’ہم سب‘ میں کیسے لکھا جائے؟


برائے مہربانی مضمون بھیجتے ہوئے ان امور کا خیال رکھیں تاکہ آپ کا بھیجا گیا مضمون جلد پراسیس کیا جا سکے۔ ان ہدایات کے آخر میں ایمیل دی گئی ہے جس پر مضمون بھیجا جانا چاہیے۔ مضمون بھیجنے کے بعد اس کی اشاعت کے لئے انتظامیہ کو فوراً میسینجر یا فون پر پیغامات بھیجنے سے گریز کریں۔ کام کرتے ہوئے ایمیل دیکھی جاتی ہے اور آپ کے فون کرنے یا پیغام بھیجنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ اگر مضمون دو دن تک شائع نہیں ہوا تو اس صورت میں رابطہ کریں۔ مضمون شائع ہونے پر سسٹم آپ کو خودکار طریقے سے لنک بھیج دے گا۔

ادارتی ٹیم باری آنے پر مضمون کا جائزہ لے لے گی اور اگر مضمون معیاری ہوا اور ہمارے پاس اسے شائع کرنے کی گنجائش ہوئی تو اسے شائع کر دیا جائے گا۔ ہم سب ایسے مضامین شائع کرنے کو ترجیح دیتا ہے جو خاص طور پر صرف ہم سب کے لئے ہی لکھے گئے ہوں اور کسی دوسری جگہ اشاعت کے لئے نہ بھیجے گئے ہوں۔

کمپوزنگ

مضمون ٹائپ کرتے وقت اس بات کو یقینی بنائیں کہ آپ ہر لفظ کے بعد ایک سپیس ڈال رہے ہیں۔ ہر جملے کے اختتام پر فل اسٹاپ ضرور ڈالیں۔ ایک سے زیادہ رموز اوقاف استعمال مت کریں، ایک ہی کوما، فل اسٹاپ یا دیگر علامت لکھیں اور ،،، یا ۔۔۔۔ یا ؟؟؟ یا !!!! وغیرہ لکھنے سے گریز کریں۔

خاص طور پر “کی” اور “کے” کے بعد ایک سپیس ڈالنے پر توجہ کریں۔ آئینگے ، آئینگی ، وغیرہ کی بجائے ’آئیں گے ‘ اور ’آئیں گی ‘ لکھنے کی کوشش فرمائیں۔ اسی طرح جائینگے ،جائینگی ، وغیرہ کی بجائے ’جائیں گے ‘ اور ’جائیں گی‘ لکھا جائے تو بہتر ہے۔ انکی، جسکی، انکو، آپکی ، آپکے ، انکے اور جسکے کی بجائے ان کی، جس کی، ان کو، آپ کی ، آپ کے ، ان کے اور جس کے لکھنے کی کوشش کیجئے۔

جہاں اردو لفظ ممکن ہو، وہاں انگریزی لفظ سے گریز فرمائیں۔ اگر انگریزی لفظ بھی ہے تو اسے اردو املا میں لکھنے کو ترجیح دیں۔

سب سے بہتر یہ ہے کہ آپ مضمون کو ایمیل میں ہی لکھ دیں۔ لیکن آپ مضمون کو ان پیج، مائیکروسافٹ ورڈ یا ایچ ٹی ایم ایل فارمیٹ میں بھیج سکتے ہیں۔ اس صورت میں اس بات کا خیال رکھیں کہ مضمون کا مکمل متن یا کچھ تعارف ایمیل میں شامل ہو تاکہ فائل کھولے بغیر ہی مضمون پر ایک سرسری نگاہ ڈالی جا سکے۔ ایسے مضامین جن میں ایمیل میں یونیکوڈ فارمیٹ میں متن دیا گیا ہو، پہلی فرصت میں پراسیس کیے جاتے ہیں۔

اگر یہ آپ کا پہلا مضمون ہے تو مضمون کے ساتھ اپنی تصویر بھیجیں۔

تحریر اور موضوعات

اپنا مضمون بھیجنے سے پہلے کم از کم ایک مرتبہ ضرور پڑھیں۔ کمپوزنگ کی بہت سی غلطیاں آپ خود نکال سکتے ہیں۔ جس تحریر میں کم غلطیاں ہوں، اس پر ایڈیٹر کی کم محنت لگتی ہے، اور وہ جلد شائع ہو سکتی ہے۔

تحریر کی طوالت 600 سے 1200 الفاظ کے درمیان ہونی چاہیے۔ بعض صورتوں میں استثنا دیا جا سکتا ہے۔

