تعمیرکے زاویے ، تخریب کی بنیادیں


ghafferہر نئی تعمیر کے لئے تخریب ضروری ہے، یہ جدید زندگی کا بیانیہ ہے۔ اس کو جدیدیت کے اس دور میں پورے یقین و اعتقاد کے ساتھ قبول کر لیا گیا کہ جب صنعتی انقلاب کے نتیجے میں راتوں رات تعمیر کی جانے والی کثیر منزلہ عمارات کو اس لیے گرانا پڑ گیا کہ ان عمارات میں تزئین و آرائش نام کی کوئی چیز نہیں تھی کہ جس کو بچایا جانا ضروری سمجھا جاتا۔ انیسویں صدی کے اواخر میں، فیکٹریوں کا تیار کردہ سامان اور دوسرے ملکوں سے لائی جانے والی مصنوعات کوسٹور کرنے کے لیے سمندروں کے کنارے یہ عمارات بنائی گئی تھیں۔ اس سے پہلے کبھی اتنی زیادہ تعداد میں ایسی عمارات نہ بنائی گئیں۔ تعمیر کا کام لوہے، سیمنٹ اور کنکریٹ کو استعما ل کرنے والی مخلوق کہ جس کو انجنئیرز کا نام دیا گیا، انہوں نے فریم سٹرکچر کے آسان اور تیز تر طریقہ تعمیر کو استعمال کرتے ہوئے بد ہئیت اور غیر متناسب عمارات تعمیر کیں۔ اس سے پہلے کسی بھی تعمیر کی جانے والی عمارت کی زندگی کا تعین نہیں کیا جاتا تھا۔ نئے سامان تعمیرات کے ساتھ ہی تعمیر میں استعمال ہونے والے سامان کی عمر کے تعین کا مسئلہ کھڑا ہوا۔ مگر اس سے پہلے جو بھی مذہبی عمارات بنتی تھیں، ان کے لیے زیادہ تر پتھر اور بعد ازاں اینٹ کا استعمال ہوتا رہا کہ جن کے لئے چونے کا مسالہ استعمال ہوتا جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ نصف صدی گزرنے کے بعد اس پر جوانی آتی ہے۔

جدید فن تعمیر کی جب بنیاد پڑی تو اس کے لیے حکومتی اداروں کی سرپرستی کرتے ہوئے امریکہ کو بہت کام کرنا پڑا۔ امریکہ کی اپنی تو کوئی تعمیری روایت تھی نہیں، اس لیے امریکہ کے دانشوروں کے سامنے یہ ایک سوال بھی رکھا گیا کہ امریکی فن تعمیر کا کون سا تشخص ہو گا؟ نئے متعارف ہونے والے عمارتی تعمیراتی سامان کہ جس میں اسٹیل، کنکریٹ اور سیمنٹ شامل تھا، کو بنیاد بناتے ہوئے قدرے سادہ انداز میں تعمیر کی جانے والی عمارات کو جدید فن تعمیر کی پہچان قرار دینے St-Pauls-Cathedral (1)کے لیے سیکڑوں کتابیں لکھوائی گئیں، ہزاروں مقالے لکھے گئے، اور بے شمار ماہرین فن تعمیرات کو فنڈز اور قرضہ کے ساتھ ترقی پذیر ملکوں میں بھیجا گیا کہ وہ وہاں جدید فن تعمیر کی بنیاد ڈالیں اور ایسی عمارتیں تعمیر کریں کہ جن کی شناخت کے ڈانڈے جدید فن تعمیر کی تحریک کی صورت میں امریکہ کے ساتھ جڑیں۔ اس سے پہلے دنیا بھر میں جہاں جہاں انگریز گئے، اپنے ساتھ انگریزی طرز تعمیر اور جمالیات لے کر گئے۔ برطانیہ کے عہد کی یہ عمارات آج بھی ان ملکوں میں موجود
ہیں کہ جہاں برطانوی تسلط رہا ہے۔ لندن میں تعمیر ہونے والی کسی بھی عمارت کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ اس کی بلندی دریائے ٹیمزکے کنارے موجود سینٹ پال کیتھڈرل کی عمارت سے زیادہ نہ ہو۔ یہاں برطانوی حکومت کی نظر میں کوئی مذہبی عمارت کا تقدس نہیں ہے، بل کہ ان کے سامنے ان کے قدیمی نمائندہ شہر لندن کی جمالیات ہے۔ لندن واحد شہر ہے کہ کو برطانیہ میں اپنے عہد رفتہ کی ایک یادگار ہے کہ جہاں تعمیرات کو اس لیے اپنی اصل حالت میں محفوظ رکھا گیا ہے کہ وہ شہر اس بات کا گواہ ہے کہ یہاں سے برطانیہ نے دنیابھر میں اپنا تسلط قائم رکھا۔ اگر ان عمارات سے بلند عمارات کی تعمیر کی اجازت دے دی جاتی تو بیسویں صدی کے آخری نصف میں جدید ٹیکنالوجی کے تحت تعمیر ہونے والی سر بفلک عمارات کے جلو میں انگریزی عہد کی یہ تہذیب غائب ہو جاتی اور وہی صورت حال ہوتی کہ جو اس وقت لاہور شہر میں مسجد مریم زمانی، شالامار باغ ، قلعہ لاہور اور بادشاہی مسجد کی ہے کہ جن کے چاروں اطراف تعمیر کی جانے والی عمارتوں میں ان کی خوبصورتی کا چاند اس لیے نہیں گہنا گیا کہ نئی عمارتیں خوبصورت ہیں، بل کہ اس لیے گہنا گیا ہے کہ ان عمارتوں کی بدصورتی اپنی سربفلک منڈیروں سے ان کی چھتوں پر جھانکتی ہے اور انہیں اپنی بد صورتی کا حصہ بناتی ہے۔

