ممتاز قادری کی موت: انتشار کا راستہ؟


mujahid ali

اڈیالہ جیل میں آج علی الصبح ممتاز قادری کی پھانسی اگرچہ اچانک اور غیر متوقع تھی لیکن اس پر سامنے آنے والا ردعمل ہرگز غیر متوقع نہیں تھا۔ ایک قتل میں ملوث مجرم کو ملک کے قانون اور اعلیٰ ترین عدالت کے فیصلہ کے مطابق سزا دی گئی ہے۔ لیکن ملک کے ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں اس بارے میں مختلف رائے پائی جاتی ہے۔ بعض لوگوں کے نزدیک ممتاز قادری ایک ہیرو تھا اور اس نے حرمت رسولﷺ کے لئے جان قربان کی ہے جبکہ اس کے برعکس رائے رکھنے والوں کا خیال ہے کہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کے گورنر کے قتل میں ملوث شخص کو پھانسی دے کر حکومت نے مذہبی انتہا پسندی کے خلاف اپنے واضح عزم کا اظہار کیا ہے۔ اس طرح ملک میں دہشت گردی اور مذہب کی بنیاد پر قتل و غارتگری کا سلسلہ رک سکے گا۔ فی الوقت اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ یہ دو انتہائی رائے رکھنے والے لوگ کسی طرح باہم بات چیت کے ذریعے قومی نقطہ نظر کے بارے میں اتفاق رائے پیدا کر سکتے ہیں۔ جس ملک کا ہر طبقہ دہشت گردی سے نالاں اور مذہبی جبر سے عاجز ہو، وہاں پر قتل عمد اور دہشت گردی کی شقات کے تحت سزا پانے والے کے بارے میں یہ اختلاف واضح کرتا ہے کہ اس قوم کو ابھی طویل سفر طے کرنا ہے۔

ممتاز قادری کی پھانسی کے فیصلہ کے خلاف گزشتہ کئی ماہ سے مہم چلائی جا رہی تھی۔ سپریم کورٹ گزشتہ برس کے آخر میں قادری کی نظر ثانی کی اپیل بھی مسترد کر چکی تھی۔ اس کے بعد ممتاز قادری کی سزائے موت پر عملدرآمد رکوانے کے لئے ایک طرف بریلوی مکتب فکر کی تنظیموں نے مشترکہ طور پر جدوجہد کا آغاز کیا اور روایتی طریقے سے عدالت کے فیصلے کو غیر اسلامی اور حکومت کو پھانسی کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ممتاز قادری کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کروانے کے عملی اقدامات بھی بروئے کار لائے گئے۔ ان مذہبی تنظیموں کی طرف سے مقتول گورنر سلمان تاثیر کے اہل خاندان کو قصاص ادا کر کے ممتاز قادری کے لئے معافی حاصل کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ تاہم حکومت نے ایسی کوششوں کی حوصلہ افزائی نہیں کی اور نہ ہی سلمان تاثیر کا خاندان ایسے کسی تصفیہ پر راضی تھا۔ اس کے علاوہ ممتاز قادری کو مملکت کے خلاف جرم میں سزا دی گئی تھی۔ وہ ایلیٹ فورس کا ملازم تھا اور قتل کے وقت سلمان تاثیر کی حفاظت پر مامور تھا۔ اس نے سرکاری ہتھیار سے گورنر کو قتل کیا تھا۔ اس لئے قانونی اور شرعی طور پر بھی ایسے جرم کا ارتکاب کرنے کی صورت میں قصاص دے کر رہائی ممکن نہیں تھی۔ کیونکہ ممتاز قادری نے کسی دشمنی کی بنیاد پر قتل نہیں کیا تھا بلکہ ایک نظریہ کو درست سمجھتے ہوئے اپنی دانست میں مذہبی فریضہ ادا کیا تھا۔ اس کے خلاف ریاست پاکستان مدعی تھی اور ہائی کورٹ نے جب اسے دہشت گردی کی شق کے تحت سزا سے بری کر دیا تھا تو حکومت نے ہی اس فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے اس اپیل پر فیصلہ سناتے ہوئے تعزیرات پاکستان کے علاوہ دہشت گردی ایکٹ کی شق 7 کے تحت بھی ممتاز قادری کو مجرم قرار دیا تھا اور اس کی موت کی سزا برقرار رکھی تھی۔
سپریم کورٹ نے ممتاز قادری کی طرف سے نظر ثانی کی اپیل بھی مسترد کر دی تھی۔ اس کے بعد اس کی طرف سے صدر پاکستان کو رحم کی درخواست بھی بھیجی گئی تھی۔ عام طور سے ایسی درخواست دینے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ مجرم اپنے قصور اور اس کی سزا کو تسلیم کرتا ہے اور ملک کے آئینی سربراہ سے رحم کی اپیل کے ذریعے زندگی کی بھیک مانگتا ہے۔ یہ اپیل مسترد ہونے کے بعد ہی حکومت نے ممتاز قادری کو پھانسی دینے اور ملک کی تاریخ کے ایک المناک اور متنازعہ باب کو بند کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس لئے یہ کہنا درست ہو گا کہ ممتاز قادری نے ملک کے مروجہ اور مسلمہ عدالتی نظام میں ہر سطح پر انصاف حاصل کرنے کے لئے اپنی سی پوری کوشش کی۔ اس کے ساتھ ہی صدر مملکت کو رحم کی درخواست کی صورت میں ممتاز قادری اور ان کے لواحقین اور ہمدرد اصولی طور پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے ان نکات کو تسلیم کر چکے ہیں جن میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ : i) کسی شخص کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ii) ممتاز قادری اور ان کے وکیل یہ ثابت کرنے میں ناکام رہے کہ سلمان تاثیر کسی طرح بھی توہین رسالت کے مرتکب ہوئے تھے۔ iii) ملک کے توہین مذہب کے قانون پر تنقید یا اس میں تبدیلی کی خواہش کو توہین مذہب یا توہین رسالت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اس واضح اعتراف جرم کے بعد بھی ممتاز قادری کے حامی مظاہرہ کرتے ، نعرے لگاتے یا تحریر و تقریر میں اس کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے معاملہ کے اس پہلو کو چنداں اہمیت دینے پر آمادہ نہیں ہوں گے۔ وہ بدستور اسے ایک ایسے شخص کے طور پر پیش کریں گے جس نے عشق رسولﷺ میں ایک ایسے شخص کو قتل کیا تھا جو اس کے خیال میں توہین رسالت کا مرتکب ہو رہا تھا۔ ممتاز قادری نے قتل کے بعد اعتراف جرم کیا تھا اور نظام عدل کے تمام مراحل پر اس کے دفاع میں یہی دلائل دئیے گئے تھے کہ اس نے اسلامی شریعت کے احکامات کے مطابق اقدام کیا تھا۔ اگرچہ سپریم کورٹ نے یہ دلائل مسترد کر دئیے ہیں لیکن قادری کے حامی ایسے فیصلے اور ایسے قوانین کو خلاف اسلام قرار دے کر خود کو سچا اور اس سزا پر عملدرآمد کو غلط قرار دے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں یہ طے کرنا مشکل ہو رہا ہے کہ مذہب کے نام پر کون سا کام درست ہے اور کہاں مذہب معاشرے کے فرد کو چند ضابطوں اور حدود کو ماننے کا پابند کرتا ہے۔ ممتاز قادری کی حمایت میں مظاہرے کرنے والی مذہبی تنظیموں کا تعلق بریلوی مسلک سے ہے جو صوفی یا وسیع المشرب اسلام کی پیروکار ہیں۔ ان تنظیموں کے رہنماﺅں نے مذہب کے نام پر دہشت گردی اور قتل و غارت گری کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ لیکن ممتاز قادری کی سزائے موت کے بعد وہ یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ قانون ہاتھ میں لینا، صرف قیاس کی بنا پر کسی کو شاتم رسول تصور کر لینا اور پھر خود ہی اسے قتل کرنے کا فیصلہ کر کے اس پر عمل کرنا بھی غلط فعل ہے اور معاشرے میں ویسا ہی انتشار اور بدامنی پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے، جو بزور شمشیر اسلامی نظام نافذ کرنے کے نقطہ نظر سے بم دھماکے کرنے اور لوگوں کے مارنے کو جائز اور درست قرار دینے سے پیدا ہوتا ہے۔ مسلکی لحاظ سے اسلامی عقیدہ کے یہ دو گروہ دہشت گردی کے بارے میں مختلف رائے رکھنے کے باوجود عملی طور پر ایک ہی حکمت عملی پر گامزن نظر آتے ہیں۔
