آپ وسی بابا کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟


 حقیقی نام: چودھری آصف

تاریخ پیدایش: فیس بک پر 16 ستمبر ہی دکھائی دیتا ہے؛ 1969ء ”اونلی می“ کر رکھا ہے۔

قومیت: پاکستانی

قد: چھ فٹ سے قدرے کم

وزن: 200 کلوگرام

آنکھوں کا رنگ: معصوم

بالوں کا رنگ: خضاب کے نمبر بدلنے سے بدلتا رہتا ہے۔

جسمانی ساخت: 48/48/48

سکونت : اسلام آباد

تعلیمی ادارے: مشن اسکول، پشاور۔ 

پہلی تحریر: پڑوسن کے نام خط

ازدواجی حیثیت: شادی شدہ، مزید کے خواہش مند

دوستی: ہر کسی سے

کیا وسی بابا سگریٹ پیتے ہیں: نہیں

کیا وسی بابا نسوار رکھتے ہیں: کبھی کبھار

وسی بابا ”ہم سب“ پر لکھنے سے پہلے فیس بک پر لکھا کرتے تھے، اور اس سے پہلے پشتو فلمیں دیکھنا ان کا محبوب مشغلہ تھا، جب ان کی عمر محض پندرہ برس تھی، یہ اب بھی پشتو فلمیں شوق سے دیکھتے ہیں۔

وسی بابا نے انیس برس کی عمر میں دوسروں سے ٹکٹ خریدوا کے پشتو دیکھنا شروع کیں۔ ابتدا میں اکیلے بیٹھ کے یہ فلمیں دیکھا کرتے تھے، اب کسی کو گھیر گھار کے سینما ہال چلے جاتے ہیں۔

وسی بابا کو پیار میں پہلا دھوکا انٹرنیٹ پر ملا؛ اس دھوکے سے ان کی ایک پھول جیسی پیاری بیٹی منال ہے۔ 

ان کا اصلی نام آصف ہے لیکن جب پشتو فلم دیکھتے سینما پر چھاپا پڑا تو تھانے میں اپنا نام وسی بابا لکھوایا، اس کے بعد اسی نام سے اشتہاری ہیں۔

وسی بابا نے کبھی لکھنے کا نہیں سوچا تھا، حقیقت میں وہ عمران خان بننا چاہتے تھے۔

وسی بابا کا بدنام زمانہ فیس بک آئی ڈی سے معاشقہ رہا، کچن کمانڈر کو پتا چلا تو علاحدگی ہو گئی، کچن کمانڈر سے نہیں معشوقہ سے۔

وسی بابا بچپن میں کھیلوں کا بہت زیادہ شوق رکھتے تھے، اور لڑکوں کے ساتھ گلی میں بیٹھ کے تاش، لڈو، بارہ گوٹ، اخروٹ کھیلنے کے علاوہ ڈبو بھی کھیلتے رہے ہیں۔

وسی بابا کو 2013ء میں کچھ اخباروں کی طرف سے لکھنے کی پیش کش ہوئی لیکن وسی بابا نے لمبی رقم مانگ لی، اس لیے بات نہ بن سکی۔ ”ہم سب“ میں لکھنے کے بعد ان کا دماغ ٹھکانے آیا ہے تو ایک اخبار میں بغیر معاوضہ لیے لکھتے ہیں۔

 

وسی بابا کے بارے میں تاثر ہے، کہ وہ رات جلدی سو جاتے ہیں؛ لکین کئی بار انھیں رات گئے سوشل میڈیا پر رنگ رلیاں مناتے دیکھا گیا ہے۔ وسی بابا گھر میں اکیلے وقت گزارنا یا بیوی کے سو جانے کے بعد انٹرنیٹ پر چیٹ چیٹ کرنا پسند کرتے ہیں۔

 وسی بابا پاکستان کے پہلے چودھری ہیں، جو پشتو فلموں کے از حد رسیا ہیں۔ اسلام آباد منتقل ہو جانے کے بعد یہ راول پنڈی کے ناولٹی سینما، نشاط سینما میں ٹکٹ لے کے داخل ہو جاتے ہیں۔

وسی بابا کند ہم جنس با ہم جنس پرواز کے قائل ہیں۔ یہی رحجان ان کو پشتو فلموں کا گرویدہ بنا گیا۔

وسی بابا کو کسی حال میں چھوٹے گوشت سے رغبت نہیں رہی۔

آصف چودھری کے نام سے وسی بابا نے ایک عام پنجابی لڑکے کی طرح ناک بہاتے اپنا بچپن گزارا۔ مسرت شاہین ان کی پسندیدہ اداکارہ ہیں۔

وسی بابا کسی عجیب فوبیا کا شکار نہیں ہیں، وہ طالبان سے سے ڈرنے کے بجائے اپنی بیوی سے ڈرتے ہیں؛ یہ معمول کا فوبیا ہے۔

وسی بابا کو ایک موقع پر پشتو فلمیں دیکھنے والا، دنیا کا بارہواں بہترین تماشائی قرار دیا گیا۔

وسی بابا کی کچن کمانڈر ان کو ملنے والے ہر دعوت نامے کو بغور پڑھتی ہیں، اور اگر انھیں کوئی دعوت نامہ پسند نہ آئے تو وسی بابا اس دعوت میں نہیں جاتے۔ یہی وجہ ہے کہ وسی بابا آج تک کسی دعوت میں نہیں جا سکے۔

 مارچ 2017ء میں وسی بابا کو ”پینٹ ہاوس“ میں ”پیٹ آف دی منتھ“ قرار دیا گیا۔ وہ اپنے محلے میں سب سے بڑے پیٹ کے حامل مرد ہیں۔

وسی بابا کی پسندیدہ نسوار، کالی نسوار ہے۔

وسی بابا کو پالتو جانوروں سے بے حد پیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لدھروں سے دل لگی کرتے رہتے ہیں۔

 

 

 

 

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 154 posts and counting.See all posts by zeffer-imran