’ہم سب‘ میں کیسے لکھا جائے؟


\"humsub-square2\"

مختصر ہدایات

برائے مہربانی مضمون بھیجتے ہوئے ان امور کا خیال رکھیں تاکہ آپ کا بھیجا گیا مضمون جلد پراسیس کیا جا سکے۔

۔1۔ مضمون نسخ فونٹ میں بھیجیں۔ ونڈوز میں موجود تاہوما ایک مناسب فونٹ ہے۔

tahoma font

۔2۔ مضمون چاہے ان پیج، ورڈ یا ایچ ٹی ایم ایل فارمیٹ میں بھیجیں، لیکن ایمیل کے متن میں مضمون کا ٹیکسٹ ضرور شامل کریں تاکہ فائل کھولے بغیر ہی مضمون پر ایک سرسری نگاہ ڈالی جا سکے۔ ایسے مضامین جن میں ایمیل میں یونیکوڈ فارمیٹ میں متن دیا گیا ہو، پہلی فرصت میں پراسیس کیے جاتے ہیں۔

۔3۔ مضمون بھیجنے سے پہلے مندرجہ ذیل مضامین کا مطالعہ ضرور کر لیں اور ہدایات کی پیروی کرنے کی کوشش کریں

۔1۔ ادارتی پالیسی اور ہدایات

۔2۔ چند گزارشات از وجاہت مسعود

۔4۔ ہر جملے کے آخر میں فل سٹاپ ضرور ڈالیں، اور ہر کومے اور فل سٹاپ کے بعد ایک سپیس ضرور دیں۔

۔5۔ اپنا مضمون بھیجنے سے پہلے کم از کم ایک مرتبہ ضرور پڑھیں۔ کمپوزنگ کی بہت سی غلطیاں آپ خود نکال سکتے ہیں۔ جس تحریر میں کم غلطیاں ہوں، اس پر ایڈیٹر کی کم محنت لگتی ہے، اور وہ جلد شائع ہو سکتی ہے۔

۔6۔ تحریر کی طوالت 600 سے 1200 الفاظ کے درمیان ہونی چاہیے۔ بعض صورتوں میں استثنا دیا جا سکتا ہے۔

۔7۔ یاد رہے کہ مضمون کا عنوان لگانا، تحریر میں موجود غلطیاں درست کرنا، غیر مہذب یا غیر اخلاقی مواد کو حذف کرنا، ایسا مواد جو کہ ادارتی پالیسی کے خلاف ہو، اسے حذف یا تبدیل کرنا اور بات کو واضح کرنے کے لئے متن میں تبدیلی کرنا، کسی بھی ایڈیٹر کا اختیار ہوتا ہے۔ اگر آپ ایڈیٹر کے اس اختیار سے متفق نہیں ہیں تو، برائے کرم اپنا مضمون کسی اور جگہ شائع کرنے کے لئے بھیجیں، ہم اسے شائع کرنے سے قاصر ہیں۔ یہ اختیارات پبلشنگ اور نیوز انڈسٹری کا سٹینڈرڈ ہیں۔

اگر آپ ان ہدایات پر عمل کریں گے، تو پھر آپ کا مضمون جلد شائع کیے جانے کا امکان ہے۔

اپنے مضامین ان دونوں ایمیل ایڈریس پر بھیجیں۔

[email protected]

[email protected]


تفصیلی گزارشات

بہت سے پڑھنے والوں نے سوال کیا ہے کہ ’ہم سب‘ میں لکھنے کا کیا طریقہ ہے۔ ’ہم سب‘ کے لئے  لکھنے اور شائع ہونے کا طریقہ بہت سادہ ہے۔ اردو میں کسی عوامی دلچسپی کے موضوع پر 600 سے 1200 الفاظ پر مبنی ایک تحریر لکھئے۔ بلاگ کی صورت میں فوری ردعمل دیتے ہوئے آپ مختصر تحریر بھی بھیج سکتے ہیں۔ تحریر بھیجنے کے لئے متعلقہ ای میل ایڈریس ذیل میں دیے گئے ہیں۔ تحریر قابل اشاعت ہونے کی صورت میں48 سے 72گھنٹے کے اندر شائع ہو جائے گی۔

اگر مناسب سمجھیں تو تحریر کے ساتھ ایک تصویر بھی بھیج دیں۔ زبان سادہ اور سلیس ہو۔ شائستہ لہجے میں دلیل دیں۔ حقائق بیان کریں، شواہد پیش کریں،ذاتی حملوں سے گریز کریں۔ اور سب سے اہم یہ کہ …. اپنے ضمیر کی روشنی میں لکھیں۔

’ہم سب‘ میں ادارتی پالیسی بالکل واضح ہے۔ دائیں اور بائیں کی کوئی قید نہیں۔ مذہبی اور غیر مذہبی نقطہ نظر پر کوئی پابندی نہیں۔ کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کی بنیاد پر کوئی تحریر روکی نہیں جاتی۔ اظہار کی آزادی کا احترام کیا جاتا ہے۔ اظہا ر کی آزادی میں بنیادی مفروضہ یہی ہے کہ صحیح یا غلط ، دلیل سامنے آئے گی تو اس کے رد میں موجود دلیل کو بھی سامنے آنے کا موقع ملے گا۔ ذہانت پر صحافی کا اجارہ نہیں۔ پڑھنے والا سب سے زیادہ ذہین ہے۔ وہ پڑھے گا۔ سوچے گا اور دلیل کو قبول یا رد کرے گا۔ اگر صحافی دلیل کو روک لے گا تو پڑھنے والے کو معلومات تک رسائی کے بنیادی حق سے محروم کرے گا۔ اس میں معمولی سی شرط یہ ہے کہ صحافت میں ناشائستہ لب و لہجہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ کسی کو گالی نہیں دی جا سکتی۔ کسی مذہبی ، ثقافتی یا نسلی گروہ کے خلاف اشتعال نہیں پھیلایا جا سکتا۔ نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کسی کو جرم کی ترغیب دینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ قانون شکنی کی حمایت نہیں کی جاتی۔ کسی جرم پر اکسانا اظہار کی آزادی میں شامل نہیں ہوتا۔

’ہم سب‘ کی صحافتی پالیسی انسان دوستی، پاکستان دوستی، جمہوریت دوستی، رواداری اور امن پسندی کی ہے۔ ہم کسی سیاسی جماعت ، مذہبی فرقے ، لسانی گروہ یا ثقافتی گروہ کی مخالفت یا حمایت نہیں کرتے۔ عقائد کی بحث سے گریز فرمائیں خواہ ایسی بحث مذہب کے نام پر ہو یا فرقے کے نام پر۔ البتہ اگر کسی مذہبی رہنما نے سیاسی اور معاشرتی معاملات پر کوئی رائے دی ہو تو اسے زیر بحث لانے میں حرج نہیں۔ کسی فرقے اور مذہب کے خلاف رائے دینے نیز مذہبی بحث کو جنم دینے والی اشتعال انگیز تحریروں سے گریز کیجئے۔

مسلم لیگ (ن) کو ’نون لیگ‘ اور تحریک انصاف کو ’انصافی‘ اور جماعت اسلامی کے کارکنوں کو ’جماعتی ‘ لکھنا سیاسی شائستگی کے منافی ہے۔ سیاسی قائدین کے نام بگاڑ کر لکھنے سے گریز فرمائیں۔ کسی کے بارے میں لعنتی، منحوس، نامراد ، بے غیرت ، غدار ، ایجنٹ اور ملک دشمن وغیرہ جیسے القاب استعمال کرنے سے گریز کیا جائے۔ لکھنے والوں کے علاوہ پڑھنے والوں سے بھی استدعا ہے کہ کسی تحریر پر کمنٹ لکھتے ہوئے اس لب و لہجے سے گریز کیا جائے۔

آپ کسی سائنسی ، تاریخی اور عمرانی موضوع پر بھی قلم اٹھا سکتے ہیں تاہم خیال رکھئے کہ ’ہم سب‘ ایک صحافتی پلیٹ فارم ہے لہٰذا اس پر خالص تحقیقی اور فنی موضوعات کے لئے گنجائش کم ہے۔

