سوٹزرلینڈ میں نسل پرستی کی طرف ایک قدم


Swiss-Referendumسوٹزرلینڈ میں آج اس سوال پر ریفرنڈم منعقد ہورہا ہے کہ کیا معمولی جرم کرنے پر کسی غیر ملکی کو کسی قانونی کارروائی کے بغیر ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔ اس رائے شماری میں ہاں کی حمایت میں ووٹ ملنے پر پولیس کو یہ اختیار حاصل ہو جائے گا کہ وہ کسی بھی غیر ملکی کو زیادہ رفتار سے گاڑی چلانے یا کسی معاملہ پر پولیس سے بحث کرنے جیسے معمولی جرم پر بھی فوری طور سے ملک سے باہر روانہ کرسکے گی۔ یہ تجویز ملک کی دائیں بازو کی انتہا پسند پارٹی سوس پیپلز پارٹی نے پیش کی ہے اور ملک میں اس حوالے سے شدید اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ اس تجویز کے مخالفین کا کہنا ہے کہ اس طرح ملک میں امتیازی سلوک کا آغاز ہو جائے گا اور غیر ملکیوں کے لئے علیحدہ قانون ہوں گے جو بنیادی اصول انصاف سے متصادم ہے۔

تارکین وطن یا غیر ملکیوں کے لئے سوٹزرلینڈ میں پورے یورپ کے مقابلے میں سخت قوانین موجود ہیں۔ یہاں داخل ہونے اور رہنے کے لئے سخت مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسی طرح غیر ملکیوں کے لئے ملک کی شہریت حاصل کرنا بھی آسان نہیں ہے۔ متعد دیگر یورپی ملکوں کے برعکس سوٹزرلینڈ میں پیدا ہونے والے لوگوں کو از خود شہریت نہیں مل سکتی بلکہ اس کے حصول کے لئے سخت شرائط عائد ہیں۔ اسی لئے ملک میں آباد متعدد غیر ملکی کئی نسلوں سے یہاں رہنے کے باوجود مقامی شہریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ واضح رہے کہ ملک میں 2010 میں ہونے والے ریفرنڈم میں سنگین جرائم مثلاً قتل یا جنسی زیادتی وغیرہ کا مرتکب ہونے کی صورت میں غیر ملکیوں کو ملک بدر کرنے کی تجویز منظور کر لی گئی تھی۔ تازہ تجویز ان قوانین کو نسل پرستی کی حد تک سخت کرنے کی خواہش کا نتیجہ ہے۔ اس بارے میں یہ دلیل دی جارہی ہے کہ ملک کی جیلوں میں غیر ملکیوں کی شرح بہت زیادہ ہے، اس لئے ڈرامائی فیصلے کرنا ضروری ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیلوں میں ٹھونسے گئے لوگوں کی زیادہ تعداد ان پناہ گزینوں پر مشتمل ہے جو جنگ زدہ ملکوں سے پناہ لینے کے لئے سوٹزرلینڈ آنے میں کامیاب ہوئے ہیں اور حکومت ہر قیمت پر انہیں ملک سے نکالنا چاہتی ہے۔ لیکن ملک بدر کرنے کی تجویز منظور ہونے کی صورت میں ملک میں قانونی طور سے آباد غیر ملکی متاثر ہوں گے جنہیں کسی غلطی پر اپیل کے حق کے بغیر ہی ملک سے نکال دیا جائے گا۔

swiss-referendumریفرنڈم سے پہلے تجویز کے حق اور مخالفت میں سخت الفاظ استعمال کرتے ہوئے مخالفین پر شدید نکتہ چینی کی گئی تھی۔ یہ تجویز پیش کرنے والی پارٹی نے ایک متنازع پرانا بینر بھی استعمال کیا ہے جس میں سوس شہریوں کو سفید معصوم بھیڑ اور غیر ملکیوں کو کالی بھیڑ کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ مخالفین نے اس کے جواب میں اپنی مہم میں ایک ایسا بینر استعمال کیا جس میں ایک جیک بوٹ سوس پارلیمنٹ کو گرا رہا ہے۔ تجویز کی مخالفت کرنے والوں کو اندیشہ ہے کہ اس طرح ملک میں امتیازی اور نسلی تعصب کو جائز قرار دیا جائے گا۔ مہم کے دوران یہ سوال بھی سامنے لایا گیا ہے کہ اس تجویز کے بعد اگلے مرحلے میں غیر ملکیوں کو امتیازی نشان پہننے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔

ملک کے ایک ممتاز کالم نگار نے اس ریفرنڈم کو ملک میں نازی تحریک کا آغاز قرار دیا ہے۔ اس دلیل کے مطابق 1930 کے جرمنی میں اسی قسم کے طریقے اختیار کئے گئے تھے تاہم سوس پیپلز پارٹی اس تنقید کو سختی سے مسترد کرتی ہے۔ اس کے باوجود اس ریفرنڈم اور اس پر ہونے والی بحث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ گزشتہ برس شامی پناہ گزینوں کی یورپ کی طرف آمد سے شروع ہونے والے خوف کی وجہ سے پورے بر اعظم میں نسلی اور قوم پرستانہ جذبات کو فرغ ملا ہے۔ سوٹزرلینڈ کا ریفرنڈم اور اس کے بارے میں ہونے والے مباحث یورپ میں نسلی امتیاز کے اصول کو تسلیم کرنے کی طرف ایک ناخوشگوار قدم کی حیثیت رکھتے ہیں۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 414 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali