عورت، اسلام اور ملا


sajid ali مرد اور عورت کے باہمی تعلق کی صحیح تفہیم، دونوں کے حقوق و فرائض کا درست تعین انسانی تمدن کا اہم ترین مسئلہ رہا ہے۔ المیہ یہ ہے کہ ان مسائل پر ہونے والی بحث کا بڑا حصہ جذباتیت کا شکار ہے۔ عقلی انداز میں اس پر گفتگو بہت کم ہوئی ہے۔ اس کا ایک بڑا سبب فریقین کے مابین پائی جانے والی بد اعتمادی ہے۔ مرد عورت کوحقیر، کم عقل، مکار، دھوکہ باز اور پاؤں کی جوتی کہتے ہیں تو عورتوں نے مرد کو ناقابل اعتبار، ہرجائی اور سرہانے کا سانپ قرار دیا ہے۔

زمانہ حاضر میں یہ سوال بڑی اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ عورت اور مرد مساوی ہیں یا عورت مرد سے کم تر ہے؟ ان سوالات پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اگر اس بحث کا منطقی تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ اس کا زیادہ تر حصہ محض خلط مبحث پر مشتمل ہے۔ تاریخی اعتبار سے مردوں کا غالب نقطہ نظر یہی رہا ہے کہ عورت مرد سے کم تر ہے۔ اس کم تری کے حق میں بہت سے دلائل دیے جاتے ہیں مثلاً  یہ کہ عورت اور مرد کی فطرت جدا جدا ہے۔ اس لیے عورت بعض کاموں کے لیے طبعاً ناموزوں ہے۔ کہ قانون فطرت کے عین مطابق ہے کہ عورت امور خانہ داری انجام دے اور مرد بیرون خانہ سرگرمیوں میں حصہ لے۔

کیا عورت اور مرد کا جداگانہ دائرہ کار قانون فطرت کا تقاضا ہے یا اس کا سبب کچھ اور ہے؟ یہ بات درست ہے کہ عورت اور مرد میں بعض حیاتیاتی امتیازات ہیں جس طرح دیگر جانوروں کے نر اور مادہ ہوتے ہیں۔ مگر ان حیاتیاتی امتیازات سے کیا یہ نتائج اخذ کرنا درست ہے کہ عورت اور مرد کی فطرت بھی جداگانہ ہے اور اسی بنا پر الگ الگ دائرہ کار اور الگ تعلیم و تربیت کا تقاضا کرتی ہے۔

ان سوالات کا جواب دینے سے پہلے لازم ہے کہ ہم یہ سمجھ لیں کہ قانون فطرت کیا ہوتا ہے اور اس کے خصائص کیا ہوتے ہیں۔ قانون فطرت اس کائنات میں پائی جانے والی باقاعدگی کو بیان کرتا ہے۔ اس اعتبار سے فطری قوانین ناقابل تغیر اور اٹل ہوتے ہیں۔ انسان نہ انہیں توڑ سکتا ہے اور نہ ان کو نافذ کر سکتا ہے۔ یہ قوانین حقائق کو بیان کرتے ہیں جیسا کہ وہ ہوتے ہیں۔اسی بنا پر ان کے جھوٹ یا سچ ہونے کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ یعنی اگر کوئی مزعومہ قانون حقیقت کو درست طور پر بیان کرتا ہے تو وہ سچ ہو گا بصورت دیگر باطل ہو گا۔

ان قوانین کے برعکس انسانی معاشرے کے نظم و ترتیب کو بیان کرنے والے قوانین فطری نہیں بلکہ معیاری ہوتے ہیں۔ یہ معیارات قوانین فطرت سے جدا گانہ خصوصیات کے حامل ہیں۔ ان معیارات کے نفاذ کی ذمہ داری انسانوں پر عاید ہوتی ہے۔ ہم انہیں اچھا یا برا، صحیح یا غلط تو قرار دے سکتے ہیں مگر جھوٹ یا سچ نہیں کہہ سکتے۔ یہ معیارات حقائق کو بیان نہیں کرتے بلکہ ہمارے طرز عمل کے لیے رہنما اصول متعین کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ معیارات فطری نہیں بلکہ رسمی اور رواجی ہوتے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ انسانوں نے اپنی شعوری کوشش سے وضع کیے ہوتے ہیں۔ یہ معیارات انسانوں کے ہزاروں سال پر محیط باہمی تعامل کا نتیجہ ہیں۔

