کیا ہم سب انتہا پسند بن چکے ہیں؟


zeffer05یہ بات تو طے ہے کہ ہمارا معاشرہ متوازن نہیں ہے۔ توازن اعتدال برتنے سے آتا ہے۔ ریاست کی افغان وار پالیسی اور برسوں کی خانہ جنگی نے عام آدمی کو سکیڑ کر اپنی ذات میں مقید کر دیا ہے۔ ایسے میں سچ اور جھوٹ کی پہچان تو دور کی بات ہے، سچ اور جھوٹ کی تلاش بھی نہیں ہے۔ بس اپنے بچاؤ کی جو صورت سامنے نظر آئی، اسے اوڑھ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ شتر مرغوں کی قوم ہے۔ پاپائیت کے نمایندہ مفتی نعیم ہوں، ایسوں کی حامی خواتین یا نام نہاد روشن خیالی کی پکار کرتے کالم نگار۔ یہ سبھی اپنی اپنی طرف کی انتہا پر کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی من گھڑت خبروں پر زہر اگلتی تحریریں بتاتی ہیں کہ انتہا پسندی مذہبیوں، نیم مذہبیوں ہی کا نہیں، غیر مذہبیوں کا بھی خاصہ ہے۔ یہ اس پس ماندہ قوم کا مزاج ہے۔

پنجاب اسبلی نے عائلی مسائل کو لے کر ایک قانون پاس کیا تو مفتی نعیم کو نہ جانے اس کی کون سی شق اسلام سے متصادم دکھائی دی۔ گویا وہ کہ رہے ہیں کہ اسلام میں عورت پر تشدد روا ہے۔ دوسری طرف وہ بھی کسی طرح کم قصور وار نہیں، جو مفتی نعیم کے بیان کو اسلام سے تعبیر کرتے ہیں۔ یا تو وہ اسلامی تعلیمات سے سرسری سا بھی واقف نہیں، یا پھر انتہائی بد دیانت ہیں۔ محترمہ اقدس طلحہ سندھیلا نے انتہائی خوب صورت بات کی، کہ مفتی نعیم جیسوں کو کارو کاری، ونی جیسی قبیح رسوم دکھائی نہیں دیتیں، جو خلاف اسلام ہیں۔ دوسری طرف این جی اوز کی کرتا دھرتا خواتین ہیں، جو اپنی حالات سے معاشرے کا قیاس کرتی ہیں۔ یہ سچ ہے سرکاری ملاں محض سرکار کے کام میں روڑے اٹکانے کے لیے ہیں، عوام یا اسلام سے انھیں کوئی ہم دردی ہوتی تو اپنا کردار بہ احسن ادا کرتے۔ اسی طرح این جی اوز کی چادر میں ملبوس خواتین ہیں، جو مسائل، عقائد، رسوم سمجھے بغیر سطحی باتیں کرتی ہیں۔ نپولین بونا پارٹ نے کہا تھا، تم مجھے بہترین مائیں دو، میں تمھیں عظیم قوم دوں گا۔ یہ بہترین مائیں، نہ تو ہمیں جناب مفتی نعیم جیسے دیں گے، نہ این جی اوز کی سرکردہ خواتین۔ آیئے ہم ماں باپ فیصلہ کرلیں، اپنی بیٹیوں کی تربیت ایسے کریں گے، کہ وہ آنے والے وقت میں بہترین ماں بن سکیں۔ وہ اپنے بیٹوں کو عورت کی عزت کرنا، اپنی بیٹیوں کو حقیقی مرد کی پہچان سکھا سکے۔ زیادہ دور نہیں، بس پندرہ سے بیس سال میں ہم بہترین مائیں، اچھے باپ تیار کرنے میں کام یاب ہو جائیں گے۔ عظیم قوم بن جائیں گے۔ بس یہ نہیں بھولنا کہ اس نیک کام کا آغاز ہمیں دوسرے کے گھر سے نہیں، اپنے گھر سے کرنا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر عمران

ظفر عمران کو فنون لطیفہ سے شغف ہے۔خطاطی، فوٹو گرافی، ظروف سازی، زرگری کرتے ٹیلے ویژن پروڈکشن میں پڑاؤ ڈالا۔ ٹیلے ویژن کے لیے لکھتے ہیں۔ ہدایت کار ہیں پروڈیوسر ہیں۔ کچھ عرصہ نیوز چینل پر پروگرام پروڈیوسر کے طور پہ کام کیا لیکن مزاج سے لگا نہیں کھایا، تو انٹرٹینمنٹ میں واپسی ہوئی۔ فلم میکنگ کا خواب تشنہ ہے۔ کہتے ہیں، سب کاموں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑا تو قلم سے رشتہ جوڑے رکھوں گا۔

zeffer-imran has 85 posts and counting.See all posts by zeffer-imran