ممتاز قادری کی پھانسی…. قانون کی فتح


 

\"mujahidپنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قاتل ممتا ز قادری کو پھانسی اس اصول کی فتح ہے کہ کوئی شخص عقیدہ کو بنیاد بنا کر معاشرے میں خود اپنا نظام عدل نافذ کرنے کا مجاز نہیں ہے۔ اس طرح انارکی اور لاقانونیت عام ہوتی ہے۔ یہ نہ تو اسلام کے لئے قابل قبول ہے اور نہ ہی کوئی مہذب معاشرہ اس قسم کے فعل کی اجازت دے سکتا ہے۔ پاکستان میں دو دہائیوں سے مذہب اور عقیدہ کے نام پر دہشت گردی اور قتل و غارت گری کو عام کیا گیا ہے۔ ممتاز قادری کو سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق سزا دے کر حکومت نے اس اصول کو سربلند کیا ہے کہ مملکت پاکستان عقیدہ کے نام پر خود فیصلے کرنے اور قانون کی دھجیاں بکھیرنے کی اجازت دینے کے لئے تیار نہیں ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ میں اس بنیادی اصول کا تعین کردیا گیا تھا اور حکومت نے اس فیصلہ پر عمل کرکے تمام جہادی اور مذہب کے نام پر گمراہی پھیلانے والے عناصر پر واضح کردیا ہے کہ پاکستان میں اب مذہب کے نام پر جذباتی استحصال کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس اصول پر بحث کی جا سکتی ہے کہ کوئی معاشرہ کس حد تک پھانسی کی سزا دے کر مہذب بن سکتا ہے اور کیا اس قسم کی سزاو¿ں سے جرائم کی حوصلہ شکنی ممکن ہے۔ یورپ کے بیشتر ملکوں میں پھانسی کی سزا کو ترک کردیا گیا ہے۔ ناروے میں 2011 دہشت گردی کے واقعہ میں ملوث شخص آندرس برائیوک نے 69 لوگوں کو سفاکی سے قتل کیا تھا۔ اسے ملک کے مروجہ قانونی تقاضوں کے مطابق عمر قید کی سزا دی گئی ہے کیوں کہ یہ ملک موت کی سزا کو مسئلہ کا حل نہیں سمجھتا۔ تاہم پاکستان میں حالات مختلف ہیں۔ یوں بھی ملک میں اسلامی نظام نافذ کروانے کے حامی تمام عناصر موت کی سزا کو ایک جائز اور درست سزا سمجھتے ہیں۔ دریں حالات اس موضوع پر بحث سے کسی نتیجہ پر نہیں پہنچا جا سکتا۔ مگر اسلامی نظام کے حامی یا ملک میں سیکولر طریقہ حکومت چاہنے والے، سب لوگ اس بات کو تسلیم کریں گے کہ مجرم کو اس کے کئے کی سزا دے کر ہی ریاست اپنی رٹ قائم کرسکتی ہے اور یہ واضح کیا جا سکتا ہے کہ قانون کو ہاتھ میں لینے والا کوئی ہو، کسی مقصد سے قتل کا مرتکب ہوا ہو اور اس کی حمایت میں کیسی ہی طاقتور تحریک موجود ہو، حکومت ان عوامل سے اثر قبول نہیں کر سکتی۔ ایسے جرم کے بعد عدالتوں کو حتمی فیصلہ کرنے اور حکومت کو اس فیصلہ پر عمل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

بدنصیبی کی بات ہے کہ پاکستان میں گورنر سلمان تاثیر کے قتل کے بعد ممتاز قادری کو صرف اس لئے ہیرو کا درجہ دینے کی کوشش کی گئی کہ اس کا دعویٰ تھا کہ اس نے حب رسولﷺ میں یہ قدم اٹھایا تھا۔ عدالت عظمیٰ اس مو¿قف کو مسترد کرچکی ہے۔ یہ بات اطمینان کا سبب ہے کہ ممتاز قادری کو ملک کے مسلمہ عدالتی نظام میں اپنا مقدمہ لڑنے اور اعلیٰ ترین عدالت تک اپیل کا حق استعمال کرنے کا موقع ملا اور اس نے نظر ثانی کی اپیل کے ذریعے بھی موت کی سزا سے بچنے کی کوشش کی۔ تاہم وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ہو سکتا ہے کہ ملک میں بعض مذہبی جماعتیں اس پھانسی کو عذر بنا کر مظاہروں اور احتجاج کا اہتمام کریں۔ اس قسم کا احتجاج ان کا جائز جمہوری حق ہے لیکن ان میں سے کسی کو بھی امن و امان کے لئے خطرہ بننے اور انتشار پیدا کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

ممتاز قادری کو موت کی سزا دے کر پاکستان کی حکومت نے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ایک منشور کا اعلان کیا ہے۔ اب یہ دیکھنا ہو گا کہ حکومت ایسے تمام قانون شکن عناصر کے ساتھ اسی عزم کے ساتھ نبرد آزما ہوگی۔ مختلف عناصر کے بارے میں مختلف رویہ اختیار کرکے جو خرابی پیدا کی گئی ہے ، اب اسے سدھارنے کا وقت آگیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 586 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

3 thoughts on “ممتاز قادری کی پھانسی…. قانون کی فتح

  • 29-02-2016 at 9:21 pm
    Permalink

    قانون کی ہزار ہاروں کے ساتھ ایک جیت جشن منانے کی وجہ نہیں ہے. یہ جیت “جس کی لاٹھی اس کی بھینس ” کی مثبت شکل ہے. جیسے ریمنڈ ڈیوس، زرداری، مشرف وسائل کی اصل ( منفی ) شکلیں ہیں.

  • 01-03-2016 at 3:11 am
    Permalink

    ممتازقادری کو پھانسی دے دی گئی — ایک قاتل کو اُس کے کئے ہوئے جرم کی سزا مِل گئی۔
    لیکن بات نہ یہاں شروع ہوتی ہے اور نہ ہی ختم۔ وہ لوگ کہاں ہیں اور وہ کیوں محفوظ ہیں جنہوں نے ایک ممتاز قادری جیسے شخص کو قتل کرنے کے لئے اُکسایا اور سلمان تاثیر کی موت کا باعث بنے۔ وہ لوگ جن کی خرافات سُن کر کروڑوں لوگ آج یہ یقین رکھتے ہیں کہ اُن کی تخلیق کرنے والے کے ایک اور شاہکار کو مٹا کر وہ اپنے خالق کی قربت حاصل کر لیں گے۔ یا، دوسروں سے نفرت کرنے سے اس دنیا میں پیار بڑھتا ہے۔ پاکستان کی حکومت نے کیونکر اِن مکروہ لوگوں کو کھُلی چُھٹی دے رکھی ہے کہ وہ جب چاہیں مزہب کے نام پر لوگوں کو گمراہ کریں اور بھیانک سے بھیانک جرم کو کسی مفتی سے منصوب کرکے معاشرے میں خوف پھیلائیں۔
    ایک بھٹکے ہوئے فرد کو پھانسی دینے سے قانون کی تعمیل تو ہو جائے گی مگر جب تک اُن مدرسوں اور اراروں کے خلاف جو ملک میں جرائیم پھیلاتے ہیں کاروائی نہیں کی جائے گی کوئی اصلاحی فرق نہیں پڑے گا۔ بات تب ہی بنے گی جب یہ بدی کے گڑھ بند کر کے اُن کی جگہ بچوں اور جوانوں کو نئے علوم سکھائے جائیں گے۔
    اصلی نیکی وہ ہی ہے جب ہم سب ذاتی اور مشترکہ طور پر ایک دوسرے کے ساتھ نیکی کے کام کریں، سکھ بڑھائیں اور دکھ کم کریں۔
    (سائیں سُچّا)

  • 01-03-2016 at 4:56 pm
    Permalink

    جب ریاست اس کے تمام باشندوں کو بلا تفریق تعلیم دینے کا اہتمام کرئے تو شاید لوگوں کو اسلام کی من پسند تشریح کرنے کا موقع نہ ملے۔ مگربدقسمتی سے ریاست نے سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کے مفادات کا تحفظ کرنے کے ساتھ عام لوگوں کے بنیادی حقوق سے چشم پوشی اختیار کر رکھی جس کی وجہ سے لوگ مادر پدر آزاد ہوگئے یہی وجہ ہے کہ پانی کے ضائع کی اجازت نہ دینے والے اس دین کے کندئے سے لوگوں کی زندگیاں ضائع کی گئیں۔ آج اگر ممتاز قادری کو سزا موت دینے پر قانون کی فتح کا جشن منایا جا رہا ہے تو دوسری طرف ریاست کی اس ناکامی پر ماتم کرنے کی بھی ضرورت ہے جس نے لوگوں کو اس نہج تک پہنچنے سے نہیں روکا۔

Comments are closed.