اس موقع پر یہ ضروری محسوس ہوتا ہے کہ حقائق اور معیارات میں حائل خلیج کی طرف بھی اشارہ کر دیا جا ئے۔ حقائق بس حقائق ہوتے ہیں، وہ نہ اچھے ہوتے ہیں نہ برے۔ اسی بنا پراخلاقی اصول اور معیار حقائق سے اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ مثلاً مساوات انسانی کے اصول کو لیجیے۔ اس اصول کی دلیل اس بات کو بنانا غلط ہو گا کہ چونکہ سب انسان مساوی پیدا ہوتے ہیں اس لیے وہ دیگر امور میں بھی مساوی ہوتے ہیں۔ انسان بس پیدا ہوتے ہیں مساوی یا غیر مساوی نہیں۔ انسانی مساوات کا تصور اصلاً ایک اخلاقی اصول ہے جس کے قبول اور نفاذ کی ذمے داری ہمارے اوپر عاید ہوتی ہے۔ اسی طرح مرد اور عورت مساوی ہیں یا غیر مساوی۔ یہ بھی اخلاقی فیصلہ ہے جس کی ذمے داری ہمارے اوپر عائدہوتی ہے نہ کہ فطرت پر۔ فطرت صرف عورت اور مرد کو پیدا کرتی ہے، انہیں مساوی یا غیر مساوی پیدا نہیں کرتی۔اس لیے فطرت کی بنیاد پر کیا جانے والا استدلال سر تا سر غلط ہے۔

عورت اور مرد کی مساوات کے نظریہ اور اس کے مضمرات پر افلاطون نے اپنے مکالمے ریاست کی کتاب پنجم میں بحث کی ہے۔ افلاطون کے نزدیک مردوں کی معاشرے میںوہ حیثیت ہے جو گلے میں محافظ اور نگران کتے کی ہوتی ہے۔یہاں سقراط ایک سوال اٹھاتا ہے۔ کیا کتوں میںنر اور مادہ کی تفریق ہوتی ہے؟ یا وہ سب کے سب شکار، نگہبانی اور دوسرے فرائض یکساں انجام دیتے ہیں؟ یا ایسا ہوتا ہے کہ ہم صرف نر کتوں کو تو گلے کی نگہداشت کے لیے چھوڑ دیں اور کتیوں کو یہ سمجھ کر گھر پر پڑا رہنے دیں کہ بچے دینا اور انہیں دودھ پلانا ان کے لیے بس کافی محنت ہے؟

گلاکن اس کا جواب دیتا ہے کہ نہیں، وہ تو سب یکساں ان کاموں میں شریک ہوتے ہیں، صرف اتنا فرق ہے کہ نر زیادہ مضبوط ہوتے ہیں اور مادہ ذرا کمزور۔

سقراط: اچھا بتاؤ کہ اگر جانوروں کو ایک سی تربیت اور خوراک نہ دی جائے تو کیا وہ دونوں ایک ہی کام کر سکیں گے؟

گلاکن: نہیں

سقراط: چنانچہ اگر مردوں اور عورتوں کے فرائض ایک سے ہیں تو ان کی تعلیم اور تربیت بھی ایک سی ہونی چاہیے۔

