کردار کی مضبوطی صرف مرد کی میراث ہے ؟


shehnila farhan

جب سے پنجاب اسمبلی نے تحفظ نسواں بل پاس کیا ہے سب سے زیادہ اذیت مولانا فضل الرحمان کو ہوئی ہے۔ پچھلی جمعرات سے انہوں نے مخالفت شروع کی اور آج اتوار کے دن تک روزانہ کسی نہ کسی بیان کی صورت میں سامنے آ رہی ہے۔

سب سے پہلے انہوں نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس میں اس بل کے بارے میں کیے جانے والے سوال کے جواب میں اپنی رائے کا طنزاً اظہار کیا اور کہا، ”میر ا خیال ہے کہ قانون میں ایک چھوٹی سی ترمیم کر لیں۔ شوہر کو بیوی کہا جائے ، اور بیوی کو شوہر کہہ دیاجائے“۔

اگلے دن انہوں نے کوئٹہ میں ہی تنظیم کے کارکنوں سے خطاب میں دل کی بھڑاس نکالی اور خوب نکالی ، یہاں انہوں نے قانون میں ترمیم کا دوبارہ مشورہ دیا اور ساتھ ہی ساتھ وہ زبان استعمال کی جو کسی انسان کو زیب نہیں دیتی، خود کو عالم دین کہنے والے کو تو ہر گز نہیں۔ بے شک وہ مردانہ اجتماع تھا لیکن وہاں میڈیا بھی موجود تھا اور مولانا کا رویہ عورتوں کے بارے میں نہایت تضحیک آمیز تھا۔ انہیں سن کر مجھے محسوس ہوا کہ عورت ایک نہایت بدکردار مخلوق ہے جس پر اگر نظر نہ رکھی جائے تو وہ لازمی بھٹکے گی اور گناہ کی طرف مائل ہو گی۔

اس اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا صاحب نے پنجاب اسمبلی کو زن مریدوں کی اسمبلی قرار دیا۔ انہوں نے اپنے کارکنوں کو بتایا کہ مدارس میں تو دینی ماحول ہوتا ہے ، ‘ان’ سے پوچھیں کہ وہ کس ‘ماحول’ میں رہتے ہیں اور انہیں کیا کیا سننا پڑتا ہے ، اس کی انہوں نے مثال بھی دی اور ایک ‘رہبر’ اور اپنے درمیان ہونے والی گفتگو بیان کی جو کچھ یوں ہے۔

رہبر: قانون سازی معاشرے کی خواہشات کے مطابق ہونی چاہئیے۔

مولانا صاحب: پھر حلال و حرام کا فیصلہ کیسے کیا جائے؟

رہبر: اگر معاشرہ حلال کہے تو وہ حلا ل ہے اور حرام کہے تو حرام۔

مولانا صاحب: اگر معاشرہ مرد کے مرد سے نکاح کی خواہش کرے تو؟

رہبر: اگر معاشرہ چاہے تو اس میں بھی کوئی قباحت نہیں!

ہمارے ‘رہبروں’ کے معیار کے بارے میں تو ہم سب جانتے ہیں۔ اس کے بارے میں کچھ کہنا اس لیے بیکار ہے کہ ایسے رہبروں کو چننے والے بھی تو ہم عوام ہی ہیں۔

اس بل کے بارے میں مولانا صاحب نے جن دیگر خیالات کا اظہار کیا وہ بھی جانیے:

انہوں نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ گھریلو تشدد جرم ہے، لیکن ، تشدد کی تعریف کیا ہے ؟

ان کی بات کا ماخذ جو مجھے سمجھ میں آیا وہ یہ کہ شاید وہ صرف جسمانی تشدد کو ہی تشدد سمجھتے ہیں ذہنی و نفسیاتی تشدد کو نہیں۔

ان کا کہنا ہے ، “جرم کے بارے میں پوچھنا بھی تو ذہنی و نفسیاتی تشدد ہی ہے۔ اگر کسی کی جوان بیٹی آدھی رات کو آشنا کے ساتھ گھر سے جائے یا آئے تو اس بارے میں پوچھنا ذہنی تشدد تو ہو گا۔”

یعنی انہوں نے یہ مان لیا کہ عورت پر اگر انہوں نے نگاہ نہ رکھی تو وہ لازمی آدھی رات کو یا تو آشنا کے ساتھ بھاگ جائے گی یا مزید ڈھٹائی دکھاتے ہوئے واپس بھی آئے گی۔ میرا خیال تھا کردار کا تعلق گھر کی تربیت سے ہے۔ اور تربیت ماں باپ سمیت گھر میں موجود تمام بزرگوں کی ذمہ داری ہے۔

مولانا صاحب نے اتنا کہنے پر اکتفا نہیں کیا ، وہ آگے فرماتے ہیں “اب آپ بیوی سے پوچھ نہیں سکتے کہ میرے علاوہ کس کے ساتھ رات گزار کر آئی ہو ، کہاں سے آئی ہو، کدھرگئی تھی، کیونکہ یہ بھی تشدد کے زمرے میں آئے گا۔ اس پر مستزاد یہ کہ اگر اس نے رپورٹ کر دی تو آپ کو 48 گھنٹے گھر سے باہر گزارنے پڑیں گے۔”

اس کے بعد مولانا صاحب نے پشتو میں کہا ’اب تو آپ کو ایسی ہی عورتوں کے ساتھ گزارہ کرنا پڑے گا‘ اور ان سمیت تمام حاضرین نے زوردار قہقہہ لگایا۔

یعنی تمام بیویاں اس بل سے فائدہ اٹھائیں گی اور گمراہ ہو جائیں گی، کیونکہ یہ تو عورت کی فطرت ہے!

پھر ہفتے کے روز حیدرآباد میں ایک تقریب سے خطاب وزیر اعلیٰ شہباز شریف پر سیدھی چوٹ کی، ان کا کہنا تھا کہ “اب سمجھا شہباز شریف کو خادم اعلیٰ کیوں کہتے ہیں، وہ گھر سے ہی خادم اعلیٰ ہیں”

اس کے اگلے دن انہوں نے کراچی میں بیان دیا۔ مولانا صاحب کا کہنا تھا ”اس بل کے بعد بیوی کی کال پر شوہر کو گرفتار کرکے ہاتھ پر پٹا پہنایا جاسکتا ہے،کیا یہ مرد کی تذلیل نہیں ہے،کیا خاوند اس تذلیل کو برداشت کرلے گا۔“

یعنی عورت پر تشدد اس پر غلط اور واہیات الزام عورت کی تذلیل نہیں لیکن اگر ایک ایسے شخص کو جو انسانیت کی تذلیل کر رہا ہے ، اس کے بارے میں اگر عورت شکایت کرے تو وہ مرد کی تذلیل ہے۔ اگر گھر میں مرد ہے تو اس کا سربراہ مرد ہی ہے اس بات کو میں بھی مانتی ہوں۔ وہ سربراہ باپ ، بھائی ، بیٹا یا شوہر کوئی بھی ہو سکتا ہے،،، لیکن کیا گھر کا سربراہ کرپٹ نہیں ہو سکتا، غلطی پر نہیں ہو سکتا صرف اس لیے کہ وہ مرد ہے؟

مولانا صاحب اوامر اور نواہی کا اختیار استعمال کرنے کے لیے مرد کو قابلیت بھی دکھانی چاہیے۔ آپ یہ کیوں سمجھ رہے ہیں کہ یہ قانون تمام مردوں کے خلاف ہے۔ یہ قانون ان مردوں کے خلاف ہے جو اپنی مردانگی عورت کو نیچا دکھانے میں سمجھتے ہیں۔ جس طرح تمام عورتیں گندی نہیں ہوتیں اسی طرح تمام مرد بھی پاکباز نہیں ہوتے۔

