پولیس اور ہمارا اجتماعی طرز عمل


nasir malik

ناصر محمود ملک

سوال یہ ہے کہ کیا ہماری پولیس کا طرزِ عمل ہمارے مجموعی معاشرتی طرزِ عمل سے مختلف ہے۔ کیا محکمہ پولیس سے منسوب خامیاں اور کوتاہیاں دیگر اداروں اور شعبوں میں موجود نہیں ہیں! اگر اس آوے کے بگاڑ میں پولیس کی ذمہ داری محض دوسروں کے برابر ہے تو پھر عوامی ناپسندیدگی اور تنقید میں اسے اس قدر بڑا حصہ کیوں ملتا ہے؟

بلا شبہ ایک غلط کام کسی دوسرے غلط کام کا جواز نہیں بن سکتا۔ اور کرپشن کی تو خیر! کوئی صورت کسی بھی طور قبول نہیں کی جا سکتی۔ لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اگر اخلاقی اور مالی اعتبار سے عوام الناس کو پولیس سے کم و بیش وہی شکایات ہیں جو انہیں دوسرے محکموں سے ہیں تو اس کی تنقید، تضحیک اور غصے کا بڑا اور واضح ہدف صرف پولیس ہی کیوں رہتی ہے؟ سچی بات یہ ہے کہ عوام میں پولیس کے متعلق اس درجہ منفی تاثر سے اس کی کارکردگی پر نہایت منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں اور اُس کے شاندار کارنامے بھی اسی عوامی نفرت کی دبیز تہہ تلے دب جاتے ہیں۔ انسانیت کے دشمن درندہ صفت انسانوں کو جیل کی سلا خوں کے پےچھے دھکیلنے سے لے کر اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے تک ان کا ہر قابلِ تحسین عمل اسی تعصّب کی نذر ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں بہت کم لوگ ہیں جنہیں پولیس کو درپیش چیلنجز اور مسائل سے آگہی ہے او ر ان سے بھی کم ہیں جو پولیس کے حالات کو درِ خورِ اعتنا سمجھتے ہیں۔ ہاں جب کسی کا کوئی اپنا پولیس ملازمت کر رہا ہو توپتا چلتا ہے کہ پولیس کس چڑیا کا نام ہے۔ پولیس میں رہتے ہوئے کس بھاﺅ بکتی ہے یہ پولیس کو قریب سے دیکھنے پر پتا چلتا ہے۔ پولیس پر تنقید کرنے والوں کو پولیس ورکنگ کے صرف اوقات کا ہی معلوم ہو جائے تو عقل ٹھکانے آ جائے۔ نو سے پانچ بجے تک نوکری کرنے والے حضرات پولیس ملازمین کے بارے میں کیا جانیں کہ جن کے اوقات ِ کار کا تعیّن کسی گھڑی، گھڑیال کے بس کی بات نہیں، صبح دوپہر شام رات۔۔۔ وقت کی تمام اکائیاں۔۔۔ تما م پیمانے ان کے لئے اضافی ہیں۔ ان کی نظر گھڑی پر نہیں اپنے مشن پر رہتی ہے۔ جرم کے خلاف جنگ کا مشن۔۔ امن دشمنوں کے خاتمے کا مشن! جنگ جرم کے خلاف ہو یا دہشت گردی کے خلاف، پولیس ہمیشہ صف اول میں رہتی ہے۔ اس نے ہمیشہ قربانیوں اور شہادتوں کی شاندار داستانیں رقم کی ہیں۔ قربانیوں کی ان عظیم مثالوں میں، کانسٹیبل سے آئی جی تک، کسی رینک کی تخصیص نہیں۔ شہادتوں کے اس بے مثل اور لازوال باغیچے میں ہر رنگ کا پھول کھِلا نظر آتا ہے۔ پولیس کے شیردل ایس پی چوہدری محمّد اسلم ہوں، بہادر نوجوان ڈی آئی جی فیاض سنبل ہوں یا عدیم المثال جرات کا مظاہرہ کرنے والے صفوت غیور، امن وامان کے پودے کی آبیاری اپنے خون سے کرنے میں کبھی کوئی پیچھے نہیں رہا۔ لہو کا خراج جب بھی مانگا گیا، مقتل کو سرخ رو کر دیا گیا۔

یاد رکھیں ! انسانیت کے ان دشمنوں سے مقابلے کے دوران ایسے لمحات ضرور آتے ہیں جب اپنا راستہ بدل کر آسانی سے اپنی جان بچائی جا سکتی ہے۔ لیکن پولیس کے جوان اور افسران کبھی پیچھے نہیں ہٹتے اور عوام کی حفاظت کو اپنی جانوں پر ہمیشہ مقدّم رکھتے ہیں۔ یہی وہ مقام ِ شوق ہے جس کے متعلق اقبال کہتے ہیں ’’مقامِ شوق ترے قدسیوں کے بس کی بات نہیں…. انہی کا کام ہے یہ جن کے حوصلے ہیں زیاد!“ لیکن مقامِ افسوس ہے کہ پولیس کا یہ پہلو ہمےشہ عدم توجہی کا شکار رہا۔ اس کی بے لوث اور سراپا جانثاری ہمیشہ نظر انداز رہی۔ کوئی ستائش، کوئی صلہ، کوئی حرفِ محبت، ہمدردی کے دو بول۔ کچھ بھی نہیں۔ پولیس کا دامن ہمیشہ خالی رہا۔ اور حصے میں کچھ آیا بھی تو کیا! گالیاں، الزامات، طعن و تشنیع، نفرت، اور چاروں اطراف سے تضحیک و تذلیل ! کیا ہمسایہ ملک کی پولیس کرپٹ نہیں ہے؟ خاکسار کو ایک ایسی تنظیم میں کام کرنے کا موقع ملا جہاں انڈین پولیس افسران بھی تھے۔ وہاں ان کی کرپشن کی کہانیاں زبانِ زدِ عام تھیں۔ ( بارِ دگر عرض ہے کہ یہ کرپشن کا جواز ہر گز نہیں ہے۔ ) لیکن کیا ہمسایہ ملک میں پولیس کے ساتھ وہی سلوک ہوتا ہے جو ہمارے ہاں ہے۔ کیا میڈیا ان کا وہی چہرہ دکھاتا ہے جو ہم دکھاتے ہیں۔ سری لنکا نے بدترین دہشت گردی کا سامنا کیا ہے۔ لیکن 2009 ء میں ان عناصر کا مکمل صفایا کر کے امن پیدا کر دیا گیا۔ وجہ یہ تھی کہ پوری قوم پولیس اور فوج کے پیچھے کھڑی تھی۔ راقم کو سری لنکا جانے کا اتفاق ہوا جہاں ہم نے دیکھا کہ تامل کے خلاف جنگ میں کام آنے والے پولیس افسران کی ایک ہیرو کی طرح پوجا کی جاتی ہے۔  اُن کی بڑی بڑی تصاویر دیوتاﺅں کی طرح کولمبو کی سڑکوں پر لگا کر انہیں خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔

پولیس کو جس طرح ہمارے ہاں نظر انداز کیا جاتا ہے دنیا میں کہیں اور اس کی مثال نہیں ملتی۔ ان کا بڑے سے بڑا معرکہ توجہ سے محروم رہتا ہے اور چھوٹی سے چھوٹی غلطی پہاڑ بن جاتی ہے۔ چار سدہ یونیورسٹی پر حملے کے پانچ سات منٹ بعد متعلقہ ایس ایچ او نفری سمیت اندر پہنچ گیا تھا جنہوں نے اپنی جان پر کھیل کر دو دہشت گردوں کو مارا اور باقی دو کو ایک جگہ محدود کر کے سینکڑوں طلبا کی جانیں بچائیں۔ پولیس کا یہ معرکہ بھی مناسب تشہیر و تذکرے سے محروم رہا۔ لیکن دوسری طرف یہاں کوئی ایسا نشئی جسے کئی روز تھانے میں اس کے ورثا ملنے نہیں آتے اگر ’دوائی‘ نہ ملنے پر حوالات میں ٹکر مار کر مر جائے تو وہی ورثا اس کی لاش مال روڈ پر لے جاتے ہیں اور پھر پولیس تشدّد کا الزام لگا کر احتجاج شروع کردیتے ہیں۔ بالائے ستم یہ کہ ہر سننے والا بلا تصدیق کی زحمت کئے پورے یقین کے ساتھ بتاتا پھرتا ہے کہ ایسا ’’بہیمانہ تشدد“ پہلے دیکھنے میں نہیں آیا۔ اور پھر اس’سچائی‘ کی باز گشت کئی روز سنائی دیتی رہتی ہے۔ غالب نے کہا تھا:

کس روز تہمتیں نہ تراشا کرے عدو

کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کئے

پولیس پر دشنام طرازی کرنے والوں سے عرض ہے کہ’ بندہ پرور! اگر پولیس ہی بری ہے تو موٹر وے پولیس پاکستان ہی نہیں ایشیا کے بہترین اداروں میں کیسے شامل ہو گئی۔ وہاں بھی تو بیشتر یہی پولیس کام کرتی رہی ہے۔ جناب والا ! خرابی کہیں اور ہے۔ عرض ہے کہ یہ آپ کی اپنی پولیس ہے۔  تنقید بجا مگر! اس کے اچھے کاموں پر کھلے دل سے تعریف بھی کیا کریں۔ پولیس والے بھی انسان ہیں، ان کے بھی جذبات ہیں۔ نہیں یقین تو اشفاق احمد کا واقعہ پڑھ لیں کہ وہ عید کے روز تھانے گئے، ایس ایچ او سے ملے جو اپنے بچوں سے دور تھانے میں ڈیوٹی پر تھا تو جب ایس ایچ او کو پتہ چلا کہ وہ صرف اور صرف انہیں عید ملنے آئے ہیں تو وہ اشفاق صاحب کے گلے لگ کر بچوں کی طرح رو پڑا۔ سبھی کو محبت دیں لیکن کبھی دو میٹھے بول اپنی پولیس کے لیے بھی بولا کریں

گل پھینکے ہیں اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

اے خانہ براندازِ چمن کچھ تو ادھر بھی


Comments

FB Login Required - comments