گلاکن: جی ہاں

اس پر سقراط کہتا ہے کہ مردوں کے لیے تو ورزش اور موسیقی کی تعلیم ہے تو کیا عورتوں کے لیے بھی یہی تعلیم مناسب ہو گی۔ اور اگر یہ مناسب ہو گی تو کیا یہ مضحکہ خیز نہیں ہو گا کہ عورت بھی کپڑے اتار کر مردوں کے ساتھ اکھاڑے میں ورزش کر رہی ہو۔ عاقل لوگ یقینا اس جدت کا مذاق اڑائیں گے۔ اس موقع پر سقراط نے بہت پتے کی بات کی ہے۔ وہ ان معترضین کو یاد دلاتا ہے کہ بہت دن نہیں گزرے جب مردوں کا کپڑے اتار کر اکھاڑے میں ورزش کرنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا اور جب پہلے پہل کریٹ کے باشندوں نے اور اس کے بعد لیسی ڈی مونیا کے باسیوں نے اس رسم کو شروع کیا تھا اس زمانہ کے عاقلوں نے بھی اس کا اسی طرح مذاق اڑایا تھا۔ مگر جب ہم نے اس تبدیلی کی وجوہ پر غور کیا اور یہ فیصلہ کیا کہ یہ تبدیلی بہتر ہے تب اس سے مضحکہ خیزی کا پہلو غائب ہو گیا اور عقل کا بہترین کے حق میں فیصلہ غالب آ گیا۔ (اردو ترجمہ از ڈاکٹر ذاکر حسین)

اب یہ سمجھنا دشوار نہیں کہ مردوں اور عورتوں کے جداگانہ دائرہ کار کا تصور فطرت کے کسی قانون پر مبنی نہیں بلکہ معاشرتی رسم و رواج اور عادت کا نتیجہ ہے۔ رسم اور عادت کا دستور ہے کہ وہ ہر غیر مانوس فعل کو ناممکن اور خلاف فطرت قرار دے دیتی ہے۔ رائج الوقت رسوم و رواج پر نکتہ چینی اور ان کو بدلنے کی کوشش کو انتہائی معیوب سمجھا جاتا ہے۔ عقل غیر مانوس سے خوف زدہ ہونے کے بجائے اس پر غورو تامل کرتی ہے اوررواج کو ناقابل تغیر اور فطری تسلیم کرنے سے انکاری ہوتی ہے۔ عقل تعصب سے پاک، شواہد پر مبنی استدلال کی بنیاد پر اپنا فیصلہ صادر کرتی ہے۔

اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ رسوم و رواج عورت کے دشمن اور عقل اس کی حامی ہے، عورت عقلی دلائل کی بنیاد پر مساوی حقوق کا مطالبہ کر سکتی ہے۔ اس خطرناک راستے کو بند کرنے کے لیے مردوں نے عورت کو ناقص العقل قرار دے دیا۔ ڈی۔ ایچ۔ لارنس کا کہنا تھا کہ مرد اور عورت کی منطق میں فرق ہوتا ہے۔ مرد کی منطق عقل پر اورعورت کی منطق جذبات پر مبنی ہوتی ہے۔ چنانچہ عورت جذبات سے ہٹ کر خالصتاً عقل کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتی۔ اسی بنا پر عورت کا مزاج شاعری، ادب اور دیگر فنون لطیفہ کے لیے تو موزوں ہو سکتا ہے مگر منطق، فلسفہ اور سائنس کے لیے ناموزوں ہے۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ مغرب میں تحریک نسائیت کی علم برداروں نے بھی اس موقف کو اپنا لیا ہے اور منطق، عقل اور معروضیت کو اپنا دشمن اور مردانہ غلبہ و تسلط کا آلہ قرار دینا شروع کر دیا ہے۔ روتھ گنزبرگ نے، جو امریکہ کی ایک یونیورسٹی میں فلسفہ کی استاد ہے، modus ponens کو، جو قضیاتی منطق کا ایک بہت بنیادی اصول ہے، مردانہ تخلیق اور عورتوں پر جبر کا وسیلہ قراردیا ہے۔ اس کے نزدیک استدلال کی یہ صورت مکمل طور پر مردانہ اور عورتوں کے لیے ناقابل فہم ہے کیونکہ اس کہ اکثر طالبات کو اسے سمجھنے میں بڑی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ بلکہ اس نے تو تمام تر علامتی منطق کو ہی عورتوں کے لیے اجنبی قرار دے دیا ہے۔ یہاں پر صرف اس قدر ذکر کرنا چاہوں گا کہ میں نے تقریباً پچیس برس تک منطق کی تعلیم دی ہے بالخصوص علامتی منطق کی۔ میرا تجربہ تویہ ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی کارکردگی عموماً بہتر ہوتی تھی۔

