دائر ے کا سفر کب تک؟


aamir hashimنامور مورخ اور ماہر عمرانیات ابن خلدون نے پہلی صدی ہجری کے بعض واقعات کے حوالے سے اپنی تاریخ میں لکھا ہے کہ اس حوالے سے اگر کچھ اختلاف تھا تو وہ صرف اسی زمانے تک محدور رہا۔ اگلی صدی میں مورخین، علما اور عوامی حلقے ایک رائے میں یکسو ہوچکے تھے، اس کے بعد کی صدیوں میں امت کا وہی یکساں موقف چلتا رہا۔ ایسا صرف تاریخ میں نہیں ہوتا بلکہ سماجیات اور سیاست کے بعض اصولوں کے حوالے سے بھی یہی رویہ اپنایا جاتا ہے۔ کچھ اصول یا بنیادی نکات ایسے ہیں، جن پر اہل علم واہل سیاست اتفاق رائے قائم کر لیتے ہیں۔ اس مجموعی اتفاق رائے کے بعد ان مسلمات، طے شدہ اصولوں کو بار بار چھیڑنے سے گریز کیا جاتا ہے تاکہ قوم انہی بحثوں میں نہ الجھی رہے۔

ہمارے ملک میں کئی طرح کی نظریاتی، سیاسی بنیادوں پر قومیتوں کی تقسیم موجود ہے۔ ایک بڑا مشترک نکتہ (پوائنٹ) البتہ آئین کی صورت میں موجود ہے۔ 1973ءمیں اس ملک کے بڑوں نے متفقہ آئین تحریر کر کے ایک تاریخ ساز کام کیا، جس کا کریڈٹ انہیں آنے والے برسوں، عشروں تک دیا جاتا رہے گا۔ وزیراعظم بھٹو ایک لبرل، سیکولر شخص تھے، جنہیں کسی بھی اعتبار سے روایتی مذہبی یا رائٹسٹ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ان کی پارٹی میں اس زمانے کے کئی معروف لیفٹسٹ رہنماﺅں کے ساتھ بابائے سوشلزم شیخ رشد جیسے لوگ شامل تھے۔ نیپ کے پلیٹ فارم سے خان عبدالولی خان سے لے کر میر غوث بخش بزنجو تک جیسے لیفٹسٹ اور قوم پرست رہنما اس عمل میں شریک ہوئے۔ مولانا مفتی محمود سے مولانا شاہ احمد نورانی، ظفر احمد انصاری سے جماعت اسلامی کے عمائدین تک ہمارے روایتی مذہبی طبقوں اور رائٹ کے تمام قابل ذکر لوگوں نے آئین کی تشکیل میں اپنا حصہ ڈالا۔ ان سب نے اتفاق رائے سے قرارداد مقاصد کو آئین کا دیباچہ بنایا، جس کے مطابق قرآن وسنت سپریم ہیں اور پارلیمنٹ کوئی قانون اسلام کے خلاف منظور نہیں کر سکتی۔ آئین میں فنڈامینٹل رائٹس سے لے کر تمام جدید قدروں کوشامل کیا گیا، ان کے تحفظ کو یقینی بنایا گیا۔ اسی آئین میںپارلیمنٹ نے اتفاق رائے سے ایک طویل بحث مباحثے کے بعد ترمیم کی کہ احمدی کمیونٹی مسلمان نہیں ہے۔ اس ترمیم میں قادیانیوں، مرزائیوں یا احمدیوں کے تمام گروہوں بشمول لاہوری گروپ کو غیر مسلم قرار دے دیا گیا۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ وہ اعزاز ہے جس سے خواجہ ناظم الدین جیسے لوگ محروم رہے اور قدرت نے یہ بھٹو صاحب جیسے لبرل انسان کے حصے میں لکھ دیا۔ بھٹو صاحب کے جیل کے آخری دنوں پر ان کے جیل سپرنٹنڈنٹ نے کتاب لکھی جس میں بتایا: ”جیل کی کال کوٹھری میں بھٹو صاحب اس پر ناز کا اظہار کرتے تھے کہ یہ نیکی اللہ نے ان کے ہاتھ سے کرائی، جس کا اجر انہیں روز آخرت ضرور ملے گا“۔ اسی آئین میں ڈکٹیٹروں نے اپنی من پسند ترامیم بھی کر ڈالیں۔ پارلیمنٹ کو جب اختیار اور موقع ملا تو اس نے ان تمام ترامیم کا جائزہ لیا اور جو چند چیزیں مناسب پائیں، جیسے تحفظ قانون رسالت، خواتین کی مخصوص نشستیں یا بعض دوسری ترامیم…. انہیں برقرار رکھتے ہوئے اٹھارویں ترمیم میں کئی بگڑے معاملات سیدھے کر دیے۔

آج کے پاکستان میں چند چیزیں مسلمات یا طے شدہ حیثیت اختیار کر چکی ہیں، ان پر اتفاق رائے ہے، جنہیں برقرار رہنا چاہیے۔ آئین ان میں سے ایک ہے۔ اسی آئین کے مطابق جمہوریت ایسی قدر مشترک ہے جسے ایک خاص قسم کا تقدس حاصل ہو چکا۔ آج جمہوریت پر تنقید کرنے اور غیر سیاسی قوتوں کو بلانے والے نکو بن کر رہ جاتے ہیں۔ حکومت منتخب عوامی نمائندوں کے کرنے کا کام ہے، انہیں ہی کرنی چاہیے۔ یہ بات البتہ یاد رکھی جائے کہ جمہوریت ایک مکمل پیکج ہے۔ صرف کچے پکے الیکشن کرا کے پانچ سال کے لئے ملک کے سیاہ و سفید کا مالک ہو جانے کا نام جمہوریت نہیں۔ اس کی مختلف سطحیں ہیں، سب پر جمہوریت لاگو کرنا ہوگی۔ سب سے پہلے تو الیکشن کا تقدس بحال کرنا چاہیے۔ ہمیں بائیو میٹرک الیکشن کی طرف جانا چاہیے، یہ کوئی مشکل کام نہیں، صرف دو تین ارب کا خرچہ ہے، جو کر دینا چاہیے۔ سیاسی جماعتوں کو اپنے اندر بھی جمہوریت لانا ہوگی۔ شہزادوں، شہزادیوں کے بجائے سیاسی کارکنوں کو اہمیت دی جائے۔ سیاسی خاندانوں کی اگلی نسل بے شک سیاست میں آئے، مگر نیچے سے اپنا سفر شروع کرے، اوپر سے مسلط نہ ہوجائے۔ کرپشن کا خاتمہ کیا جائے، سیاستدان اپنی صفوں میں جھاڑو پھیریں، تطہیر کریں۔ بدعنوان لوگوں کی جگہ جیل ہے، پارلیمنٹ نہیں۔

اسی طرح کسی فرد، گروہ یا تنظیم کو ملک میں ہتھیار اٹھانے کی اجازت نہیں ملنی چاہیے۔ اس پر بھی اب مکمل اتفاق رائے قائم ہوچکا ہے۔ انتہا پسند مسلح گروہوں نے ملک میں جو تباہی مچائی، ہزاروں لوگ جس طرح نشانہ بنے، اس کے بعد اب ایک ہی رائے بن چکی کہ کسی ہتھیار اٹھانے والے کو نہ چھوڑا جائے۔ وہ ٹی ٹی پی کے دہشت گرد ہوں، القاعدہ کے شدت پسند ، داعش کے جنونی یا بلوچستان میں پرو انڈیا بلوچ دہشت گرد گروہ …. ان سب کو آپریشن ضرب عضب کے تحت شکنجے میں لایا جا رہا ہے۔ اس کے اگلے مرحلے پر وہ جہادی تنظیمیں جو نوے کے عشرے سے پہلے افغانستان اور پھر مقبوضہ کشمیر میں برسر پیکار رہیں، انہیں بھی ڈسپلن میں لانے کی ضرورت ہے۔کوئی مسلمان جہاد سے انکار نہیں کر سکتا، بھارتی جارحانہ ایجنڈے کو کاﺅنٹر کرنا بھی ہماری ذمہ داری ہے، مگر یہ کام ریاستی اداروں کے کرنے کا ہے، نان اسٹیٹ ایکٹرز کا نہیں۔ سرکاری ادارے البتہ نیم سرکاری تنظیمیں بنا سکتے ہیں، جیسے ہمارے ہاں مجاہد فورس کام کر رہی ہے، ایران میں پاسداران انقلاب ہے۔ اس طرز پر کسی سرکاری ڈسپلن کے تحت چلنے والی تنظیموں میں ان مجاہدین کو ضم کیا جائے، انہیں پھر سے معاشرے کا حصہ بنایا جائے اور آئندہ اپنے ہی لوگوں کو پراکسی وار میں دھکیلنے کی پالیسی اپنانے سے ہر صورت لازمی گریز کیا جائے۔

ان مسلمات میں ریاست کا اسلامی ہونا، ملک کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہونا، قرارداد مقاصد کو آئین کا دیباچہ بنانا اور بانیان پاکستان خاص طور پر قائداعظم اور علامہ اقبال کا احترام شامل ہے۔ اس ملک کی عظیم اکثریت مسلمان بلکہ جذباتی مسلمان ہے، اللہ اور اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب کی جذباتی وابستگی ہے۔ اس وابستگی، محبت کا ہر ایک کو احترام کرنا چاہیے۔ ریاست کی شکل وصورت پر شروع کے برسوں میں بہت بحثیں ہوگئیں، تہتر کے آئین میں یہ صورت واضح ہوگئی۔ اب ہمارے لبرل، سیکولر دوستوں کو عملی، زمینی حقائق کا احترام کرتے ہوئے بے مقصد، لاحاصل بحثیں دوبارہ سے شروع نہیں کرنی چاہئیں۔
بھارت میں کسی مذہبی ہندو کو لاکھ سیکولرازم سے تکلیف ہو، غصہ ہو، مگر سیکولرازم بھارتی ریاست کا ایسا لازمی جز ہے کہ کوئی اسے بدلنے کا سوچ تک نہیں سکتا۔ پاکستان میں یہی پوزیشن مذہب کی ہے۔ مذہبی شدت پسندوں کے خلاف ضرور کارروائی ہو، مگر اس کی آڑ میں ملک سے مذہب سے خاتمہ ہرگز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسا کرنے کی ہر کوشش شدت پسندی میں نئے اور خوفناک اضافے کا باعث بنے گی۔ پاکستان کو ایک اسلامی، جمہوری، فلاحی اور ماڈرن ریاست بنانا ہوگا۔ مذہب جس کا بنیادی فیبرک رہے، مگر اس میں رواداری، برداشت اور تحمل کا کلچر پیدا کیا جائے۔ علم و ادب، سائنسی فنون کی طرف نوجوانوں کو راغب کیا جائے؛ کھیلوں، ادبی، ثقافتی سرگرمیوں میں اضافہ ہو۔ نئی نسل کی بہترین طریقے سے گرومنگ ہو اور وہ محض کنزیومر سسٹم میں کام کرنے والی بے روح مشینیں نہ بن کر رہ جائیں۔ ان کا جمالیاتی ذوق اعلیٰ درجے کا، کتاب سے محبت ہو اورشائستگی وتیرہ ہو۔

ہمارے نزدیک تہتر کا آئین اسلامی ہے، اس میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں جن کا رائٹسٹ یا اسلامسٹ مطالبہ کرتے رہے ہیں۔ اب اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ آئین میں ریاست پر کچھ ذمہ داری عائد کی گئی تھی، لوگوں کی جان ومال کے تحفظ کے علاوہ صحت، تعلیم کی سہولتیں، روزگار کے مواقع وغیرہ ملنے چاہئیں۔ بلدیاتی ادارے جمہوریت کی نرسری ہیں، انہیں فعال اور بااختیار بنایا جائے۔ عام آدمی بہت بری طرح پس رہا ہے، ظالم اور استحصالی طبقات بہت طاقتور ہوچکے، پولیس کا ان کے اثر و رسوخ سے آزاد کر کے لوگوں کو ریلیف پہنچانے کا نظام وضع کرنا چاہیے۔ تعلیم، صحت، عدل وانصاف کے حوالے سے اصلاحات نافذ ہونی چاہئیں۔ یہ کام ہم سب نے مل کر کرنا ہے۔ سیاستدان، میڈیا، سول سوسائٹی، فعال طبقات ….ہر ایک کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیے، مگر براہ کرم دائرے کے سفر سے باہر نکلیں، آگے کی طرف چلیں۔ جو سوالات ستر کے عشرے میں طے ہوچکے، ان پر دوبارہ بحثیں شروع کرنا وقت کا ضیاع ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “دائر ے کا سفر کب تک؟

  • 29-02-2016 at 6:20 pm
    Permalink

    Agreed!

  • 29-02-2016 at 9:10 pm
    Permalink

    آداب و سلام قبلہ خاکوانی صاحب۔ جناب آپ کا مضمون خود اس بات پر شاہد ہے کہ اس قسم کا ’مکمل اتفاق‘ تو نہیں پایا جاتا جس کا آپ دعویٰ کر رہے ہیں۔ تہتر کے آئین پر بحث کے لئے تو منتخب ایوان موجود ہے اور میرا خیال ہے کہ وہاں آئینی حدود میں رہتے ہوئے کوئی بھی بحث کی جا سکتی ہے۔ آئینِ پاکستان ہی ہر شہری کو اجازت دیتا ہے کہ وہ آئینی حدود میں رہتے ہوئے کوئی بھی مقدمہ قائم کر کے رائے عامہ ہموار کر سکے۔ اس ملک میں ایسے بھی لوگ بستے ہیں جو جمہوریت، سرمایہ دارانہ نظام، ماڈرن ازم وغیرہ پر کڑی سے کڑی تنقید کرتے ہیں اور آئین انہیں اس کی اجازت دیتا ہے۔ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ریاست اب یہ فیصلہ بھی اپنے ہاتھ میں لے کہ ریاستِ پاکستان کو کس قسم کی ’ماڈرن‘ ریاست بنانا ہے، قائد اعظم اور اقبال کے تقدس کے کیا لوازمات ہیں، نوجوانوں کو کس کتاب سے محبت کرنی چاہئے اور کون سی کتاب اقدار کی پامالی کا باعث بنے گی؟ یوں محسوس ہوتا ہے کہ آپ کے اپنے ذہن میں ان تمام سوالوں کے کچھ آئیڈیل جوابات ہیں جو ایک ایسے مخصوص فکری تناظر میں اخذ کئے گئے ہیں ریاست کے لئے لازم ہے کہ آزادیٔ اظہار اور حریتِ فکر کو کسی نہ کسی شکنجے میں باندھے۔

    میری رائے میں آپ کا مضمون آپ کی ذاتی رائے ہے جو یقیناً کسی حد تک متوازن ہونے کے باوجود حد درجہ موضوعی ہے اور آپ کے بنیادی مقدمے سے اتفاق کرنا مشکل ہے۔ آپ نے ابن خلدون کی مثال دی تو فلسفۂ تاریخ کا مطالعہ تو یہی بتاتا ہے کہ ایک دائرہ تو چھوڑیں تاریخ تو سلسلہ وار دائروں کا سفر ہے اور دائرے بھی ایسے جو ایک دوسرے میں باہم پیوست ہیں اور اپنے محیط میں مسلسل تبدیلی کرتے رہتے ہیں۔ یہ تمام دائرے فکر کے تنوع اور پیچیدگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ دنیا بھر میں جغرافیائی حالات، سماجی خدوخال اور فکری دھارے مسلسل ارتقأ پذیر رہتے ہیں اور اتار چڑھاؤ جاری رہتا ہے۔ لہٰذا پُرامن حریتِ فکر کے اصول کو مان کر ہی آگے چلا جا سکتا ہے۔ کل کو اگر حکومت یہ اعلان کر دے کہ وہ آپ جیسے پُرامن اور روشن فکر مذہب پسندوں پر فکری قدغن لگانے کے لئے قانون سازی کر رہی ہے تو یقین جانئیے ہم میں سے کئی آپ کے ساتھ کھڑا ہونے کو ترجیح دیں گے اور دور کھڑے ہو کر بغلیں نہیں بجائیں گے۔ مذہب تہذیب کی تہوں میں بہنے والے بہت سے تخلیقی دھاروں میں سے ایک اہم ترین دھارا ہے اور اسے دنیا کی کسی بھی تہذیب سے علیحدہ کرنا ناممکن ہے۔

  • 29-02-2016 at 10:16 pm
    Permalink

    مجھ غریب کی نثر کے بہکاوے میں آپ کیوں آویں گے کیونکہ آپ ابن خلدون تک کو اپنی مرضی کے معنی پہنانے پر قادر ہیں اور سیاسیات اور عمرانیات کو آپ الہیات اور اسلامیات کے ضمنی مضمون سمجھتے ہیں اور پاکستان کی اسلام پسندی کو بھارت کے سیکولرازم کا رد عمل گردانتے ہیں اور ایسا ترقی پسند معاشرہ پاکستان کے لئے اپنے ذہن میں تراش چکے ہیں جس کی بنیاد آزادئ ضمیر پہ نہیں بلکہ بے ضمیر چالاکیوں پر استوار ہے اور تاریخ مذہب اور تاریخ انسانیت میں منفرد اور اکیلے فیصلے کو ‘خاص تقدس’ کا حامل قرار دے رہے ہیں۔۔۔۔تو آپ سے کیا اختلاف کیا جا سکتا ہے۔
    مجھے حیرت ہے کہ عاصم بخشی صاحب نے آپ کے فرمودات سے تعرض کیونکر کیا۔ اب گرامی قدر عاصم بخشی صاحب کی نذر یہ چند اشعار مضطر عارفی مرحوم کے۔۔
    تان کر چہروں کی چادر دھوپ کو ٹھنڈا کیا
    حبس جب بڑھنے لگا تو ہاتھ سے پنکھا کیا۔
    تیری دنیا دائرہ در دائرہ در دائرہ
    دائروں کے دیس میں ہم نے سفر تنہا کیا۔

  • 01-03-2016 at 12:55 am
    Permalink

    ورطہ حیرت ہوں کہ جناب خاکوانی صاحب نے بڑی آسانی سے آئین،قانون اور ریاست کے بارے وہ بیانیہ پیش کردیا جو سراسر انکی ذاتی رائے ہے۔ انکا یہ بیانیہ آئین سے بھی متصادم ہے کہ جو ہر فرد کو آزادی اظہار کا حق دیتا ہے،نیز یہی آئین منتخب نمائندوں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ترامیم کرسکتے ہیں۔
    میری رائے میں یہ دائرے میں سفر سے روکنے کی بجائے ایک محدود دائرے میں قید کرنے کی کوشش زیادہ ہے، اور دائرہ بھی وہ جو انکو پسند ہے،سبحان اللہ!

Comments are closed.