ایک شہنشاہ جو کس مپرسی میں مرا


یہ انیس سو تراسی کا واقعہ ہے، شاہ نیپال بریندرا بیر بکرم شاہ دیو کے دربار میں اس گویے نے اپنی مشہور زمانہ غزل کا پہلا مصرع گنگنایا، پھر اس کے بعد دربار میں خاموشی کا طویل وقفہ، کیوں کہ گلوکار شعر کا دوسرا مصرع بھول گیا تھا۔ شاہ نیپال کھڑے ہوئے اور دوسرا مصرع پڑھ دیا، ”میں تو مر کر بھی میری جان تمھیں چاہوں گا۔“ جی ہاں یہ عظیم گلوکار مہدی حسن تھے، جن کے چاہنے والوں میں نیپال کے شاہ تک شامل تھے۔ یہی بریندرا بیر بکرم شاہ دیو تھے جنھوں نے 1983ء میں مہدی حسن کو نیپال کا ”گھورگا دکشینا باہو“ ایوارڈ دیا۔

مہدی حسن 18 جولائی 1927ء کو ہندستانی ریاست راجھستان کے صدر مقام جے پور سے ایک سو سات کلومیٹر دور ایک قصبے لونا میں پیدا ہوئے۔ ”کلا بند“ گھرانے میں پیدا ہونے والا یہ بچہ موسیقی کا ایک روشن ستارہ بن کے چمکا۔ ”کلا بند گھرانا“ یہاں کلا کا مطلب ”موسیقی“ اور بند کا مطلب ”استاد“ ہے۔ چھہ سال کی عمر میں ان کے والد استاد عظیم خان نے انھیں موسیقی کی تعلیم دینا شروع کی، اور جب یہ محض آٹھ سال کے تھے انھوں نے ریاست گولیار کے دربار میں اپنے فن کا مظاہرہ کیا، یہی نہیں بلکہ کم سن کی کلا کی پختگی سبھی کو حیران کر گئی۔ مہدی حسن کے والد استاد عظیم خان ریاست گولیار کے درباری گویے تھے، عظیم خان کے علاوہ مہدی حسن کی تربیت میں ان کے چچا استاد اسماعیل خان کا بھی حصہ رہا ہے۔ مہدی حسن کو نوجوانی میں پہلوانی کا شوق بھی رہا، لیکن اُس وقت کون جانتا تھا کہ آنے والے کل میں ان کو موسیقی کی دنیا کا رستم ہونا ہے۔

تقسیم ہند کے وقت مہدی حسن کی عمر بیس سال تھی۔ روشن مستقبل کی امید لیے وہ ہجرت کر کے کراچی چلے آئے۔ وہ جو خواب لے کے آئے تھے، وہ خواب اتنی آسانی سے ہاتھ آتے دکھائی نہ دیے۔ انھیں ابتدا میں انتہائی مشکلات کا سامنا رہا۔ سائیکلوں کے پنکچر لگائے، گاڑیوں، ٹریکٹروں کی مرمت کی، بلآخر قسمت کی دیوی نے ان کا نام پکارا۔ 1952ء میں ریڈیو پاکستان کراچی میں مہدی حسن کو ملازمت مل گئی۔ یہاں وہ ٹھمری گانے لگے، تو ٹھمری گائیکی میں ان کی پہچان ہونے لگی۔ شروع شروع میں وہ ٹھمری ہی گایا کرتے تھے۔ اس زمانے ریڈیو سے استاد برکت علی خان، مختار بیگم، بیگم اختر کا طوطی بولتا تھا۔ غزل اور خیال کی گائیکی میں کسی کو بھی ان کے سامنے دم مارنے کی ہمت نہ تھی۔ ایسے میں مہدی حسن نے یہ بھاری پتھر اٹھایا۔ وہ ایسے کامیاب ہوئے کہ سبھی کو پیچھے چھوڑ‌ کے شہنشاہ غزل کہلائے۔ نوجوانی میں پہلوانی سے شغل کرنے والے مہدی حسن نے ایک بار کہا، ”یہ بھی کام (موسیقی بھی) پہلوانی ہے، طاقت کا کام ہے۔“