ا گر اس تصور کو تسلیم کر لیا جائے کہ عورت اور مرد کی عقل اور منطق میں بنیادی فرق ہے تو عورتوں کی مساوات ثابت ہونے کے بجائے الٹا یہ ہو گا کہ عورتیں بعض کاموں کے لیے غیر موزوں قرار پائیں گی۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ تاریخ میں بہت کم عورتیں فلسفی، سائنس دان اور ریاضی دان ہوئی ہیں، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ عورتوں کو بہت کم وہ تعلیم و تربیت حاصل کرنے کا موقع ملا ہے جو ان علوم کے لیے درکار ہے۔ معاشرتی دائرے میں عورت ہر وہ کام کر سکتی ہے جو مرد کر سکتا ہے، یعنی وہ ڈاکٹر، وکیل، انجینئر، سائنس دان، پروفیسر بننے کے لیے اسی طرح موزوں اوراہل ہے جس طرح مرد۔

یہ ایک عظیم تاریخی المیہ ہے کہ مردوں نے کبھی عورت کی مساوی انسانی حیثیت کو تسلیم نہیں کیا۔ ان کے نزدیک عورت کی تخلیق کا واحد مقصد مرد کی جنسی خواہشات کی تسکین کرنا ہے۔چنانچہ عورت کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی تمام تر توجہ اپنے آپ کو بنانے سنوارنے پر مرکوز رکھے تاکہ مرد کے لیے زیادہ سے زیادہ جاذب نظر ہو، اس کو لبھا سکے، رجھا سکے۔ مرد کے لیے ضروری ہے کہ وہ عورت کے لیے آرائش و زیبائش کا سامان فراہم کرے۔ جنسی لذت پر بھی مرد کا ہی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ اس کے لیے مرد آزاد ہے کہ وہ جتنی عورتوں سے چاہے تمتع کر سکتا ہے۔ یک زوجگی کو خلاف فطرت قرار دیا گیا۔ یعنی مرد ایسا جانور ہے جو ہر چراگاہ میں چرنے کے لیے آزاد ہے۔ بادشاہوں کے حرم، لونڈیوں کی خرید و فروخت کے لیے سجنے والی منڈیاں اور طوائفوں کے بازار انہی تصورات کی پیداوار رہے ہیں کیونکہ مرد جنسی تلذذ کی خاطر تنوع کا متلاشی رہا ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمار ے معاشر ے میں عورت بے اندازہ زیادتیوں اور ناانصافیوں کا شکار ہے۔ اس کے دینی حقوق تسلیم کیے جاتے ہیں نہ دنیوی۔ جاگیردارانہ سماج عورت سے بھیڑ بکری جیسا سلوک کرتا ہے۔ شادی بیاہ میں بھی عورت کی رضا اور پسند و ناپسند کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی، اسے جس کھونٹے سے جی چاہا باندھ دیا۔ وراثت میں بھی اس کا حق تسلیم نہیں کیا جاتا نہ اس کا حصہ ادا کیا جاتا ہے۔ سندھ میں ایک انتہائی قبیح رسم جاری ہے۔ عورتوں کو وراثت سے محروم رکھنے کے لیے ان کا قران سے نکاح کر دیا جاتا ہے۔ عورتوں کو تعلیم دلانا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے۔

مزید ستم یہ ہے کہ اس رویہ کے حق میں مذہب کی سند پیش کی جاتی ہے۔ ہمارے ہاں آج بھی عورتوں کی تعلیم و تربیت کے لیے بہشتی زیور ایک مستند کتاب سمجھی جاتی ہے۔ اس کتاب کی رو سے عورت کے حقوق کی بات کرنا تو درکنار، اسے انسان سمجھنا بھی دشوار ہو جاتا ہے۔ برصغیر کے علما نے، مقامی اثرات کے زیر اثر، اسلام کی جو تعبیر اختیار کی ہے اس کے مطابق عورت سات پردوں میں چھپا کر رکھی جانے والی چیز ہے۔ اسی لیے ہمارے ہاں عورت کی پاکیزگی اور عفت کو بیان کرنے کے لیے یہ جملہ عام طور پر بولا جاتا ہے کہ اس پر کبھی سورج کی بھی نظر نہیں پڑی۔ گویا اگر اس پر کسی غیر محرم کی نظر پڑے گی تو فتنہ پیدا ہونا لازمی ہے۔ بلکہ عورت پر تو کجا اگر اس کی تحریر پر بھی کسی غیر محرم کی نظر پڑ جائے تو فتنہ پیدا ہو سکتا ہے۔ ان کے نزدیک یہ محض ایک امکان نہیں بلکہ واقعتا ایسا ہو چکا ہے کہ کئی مرد اس سے فتنہ میں مبتلا ہو چکے ہیں۔ چنانچہ مولانا تھانوی کا فتویٰ یہ ہے کہ اگر کوئی عورت لکھنا جانتی ہو تو کسی دوسری عورت کو خط لکھ کر نہ دے کیونکہ اس طرح اس کی تحریر پر غیر محرم کی نظر پڑے گی جو بڑی بے شرمی کی بات ہے۔ ان کے خیال میں عورتوں کو تھوڑا بہت پڑھنا تو سکھانا چاہیے تا کہ وہ قرآن حکیم پڑھ سکیں مگر لکھنا نہیں سکھانا چاہیے کیونکہ اس طرح وہ آشنائی گانٹھنا شروع کر دیں گی۔ جن لوگوں کی پرواز خیال بس اتنی ہی ہو کہ اگر عورت کو لکھنا آ گیا تو وہ بس کسی آشنا کو خط لکھے گی وہ سد فتنہ کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا بہشتی زیور میں بیان کردہ تصور ہی حقیقی اسلامی تصور ہے یا یہ تصور مخصوص تاریخی اور معاشرتی صورت حال کے پس منظر میں کی گئی ایک تعبیر ہے۔ کیا اس مسئلے پر قرآن کی کوئی اور تعبیر ممکن ہے؟

قرآن حکیم کے مطابق مرد اور عورت ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ زوج ہیں۔ دونوں کی تخلیق ایک ہی نفس سے ہوئی ہے اس لیے دونوں باہم مل کر ایک اکائی بناتے ہیں اور ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں۔ انسان ہونے کے ناتے دونوں ہر اعتبار سے مساوی ہیں۔ اپنے اعمال کے لیے یکساں طور پر ذمہ دار اور جواب دہ ہیں۔ دونوں کے اعمال کا عذاب و ثواب بھی یکساں ہے۔ قرآن حکیم میں مردوں کو عورتوں کا قوام کہا گیا ہے۔ ہمارے مترجمین اور مولویوں نے اس کا ترجمہ یہ کیا ہے کہ مرد عورتوں پر حاکم ہیں۔ قوام کا لفظ عربی زبان میں نگرانی، کفالت، تولیت، سب مفاہیم میں استعمال ہوتا ہے۔ آیت کا سیاق و سباق خاوند اور بیوی کے تعلقات کو بیان کر رہا ہے۔ چنانچہ آیت کا یہ مفہوم لینے میں کوئی امر مانع نہیں کہ خاوند بیویوں کے کفیل ہیں یعنی شادی کے وقت مرد یہ ذمے داری قبول کرتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی کفالت کرے گا۔ اس سے یہ نتیجہ کسی طور نہیں نکلتا کہ عورت کسی معاشی سرگرمی میں شریک نہیں ہو سکتی۔

اب ہمارے مولویوں نے اسلام پریہ ستم ڈھانا شروع کر دیا ہے کہ انہوں نے پنجاب اسمبلی کے پاس کردہ قانون کو خلاف قرآن و سنت قرار دے ڈالا ہے۔ اس بل کی موزونیت پر کچھ گفتگو ہو سکتی ہے مگر اسے قرآن و سنت کے منافی قرار دینا نری افترا پردازی ہے۔ عضد الدین ایجی کے مطابق سنت اس چیز کو کہتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ کی ذات سے – قرآن کے علاوہ – صادر ہوئی ہو، خواہ وہ فعل ہو، یا قول ہو یا تقریر (سکوت)۔ تقریر سے مراد کسی فعل کو دیکھ کر آپ کا منع نہ کرنا۔ اب ان مولوی صاحبان پر لازم ہے کہ وہ یہ ثابت کریں کہ نبی کریم ﷺ نے عورتوں پر جسمانی تشدد کا حکم دیا، کبھی اس پر عمل کیا یا کسی صحابی کو ایسا کرتے دیکھا تو اس پر سکوت اختیار کیا یا اس کی تصویب کی۔ مجھے یقین ہے کہ یہ کوئی ضعیف روایت بھی پیش کرنے سے بھی قاصر ہوں گے۔ ان دین فروشوں کو اللہ کے رسول ﷺپر اتہام باندھتے ہوئے کچھ تو شرم کرنا چاہیے۔ افسوس ہے کہ ان لوگوں نے اپنے ہر کج روی کو تحفظ دینے کے لیے خدا کے دین کو بازیچہ اطفال بنا کر رکھ دیا ہے۔ اقبال نے اسی بنا پر ان ملاؤں کو ننگ مسلمانی قرار دیا تھا۔


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “عورت، اسلام اور ملا

  • 01-03-2016 at 4:28 am
    Permalink

    Thank you for writing this article. I hope majority of Muslims will be able to read and digest the content with an open mind.

  • 01-03-2016 at 11:28 am
    Permalink

    النسا 34

    مرد عورتوں پر قوّام ہیں ،56 اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے ،57 اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں ۔ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں ۔58 اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاؤ ، خواب گاہوں میں ان سے علیحدہ رہو اور مارو ،59 پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو ، یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالاتر ہے ۔

    تفسیر ابن کثیر

    مرد عورتوں سے افضل کیوں؟
    جناب باری ارشاد فرماتا ہے کہ مرد عورت کا حاکم رئیس اور سردار ہے ہر طرح سے اس کا محافظ و معاون ہے اسی لئے کہ مرد عورتوں سے افضل ہیں یہی وجہ ہے کہ نبوۃ ہمیشہ مردوں میں رہی بعینہ شرعی طور پر خلیفہ بھی مرد ہی بن سکتا ہے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں وہ لوگ کبھی نجات نہیں پاسکتے جو اپنا والی کسی عورت کو بنائیں ۔ (بخاری) اسی طرح ہر طرح کا منصب قضا وغیرہ بھی مردوں کے لائق ہی ہیں ۔ دوسری وجہ افضیلت کی یہ ہے کہ مرد عورتوں پر اپنا مال خرچ کرتے ہیں جو کتاب و سنت سے ان کے ذمہ ہے مثلاً مہر نان نفقہ اور دیگر ضروریات کا پورا کرنا۔ پس مرد فی نفسہ بھی افضل ہے اور بہ اعتبار نفع کے اور حاجت براری کے بھی اس کا درجہ بڑا ہے۔ اسی بنا پر مرد کو عورت پر سردار مقرر کیا گیا جیسے اور جگہ فرمان ہے (وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ ۭ وَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ) 2۔ البقرۃ:228) ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ عورتوں کو مردوں کی اطاعت کرنی پڑے گی اس کے بال بچوں کی نگہداشت اس کے مال کی حفاظت وغیرہ اس کا کام ہے ۔ حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک عورت نے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اپنے خاوند کی شکایت کی کہ ایک انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیوی صاحبہ کو لئے ہوئے حاضر خدمت ہوئے اس عورت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے اس خاوند نے مجھے تھپڑ مارا ہے۔ پس آپ نے بدلہ لینے کا حکم دیا ہی تھا جو یہ آیت اتری اور بدلہ نہ دلوایا گیا ایک اور روایت کہ ایک انصار رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیوی صاحبہ کو لئے ہوئے حاضر خدمت ہوئے اس عورت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے اس خاوند نے مجھے تھپڑ مارا جس کا نشان اب تک میرے چہرے پر موجود ہے آپ نے فرمایا اسے حق نہ تھا وہیں یہ آیت اتری کہ ادب سکھانے کے لئے مرد عورتوں پر حاکم ہیں ۔ تو آپ نے فرمایا میں نے اور چاہا تھا اور اللہ تعالیٰ نے اور چاہا ۔ شعبہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں مال خرچ کرنے سے مراد مہر کا ادا کرنا ہے دیکھو اگر مرد عورت پر زنا کاری کی تہمت لگائے تو لعان کا حکم ہے اور اگر عورت اپنے مرد کی نسبت یہ بات کہے اور ثابت نہ کر سکے تو اسے کوڑے لگیں گے۔ پس عورتوں میں سے نیک نفس وہ ہیں جو اپنے خاوندوں کی اطاعت گزار ہوں اپنے نفس اور خاوند کے مال کی حفاظت والیاں ہوں جسے خود اللہ تعالیٰ سے محفوظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں بہتر عورت وہ ہے کہ جب اس کا خاوند اس کی طرف دیکھے وہ اسے خوش کر دے اور جب حکم دے بجا لائے اور جب کہیں باہر جائے تو اپنے نفس کو برائی سے محفوظ رکھے اور اپنے خاوند کے مال کی محافظت کرے پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی مسند احمد میں ہے کہ آپ نے اس آیت کی تلاوت فرمائی۔ مسند احمد میں ہے کہ آپ نے فرمایا جب کوئی پانچوں وقت نماز ادا کرے رمضان کے روزے رکھے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے اپنے خاوند کی فرمانبرداری کرے اس سے کہا جائے گا کہ جنت کے جس دروازے سے تو چاہے جنت میں چلی جا، پھر فرمایا جن عورتوں کی سرکشی سے ڈرو یعنی جو تم سے بلند ہونا چاہتی ہو نافرمانی کرتی ہو بےپرواہی برتتی ہو دشمنی رکھتی ہو تو پہلے تو اسے زبانی نصیحت کرو ہر طرح سمجھاؤ اتار چڑھاؤ بتاؤ اللہ کا خوف دلاؤ حقوق زوجیت یاد دلاؤ اس سے کہو کہ دیکھو خاوند کے اتنے حقوق ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر میں کسی کو حکم کر سکتا کہ وہ ماسوائے اللہ تعالیٰ کے دوسرے کو سجدہ کرے تو عورت کو حکم کرتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے۔ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے کیونکہ سب سے بڑا حق اس پر اسی کا ہے بخاری شریف میں ہے کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو اپنے بسترے پر بلائے اور وہ انکار کر دے تو صبح تک فرشتے اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں صحیح مسلم میں ہے۔ کہ جس رات کوئی عورت روٹھ کر اپنے خاوند کے بستر کو چھوڑے رہے تو صبح تک اللہ کی رحمت کے فرشتے اس پر لعنتیں نازل کرتے رہتے ہیں ، تو یہاں ارشاد فرماتا ہے کہ ایسی نافرمان عورتوں کو پہلے تو سمجھاؤ بجھاؤ پھر بستروں سے الگ کرو، ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں یعنی سلائے تو بستر ہی پر مگر خود اس سے کروٹ موڑ لے اور مجامعت نہ کرے ، بات چیت اور کلام بھی ترک کر سکتا ہے اور یہ عورت کی بڑی بھاری سزا ہے ، بعض مفسرین فرماتے ہیں ساتھ سلانا ہی چھوڑ دے ، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال ہوتا ہے کہ عورت کا حق اس کے میاں پر کیا ہے؟ فرمایا یہ کہ جب تو کھا تو اسے بھی کھلا جب تو پہن تو اسے بھی پہنا اس کے منہ پر نہ مار گالیاں نہ دے اور گھر سے الگ نہ کر غصہ میں اگر تو اس سے بطور سزا بات چیت ترک کرے تو بھی اسے گھر سے نہ نکال پھر فرمایا اس سے بھی اگر ٹھیک ٹھاک نہ ہو تو تمہیں اجازت ہے کہ یونہی سی ڈانٹ ڈپٹ اور مار پیٹ سے بھی راہ راست پر لاؤ۔ صحیح مسلم میں نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حجتہ الوداع کے خطبہ میں ہے کہ عورتوں کے بارے میں فرمایا اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہا کرو وہ تمہاری خدمت گزار اور ماتحت ہیں تمہارا حق ان پر یہ ہے کہ جس کے آنے جانے سے تم خفا ہو اسے نہ آنے دیں اگر وہ ایسا نہ کریں تو انہیں یونہی سے تنبیہہ بھی تم کر سکتے ہو لیکن سخت مار جو ظاہر ہو نہیں مار سکتے تم پر ان کا حق یہ ہے کہ انہیں کھلاتے پلاتے پہناتے اڑھاتے رہو ۔ پس ایسی مار نہ مارنی چاہیے جس کا نشان باقی رہے جس سے کوئی عضو ٹوٹ جائے یا کوئی زخم آئے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ اس پر بھی اگر وہ باز نہ آئے تو فدیہ لو اور طلاق دے دو ۔ ایک حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ کی لونڈیوں کو مارو نہیں اس کے بعد ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے اور عرض کرنے لگے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عورتیں آپ کے اس حکم کو سن کر بہت سی عورتیں شکایتیں لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئیں تو آپ نے لوگوں سے فرمایا سنو میرے پاس عورتوں کی فریاد پہنچی یاد رکھو تم میں سے جو اپنی عورتوں کو زدو کوب کرتے ہیں وہ اچھے آدمی نہیں (ابو داؤد وغیرہ) حضرت اشعث رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ایک مرتبہ میں حضرت فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مہمان ہوا اتفاقاً اس روز میاں بیوی میں کچھ ناچاقی ہو گئی اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی صاحبہ کو مارا پھر مجھ سے فرمانے لگے اشعث تین باتیں یاد رکھ جو میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سن کر یاد رکھی ہیں ایک تو یہ کہ مرد سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ اس نے اپنی عورت کو کس بنا پر مارا ؟ دوسری یہ کہ وتر پڑھے بغیر سونا مت اور اور تیسری بات راوی کے ذہن سے نکل گئی (نسائی) پھر فرمایا اگر اب بھی عورتیں تمہاری فرمانبردار بن جائیں تو تم ان پر کسی قسم کی سختی نہ کرو نہ مارو پیٹو نہ بیزاری کا اظہار کرو ۔ اللہ بلندیوں اور بڑائیوں والا ہے۔ یعنی اگر عورتوں کی طرف سے قصور سرزد ہوئے بغیر یا قصور کے بعد ٹھیک ہو جانے کے باوجود بھی تم نے انہیں ستایا تو یاد رکھو ان کی مدد پر ان کا انتقام لینے کے لئے اللہ تعالیٰ ہے اور یقینا وہ بہت زرو اور زبردست ہے۔

  • 03-03-2016 at 3:39 pm
    Permalink

    عدنان صاحب !
    جو حوالے آپ نے پیش کیے ہیں اس سے تو بظاہر ڈاکٹر صاحب کے استدلال کی نفی ہوتی ہے اور یوں لگتا ہے کہ اسلام میں مرد کو عورت پر مار پیٹ کی کھلی اجازت ہے۔ لیکن شاید آپ اتفاق کریں گے کہ لفظی ترجمے کی بنیاد پر قوانین بنانے کی بات تو مذہبی جماعتیں بھی نہیں کرتیں۔ تفسیر بھی زمانے کے ساتھ بدلتی رہتی ہے اور اسی وجہ سے ڈاکٹر صاحب کا بنیادی نقطہ معقول ہے کہ مولوی مذہب کا سہارا لے کر حقوق نسواں بل رد نہیں کر سکتے- اب دیکھیں کہ پرویز صاحب کی مفہوم القرآن [ جلد اول طلوع اسلام ٹرسٹ] میں اسی آیت کے بابت درج ہے کہ بدنی سزا مرد خود نہیں دے سکتا بلکہ عدالت تجویز کرے گی۔

    اسی آیت سے دو آیتیں پہلے یہ حکم بھی ہے کہ عورت کا اپنی روزی پر مکمل اختیار ہے- لیکن ہمارے ہاں عورت کا کام کرنا مذہبی حوالوں سے نا پسندیدہ قرار دیا جاتا ہے- جبکہ لفظی ترجمہ عورت کے حق میں واضح ہے۔

Comments are closed.