دریں حالات یہ جائزہ لینے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ کون سے عناصر ہیں جو دین کی ایسی تفہیم کو جائز سمجھتے ہیں جس سے گمراہ ہو کر ممتاز قادری جیسے لوگ قانون کو ہاتھ میں لینا دینی فریضہ سمجھنے لگتے ہیں۔ جب تک علما اور فقہا اس بات پر متفق نہیں ہوں گے کہ جرم کا ارتکاب قابل تعزیر ہے خواہ اس کے لئے مجرم کوئی بھی توجیہہ پیش کرنے کی کوشش کرے، اس وقت تک انتہا پسندانہ مذہبی مزاج کو ختم کرنا ممکن نہیں ہے۔ اس مقصد کے لئے اس بنیادی اصول کو تسلیم کرنا ضروری ہو گا کہ اسلام ایک معاشرہ کی تشکیل اور انتظام کا اہتمام کرتا ہے۔ اس انتظام میں وہ کسی فرد کی طرف سے خلل کو برداشت نہیں کرتا بلکہ اس کو روکنے کے لئے سزا مقرر کرتا ہے۔ اگر عقیدہ کی یہ مثبت اور تعمیری تفہیم عام ہو سکے اور ملک کے علما ، مبلغ ، امام اور پیشوا اس کے مطابق اپنے ماننے والوں کو ضابطوں اور اصولوں پر عمل کرنے کی تلقین کرنے لگیں تب ہی سماج میں مذہبی تقاضوں کے لئے جرم کرنے کا رجحان بھی کم ہو سکتا ہے اور انتہا پسندانہ رویوں کی روک تھام بھی ہو سکتی ہے۔ ممتاز قادری کی سزا کو بنیاد بنا کر جو لوگ مظاہرے اور احتجاج کریں گے وہ حرمت دین کے نعرے بلند کر رہے ہوں گے۔ لیکن انہیں سوچنا ہو گا کہ کیا یہ دین ایک ایسی لاقانونیت کی تبلیغ کرتا ہے جہاں ایک فرد ہی مدعی ہے، قاضی بھی اور فیصلے پر عمل کی ذمہ داری بھی اسی پر عائد ہوتی ہے۔ ایسا طریقہ کار نہ اسلام کا تقاضہ ہے اور نہ ہی اس طریقہ پر عمل کرنے سے کوئی سماج استوار ہو سکتا ہے۔ اس حوالے سے یہ دلیل بھی قابل قبول نہیں ہے کہ ملک میں اسلامی نظام یا اسلامی حکومت نہیں ہے۔ ملک کا آئین متفقہ ہے اور اس کے مطابق تمام قوانین شریعت کے مطابق ہی بنائے جا سکتے ہیں۔ ایسے آئین کے تحت قائم حکومت یا نظام غیر اسلامی نہیں ہو سکتا۔
اس بحث سے قطع نظر ان سب لوگوں کو احتجاج کرنے کا حق حاصل ہے جو ممتاز قادری کی سزا اور اس پر عملدرآمد کو غلط سمجھتے ہیں لیکن انہیں یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ یہ حق بھی انہیں ملک کا وہی آئین اور نظام ہی عطا کرتا ہے جسے گرانے کی کوشش کرنے کی پاداش میں ممتاز قادری کو سزا دی گئی ہے۔ اسی لئے اس سزا پر عمل کے بعد خبروں کی ترسیل پر سرکاری کنٹرول کو مسترد کرنا ضروری ہے۔ یہ طریقہ کار ریاست کے اختیار کا غیر ضروری استعمال ، ایک جائز حق سے انکار اور اظہار رائے کے حق پر حملہ کے مترادف ہے۔ جن میڈیا ہاﺅسز نے ادارتی پالیسی کی بجائے سرکاری احکامات سے خوفزدہ ہو کر ممتاز قادری کی سزا کی خبر کو ” ڈاﺅن پلے“ کیا یا مظاہروں و احتجاج اور مخالفانہ بیانات کو نشر کرنے سے گریز کیا وہ بھی آزادئ اظہار کے اصول کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ صحافتی ادارے سرکاری بریفنگ کی بجائے ادارتی ذہانت کی بنیاد پر فیصلے کرتے ہیں۔ اسی طرح ملک میں مثبت روایت ، اختلاف کرنے اور اسے برداشت کرنے کا حوصلہ اور جمہوری اقدار فروغ پا سکتی ہیں۔ اس عمل میں صرف ایک گروہ سے تقاضہ کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم خود اپنی ذمہ داری سے گریز کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔
کسی بھی واقعہ یا سانحہ پر بحث اور اختلاف بری بات نہیں ہے لیکن اپنی رائے کو اٹل حقیقت قرار دینا غلط رویہ ہے۔ ممتاز قادری اپنے انجام کو پہنچا۔ اس سے کسی کو پرخاش نہیں ہے۔ اس لئے اس کی حمایت یا مخالفت کرنے کی بجائے اگر اس اصول پر بات کی جائے تو بہتر ہو گا کہ اس کا طریقہ غلط تھا یا درست۔ ملک کا نظام اسے غلط قرار دے چکا ہے۔ جو لوگ ممتاز قادری کے طریقے کو درست سمجھتے ہیں، انہیں نظام کی تبدیلی کے لئے تسلیم شدہ اصولوں کے تحت کوشش کرنی چاہئے۔ بصورت دیگر انتشار، بدامنی ، افتراق اور انارکی پیدا ہو گی جس کی اجازت نہ دین دیتا ہے اور نہ ہی مملکت پاکستان کا نظام اس کا حامی ہے۔

Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 410 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

2 thoughts on “ممتاز قادری کی موت: انتشار کا راستہ؟

  • 01-03-2016 at 4:01 pm
    Permalink

    بہت خوب جناب

    • 01-03-2016 at 6:45 pm
      Permalink

      Very good and balanced Article…Well done Syed Mujahid Ali..

Comments are closed.