عدل فاروقی و حکم مفتی


adnan Kakar

رسول پاکؐ کے زمانے میں وحی کا زمانہ تھا۔ بعد کے چار خلفائے راشدین میں سے تین کو کسی نہ کسی فتنے کا سامنا کرنا پڑا۔ بس ایک دور ہی ایسا تھا جو ہمارے لئے ایک مثال ٹھہرا کہ ایک حاکم کو کیسے وحی الہی کے بغیر محض انسانی عقل سے ایک پرامن ریاست کا نظام حکومت چلانا چاہیے اور اپنی رعایا کی خبر گیری کرنی چاہیے۔

حضرت عمرؓ کا دور ہے۔ ایک دفعہ ایک قافلہ مدینہ منورہ میں آیا اور شہر کے باہر اترا۔ اس کی خبر گیری کے لئے خود تشریف لے گئے۔ رات پہرہ دیتے تھے کہ ایک طرف سے رونے کی آواز آئی۔ ادھر متوجہ ہوئے، دیکھا تو ایک شیر خوار بچہ ماں کی گود میں رو رہا ہے۔ ماں کو تاکید کی کہ بچے کو بہلائے۔ تھوڑی دیر بعد وہاں سے گزرے تو بچے کو روتا پایا اور غیظ میں فرمایا ’تو بڑی بے رحم ماں ہے‘۔ عورت نے کہا کہ ’تم کو اصل حقیقت معلوم نہیں، خواہ مخواہ مجھ کو دق کرتے ہو۔ بات یہ ہے کہ عمرؓ نے حکم دیا ہے کہ بچے جب تک دودھ نہ چھوڑیں بیت المال سے ان کا وظیفہ مقرر نہ کیا جائے۔ میں اسی غرض سے اس کا دودھ چھڑاتی ہوں اور یہ اس وجہ سے روتا ہے‘۔ حضرت عمرؓ کو رقت ہوئی اور کہا کہ ’ہائے عمرؓ، تونے کتنے بچوں کا خون کیا ہو گا‘۔ اسی دن منادی کر دی کہ بچے جس دن پیدا ہوں، اسی تاریخ سے ان کے روزینے مقرر کر دئیے جائیں۔

حضرت عمرؓ کا دور ہے۔ آپ رات کو گشت کر رہے ہیں۔ ایک بدو اپنے خیمہ سے باہر زمین پر بیٹھا ہوا تھا۔ دفعتاً خیمے سے رونے کی آواز آئی۔ حضرت عمر نے پوچھا کون روتا ہے؟ اس نے کہا کہ میری بیوی درد زہ میں مبتلا ہے۔ حضرت عمرؓ اپنے گھر واپس آئے اور اپنی زوجہ ام کلثوم کو ساتھ لیا۔ بدو سے اجازت لے کر ام کلثوم کو خیمہ میں بھیجا۔ تھوڑی دیر بعد بچہ پیدا ہوا تو ام کلثوم نے حضرت عمرؓ کو پکارا کہ امیر المومنین، اپنے دوست کو مبارکباد دیجئے۔ بدو یہ سن کر مودب ہوا تو حضرت عمرؓ نے فرمایا ’نہیں کچھ خیال نہ کرو۔ کل میرے پاس آنا، میں اس بچے کا وظیفہ مقرر کر دوں گا‘۔

حضرت عمرؓ کا دور ہے۔ رات کو گشت کر رہے ہیں۔ ایک عورت اپنے بالا خانے پر بیٹھی یہ اشعار گا رہی تھی

رات کالی ہے اور لمبی ہوتی جا رہی ہے
اور میرے پہلو میں یار نہیں جس سے خوش فعلی کروں

اس عورت کا شوہر جہاد پر گیا ہوا تھا اور وہ اس کے فرق میں یہ درد انگیز اشعار پڑھ رہی تھی۔ حضرت عمرؓ کو سخت قلق ہوا اور کہا کہ میں نے زنان عرب پر بڑا ظلم کیا۔ حضرت حفصہؓ کے پاس آئے اور پوچھا کہ عورت کتنے دن مرد کے بغیر بسر کر سکتی ہے؟ انہوں نے کہا چار مہینے۔ صبح ہوئی تو ہر جگہ حکم بھیج دیا کہ کوئی سپاہی چار مہینے سے زیادہ باہر نہ رہنے پائے۔