LONDON ST PAUL'S CATHEDRAL 3_8

جدید فن تعمیر کے خدوخال میز وانڈیرو، فرینک لائیڈرائیٹ،والٹر گروپیئس، لی کاربوزئیر، رچرڈ نیوٹرا، لوئس سلیوان، الور آلٹو، ایڈورڈ ڈی سٹون ، لوئس کہان جیسے جدید فن تعمیر کے ماہرین نے وضع کیے اور امریکہ کو جدید فنِ تعمیر کا نمائندہ قرار دلوانے میں ہر سطح پر کام کیا۔ اس تحریک کے بنیادی قوانین وضع کیے گئے تا کہ اس سے پہلے جو برطانوی فنِ تعمیر کی ایک تگڑی روایت صدیوں سے چلی آ رہی تھی، اس سے اس نئی روایت کو الگ کیا جائے۔ پہلا اصول یہ اپنایا گیا کہ جو بھی سامان تعمیر استعمال کیا جائے، اس کی اصل شکل نظر آنی چاہیے، اس پر کسی قسم کی الگ سے تہہ نہ چڑھائی جائے جیسا کہ اس سے پہلے پتھر اینٹوں کی دیواروں پر چونے کے پلستر میں اور دیگر تزئین و آرائش کی تیکنیک استعمال کرتے ہوئے خوبصورتی پیدا کی جاتی تھی۔ جیومیٹری کو جمالیات سے الگ کر دیا گیا اور حساب و الجبرا کو محض سٹرکچر کے ڈیزائن میں مختلف فارمولوں کے استعمال تک محدود کر دیا گیا۔ عمارتیں ایسی ہونا چاہئیں کہ وہ دور سے پہچانی جا سکیں کہ یہ ہسپتال ہے، یہ ہوٹل ہے، یہ گھر ہے، یہ تعلیمی ادارہ ہے۔ دوسرے لفظوں میں عمارت کی تعمیر اس کے تعمیری مقصد کے تحت ہونی چاہئے۔ اسے Form Follows Function کا نام دیا گیا۔ جس نے عمارتوں کی جمالیات کو یکسر تبدیل کر دیا۔ عمارتوں کی تعمیرو جمالیات میں سادگی کو اہمیت دیتے ہوئے تمام تزئینی و آرائشی تفصیلات کو عمارتوں سے الگ کر دیا گیا۔ خط ِمستقیم اور قائمتہ الزاویہ ڈیزائن کو ترجیح دی جانے لگی۔ یہ تمام سہولیات دراصل تعمیرات کو کم قیمت اور کم وقت میں تعمیر کرنے کے لیے اختیار کی گئیں جو اس وقت کے صنعت کاروں اور سرمایہ داروں کی ضرورت تھی۔

لوہا، سریا، کنکریٹ اور شیشہ بنیادی تعمیراتی سامان قرار پائے۔ ان کو فیکٹریوں میں تیار کرنے کے لیے اسٹیل ملیں، سیمنٹ فیکٹریاں لگائی گئیں۔ ٹرانسپورٹ کے ذرائع جب بحری سے بری میں تبدیل ہوئے تو آٹو انڈسٹری کی جانب توجہ دی گئی جس نے نت نئی گاڑیوں اور سڑکوں کی تعمیرات پر توجہ دی۔ شہروں کی منصوبہ Interior_of_st_pauls_melb02 (1)بندی تبدیل ہو گئی، اب لوگ سڑکوں اور عمارتوں کے درمیان میںبچ جانے والی جگہوں پر چلنے لگے، سونے لگے اور رہنے لگے۔ یہ سب کچھ بیسویں صدی کے پہلے نصف میں وقوع پذیرہونا شروع ہو گیا تھا ۔ جدید دور کلاسیکی دور سے اس لحاظ سے مختلف قرار پاتا ہے کہ پہلے انسان کی تخلیقی صلاحیتیں اور اس کے مالیاتی ذرائع اپنی ذات ، فنون لطیفہ،جمالیات، حیات و کائنات کے مسائل کو حل کرنے میں گزرتے تھے۔ انسان کے پاس اس کے اپنے لئے وقت ہوتا تھا مگر اب انسان کے پاس نہ تو اپنے لئے وقت ہے اور نہ ہی دوسروں کے لئے، وہ ہر وقت اپنے گرد عمارتوں کے جنگل اگانے میں مصروف ہے۔ ان عمارتوں کے جنگلوں میں راستہ بنانے کے لئے وہ سڑکیں اور شاہراہیں تعمیر کرتا ہے۔ پہلے وہ اپنی ضرورتوں کی تکمیل کے لئے عمارتیں، سڑکیں اور پل بناتا تھا مگر اب وہ صنعتوں کی پیدا کردہ مصنوعات کو کھپانے کے لئے تعمیراتی سرگرمیوں میں خود کو مصروف رکھتا ہے۔ قدیم مہا بیانیہ اپنی معنوی سطح پر تبدیل ہو گیا ہے۔ اب نئی تعمیر کے لیے تخریب نہیں ہوتی، بل کہ اب عمارتیں اس لیے گرائی جاتی ہیں، سڑکیں اس لیے بنائی جاتی ہیں، جنگیں اس لیے لڑی جاتی ہیں، قرضے اس لیے دیے جاتے ہیں تا کہ کارخانوں کی پیداوار کو استعمال میں لایا جا سکے، پہلے پہیہ انسان کورزق مہیا کرنے کے لیے چلایا جاتا تھا، مگر اب پہیہ پیداوار کی کھپت کے لئے رواں رکھا جاتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments