داعش کے درندے ایسی وحشیانہ جنسی بدسلوکی کرتے تھے کہ ہم بے ہوش ہو جاتے تھے: نادیہ مراد


 

شمالی عراق کی وادی سنجار پر جس دن داعش کے شدت پسندوں نے دھاوا بولا اس دن ظلم و بربریت کی ایک ایسی داستان کا آغاز کیا گیا کہ جس کا ایک ایک لفظ مظلوموں کے خون اور ان کی آہوں و سسکیوں سے عبارت ہے۔ شدت پسندوں نے وادی سنجار میں آباد یزیدی مذہب کے علاقے پر قبضہ کرنے کے بعد ہزاروں مردوں کو ان کے اہلخانہ کے سامنے گولیوں سے بھون دیا جبکہ خواتین اور لڑکیوں کو اغوا کرکے پہلے عراقی شہر موصل اور پھر داعش کے مرکز شامی شہر رقہ پہنچادیا گیا۔ اغوا کی گئی بدقسمت لڑکیوں میں 18 سالہ لامیہ بشر اور 23 سالہ نادیہ مراد بھی شامل تھیں، جنہیں 2014ءکے وسط میں موصل شہر کے قید خانے میں پہنچایا گیا۔ جرمنی کے شہر برلن میں یورپین سخاروف ایوارڈزکی تقریب کے دوران نادیہ نامی لڑکی نے پہلی بار اپنی لرزہ خیز داستان دنیا کے سامنے کچھ یوں بیان کی۔

جس دن ہمارے گاﺅں پر قبضہ ہوا میرے آٹھ بھائیوں میں سے چھ کو میرے سامنے قتل کیا گیا۔ گاﺅں کے سینکڑوں دوسرے مردوں کو بھی ہلاک کردیا گیا جبکہ تمام خواتین اور لڑکیوں کو گاڑیوں میں بھر لیا گیا۔ مجھے 150 دیگر لڑکیوں کے ساتھ موصل لے جایا گیا۔ جب ہمیں موصل لے جایا جا رہا تھا تو راستے میں ہی شدت پسندوں نے ہمارے ساتھ بدسلوکی شروع کردی۔ وہ ہمیں چھوتے تھے اور قہقہے لگاتے تھے۔ موصل پہنچتے ہی تمام لڑکیوں کو شدت پسندوں کے ہاتھ فروخت کر دیا گیا۔ مجھے بھی ایک شخص نے خریدا اور اس رات زبردستی مجھے نیا لباس پہنایا اور میک اپ کرنے کو کہا۔ پھر تمام رات وہ میری عصمت دری کرتا رہا۔ یہ سلسلہ ایک عرصے تک چلتا رہا۔ جب میں نے ایک روز فرار ہونے کی کوشش کی تو ایک گارڈ نے مجھے پکڑ لیا ۔ مجھے خریدنے والے شدت پسند نے مجھے بدترین تشدد کا نشانہ بنایا اور پھر مجھے برہنہ کرکے گارڈز کے کمرے میں بھیج دیا۔ پھر انہوں نے مجھ پر اس ظلم کا آغاز کیا جو میرے لئے موت سے بھی بدتر تھا۔ انہوں نے مجھ پر وحشیانہ جنسی تشدد کیا اور مسلسل میری عصمت دری کرتے رہے یہاں تک کہ میں بیہوش ہوگئی۔

شاید اکثر لوگ سوچیں گے کہ میری کہانی بہت دردناک ہے لیکن میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ وہاں نو سالہ بچیوں کے ساتھ بھی یہی کچھ ہورہا ہے۔ انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح خریدا اور بیچا جاتا ہے اور بے شمار افراد انہیں اپنی ہوس کا نشانہ بناتے ہیں۔ میرے چھ بھائیوں کو ہلاک کیا گیا لیکن وہاں ایسی لڑکیاں بھی تھیں جن کے 10 بھائیوں کو قتل کیا گیا اور جن کے پورے خاندان مٹا دئیے گئے۔

نادیہ ان چند خوش قمست لڑکیوں میں سے تھی جو شدت پسندوں کے چنگل سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئیں تھی۔

 

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں