ممتاز قادری کی پھانسی …. چند سوالات


Bilal Ghauriآج پہلی بار مجھے لاقانونیت کے اندھیروں میں ڈوبے پاکستانی معاشرے میں امید کی کرن دکھائی دے رہی ہے۔ ممتاز قادری کی نیت اور ارادے جو بھی ہوں، قانون کی نظر میں وہ ایک قاتل تھا جس نے اپنی حدود سے تجاوز کیا۔ اگر اسے سزا نہ ہوتی تو نہ جانے کتنے ممتاز قادری گمراہی کا راستہ اختیار کر کے فتنہ اور فساد برپا کرتے۔ اس موقع پر ممتاز قادری کی حمایت کا مطلب یہ ہے کہ آپ مقتول کے بجائے قاتل اور مظلوم کے بجائے ظالم کے ساتھ ہیں۔ اگر کسی کو گستاخ ،کافر یا کچھ اور قرار دے کر قتل کرنے کا سلسلہ چل نکلا تو ہر شخص بیک وقت سلمان تاثیر بھی ہو گا اور ممتاز قادری بھی۔ زندگی کا انحصار بس اس بات پر ہو گا کہ وار کرنے میں پہل کس نے کی۔ کیا ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے مسلمان کو کافر قرار نہیں دیا؟ کیا سنی اور شیعہ ایک دوسرے کو کافر قرار نہیں دیتے؟ کیا دیوبندی اور اہلحدیث بریلوی ایک دوسرے کو مشرک اور گستاخ وغیرہ نہیں سمجھتے؟

اگر جنت کی چاہ میں گردنیں مارنے کا دھندا شروع ہو گیا تو یہ دنیا جہنم بن جائے گی۔ آج بغداد، یمن اور شام میں کیا ہو رہا ہے ؟ کون کس کے خلاف لڑ رہا ہے، کون کسے قتل کر رہا ہے، کون ظالم ہے اور کون مظلوم، کون حق کے ساتھ ہے اور کون باطل کا ہمراہی، کچھ سجھائی نہیں دے رہا۔ اگر ہماری ریاست ممتاز قادری کو پھانسی دینے کا فیصلہ نہ کرتی تو ہماری ہاں بھی ویسے ہی حالات پیدا ہو جاتے۔ یہ بہت مشکل فیصلہ تھا، ریاست کو یہ طے کرنا تھا کہ وہ ممتاز قادری کے ساتھ ہے، سلمان تاثیر کے ساتھ یا پھر عدل و انصاف کے ساتھ۔ ریاست نے وہی کیا جو اسے کرنا چاہئے تھا۔ آج پہلی بار مجھے اپنے قبیلے یعنی وارثان لوح و قلم پر بھی فخر محسوس ہو رہا ہے۔ ہمارے میڈیا نے کس قدر بالغ نظری اور شعور کا مظاہرہ کیا۔ چند روز قبل جب وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ یہ نیکی اور بدی کی جنگ ہے تو مجھے تعجب ہوا مگر آج ممتاز قادری کی سزا پر عملدرآمد کے بعد یقین ہو گیا کہ نیکی اور بدی کے ضمن میں ہماری ریاست کا تصور درست ہے اور انشاءاللہ نیکی ہی غالب آئے گی۔

(محمد بلال غوری سے www.facebook.com/b.ghauri پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔)


Comments

FB Login Required - comments

15 thoughts on “ممتاز قادری کی پھانسی …. چند سوالات

  • 29-02-2016 at 5:11 pm
    Permalink

    I am ashamed that such a bigoted person is writing columns in your newspaper. Actually what qualifies him to write on such matters and most of all about the justice system. Where was he when Ramond Davis went scott free after the carnage in Lahore.

    • 29-02-2016 at 8:32 pm
      Permalink

      What is bigoted in it? Would you plz explain?

    • 11-05-2016 at 5:22 am
      Permalink

      غالباً آپ کو اردو نہیں آتی۔

  • 29-02-2016 at 11:27 pm
    Permalink

    ہان یہ درست ہے کہ قانون اپنے ہاته مین نہین لینا چاہیے.هم کیسی کو کافر قرار دے کر قتل نہین کرسکتے.یہ بهی ٹهیک هے اگر ہم کسی کو محظ کافر قرار دے کر قتل کرنا شروع کرینگے.تو لاقانونیت کا دور دورا هوگا.
    لیکن عوام مین غم غصہ کیون؟لوگ کیون ممتاز قادری سے عقیدت رکهتے ہین.
    اس ملک مین ریمینڈ ڈیوس بهی قاتل تها؟اسے کیون چهوڑا گیا؟
    اس ملک مین عیان علی بهی مجرم تهی اسکے ساته کیا ہوا؟
    اس ملک مین اور کتنے لوگون سے قانون کی مطابق سلوک هوا؟
    لوگ قانون اپنے ہاته مین کیون لیتے هین؟
    پاکستان کی بنیادی نظریات سے متصادم سوچ کے لوگ کلیدی عہدون پر کیسے پہنچتے ہین؟
    کیا یہ ایین کی خلاف ورزی نہین هے.کہ قتل کے الزام والا شخص گورنر سندہ بنا بهیٹا هے؟
    اسلام کے خلاف زہر اگلنے والا شخص گورنر کیسے رہا.
    اپکے پیش نظر یہ کیون نہین.ریاست مین قانون ممتاز قادری کیلیے کیون هے.کیا اپنے لوگون پر ڈرون کرنا جایز هے.
    ہمت هے تو انکے خلاف آواز اٹهاو؟
    ممتاز قادری اللہ کے عدالت مین پیش کریگا. لیکن اپ لوگون نے کیا کیا ؟
    اس جواب پر غور کرین ضرور

  • 01-03-2016 at 9:50 am
    Permalink

    …this is the best i have read so far on this disputed topic
    regards
    Maaida Mahmood
    Sharjah

  • 01-03-2016 at 3:04 pm
    Permalink

    you are a brave writer but be careful ,fanatics like mumtaz qadri can do any thing,v your well wishers are worried about you

  • 01-03-2016 at 10:03 pm
    Permalink

    آقا علیہ السلام اپنے جانثار صحابہ کی مجلس میں تشریف فرما تھے، چودھویں کے روشن چاندکے گرداگرد ستاروں کی حسین محفل۔۔۔ ایک قتل کا مقدمہ درپیش تھا، ایک باندی کو کسی نے قتل کردیا تھا اور قاتل کا کچھ پتہ نہ تھا، مقدمہ کی صورت حال پیچیدہ ہورہی تھی، جب کسی طرح قاتل کا نشان معلوم نہ ہوا تو آقا علیہ السلام نے اہل مجلس سے مخاطب ہوکر فرمایا:
    “انشد اللہ رجلا لی علیہ حق فعل ما فعل الا قام”
    “جس شخص نے بھی یہ کام کیا ہے، اور میرا اس پر حق ہے تو اسے میں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ وہ کھڑا ہو جائے”
    آقا علیہ السلام کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سن کر ایک نابینا شخص اس حالت میں کھڑا ہوگیا کہ اس کا بدن کانپ رہا تھا، اور کہنے لگا کہ:
    “یارسول اللہ میں اس کا قاتل ہوں، یہ میری ام ولد تھی اور اس کی میرے ساتھ بہت محبت اور رفاقت تھی، اس سے میرے دو موتیوں جیسے خوبصورت بچے بھی تھے، لیکن یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کیا کرتی اور آپ کو برا بھلا کہا کرتی تھی، میں اسے روکتا مگر یہ نہ رکتی، میں اسے دھمکاتا پریہ باز نہ آتی۔ کل رات اس نے آپ کا ذکر کیا اور آپ کی شان اقدس میں گستاخی کی تو میں نے ایک چھری اٹھائی اور اس کے پیٹ پر رکھ کر اس چھری پر اپنا بوجھ ڈال دیا یہاں تک کہ یہ مر گئی”
    نابینا صحابی یہ سارا واقعہ سنا کر خاموش ہو چکے تھے۔
    معاملہ بہت نازک اور کیس سیدھا سیدھا “دہشت گردی” بلکہ “فوجی عدالت” کا تھا۔
    ایک شخص نے “قانون ہاتھ میں لے لیا تھا۔”
    “از خود مدعی اور از خود جج” بنتے ہوئے ایک انسان کو قتل کردیا تھا۔۔
    “حکومت کی رٹ” چیلنج ہوچکی تھی۔
    حکومت بھی کسی راحیل، پرویز، زرداری یا نواز کی نہیں، خود سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔۔۔
    “محض مذہبی جذبات” کی بناء پر ایک انسان کو قتل کیا جاچکا تھا۔
    عدالت میں کوئی کیس، تھانے میں کوئی رپٹ درج کرائے بغیر۔۔۔۔۔!!
    “مذہبی جنونیت” کی روک تھام شاید بہت ضروری تھی اور “جذباتیت” کا قلع قمع بھی۔۔۔۔
    پھر وہ لب ہلے جو “ان ھو الا وحی یوحی” کی سند لئے ہوئے تھے۔
    جن کا ہلنا بھی وحی، جن کا خاموش رہنا بھی وحی تھا، جن سے نکلے ہوئے الفاظ قیامت تک کے لئے قانون بن جاتے تھے، جن کا غصہ بھی برحق اور جن کا رحم بھی برحق تھا، جو جان بوجھ کر باطل کہہ نہیں سکتے تھے اور خطا پر ان کا رب ان کو باقی رہنے نہیں دیتا تھا۔۔۔۔!!
    سب کان ہمہ تن گوش تھے
    فضاء میں ایک آواز گونجی، وہی آواز جو سراہا حق تھی۔۔۔
    “الا۔۔۔! اشھدوا۔۔۔! ان دمھا ھدر”
    “سنو۔۔۔! گواہ ہو جاؤ۔۔۔۔! اس لونڈی کا خون رائگاں ہے”
    (اس کا کوئی قصاص نہیں)
    (سنن نسائی، ابو داؤد، سندہ صحیح)

    • 01-03-2016 at 11:30 pm
      Permalink

      بہت خوب جواب دیا آپ نے

    • 02-03-2016 at 3:47 pm
      Permalink

      JazakAllah Yasir Sahib but agar app goor sey iss Hadis koo parhin tu you will come to know that wo usey kafi dafa mana ker chuka tha aur iss koshash min tha k may be yeh aurat sudher jaye aur maafi maang lay but iss case min asa nah howakia Mumtaz Qadar nay Usy mana kia?? Kia usey Maafi ka chance dia?? May be wo nashy ki halat min hoo? May be wo Toba ker laita?? and only Mumtaz Qadari hi nay q jurat ki usey Qatal kerny ki?? kia Wohi Amaan wala tha?? App ya mian nay q nah ki???

    • 02-03-2016 at 6:05 pm
      Permalink

      سر۔ بہت خوب جواب۔۔ پلیز بتائیے اُس باندی کا کیا نام تھا، جس صحابی نے اُسے قتل کیا اُن کا کیا نام تھا، یہ واقعہ نبی پاک کی مکی زندگی میں پیش آیا یا مدنی زندگی میں۔۔ فرق میرے خیال سے معلوم ہے آپ کو مکی اور مدنی زندگی میں۔۔۔ شراب کن مراحل میں حرام ٹھہری، کیا بعثت رسول کے بعد ہی شراب حرام قرار پائی، یا آہستہ آہستہ ہوکر، اسی طرح ہر جرم کی سزا وقت کیساتھ طے ہوئی ہے، آپ شروع کے دنوں کا واقعہ آج اپلائی نہیں کرسکتے۔ آج اسلام کا مکمل ورژن ہمارے پاس موجود ہے۔۔۔ پلیز حکایات کی مدد نہ لیں۔ پیغمبر نے چوری پر اپنی بیٹی کو شریعت کے مطابق سزا دینے کا عہد کیا تو قتل سے صرف نظر کرینگے؟ یہ منطق سمجھ نہیں آئی

    • 11-05-2016 at 5:27 am
      Permalink

      رسول اللہ شارع تھے ان کے بعد نبت کے خاتمے کا یہ مطلب ہے کہ ان کے اختیارات ان تک تھے ۔ کسی اور شخص کو وہ اختیارات اب حاصل نہیں ہیں۔ اگر کوئی اب ان کے اختیارات اپنے ہاتھ میں لیتا ہے تو شرک فی الرسالت کرتا ہے۔ جو ہمارے علماء آجکل کر رہے ہیں۔وہ کہتے تو اپنے آپ کو خادم رسول اللہ ہیں لیکن اپنے حکم کو جس میں غلطی کا ہزار امکانات ہیں رسول اللہ کی طرح ہی لاگو کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بات آسانی سے سمجھ میں آنے والی نہین ہے

  • 01-03-2016 at 11:45 pm
    Permalink

    Thank you Bilal Bhai. Aap ki jurrat ko b salam. khuda janonion k des main aap ko salamat rakhay

  • 02-03-2016 at 8:50 pm
    Permalink

    A great article

  • 09-05-2016 at 10:45 am
    Permalink

    معذرت کے ساتھ ! کسی شیعہ مجتہد یا مفتی نے کسی سنی فرقے کو کبھی کافر قرار نہیں دیا – Please Acknowledge The Fact – Thanks

    • 11-05-2016 at 5:29 am
      Permalink

      آپ کی بات درست ہی لگتی ہے۔

Comments are closed.