آپ کا کہنا ہے ،’ہمارے معاشرے میں ایک کو میاں اور ایک کو بیوی کہا جاتا ہے ، یورپی نظام میں پارٹنر ہوتے ہیں۔‘

مولانا صاحب ہمارے مشرقی معاشرے میں بھی میاں بیوی کو گاڑی کے دو پہیے کہا جاتا ہے ، اگر میاں بیوی میں اعتبار اور عزت و تکریم کا رشتہ ہو تو وہ خاندان کی گاڑی کو منزل مقصود پر پہنچا سکتے ہیں لیکن جس گھر میں ان میں سے ایک کردار بھی درست نہیں تو گاڑی منزل مقصود تک تو پتہ نہیں پہنچے یا نہ پہنچے مکینک کے پاس ضرور پہنچے گی۔

آپ کا کہنا ہے ،” گھر کی زندگی میں خاوند گھر کے افراد پر حکم جاری کیا کرتا ہے، درخواست اور التجائیں نہیں کرتا،حکمت عملی تیار کرتا ہے۔”

بالکل ٹھیک …. بجا فرما یاکہ گھر کے سربراہ کو اصول و قوانین کے اطلاق کے لیے سختی بھی کرنی پڑتی ہے تاکہ نظام زندگی خوش اسلوبی سے چلایا جا سکے۔ لیکن وہ یہ سب کرنے کا مجاز تب ہی ہوگا جب وہ خود باکردار ہو۔ اگر باپ شراب پیتا، نشہ کرتا اور گھر میں موجود عورتوں کو مارتا ہے، تو کیا وہ حاکمیت کا دعویٰ کر سکتا ہے؟

آپ نے کراچی میں جے یو آئی ف کے بلدیاتی نمائندوں کے اعزا زمیں تقریب میں کہا، ” قانون ہمیشہ معاشرے کے مزاج کے مطابق بنایا جاتا ہے، اگر کوئی قانون معاشرے کے مزاج سے متصادم ہو تو وہ قانون فیل ہو جائے گا“۔

مولانا صاحب کوئٹہ میں تو آپ نے ایک رہبر کے ساتھ جو گفتگو بیان کی اس میں آپ نے معاشرے کی خواہشات کو مقدم رکھنے کے ‘رہبر ‘کی بات پر اعتراض کیا تھا۔ اب آپ اسی معاشرے کے مزاج سے متصادم قانون کو غلط کہہ رہے ہیں۔

اصل میں تو یہ معاشرے کا غلط مزاج ہی ہے جسے درست کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اسے درست کرنے میں قوانین کے ساتھ ساتھ تعلیم و تربیت کی بھی ضرورت ہے۔ جب معاشرے کی تربیت کرنے والے لوگ ہر عورت کے کردار کو مشکوک ثابت کرنے پر تلے رہیں گے تو معاشرے کی درست کردار سازی کیسے ممکن ہے؟

یعنی جس معاشرے کی آپ بات کر رہے ہیں اس کا قانون کہتا ہے کہ مرد عورت کے کردار کا سرٹیفکیٹ ہے، اگر مرد نے کہا کہ عورت باکردار ہے تو وہ باکردار ہے اور اگر مرد نے اس کے کردار پر انگلی اٹھائی تو وہ سزاوار ہے۔ اور چونکہ مرد کے کردار پر کوئی سوال نہیں کر سکتا اس لیے مرد ہمیشہ ’باکردار‘ ہوتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

شہنیلہ فرحان

شہنیلہ فرحان دنیا ٹی وی میں اسسٹنٹ ایگزیکٹیو پروڈیوسر ہیں۔روح اور پیٹ دونوں کے لیے بہترین غذا کی دلدادہ ہیں۔ انہیں سیاحت پسند اور کتابوں سے دوستی ہے۔

shehnila-farhan has 2 posts and counting.See all posts by shehnila-farhan