اپنی تحریر میں اعراب لگانے سے حتیٰ الوسع گریز فرمائیں۔ ویب سائٹ پر اپ لوڈ کرنے سے پہلے تحریر کئی مرحلوں سے گزرتی ہے اور آپ کے احتیاط سے لگائے گئے اعراب فونٹ کی تبدیلی کو عمل میں کوئی نئی صورت پیدا کر دیتے ہیں۔

چالو اور بازاری اصطلاحات سے گریز فرمائیں۔ الیکٹرانک میڈیا پر پیش کیے جانے والے مزاح کو مستند اردو سمجھنے سے گریز فرمائیں۔

بہت سے نئے لکھنے والے عام طور پر املا کی بہت سی غلطیاں کرتے ہیں۔ ’ہم سب‘ کے ادارتی ارکان حتیٰ الامکان ایسی غلطیاں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ تاہم نئے لکھنے والوں سے گزارش ہے کہ اگر ممکن ہو تو ذیل میں دی گئی عمومی غلطیوں سے گریز فرمائیں۔

کاروائی غلط ہے …. کارروائی لکھئے۔

حمایتی غلط ہے ….حامی لکھئے۔

مظبوط غلط ہے …. مضبوط لکھئے۔

واضع غلط ہے …. و اضح لکھئے۔

’کہ‘ اور ’کے‘ میں فرق کیجئے۔

’سہی‘ اور ’صحیح‘ دو مختلف الفاظ ہیں۔ انہیں گڈ مڈ کر کے اردو کو نئے زاویے بخشنے سے گریز فرمائیں

’ھے‘ کی بجائے ’ہے ‘ لکھئے۔

آئینگے ، آئینگی ، وغیرہ کی بجائے ’آئیں گے ‘ اور ’آئیں گی ‘ لکھنے کی کوشش فرمائیں۔ اسی طرح جائینگے ،جائینگی ، وغیرہ کی بجائے ’جائیں گے ‘ اور ’جائیں گی‘ لکھا جائے تو بہتر ہے۔

انکی، جسکی، انکو، آپکی ، آپکے ، انکے اور جسکے کی بجائے ان کی، جس کی، ان کو، آپ کی ، آپ کے ، ان کے اور جس کے لکھنے کی کوشش کیجئے۔

’عوام ‘ اسم جمع ہے اور مذکر ہے۔ ’عوام کہتی ہے‘ اور ’عوام چاہتی ہے جیسی زبان استعمال کرنا درست نہیں۔ اگر آپ ’عوام چاہتے ہیں‘،’ عوام کہتے ہیں‘ لکھیں گے تو قوی امکان ہے کہ عوام کی امنگیں جلد پوری ہو سکیں گی۔

جہاں اردو لفظ ممکن ہو، وہاں انگریزی لفظ سے گریز فرمائیں۔

’ہم سب‘ کو آپ کی تحریریں شائع کر کے خوشی ہو گی کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ’ہم سب‘ ایک ایسے آن لائن پلیٹ فارم کی صورت اختیار کر سکے جہاں پاکستان میں ہر طرح کی سوچ رکھنے والے کھلے دل و دماغ سے ایک پرامن اور مفید اجتماعی مکالمے کا حصہ بن سکیں۔

ان دو مضامین کا مطالعہ ضرور کریں

۔1۔ ادارتی پالیسی اور ہدایات

۔2۔ چند گزارشات از وجاہت مسعود

اپنے مضامین ان دونوں ایمیل ایڈریس پر بھیجیں۔

[email protected]

[email protected]


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

16 thoughts on “’ہم سب‘ میں کیسے لکھا جائے؟

  • 29-02-2016 at 10:44 pm
    Permalink

    سربہت بہت شکریہ! مگر بہت سے مضامین اور کالمز میں بے جا طور پر ذاتی حوالوں سے بات کی جاتی ہے جیسا کہ ابھی پچھلے دنوں مفتی نعیم صاحب کے حوالے سے لکھے گئے کالم وغیرہ۔۔۔۔ اسی طرح بہت سے لکھاری دشنام اور یاوہ گوئی بھی کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔ جو کہ مستقل لکھنے والے ہیں۔۔۔۔۔