یاد رہے کہ مضمون کا عنوان لگانا، تحریر میں موجود غلطیاں درست کرنا، غیر مہذب یا غیر اخلاقی مواد کو حذف کرنا، ایسا مواد جو کہ ادارتی پالیسی کے خلاف ہو، اسے حذف یا تبدیل کرنا اور بات کو واضح کرنے کے لئے متن میں تبدیلی کرنا، کسی بھی ایڈیٹر کا اختیار ہوتا ہے۔ اگر آپ ایڈیٹر کے اس اختیار سے متفق نہیں ہیں تو، برائے کرم اپنا مضمون کسی اور جگہ شائع کرنے کے لئے بھیجیں، ہم اسے شائع کرنے سے قاصر ہیں۔

 مضمون لکھنا ایک بڑی ذمہ داری ہے اور مضمون بھیجتے ہوئے آپ اس بات کے بارے میں سوچ لیں کہ آپ کو اس مضمون پر آنے والے اچھے یا برے عوامی ری ایکشن کا سامنا بھی کرنا ہو گا۔ اس لئے خوب سوچ سمجھ کر مضمون لکھیں۔ ہم سب کی ادارتی ٹیم ایڈیٹنگ کرتے ہوئے حتی المقدور کوشش کرتی ہے کہ مضمون میں موجود ایسا مواد ٹھیک کر دیا جائے جو پریشان کن ثابت ہو سکتا ہے۔ مضمون بھیجنے سے پہلے خوب غور کر لیں کیونکہ عام حالات میں مضمون شائع ہونے کے بعد سائٹ سے ہٹایا نہیں جائے گا۔

ادارتی پالیسی

’ہم سب‘ میں ادارتی پالیسی بالکل واضح ہے۔ دائیں اور بائیں کی کوئی قید نہیں۔ مذہبی اور غیر مذہبی نقطہ نظر پر کوئی پابندی نہیں۔ کسی سیاسی جماعت کی حمایت یا مخالفت کی بنیاد پر کوئی تحریر روکی نہیں جاتی۔ اظہار کی آزادی کا احترام کیا جاتا ہے۔ اظہا ر کی آزادی میں بنیادی مفروضہ یہی ہے کہ صحیح یا غلط ، دلیل سامنے آئے گی تو اس کے رد میں موجود دلیل کو بھی سامنے آنے کا موقع ملے گا۔ ذہانت پر صحافی کا اجارہ نہیں۔ پڑھنے والا سب سے زیادہ ذہین ہے۔ وہ پڑھے گا۔ سوچے گا اور دلیل کو قبول یا رد کرے گا۔ اگر صحافی دلیل کو روک لے گا تو پڑھنے والے کو معلومات تک رسائی کے بنیادی حق سے محروم کرے گا۔ اس میں معمولی سی شرط یہ ہے کہ صحافت میں ناشائستہ لب و لہجہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ کسی کو گالی نہیں دی جا سکتی۔ کسی مذہبی ، ثقافتی یا نسلی گروہ کے خلاف اشتعال نہیں پھیلایا جا سکتا۔ نفرت پھیلانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کسی کو جرم کی ترغیب دینے کی اجازت نہیں ہوتی۔ قانون شکنی کی حمایت نہیں کی جاتی۔ کسی جرم پر اکسانا اظہار کی آزادی میں شامل نہیں ہوتا۔

’ہم سب‘ کو آپ کی تحریریں شائع کر کے خوشی ہو گی کیونکہ ہم چاہتے ہیں کہ ’ہم سب‘ ایک ایسے آن لائن پلیٹ فارم کی صورت اختیار کر سکے جہاں پاکستان میں ہر طرح کی سوچ رکھنے والے کھلے دل و دماغ سے ایک پرامن اور مفید اجتماعی مکالمے کا حصہ بن سکیں۔

اپنے مضامین اس ایمیل ایڈریس پر بھیجیں۔
[email protected]

ان دو مضامین کا مطالعہ ضرور کریں

۔1۔ ادارتی پالیسی اور ہدایات

۔2۔ چند گزارشات از وجاہت مسعود

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

16 thoughts on “’ہم سب‘ میں کیسے لکھا جائے؟

  • 29/02/2016 at 10:44 pm
    Permalink

    سربہت بہت شکریہ! مگر بہت سے مضامین اور کالمز میں بے جا طور پر ذاتی حوالوں سے بات کی جاتی ہے جیسا کہ ابھی پچھلے دنوں مفتی نعیم صاحب کے حوالے سے لکھے گئے کالم وغیرہ۔۔۔۔ اسی طرح بہت سے لکھاری دشنام اور یاوہ گوئی بھی کرتے نظر آتے ہیں۔۔۔۔۔ جو کہ مستقل لکھنے والے ہیں۔۔۔۔۔