حضرت عمرؓ کا دور ہے۔ جب حاکم وقت کسی خیمے سے، کسی گھر سے آتی ہوئی صدا سنتا ہے اور انصاف دیتا ہے۔ بچے کو دودھ نہیں ملتا ہے تو رونا سن کر اس کا بندوبست کرتا ہے۔ عورت کے رونے کی آواز آتی ہے تو اس کا مسئلہ حل کرتا ہے۔ کسی کو اپنے شریک زندگی کے ہجر و فراق نے آگ لگائی ہوتی ہے تو اسے بھی سنتا ہے۔ کسی کے بچے رو رہے ہوتے ہیں، تو خود اپنی پیٹھ پر کھانے کی بوری لاد کر اسے پہنچاتا ہے۔ ظلم کیا، تکلیف میں مبتلا آواز سن کر بھی اس پر فرض ہو جاتا ہے کہ داد رسی کرے۔ وہ رحم دل حاکم رعایا کا مائی باپ ہے۔

آج کا دور ہے۔ حاکم وقت کو تواتر سے یہ خبر ملتی ہے کہ گھر میں عورت رو رہی ہے۔ اسے بے رحمی سے مارا جا رہا ہے۔ حالانکہ رحمت العالمینؐ اپنی امت کو حکم دے گئے ہیں کہ اپنی بیوی کے چہرے پر مت مارو اور برا بھلا مت کہو۔ حکم ملتا ہے کہ اپنی بیوی کو خادمہ یا لونڈی کی طرح نہ مارو۔ یہ فرمان ہے کہ ایسے مت مارو کہ اس کے جسم پر نشان پڑیں۔ قرآن حکیم ہمیں حکم دیتا ہے کہ ’اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ ، خواب گاہوں میں ان سے علیحدہ رہو اور مارو ، پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لئے بہانے تلاش نہ کرو‘۔

حاکم وقت اس درد سے روتی کراہتی عورت کی آواز سنتا ہے۔ اسے بچانا چاہتا ہے۔  وہ جو خواہ مخواہ اپنی عورتوں پر دست درازی کے لئے بہانے تلاش کرتے ہیں، انہیں روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ لیکن اسے کہا جاتا ہے کہ وہ زن مرید ہو گیا ہے۔ مغرب کا غلام ہو چکا ہے۔ اس کے انصاف کو گھر توڑنے سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ پنجاب میں قانون بنایا جاتا ہے لیکن ایک مفتی صاحب کی صدا سندھ سے بلند ہوتی ہے کہ یہ مت کرو، اور دوسرے کی پختونخوا سے۔ اس قانون کی عجیب و غریب تشریحات کی جا رہی ہیں۔ مفتیان وقت کیا چاہتے ہیں؟ کیا آج کا حاکم وقت روتی پیٹتی درد سے کراہتی عورت کی چیخوں پر اپنے کان بند کر لے اور اسے نہ سنے اور اسے انصاف سے محروم کر دے؟

مفتی صاحب کہتے ہیں کہ ’تشدد کا واقعہ پورے پاکستان میں ایک فیصد کیا آدھا فیصد بھی نہیں ہو گا۔ ہم کسی بھی صورت میں نہ اس قانون کو تسلیم کرتے ہیں اور نہ مانتے ہیں۔ اور مجھے افسوس ان اسمبلی کے ممبروں پر ہے۔ کیا وہ مسلمان نہیں ہیں؟ کیا ان کے پاس قرآن و سنت کا قانون نہیں ہے؟ ان کو یہ شیلٹر  والے قانون بنانا، ٹیلی فون نمبر دینا اور مردوں کے اوپر جو ہے، پیروں کے اندر وہ چپ ڈالنا‘۔ حضرت، کیا شیلٹر دینا، پناہ دینا، بھی اب حرام ہوا ہے؟

بہرحال اب تو وہ زمانہ ہے کہ ایک اسلامی جماعت کے (اب سابق) امیر فرماتے ہیں کہ اگر عورت کا ریپ ہو جائے اور اس کے پاس چار متشرع نیک طینت عینی شاہد گواہ نہ ہوں تووہ ریپ کی رپورٹ نہ کرے اور چپ کر جائے۔ امیر صاحب، کیا یہ ممکن ہے کہ صحاح ستہ میں ایک ایسا واقعہ ملتا ہو جس میں کسی گواہ کے بغیر ہی ایک عورت کا ایسا مقدمہ پیش ہوا ہو اور اسی اکیلی مظلومہ کی شہادت پر سزا سنائی گئی ہو؟۔

حضرت عمرؓ کا دور ہے۔ باقاعدہ محکمہ افتا بنایا گیا اور یہ اہتمام کیا گیا کہ فتوے کی عام اجازت نہ ہو بلکہ خاص خاص قابل لوگ افتا کے لئے نامزد کر دئیے جائیں تاکہ ہر کس و ناکس غلط مسائل کی ترویج نہ کر سکے۔ جن لوگوں کو انہوں نے افتا کی اجازت دی، مثلاً حضرت علیؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت معاذؓ بن جبل، عبدالرحمنؓ بن عوف، ابیؓ بن کعب، زیدؓ بن ثابت، ابو ہریرہؓ، ابو درداؓ وغیرہ وغیرہ، ان کے سوا اور لوگ فتوے دینے کے مجاز نہیں ہیں۔ تاریخوں میں اس کی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ جن لوگوں کو فتوے کی اجازت نہ تھی، انہوں نے فتوے دئیے تو حضرت عمرؓ نے ان کو منع کر دیا۔ چنانچہ ایک دفعہ حضرت عبداللہؓ بن مسعود کے ساتھ بھی یہ واقعہ گزرا۔ بلکہ یہاں تک احتیاط تھی کہ مقرر شدہ مفتیوں کی بھی جانچ کرتے رہتے تھے۔ حضرت ابوہریرہؓ سے بارہا پوچھا کہ تم نے اس مسئلے میں کیا فتوی دیا؟ اور جب انہوں نے اپنا جواب دیا تو فرمایا کہ اگر تم اس مسئلے کا اور کچھ جواب دیتے تو آئندہ تم کبھی فتوے کے مجاز نہ ہوتے۔

 لیکن عدل اب حرام ٹھہرا ہے۔ اور فتوی دینے کی اجازت دینے والا اب کوئی حاکم نہیں ہے۔

(دور فاروقی کے حوالہ جات مولانا شبلی نعمانی کی کتاب الفاروق سے لئے گئے ہیں)۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 326 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

8 thoughts on “عدل فاروقی و حکم مفتی

  • 29-02-2016 at 1:26 am
    Permalink

    بہترین انداز میں سب پہلوؤں کو اجاگر کیا
    جزاک اللہ

  • 29-02-2016 at 4:22 am
    Permalink

    I believe he should not at all take precedence of Hazrat Omar with present rulers.he should refrain himself from doing it if these rulers are a little bit sincere and sensible human being then they would not practice such a show off and arrogance.they should come up as clean and honest human being then muslim then they will be able to show their concern .

    • 29-02-2016 at 1:10 pm
      Permalink

      سر کیا اس کا یہ مطلب لیا جائے کہ جب تک ہمیں ایک خلیفہ راشد جیسا حکمران نہیں ملتا ہے، ہم کسی بھی حکمران کو قانون سازی نہ کرنے دیں؟

      کیا رسولؐ کے خاص تربیت یافتہ خلیفہ راشد جیسا حکمران ہمیں کبھی بھی دوبارہ مل پائے گا؟

      کیا بری بھلی جیسی بھِی ہو، خلیفہ راشد کی تقلید کرنا درست ہے یا غلط ہے؟

  • 29-02-2016 at 1:30 pm
    Permalink

    بات آپ کی ٹھیک! بہت اچھی کوشش کی اور اوتراضات بھی بجا مگر حاکمِ وقت کی مدح سرائی اس پیرائے میں۔۔۔ خدارا! ان اسمبلی میں بیٹھے ہوؤں میں سے کتنے ہیں جو اپنی بیٹی، بہنوں کے حقوق ادا نہیں کرتے اور آج ان کو آپ عورتوں کے حقوق کے علمبردار کہہ رہے ہیں! واہ رے!

    • 29-02-2016 at 1:30 pm
      Permalink

      اعتراضات

    • 29-02-2016 at 1:43 pm
      Permalink

      جناب اس میں مداح کا پہلو کہاں ہے:

      “حاکم وقت اس درد سے روتی کراہتی عورت کی آواز سنتا ہے۔ اسے بچانا چاہتا ہے۔ وہ جو خواہ مخواہ اپنی عورتوں پر دست درازی کے لئے بہانے تلاش کرتے ہیں، انہیں روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔”

  • 29-02-2016 at 6:26 pm
    Permalink

    A slap on the face of today’s rulers and maulvis.

  • 29-02-2016 at 7:26 pm
    Permalink

    Bohat Aala kakar sb

Comments are closed.