  • 01-03-2016 at 1:49 am
    Permalink

    بہت جامع انداز میں املا کی عمومی غلطیوں پر تبصرہ فرمایا ہے ۔ اطمینان ہؤا کہ اس مسئلے پر کُڑھنے کو ہم اکیلے نہیں ☺️ شکریہ

  • 01-03-2016 at 12:55 pm
    Permalink

    جناب عالی۔
    تحریر قلمی ہو یا ٹائپ کر کے بھیجی جاۓ؟

  • 01-03-2016 at 2:30 pm
    Permalink

    What is the best way to subscribe for this blog? I want to be updated about different blogs and posts.

  • 04-03-2016 at 5:47 pm
    Permalink

    اردو سمجھنے،بولنے اور لکھنے والوں کیلئے”ہم سب” ویب سائٹ ایک اچھا اضافہ ہے۔ اور جناب وجاہت مسعود صاحب کی زیرادارت اس پلیٹ فارم میں نکھار آرہا ہے۔میں “ہم سب” کی پوری ٹیم کومبارکباد دیتا ہوں۔
    شہباز سعید آسی

  • 08-03-2016 at 4:52 pm
    Permalink

    زبان کی معیار بندی ضروری ہے۔ جہاں مختلف املا کے ساتھ کوئی لفظ لکھا جاتا ہو۔ اس پر توجہ دیجیے اور کوئی ایک املا مقرر کر دیجیے تا کہ سبھی لوگ اسے معیار تسلیم کر لیں اور آئندہ اسی طرح لکھیں۔ مثلاً ۱۔ علیٰحدہ، ۲۔ علیحدہ اور ۳۔ علاحدہ، ان میں سے کسی ایک کو معیار بنا لین کہ آئندہ اسی طرح سے لکھا جائے گا۔

  • 19-03-2016 at 3:34 pm
    Permalink

    i like it

  • 22-03-2016 at 1:46 am
    Permalink

    میں تقریبا ایک سال سے سوشل میڈیا پہ لکھ رہا ہوں اور ابھی چاہتا ہوں کہ سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ ویب سائیٹس پہ بھی لکھائی شائع کیا کروں- میری لکھائی میں صرف ایک مسئلہ ہے وہ یہ کہ چونکہ اردو میری مادری زبان نہیں اور نہ سکولوں میں اتنا گرائمر پڑھاہا پے تو مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے مذکر-مؤنث میں پھنس جاتا ہوں اور کچھ ایسا صورت حال بن جاتا ہے کہ:
    مجنون نظر آتی ہے لیلی نظر آتا ہے

    انشاءاللہ میں بھیجوں گا- معیار کے مطابق ٹھہرے تو حوصلہ افزائی ہو جائے گی، نہیں، تو اصلاح ہو جائے گی-
    شکریہ

  • 12-04-2016 at 2:33 pm
    Permalink

    کیا ہم سب ادبی تحریریں اور افسانہ وغیرہ شایع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟

  • 12-04-2016 at 3:11 pm
    Permalink

    جی ہاں گوشہ ادب میں ایسی تحریریں شائع کی جاتی ہیں.

  • 19-04-2016 at 5:49 pm
    Permalink

    ہدایات میں لکھا ہے کہ ان پیج میں نسخ فاونٹ میں ٹایپ کر کے تحریر بھیجی جا سکتی ہے،لیکن کیا ای میل کے متن میں پورا مضمون بھی ٹایپ کرنا ضروری ہے؟

  • 20-04-2016 at 11:01 am
    Permalink

    اگر آپ ایمیل میں متن ٹائپ کر کے بھیجیں گے تو آپ کی تحریر کے جلد پراسیس ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ ویسے ان پیج سے آپ کو صرف کاپی اور پیسٹ کرنے کی زحمت اٹھانا ہو گی۔ ان پیج ٹو کے لیے بھی کاپی پیسٹ کے سافٹ وئیر دستیاب ہیں۔

Comments are closed.