے ہیں کہ ہرمقدمہ سے باعزت بریت۔ سابق صدر مشرف نے جب اقتدار سنبھالا تو انہوں نے بھی احتساب کا نعرہ لگایا اور لگ رہا تھا کہ اب ملک سے کرپشن ختم ہوجائے گی اور ہر طرف انصاف کا بول بالا ہوگا۔ لیکن یہ بھی حسرت ہی رہی اور صرف ایک مخصوص جماعت کے خلاف مقدمات قائم کئے گئیے جو آج بھی عدالت میں ہیں جن کے اوپر پاکستانی عوام کا بےتحاشہ پیسا لگا لیکن کیا ثابت ہوا کس کو سزا ملی آپ کے سامنے ہے کہ وہ جماعت آج حکومت میں ہے۔ اور اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لئے جنرل مشرف جو سیاستدانوں کو ہر وقت کرپٹ کہتے رہتے تھے انہیں کے ساتھ این آر او سائن کر لیا جس کے تحت 1998 سے پہلے بننے والے تمام مقدمات کو ختم کر دیا گیا۔۔

اگر احتساب اسی کا نام ہے اور احتساب کے ساتھ اسی طرح کا کھیل ہی کھیلنا ہے تو پھر اس کو بند کردیا چاہئے اور یہی پیسہ عوامی فلاح کے کسی منصوبہ پر لگا دے۔ پاکستانی عوام احتساب چاہتے ہیں وہ کرپشن کو ختم ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن یہ احتساب محض ایک نعرہ نہیں ہونا چاہئے۔ احتساب کے نام پرصرف اپوزیشن کی جماعت پر مقدامات نہیں بننے چاہئے۔ احتساب ہونا چاہئے بغیر کسی تفریق کے بغیر کسی لحاظ کے۔ اگر ہم خود ہی قانون بنا کر خود ہی ترمیم کریں گئے اگر ہم خود ہی چیئرمین لگا کر خود ہی اس پر تنقید کرتے رہیں گے توکبھی کوئی ادارہ کھل کر ایمانداری سے کام نہیں کر سکے گا۔ اگر آپ کا دامن صاف ہے تو ڈر کیسا احتساب کو ہونے دیں۔ خوفزدہ لوگ انصاف نہیں کر سکتے۔ یا تو انصاف کا نعرہ لگانا چھوڑ دیں یا پھر سرکاری افسران کو ڈرانا چھوڑ دیں۔


Comments

FB Login Required - comments