شرمین عبید چنائے اور غیرت بل2014ء


junaid qaiserپاکستانی فلمساز اور ہدایتکارہ شرمین عبید چنائے نے اپنی دستاویزی فلم ’دا گرل اِن دا ریور: پرائس فار فوگیونیس‘ کے لیے آسکر ایوارڈ حاصل کر لیا ہے۔ اس فلم کا موضوع ’غیرت کے نام پر قتل‘ ہے۔ یہ ان کے کریئر کا دوسرا اکیڈمی ایوارڈ ہے۔ اس سے قبل انھوں نے سنہ 2012میں دستاویزی فلم ’سیونگ فیس‘ کے لیے بھی آسکر ایوارڈ حاصل کرچکی ہیں۔ اس اہم کامیابی پر ان کودنیا بھر سے بالخصوص سوشل میڈیا پر مبارکباد ملنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ہم بھی سوشل میڈیا کی وساطت سے ان کو مبارکباد دے چکے ہیں۔

جو لوگ ملک اور ریاست کو روشن اور خوشحال بنانے کے خواب رکھتے ہیں وہ اپنی تحریراور تخلیق سے معاشرے کے تاریک پہلوؤں کو سامنے لانے میں کبھی خوفزدہ نہیں ہوتے، شرمین عبید چنائے کا شمار بھی ایسے تخلیق کاروں میں ہوتا ہے، جو اپنے فن اور تخلیق کے ذریعے اس معاشرے کی تبدیلی کی جستجو میں ہیں۔

’دا گرل اِن دا ریور: پرائس فار فوگیونیس‘ صبا نامی 18 سالہ لڑکی کی کہانی ہے جسے اس کے رشتے داروں نے غیرت کے نام پر قتل کرنے کی کوشش کے بعد مردہ سمجھ کر دریا میں پھینک دیا تھا مگر وہ معجزانہ طور پر بچ گئی تھی۔ زندہ بچنے کے بعد اس نے ہسپتال کے ڈاکٹروں اور پولیس کے ساتھ مل کر اپنا مقدمہ لڑا۔

اس فلم کا پریمیئروزیرِ اعظم ہاؤس میں منعقد ہوا تھا جہاں وزیرِ اعظم نواز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا تھا کہ حکومت غیرت کے نام پر قتل کے خلاف مؤثر قانون سازی کرے اور شرمین عبید چنائے کی دستاویزی فلم اس ضمن میں بہت مددگار ہوگی۔‘۔

میاں نواز شریف، جو آج کل زیادہ تر اپنے غیر ملکی دوروں، پارلیمینٹ سے غیر حاضری اور پارلیمانی امور میں عدم دلچسپی پر خبروں، تجزیوں میں رہتے ہیں، شاید پاکستان کی سینیٹ کے متفقہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کے خلاف منظور کردہ ترمیمی بل 2014ء سے بے خبر رہے ہیں، جس میں غیرت کے نام قتل کو ناقابل مصالحت جرم قرار دیا گیا ہے۔ بل میں بتایا گیا تھا کہ غیرت کے نام پر ہرسال سینکڑوں افراد کی جانیں لے لی جاتی ہیں اور دوہزار آٹھ سے دوہزار بارہ کے درمیان 2575 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا۔

یہ بل سینیٹ میں پیپلزپارٹی کی سینیٹر صغریٰ امام نے پیش کیا تھا اور چونکہ پیپلز پارٹی کی ایوان بالا میں اکثریت ہے، اس لئے یہ با آسانی منظور ہو گیا تھا۔ اس بل کو قانون کی شکل بننے کے لیے اب قومی اسمبلی اور صدارتی منظوری درکار ہو گی۔ جہاں پر مسلم لیگ نواز کی اکثریت ہے، اور ایوان صدر میں بھی صدر ممنون حسین کو بل پر دستخط کے لئے  محض نواز شریف کا اشارہ درکار ہوگا۔

مسلم لیگ ن اور شریف برادران کی کامیابیوں کا ٹریک ریکارڈ زیادہ تر میٹرو بسوں اور اورنج ٹرینوں کا ہے، لہٰذا وہ پارلیمینٹ اور قانون سازی کو زیادہ اہمیت نہیں دیتے۔ جب کاروبار سلطنت میٹروز کے ذریعے چلتا ہو، تو قانون سازی کے جھنجھٹ میں کیوں پڑا جائے۔ میاں نواز شریف کا پارلیمانی امور سے دلچسپی اور اہمیت کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس جسے آئینی طور پر نوے روز میں ہونا تھا آج گیارہ ماہ بعد ہورہا ہے۔ اس پورے دور میں ہمیں وزیر اعظم میاں نواز شریف کو پارلیمینٹ کی اہمیت اور تقدس کا احساس اس وقت ہوتا نظر آتا ہے، جب عمران خان اپنے دھرنا مارچ کے ذریعے اسلام آباد پر لشکر کشی کرتے ہیں، اور ڈی چوک پر امپائر کی انگلی کے انتظار میں خیمہ زن ہوتے ہیں، اس وقت پارلیمینٹ کے مشترکہ اجلاس کے ذریعے غیر جمہوری قوتوں کو پیغام دیا جاتا ہے، کہ پاکستان کا سب سے مقدس ادارہ اس کی پارلیمان ہے، جہاں قوم کے منتخب نمائندے جمہوریت کے دفاع کے لئے  موجود ہیں۔

شرمین عبید چنائے نے اپنی فلم کے ذریعے پاکستانی قوم، حکومت اور وزیر اعظم کی توجہ ایک بار پھر ’غیرت کے نام پر قتل‘ جیسے سنگین ترین مسئلے اور معاشرتی ناسور کی طرف مبذول کروائی ہے، شرمین عبید چنائے کے مطابق یہ فلم غیرت کے نام پر قتل کے مقدمات معاف کرنے کا اختیار ختم کرنے کی مہم کا حصہ ہے۔ شرمین کے نزدیک آسکرز جیتنے سے زیادہ خوشی انھیں اس بات کی ہوگی کہ جب پاکستان کی قومی اسمبلی ’اینٹی آنر کرائم بِل 2014ئ‘منظور کر دے گی۔ پیپلز پارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو زرداری نے شرمین عبید چنائے کو مبارکباد کا پیغام دیتے ہوئے یہ کہا ہے کہ پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل کے خلاف قانون سازی کو سنجیدگی سے لیاجائے۔ اب یہ اختیار قومی اسمبلی اور حکومت کے پاس ہے کہ غیرت کے نام پرقتل کے خلاف بل کو قانونی شکل دے کر پاکستانی خواتین کو تحفظ فراہم کرے، اس سے نہ صرف شرمین عبید چنائے بلکہ پوری قوم کو حقیقی خوشی حاصل ہوگی۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “شرمین عبید چنائے اور غیرت بل2014ء

  • 29-02-2016 at 6:39 pm
    Permalink

    معاشرے میں پسے ہوئے طبقات اور روایات کی بے محل تشریحات اور مذہبی اقدار کی من مانی توجیحات کی آڑ میں بالخصوص خواتین کے حقوق کی پامالی پر اپنے فکروفن کے ذریعے آواز اٹھانا اور معاشرے میں ان کے خاتمےکی جدو جہد کرنا یقیناََ ایک نیک عمل ہے۔۔۔۔ اور ہمارے معاشرے میں بہادرانہ بھی۔۔۔۔۔ اس کو سراہا جانا چاہئے۔۔۔۔۔ مگر ایک سوال یہ کہ: “کیا ہمارا معاشرتی برائیوں کو موضوع بنانا معاشرے سے برائی کا خاتمہ اور لوگوں کو اس حوالے سے آگاہی فراہم کرنا ہے یا پھر اس کے پیچھے کچھ اور مقاصد کارفرما ہیں؟” اگر تو اس سے معاشرے کی اصلاح مقصود ہے تو شرمین عبید چنائے صاحبہ ایسے موضوعات پر ڈاکیومنٹریز انگریزی میں کیوں بناتی ہیں جو کہ ہماری 90 فیصد سے زیادہ آبادی سمجھ بھی نہیں سکتی اور وہ لوگ جو ان معاشرتی برائیوں اور سماجی جبر کا شکار ہیں یا اس کے ذمہ دار ہیں، وہ تو بالکل نہیں۔۔۔۔ تو پھر اس میں معاشرتی رویوں کی اصلاح کا پہلو کہاں سے نکلتا ہے؟ اور اگر نہیں نکلتا تو اس کو کیا سمجھا جائے؟؟؟

Comments are closed.