سعادت حسن منٹو پر ظفر اقبال کی ایک نایاب نظم


mantoایک پرانی بحث ہے کہ تخلیق پر بہترین تنقید خلاق ذہن ہی سے ممکن ہے۔ غیر تخلیقی ذہن ہنر کے آلات اور ضابطے توسمجھ سکتا ہے ، فن کے امکانات کا احاطہ کرنا مدرس کے بس کا روگ نہیں۔ دیکھئے، 1952ءمیں لاہور شہر میں کیسے کیسے شاعر اور نقاد موجود تھے۔ ہاتھ کے ہاتھ مادہ تاریخ نکالتے تھے، باتوں باتوں میں مضمون ارزاں کرتے تھے۔ مگر منٹو نے اپنی ذات اور فن کے بارے میں نظم لکھوانے کا ارادہ باندھا تو ساہیوال کے ایک گوشہ نشین شاعر مجید امجد کا انتخاب کیا۔ 1952ء میں کون جانتا تھا کہ مجید امجد فیض ، راشد اور میرا جی کے بعد اردو نظم کا چوتھا کھونٹ ہیں۔ شب رفتہ بھی کہیں 1958ء میں شائع ہوئی …. اور پھر مجید امجد نے ’منٹو‘ لکھی۔ کہا جاتا ہے کہ منٹو پر لکھی تنقید کے پلندے ایک طرف اور منٹو کے شخص اور فن کی تفہیم میں لکھی گئی سولہ سطروں کی یہ نظم ایک طرف۔ ’کون ہے یہ گستاخ ؟‘ یہ سوال منٹو کے بارے میں اردو تنقید کا بنیادی سوال ٹھہرا۔

منٹو پر عام طور سے الزام دھرا جاتا ہے کہ وہ اپنے بارے میں دون کی لیتے تھے۔ خیر ہم نے اردو ادب کے نئے پرانے لکھنے والوں میں نرگسیت کے ایسے ایسے نمونے دیکھ رکھے ہیں کہ منٹو کی خودپسندی سے دودھ کی خوشبو آتی ہے۔ منٹو اپنے بارے میں ایک کتاب مرتب کرانا چاہتے تھے۔ پاکستان بننے کے بعد منٹو پر جو گزری اس کے تناظر میں یہ خواہش خبط عظمت نہیں بلکہ اپنے ہنر کی درست تفہیم کی ایک جائز خواہش معلوم ہوتی ہے۔ منٹو پر مقدمے چلے ۔ تقدیس کے برخود غلط پتلوں نے منٹو کو کج رو ذہن کا حامل قرار دیا۔ منٹو کی شراب نوشی کو اس کے ادبی موضوعات سے خلط ملط کیا گیا۔ تعزیرات ہند کی روٹیاں توڑنے والوں نے اسے سماج کا ناپسندیدہ کردار ثابت کرنے کی کوشش کی۔ سرکاری ملازمت کے خواہاں اس کی وطن دوستی پر انگلیاں اٹھاتے رہے۔ لغت کے قارون اور تقطیع کے شناور اسے ادب سے نابلد گردانتے رہے۔ ملائے مکتب نے اسے نصابی معیارات سے فروتر قرار دیا۔ حریص ناشر منٹو کا شرمناک استحصال کرتے رہے ۔ غربت منٹو کی گھریلو زندگی پر بھی اثر انداز ہوئی۔ ایسے میں منٹو کی یہ خواہش کہ اسے بالشتیوں کی ژاژخائی سے ہٹ کر ایک ذمہ دار اور ہنر مند ادیب کے طور پر تسلیم کیا جائے ، بے جا نہیں تھی۔

منٹو کی زندگی میں یہ کتاب مرتب نہ ہو سکی۔ یہ بھی اچھا ہوا، برا نہ ہوا۔ اگر یہ کتاب چھپ جاتی تو منٹو پر ان گنت ادبی رسالوں کے نمبر کیسے چھپتے۔ منٹو پر پی ایچ ڈی کے بے معنی مقالے کس طرح لکھے جاتے۔ منٹو کے نام پر سمیناروں کی رونق کیسے بڑھائی جاتی۔ منٹو کے تراجم پڑھ کر اپنی انگریزی دانی کی دھاک جمانے zafarوالوں کا کیا ٹھکانہ ہوتا۔ فحش نگاری پر ضحیم کتابیں مرتب کرنے والوں کو ’موزوں اقتباسات‘ کہاں سے میسر آتے۔ ایسا نہیں کہ منٹو کو تنقید کے نام پر لیموں نچوڑ ہی نصیب ہوئے۔ ’نوری نہ ناری‘ کے نام سے ممتاز شیریں کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ بہت پہلے آگیا تھا۔ منٹو کے افسانوی ہنر پر سید وقار عظیم کا مضمون کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ محمد خالد اختر نے منٹو پر دو مضامین ایسے باندھے کہ خود لکھنے والے کی قامت نکھر آئی۔ مظفر علی سید نے منٹو سے نیاز کا حق ادا کر دیا۔ منٹو کی زندگی ہی میں محمد حسن عسکری منٹو سے بہت قریب تھے لیکن منٹو پر تعزیتی مضمون میں تو انہوں نے بصیرت اور دوستی کے ایسے خطوط کھینچے جو پتھر پر لکیر ہو گئے۔

18جنوری 1955 ءکو منٹو کا انتقال ہوا تو اوکاڑہ کا ایک 24 سالہ نوجوان شاعر ظفر اقبال ابھی اپنے ادبی سفر کے ابتدائی مرحلوں میں تھا۔ کسے معلوم تھا کہ آئندہ چھ عشروں تک یہی ظفر اقبال اردو غزل کے گیسو سنوارے گا۔ ظفر نے اپنی دیہاتی ریاضت سے اردو شعر کو مانجھ مانجھ کے ایسا بلور کر دیا ہے کہ ایک طرف سے دیکھو تو محض چٹکلا اور دوسری طرف سے دیکھو تو کلی کی چٹک بیان کی ہے۔ کہنا یہ ہے کہ منٹو محض اپنے عہد کے اکابر ہی پر آشکار نہیں تھا ، اردو ادب کے سنجیدہ طالب علم بھی جانتے تھے کہ منٹو کی صورت میں انہوں نے اردو ادب کا ایک معیار اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔ منٹو کی وفات پر ظفر اقبال نے ایک نظم لکھی تھی جو گورنمنٹ کالج لاہور کے مجلے ’راوی‘ کی جنوری 1955ءکی اشاعت (جلد 49، شمارہ 2) میں شامل ہوئی ۔’دنیا پاکستان‘ کے پڑھنے والوں کی نذر ، یہ نایاب نظم محترم عارف وقار صاحب کے عطایا میں سے ایک ہے۔ آئیے نظم پڑھتے ہیں۔

سعادت حسن منٹو

تیرے وجود سے آلودہ تھی یہ پاک زمیں
تری نوا سے پراگندہ تھے نشیب و فراز
نہ تجھ کو خوف خدا تھا نہ احترام ادب
زمانے بھر پہ عیاں تھا ترے کمال کا راز
حقیقتوں میں بھٹکتا رہا دماغ ترا

سمے کے ہاتھ نے چھلکا دیا ایاغ ترا
ہوائے مرگ نے گل کر دیا چراغ ترا

اب ایک بات کہ لرزاں ہے سب زبانوں پر
شکن شکن ہوئی جاتی ہے جس سے سب کی جبیں
کہ نور و نار کی سرحد پہ آسمانوں پر
خدائے عرش ترے ہات چوم لے نہ کہیں

(ظفر اقبال )


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “سعادت حسن منٹو پر ظفر اقبال کی ایک نایاب نظم

  • 29-02-2016 at 12:41 pm
    Permalink

    Great men are recognized and acknowledged by great men only.

  • 29-02-2016 at 6:15 pm
    Permalink

    I tried to find the poems of Zafar Iqbal which were unfortunately or fortunately misplaced or lost by Iftikhar Jalib.Thanks Masood.Find more poems

  • 07-04-2016 at 7:45 pm
    Permalink

    واہ، کیا خوب نظم ہے،
    آپ کا شکریہ کہ آپ نے اسے ہمارے ساتھ شئیر کیا ،،،

Comments are closed.