  • 01/03/2016 at 1:49 am
    Permalink

    بہت جامع انداز میں املا کی عمومی غلطیوں پر تبصرہ فرمایا ہے ۔ اطمینان ہؤا کہ اس مسئلے پر کُڑھنے کو ہم اکیلے نہیں ☺️ شکریہ

  • 01/03/2016 at 12:55 pm
    Permalink

    جناب عالی۔
    تحریر قلمی ہو یا ٹائپ کر کے بھیجی جاۓ؟

  • 01/03/2016 at 2:30 pm
    Permalink

    What is the best way to subscribe for this blog? I want to be updated about different blogs and posts.

  • 04/03/2016 at 5:47 pm
    Permalink

    اردو سمجھنے،بولنے اور لکھنے والوں کیلئے”ہم سب” ویب سائٹ ایک اچھا اضافہ ہے۔ اور جناب وجاہت مسعود صاحب کی زیرادارت اس پلیٹ فارم میں نکھار آرہا ہے۔میں “ہم سب” کی پوری ٹیم کومبارکباد دیتا ہوں۔
    شہباز سعید آسی

  • 08/03/2016 at 4:52 pm
    Permalink

    زبان کی معیار بندی ضروری ہے۔ جہاں مختلف املا کے ساتھ کوئی لفظ لکھا جاتا ہو۔ اس پر توجہ دیجیے اور کوئی ایک املا مقرر کر دیجیے تا کہ سبھی لوگ اسے معیار تسلیم کر لیں اور آئندہ اسی طرح لکھیں۔ مثلاً ۱۔ علیٰحدہ، ۲۔ علیحدہ اور ۳۔ علاحدہ، ان میں سے کسی ایک کو معیار بنا لین کہ آئندہ اسی طرح سے لکھا جائے گا۔

  • 19/03/2016 at 3:34 pm
    Permalink

    i like it

  • 22/03/2016 at 1:46 am
    Permalink

    میں تقریبا ایک سال سے سوشل میڈیا پہ لکھ رہا ہوں اور ابھی چاہتا ہوں کہ سوشل میڈیا کے ساتھ ساتھ ویب سائیٹس پہ بھی لکھائی شائع کیا کروں- میری لکھائی میں صرف ایک مسئلہ ہے وہ یہ کہ چونکہ اردو میری مادری زبان نہیں اور نہ سکولوں میں اتنا گرائمر پڑھاہا پے تو مسئلہ یہ پیدا ہوتا ہے مذکر-مؤنث میں پھنس جاتا ہوں اور کچھ ایسا صورت حال بن جاتا ہے کہ:
    مجنون نظر آتی ہے لیلی نظر آتا ہے

    انشاءاللہ میں بھیجوں گا- معیار کے مطابق ٹھہرے تو حوصلہ افزائی ہو جائے گی، نہیں، تو اصلاح ہو جائے گی-
    شکریہ

  • 12/04/2016 at 2:33 pm
    Permalink

    کیا ہم سب ادبی تحریریں اور افسانہ وغیرہ شایع کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؟

  • 12/04/2016 at 3:11 pm
    Permalink

    جی ہاں گوشہ ادب میں ایسی تحریریں شائع کی جاتی ہیں.

  • 19/04/2016 at 5:49 pm
    Permalink

    ہدایات میں لکھا ہے کہ ان پیج میں نسخ فاونٹ میں ٹایپ کر کے تحریر بھیجی جا سکتی ہے،لیکن کیا ای میل کے متن میں پورا مضمون بھی ٹایپ کرنا ضروری ہے؟

  • 20/04/2016 at 11:01 am
    Permalink

    اگر آپ ایمیل میں متن ٹائپ کر کے بھیجیں گے تو آپ کی تحریر کے جلد پراسیس ہونے کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ ویسے ان پیج سے آپ کو صرف کاپی اور پیسٹ کرنے کی زحمت اٹھانا ہو گی۔ ان پیج ٹو کے لیے بھی کاپی پیسٹ کے سافٹ وئیر دستیاب ہیں۔

Comments are closed.