مہدی حسن کو فیض کی لکھی غزل ”گلوں میں رنگ بھرے، باد نو بہار چلے“ نے مقبولیت کے بام عروج پر جا بٹھایا۔ اس غزل کی دھن مہدی حسن کے بھائی قادر حسن نے ترتیب دی تھی۔ مہدی حسن کی گائی یہ غزل اتنے مقبول تھی کہ سننے میں آتا ہے لوگ مشاعروں میں فیض سے فرمایش کیا کرتے کہ مہدی حسن والی غزل سنائیں۔ یہیں سے مہدی حسن کی فلمی گائیکی کا سفر شروع ہوا۔ ساٹھ اور ستر کے عشرے میں شاید ہی کوئی ایسی فلم ہو، جس میں مہدی حسن کی آواز نہ شامل کی گئی ہو۔ مہدی حسن کے گائے کئی ملی نغمے بھی بہت مشہور ہوئے۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے گانوں کی تعداد پینسٹھ ہزار سے زائد ہے۔

ان کے چند مشہور فلمی نغمے یہ ہیں:

رفتہ رفتہ وہ میری ہستی کا ساماں ہو گئے

یہ کاغذی پھول جیسے چہرے

ہم چلے اس جہاں‌ سے

تیرے بھیگے بدن کی خوش بو سے

تیری محفل سے یہ پروانہ چلا جائے گا۔

مجھے تم نظر سے گرا تو رہے ہو

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں

ہم سے بدل گیا وہ نگاہیں تو کیا ہوا

مہدی حسن 1964ء، 1968ء، 1969ء، 1972ء، 73ء، 74ء، 75ء، 76ء، 77ء بیسٹ میل پلے بیک سنگر کے نگار ایوارڈ جیتنے کے علاوہ 1999ء نگار میلنیم ایوارڈ سے بھی سرفراز ہوئے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کئی شاعروں کو مہدی حسن نے گا کے مقبول بنا دیا۔ نوے کی دہائی اور اس کے بعد ان پر بیماریوں کے حملے ہوتے رہے، وہ کراچی منتقل ہو گئے، اور یہاں ایک متوسط درجے کے علاقے میں ایک سو بیس گز کے گھر میں اپنی عمر کے آخری دن گزارے، اس دوران ان کا دوسرا گھر اسپتال تھا۔ پاکستان ٹیلے ویژن، ریڈیو پاکستان کی نشریاتی لہروں پر مہدی حسن کی آواز گونجتی رہی، مگر رائلٹی جیس نعمت سے محروم مہدی حسن اپنے علاج کے لیے حکومت وقت سے مدد کی اپیل کرتے رہے۔ رکارڈنگ کمپنیوں نے لاکھوں کی تعداد میں ان کی آڈیو کیسٹس، سی ڈیز فروخت کیں، لیکن وہ آخری عمر کس مپرسی کے عالم میں جیے۔

نیپال کا ذکر تو شروع میں ہوا، مہدی حسن کو ہندستان میں بھی بہت عزت دی جاتی رہی۔ آشا بھوسلے نے ایک بار کہا، ”مہدی حسن خدا کا معجزہ ہیں۔“ اور انھی کی بہن لتا کا کہا ہے، ”مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔“ مہدی حسن بیماری کے دنوں‌ میں اپنے حسین ماضی کو یاد کر کے رو دیا کرتے تھے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ہر آمر نے فن کاروں کی پذیرائی کی، جب کہ جمہوری حکمرانوں کے ادوار میں فن کاروں کے لیے کسی قسم کی سہولت نہ دینے کا چلن رہا ہے۔ جنرل ایوب خان نے مہدی حسن کو تمغہ امتیاز، جنرل ضیا الحق نے پرایڈ آف پرفارمینس، اور جنرل پرویز مشرف نے ہلال امتیاز سے نوازا۔ 13 جون 2012ء کو یہ نابغہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں