سرقبیلی مذہبی روایت میں توازن کی تلاش۔ (2)


aasimجب ہم مذہبی تعبیر کے عمل کو عوامی دائرہ کار میں لانے کی بات کرتے ہیں تو اس سے مراد مذہبی تعبیر پر سماج کے ہر فرد کے اختیار کے بنیادی انسانی حق کی بازیابی ہے۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ مذہبِ اسلام کی حد تک یہ حق اسے خود خدا دیتا ہے۔ فرد اگر اپنے حق سے دستبردار ہوتے ہوئے اسے طبقہ علما کے کسی بھی قابلِ اعتماد رکن کے حوالے کرنا چاہے تو ظاہر ہے کہ یہ اس کا اپنا ذاتی فیصلہ ہے۔ ہمارے سماج میں یہ بات واضح ہو چکی ہے اب یہ کشمکش مذہبی تعبیرات پر حکومت کرنے والے طبقات اور ایک ایسے فرد کے درمیان ہے جو اب اپنے آپ کو نہ تو کوئی بھیڑ بکری سمجھتا ہے اور نہ ہی ان استبدادی طبقات کو کوئی مقدس چرواہا ۔

ہمیں یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ ہمارا سماج ہمیشہ ایسا نہیں تھا اور مذہبی تعبیر کے حوالے سے اہل علم کا مقام نہ صرف محترم بلکہ ناگزیر تھا۔ مذہبی روایت میں شامل افتا و اجتہاد جیسے مختلف فقہی آلات کے ذریعے سماجی تبدیلیوں کو قابل اعتنا مانتے ہوئے کسی حد تک عدم تحفظ کے ساتھ بھی روایت ایک تنوع اور تسلسل سے آگے بڑھ رہی تھی۔ اس تناظر میں جمود کے الزامات جہاں اپنی جگہ کچھ سچائیاں رکھتے ہیں وہیں ان کی درست تفہیم میں کئی خلا بھی پائے جاتے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند سے روایت کے اس حرکیاتی عنصر کی ان گنت مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں اور یہ ہمارے ہاں کے ہر فقہی منہج میں پائی جاتی ہیں۔ مثال کے طور پر 1931ءمیں تختِ برطانیہ کی عدالت میں پیش ہونے والے ایک قضئیے کے لئے مولانا اشرف علی تھانوی سے فقہی رائے کی درخواست کی گئی جہاں مدعی علیحدگی کے بعد اپنی بیوی سے دوبارہ ازدواجی تعلقات قائم کرنے کا خواہش مند تھا لیکن عورت کے اہلِ خانہ کا مطالبہ تھا کہ ان کی بچی اپنا مذہب تبدیل کر چکی ہے اور اب گھر واپس نہیں لوٹ سکتی۔مولانا تھانوی کا فیصلہ تھا کہ ’کفر نکاح کو فسخ کر دیتا ہے اور مدعی کا نکاح ٹوٹ چکا ہے‘۔اگلے سات سال میں کچھ بدلتے ہوئے سیاق و سباق کے ساتھ یہ فتویٰ مولانا تھانوی کے ذریعے ہی دس مختلف موقعوں پر دہرایا گیا۔ تاہم 1931ءمیں یعنی پہلے فتوے کے تقریباً بیس سال بعد مولانا اشرف علی تھانوی نے ایک مکمل رسالہ تصنیف کیا جس میں علامہ حسکفی یا ابن عابدین کے حنفی متون کی بجائے فقہ مالکی کو بنیاد بناتے ہوئے اپنی پہلی رائے سے رجوع کیا۔

ڈاکٹر خالد مسعود اپنے انگریزی مقالے Apostasy and Judicial Separation in British India میں ان دونوں فتاویٰ یعنی اصل اور رجوع کی پیچیدگیوں کا تجزیہ کرتے ہوئے 1920ءسے 1930ءکی دہائی میں برٹش انڈیا میں رونما ہونے والی دلچسپ سماجی تبدیلیوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے مقالے سے معلوم ہوتا ہے عدالتوں میں دس سال کے اندر طلاق کی درخواستوں میں بہت اضافہ دیکھنے میں آیا۔ بہت سی خواتین نے اپنی ناخوشگوار شادیوں سے چھٹکارے کے لئے عیسائی ہونے کو ترجیح دی اور بپتسمہ کی کلیسائی سند دکھا کر عدالت سے نکاح فسخ کرانے کا حکم نامہ حاصل کیا۔ ڈاکٹر خالد مسعود کے بقول یہ واقعات اتنے عام تھے کہ علامہ اقبال اور کئی دوسرے مسلمان اہلِ علم نے اس مخصوص مسئلے میں حنفی فقہ پراعتراضات اٹھاتے ہوئے مفتیانِ کرام کو اجتہاد کے لئے ابھارا۔ یہ تمام مجموعی کاوشیں بالآخر 1931ءکے فتوے کا باعث بنیں جہاں عدالتوں کو خاوند کی جنسی ناقابلیت، ظلم و جبر یا معاشی مجبوریوں کے باعث نان و نفقہ فراہم نہ کر سکنے کے باعث نکاح ختم کرنے کی اجازت دی گئی جو پہلے صرف ارتداد کی واحد صورت میں ہی موجود تھی۔

اس مثال کو پس منظر میں رکھا جائے تو کم از کم تین اہم جہتوں سے سماج اور مذہب کے درمیان کشمکش کی ماہیت پر روشنی پڑتی ہے۔ یاد رہے کہ جب ہم سماج اور مذہب کے درمیان کشمکش کی بات کرتے ہیں تو مذہب کو ایک سماجی زمرے کے طور پر ہی فرض کرتے ہیں جہاں کسی نہ کسی حد تک طبقہ علما سے قبولیت کے بعد ہی مذہبی تعبیر فرد کے معاملات پر اثرانداز ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں پہلی جہت فرد کے فوری مفاد یا مذہبی تعبیر کے درمیان انتخاب کا مسئلہ ہے۔ طبقہ علما یقیناً اپنے اندر بھی فکر کا تنوع رکھتا ہے لیکن اپنی تمام تر داخلی کشاکش کے باوجود، کم ازکم سنّی اسلام کی حد تک کسی ایسے نظام مراتب کی صورت میں موجود نہیں جو اپنی جگہ اٹل ہو اور فرد کو اپنی فوری مشکل سے نکالنے کے لئے حرکت میں آئے۔ آج سے سو سال قبل کی اس مثال کو دیکھ کر بھی فوراً اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ طبقہ علما کی اولین ترجیح اس وقت بھی مذہبی تعبیر کا دفاع تھی اور آج بھی ایسا ہی ہے۔ایسے میں اگر کسی مذہبی عالم نے کچھ داخلی و خارجی وجوہات کی بنیاد پر اپنی تعبیر و تفہیم سے رجوع کیا بھی تواسے مذہبی طبقات کے ایک بڑے گروہ سے ہٹ کر ہی ایک راہ بنانی پڑی۔ لیکن اپنے حقیر مطالعے کی بنیاد پر پھر بھی ہماری سوچی سمجھی رائے یہی ہے کہ کم ازکم قرونِ وسطی ٰ کی مسلم فکر میں ایک ایسا حرکیاتی عنصر موجود تھا جو بہرحال مذہبی تعبیر اور انسان دوستی کے ایک خوبصورت توازن میں بندھا تھا۔ دوسرے لفظوں میں وہاں ہمیں فکر میں وہ عدم تحفظ اس بڑے پیمانے پر نظر نہیں آتا جو پچھلے دو سو سال سے ہمارے ہاں پایا جاتا ہے اوراب بڑھتے بڑھتے اپنی بدترین حالت میں ہے۔ مثال کے طور پر چودہویں صدی کے اندلس میں ہمیں ابو اسحٰق شاطبی مقاصد شریعہ کو سماجی تناظر میں اس طرح دیکھتے نظر آتے ہیں کہ زمانے اور سماجی حالات کو تعبیر کے ایک اہم متغیرے کے دور پر مکمل تعبیری نظام میں اہم جگہ دینے کے لئے اصول مرتب کرتے نظر آتے ہیں۔ سو سال قبل بھی مولانا تھانوی اپنی رائے میں تبدیلی کے ذریعے ہم جیسے کم علم کو یہی ثابت کرتے نظر آتے ہیں کہ مذہبی تعبیر کا کوئی بھی منہج بہرحال انسان دوستی یا مبنی بر خیر مذہب پسندی کو مقدم رکھتا ہے نہ کہ سماج میں اپنی سیاست چمکانے کے لئے ایک آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ کسی مذہب کے دعوے داروں کی اس سے زیادہ بدقسمتی کیا ہو سکتی ہے ان کی تعبیرات کے جبر کے باعث انسان مذہب بدلنے یا اس کے یکسر انکار کو ترجیح دے؟

دوسری جہت کسی حد تک فلسفیانہ ہے اور اس کا تعلق خود تعبیر کی ماہیت اور انسانی نفسیات ہے۔ یہ مضمون فلسفیانہ موشگافیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا لیکن یہ ثابت کرنا ذرا بھی مشکل نہیں کہ مکمل معروضیت کو نظری طور پر بھی تسلیم کر لیا جائے تو تعبیرِ متن او ر متن میں بہرحال ایک ناگزیر فاصلہ ہمیشہ قائم رہتا ہے اور جیسا کہ ہم نے اس مضمون کے حصہ اول میں اشارہ کیا کہ کوئی بھی منہجِ تعبیر عملی طور پر اپنے اندر ایک ناگزیر موضوعیت رکھتا ہے۔ بہرحال کچھ لسانیاتی حدوں کو توفرض کر کے ہی آگے بڑھا جاتا ہے لیکن فرد پھر بھی فہم سے ماقبل ایک نیم فہمی حالت میں ہوتا ہے۔ہم اپنے سماج میں اس نفسیات کا مشاہدہ باآسانی کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر جب مفتی نعیم کسی قابلِ احترام خاتون کے لئے ’فاحشہ‘ کا لفظ استعمال کرتے ہیں یا مولانا فضل الرحمٰن پنجاب اسمبلی کو ’زن مرید‘ کہتے ہیں تو بہت آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے کہ الہامی متون سے سامنے کے وقت ان کی نفسیات انہیں کس قسم کے تعبیری منہج پر اکسائے گی۔ اس کے برعکس ندوة العلما اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے ڈاکٹر اکرم ندوی برصغیر کے سماج میں کسی تازہ تعبیری منہج کی دریافت( یا بازیافت) پر آمادہ دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں ہمیں پروفیسر ولفرڈ کانٹ ول سمتھ کا وہ مشہور مقولہ یاد آتا ہے کہ ’اگر آپ خود شرح نویسی میں مشغول ہیں، کوئی صوفی پیر ہیں جو اپنے مرید کو ہدایات دے رہا ہے، یا کوئی فقیہہ ہیں جو کسی دقیق قانونی نکتے پر اپنی توجہ مرکوز کئے ہے، یا آکسفورڈ کے کوئی جدید تعلیم یافتہ مسلمان ہیں جو عصرِ حاضر کی زندگی پر (وحی کی روشنی میں) غور کر رہا ہے، یا پھر بارہویں صدی کے شیرازی سماج کی کوئی بہو بیٹی ہیں، یا بائیں بازو کے کوئی ایسے قائد ہیں جو رائج حکومت کے ظلم و ستم کے خلاف زنجی غلاموں کی بغاوت کی رہنمائی کر رہا ہے ، تو ان سب صورتوں میں کسی بھی مخصوص قرآنی آیت کی وہی تعبیر ممکنہ طور پر بہترین تعبیر ہو گی جو آپ کے ذہن میں آئے۔‘

بغور دیکھئے تو اوپر دی گئی دونوں جہتیں مذہبی متون کی تعبیر اور طبقہ علما کی موضوعی ترجیحات کو دو مختلف زاویوں سے باہم جکڑتی نظر آتی ہیں۔ پہلا زاویہ سماج میں طبقہ علما اور ان کی متابعت میں موجود مخصوص مذہب پسند طبقات کے ٹوٹتے ہوئے زور کے باعث پیدا ہونے والا اضطراب ہے جہاں اب قحط الرجال کا یہ عالم ہے کہ مولانا تھانوی جیسے اہلِ فکر و نظر کی جگہ اب تختِ تعبیر پر مفتی نعیم اور مولانا فضل الرحمن جیسے قائدین براجمان ہیں ، جن کی انتقادی غیرسنجیدگی ان کی زبان سے ہی ظاہر ہے۔ اس پر مستزاد کہ یہ مسئلہ اپنے اندر کوئی بھی دقیق فقہی پہلو نہیں رکھتا بلکہ پہلے ہی سے از حد بدلے ہوئے سماجی منظر نامے کو، جو مذہبی تعبیر کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے اپنی رفتار سے گامزن ہے، کچھ قانونی ضوابط میں قید کرنے کا ہے۔ہمیں اس میں رتی برابر بھی شک نہیں کہ یہ اپنے تئیں ’مذہب پسند‘ کہلانے والے قائدین سرے سے کوئی تعبیری منہج رکھتے ہی نہیں اور طبقاتی سیاست کے لئے مذہب صرف ایک آسانی سے استعمال ہو سکنے والا آلہ کار ہے۔ دوسری طرف بحث صرف اضطرار یا مجبوری کی حالت میں مذہبی تعبیر پر نظر ثانی کی نہیں بلکہ یہ تسلیم کرنے کی ہے کہ ایک جدید سماج میں طبقہ علما کے ہوتے ہوئے بھی فرد کے خانگی دائرے سے متعلق تمام مذہبی تعبیرات کا اطلاق کسی صورت فرد کی رائے سے بالا تر ہو کر نہیں کیا جا سکتا۔ دوسرے لفظوں میں مذہب فرد کے لئے کوئی شکنجہ نہیں بلکہ ایک ایسی لاٹھی ہے جسے وہ اپنی مرضی سے ٹیک کر چلنے کے لئے قبول کرتا ہے۔

اب ہم اس تیسری جہت کی طرف آتے ہیں جو مذہبِ اسلام کی سرقبیلی روایت میں ایک نئے توازن کی تلاش کی طرف کچھ سوال اٹھانے کی کوشش ہے۔ مغرب میں مذہبی تعبیر کے نسائی منہج (Feminist Readings of Religious Tradition) کے نام پر اب ایک ٹھوس روایت وجود میں آ رہی ہے جو حقوقِ نسواں کے حوالے سے اپنے عمومی ردعمل پر مبنی مباحث کے علاوہ ایک بہت مثبت داخلی کشمکش بھی رکھتی ہے۔ ہمارے ہاں کسی طبقاتی کھینچا تانی سے بالاتر ہو کر مذہب کو انسانی زندگی ، معاشرت اور سماجی نظریہ بندی میں ایک ناگزیر اور مثبت حوالے کے طور پر دیکھنے والے مذہب پسند طبقات کو رفعت حسین ، عزیزہ الہبری، آمنہ ودود، اسما برلاس، سعدیہ شیخ، کیسیا علی، عائشہ صدیقہ ، شبانہ میر اور عائشہ ہدایت اللہ کے علمی کام سے تعارف کی ضرورت ہے تاکہ مذہبی متون کی روشنی میں ہمارے سماج میں حقوقِ نسواں سے جڑے ایسے مسائل کا متوازن حل تلاش کیا جا سکے جہاں مذہبی روایت کسی ظالم و جابر پادشاہی حکم نامے کی بجائے اپنی اصل روح کے ساتھ پیش کی جا سکے۔ ہم اس کی ضرورت اس لئے محسوس کرتے ہیں کہ ہمارے مخصوص سماجی منظرنامے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے مذہب کی استبدادی تعبیرات کا مقابلہ صرف اور صرف متبادل تعبیرات کے ذریعے ہی کیا جا سکتا ہے۔ حکومتِ وقت کی بدلتی ترجیحات سے یہ اشارے پہلے ہی مل رہے ہیں کہ سماج میں جبر سے کچھ نیم مذہبی اقداروں کے نفاذ کا پراجیکٹ بری طرح ناکام ہونے کے بعد اب معاشرے کو آزادانہ پھلنے پھولنے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ پچھلی دو دہائیوں میں ایک مخصوص عربی فکر پر مبنی مذہبی تصنیفات اور ان پر مشتمل نصابِ درس و تدریس کو مختلف گلی کوچوں میں کسی قدغن کے بغیر بڑھنے کا موقع دیا گیا ہے۔ ایسے میں اگر حکومت نسائی رجحانات کے تناظر میں مطالعہ مذہب کے لئے بھی راہیں ہموار کرے تو خود مذہبی طبقات میں سے ایسی سلیم الفکر اور روشن خیال خواتین کے سامنے آنے کی امید ہے جن کے سامنے یہ جبر و استبداد پر مبنی تعبیرات خود ہی دم توڑ دیں گی۔

اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مذہبی متون کو کچھ پیش قیاسی مقاصد کے لئے بے دریغ استعمال کیا جائے بلکہ ایک ایسی زندہ روایت کو فروغ دیا جائے جس میں آج کی عورت جو نہ صرف اپنی اولاد کو چلنا سکھاتی ہے بلکہ گاڑی چلانا اور تیرنا بھی سکھاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ سماج کا ایک فعال معاشی رکن بھی ہے، مذہب سے استفادہ کرتے ہوئے سماج میں ان جابر اور زن بیزار عناصر کا مقابلہ کر سکے جن کا آخری حربہ عورت کو ’فاحشہ‘ کہنا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عاصم بخشی

عاصم بخشی ایک قدامت پسند دیسی لبرل ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئرنگ کی تدریس سے وابستہ ہیں۔ فلسفہ، ترجمہ اور کچھ بظاہر ناممکن پلوں کی تعمیر ان کے سنجیدہ مشاغل ہیں۔ تنہائی میں اپنی منظوم ابہام گوئی پر واہ واہ کرتے نہیں تھکتے۔

aasembakhshi has 46 posts and counting.See all posts by aasembakhshi

2 thoughts on “سرقبیلی مذہبی روایت میں توازن کی تلاش۔ (2)

  • 29-02-2016 at 6:30 pm
    Permalink

    Informative, Motivational, thoughtful, as always! Thanks a lot!!

  • 01-03-2016 at 11:15 am
    Permalink

    آپ کی تحری ایک سنجیدہ موضوع پر ایک سنجیدہ اندز لئے ہوئے ہے۔

Comments are closed.