ممتاز قادری اور چند الجھی ہوئی گتھیاں …


haseeb ahmadبا الآخر ممتاز قادری کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا اور پاکستان کی تاریخ میں ایک باب کا اور اضافہ ہو گیا جی ہاں اب کچھ لوگ اپنے اپنے نظریات کے مطابق ممتاز قادری کو شہید اور قاتل  کہیں گے ایسے ہی جیسے بھٹو کے حوالے سے آج تک یہ معاملہ اختلافی ہے کہ وہ ایک عدالتی مجرم تھا یا پھر شہید جمہوریت .

سوال یہ ہے کہ کیا یہ معاملہ یہیں پر ختم ہو جاۓ گا یا پھر یہ اگلے باب کا آغاز ہے …

ممتاز قادری کا تعلق اس ملک کے اکثریتی مسلک سے ہے یہ وہ مسلک ہے کہ جسکی تاریخ عسکریت سے یکسر خالی ہے نہ ہی ان کا کوئی حربی نظم موجود ہے اور نہ ہی کسی قسم کا کوئی جہادی گروپ .

یہ وہ مکتب فکر ہے کہ جو حکومت اور ملک کے سیکولر طبقات ہر دو کی نگاہ میں قابل قبول رہا ہے اس گروہ کی عروس اور دیگر مذہبی تقریبات ثقافت اور تہذیب کا حصہ سمجھ کر قبول کی جاتی رہی ہیں ۔دیوبندی ، اہل حدیث  اور جماعت اسلامی کی طرح اسے بنیاد پرست تصور نہیں کیا جاتا اس طبقے کے کسی فرد کا ایسی کارروائی میں ملوث ہونا کہ جو ریاست کے خلاف ہو سوالات کو جنم دیتا  ہے۔

کیا ممتاز قادری کو قربانی کا بکرا بنایا گیا … ؟

سوال یہ بھی ہے کہ جب ممتاز قادری نے یہ کارروائی کی تو اس کارروائی کے مکمل ہونے اور سلمان تاثیر کو قتل کرنے کے بعد تک اس پر جوابی حملہ کیوں نہ کیا گیا …

پھر یہ سوال بھی اٹھایا جا سکتا ہے کہ کیا ممتاز قادری اس معاملہ کا اکیلا فریق تھا یا اور بھی لوگ اس میں شامل تھا اور اس کا پس منظر خالص مذہبی تھا یا پھر اس کے پیچھے کچھ اور عوامل بھی تھے ۔

دوسری جانب کیا ممتاز قادری کی پھانسی کے بعد یہ سلسلہ رک جاۓ گا اور کیا سزا کے خوف سے عوامی جذبات   کو دبایا جا سکتا ہے .

یہاں پر ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر مملکت پاکستان میں ” ناموس رسالت ” کا قانون اپنی اصل کے مطابق نافذ العمل ہوتا تو کیا کسی کے پاس اس  قسم کی کارروائی کا جواز موجود رہتا .

دوسری جانب ہماری مقتدر شخصیات اور لبرل حلقوں کو بھی یہ بات سمجھنا ہوگی کہ اشتعال انگیز بیانات اور لوگوں کے عام عقائد کے خلاف اقدامات ہمیشہ عوامی احتجاج کو جنم دیتے ہیں۔ سلمان تاثیر صاحب کے کچھ اقدامات اور بعض بیانات کافی عرصے سے عمومی حلقوں میں ہلچل پیدا کر رہے تھے .

دوسری طرف سلفی گروہ پہلے ہی حکومت کی مخالف سمت کھڑا ہے اب حکومت کو ایک بہت بڑا مسئلہ یہ درپیش ہوگا کہ بریلوی مکتب فکر کی حمایت بھی اس کے ہاتھ سے جاتی رہے گی  دوسرے لفظوں میں  ملک کا اکثریتی دینی طبقہ حکومت وقت کے خلاف ہو چکا ہے اور یہ کوئی اچھی صورت حال نہیں ہے .

دوسری جانب اگر ممتاز قادری کی معافی کی اپیل قبول کر لی جاتی …

اس حوالے سے مختلف آراء موجود ہیں لیکن یہ کوئی ایسا معاملہ نہیں کہ جس کی نظیر ماضی میں موجود نہ رہی ہو.

سربجیت سنگھ کا کیس اس حوالے سے مثال ہے ، پاکستان کی سرزمین پر بم دھماکے کرنے والے دہشت گرد کو جس انداز میں حکومتی سطح پر معافی دی گئی اور جس انداز میں ملکی و غیر ملکی لبرل طبقہ اس کی حمایت میں پیش پیش رہا، اس کی نظیر بھی مشکل سے ملے گی یہ اور بات ہے کہ بعد میں وہ اپنے ساتھی قیدی کے ہاتھوں جیل میں ہی مارا گیا .

 دیکھنا یہ ہے کہ اب جبکہ ممتاز قادری کو پھانسی دی جا چکی ہمارے شریف حکمران اس کے نتیجے میں ہونے والے انتشار کو کس طرح روک پائیں گے .


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “ممتاز قادری اور چند الجھی ہوئی گتھیاں …

  • 29-02-2016 at 8:39 pm
    Permalink

    Sarbajeet Singh wasn’t pardoned by the govt

  • 01-03-2016 at 1:47 pm
    Permalink

    On 26 June 2012, both Pakistani and international media reported President Asif Ali Zardari signed a document sent by the interior ministry of Pakistan commuting Singh’s death sentence to life in prison.[25][32] A life sentence in Pakistan generally lasts 14 years.[9] Singh, having spent 22 years in jail, was therefore to be released. The news of his pardon and imminent release initiated celebrations in his hometown. The Indian foreign minister also issued a statement of appreciation to Islamabad for the gesture.[8]

    This drew a storm of condemnation from Islamic groups Jamaat-e-Islami and Jamaat-ud-Da’wah. Later that day, after media agencies in both Pakistan and India had reported on a commuted sentence and pending release for Singh, the Pakistani government announced that the name of the prisoner to be released would be Surjeet Singh, not Sarabjit Singh.[33][34]

    same in this case Mumtaz Qadri was earlier decided to be pardoned but on the pressure of international sources it was also taken back .

Comments are closed.