اک قتل جو میں نہ کر سکا


\"inam-rana\"

سلمان تاثیر انسانوں کے بنائے قانون کو کالا قانون کہہ کر توہین رسالت کا مرتکب ہوا یا نہیں؟ سلمان تاثیر کا گورنر ہوتے ہوئے، لاہوری زبان میں، خوامخواہ \”رنگ بازیاں\” کرنا درست طرز عمل تھا یا نہیں؟ کسی مولوی کی جذباتی تقریر کے زیر اثر اپنے ہی زیر حفاظت کو قتل کر کے ممتاز قادری نے حلف سے غداری کی یا نہیں؟ قانون کے موجود ہوتے ہوے اگر اشخاص نے سزائیں دینی شروع کر دیں تو کوئی بھی فرقہ دوسرے کے ہاتھوں بچے گا کہ نہیں؟ اور سارے قضیے میں میڈیا کی ہیجان انگیزیوں نے کیا کردار ادا کیا؟ یہ سوالات اتنے گنجلک اور الجھے ہوے ہیں کہ جوابات فقط مزید تناؤ کا باعث بنتے ہیں۔ میں تو ایسے میں ایک آپ بیتی سناؤں گا۔ ایک قتل کی، جو میں نہ کر سکا۔

ہم تین دوست کسی محفل میں تھے کہ ایک صاحب نے حضورؐ کی شان میں گستاخی کی جسارت کی۔ ہم صم بکم ان کا منہ دیکھیں اور وہ تھے کہ حضورؐ کی نجی زندگی پر بے دریغ اشاروں اور زبان سے بکواس کرتے جائیں۔ ہم محفل سے نکل گئے۔ کوئی سترہ اٹھارہ سال کی عمر تھی۔ رات تکلیف اور اس شرمندگی میں گزری کہ ہماری غیرت نے موقع پر ہی سزا کیوں نہ دی اس گستاخ کو، لعنت ہم پر کہ کتنے بے غیرت ہیں ہم۔

دوسرے دن باقی دونوں بھی اسی حالت میں ملے اور یہ فیصلہ ہوا کہ غازی علم دین شہید مشعل راہ ہیں۔ اب دیر گئے تک قتل کی منصوبہ بندی ہوئی اور تینوں شھید ناموسِ رسالت ہونے کی آرزو لیے گھر واپس آئے۔ اگلے دن اک دوست نے کہا یارو میرے عشق پہ شک نہ کرنا، پر بہتر ہو گا کہ فتوی لے لیں تاکہ ضمیر مطمئن رہیں۔ سو ہم تینوں پہنچے جامعہ اشرفیہ اور وہاں ہم جا ٹکرائے کچھ حضرات کے ہمراہ چہل قدمی کرتے مرحوم حضرت عبدا لرحمٰن اشرفی (اللہ مغفرت کرے اور انعامات عطا فرمائیں۔ آمین) سے۔

حضرت ہم ایک صاحب کو قتل کرنا چاہتے ہیں اور آپ کی اجازت درکار ہے۔ حیرت بھری آنکھوں سمیت فرمایا کیوں جی؟ جی اس نے توہینِ رسالت کی ہے۔ اب حضرت نے جیسے اطمینان کی سانس لی اور مسکرا کر کہا ’اچھا؟ کیا کہا تو اس بدبخت نے؟‘ ہم جھجکے کہ جی ہم کیسے کہیں۔ کہا نہیں مجھے بتاوَ تو تم پر گناہ نہیں ہو گا۔ اب ہم آنسو بھری آنکھـوں سے بول رہے ہیں کہ جی یہ کہا، جی یہ بھی اور ہاں حضرت یہ بھی تو کہا۔ فرمایا اجی توہین کہاں وہ تو حضورؐ کی مدح کر رہا تھا۔ ہیں جی؟ اب کے ہم تینوں ہونق ہو کر بولے۔ ارشاد ہوا، بھئی بات کو دیکھـنے کا دوسرا طریقہ بھی تو ہے اور اس کے بعد گستاخی سے مدح کچھ یوں برآمد کی کہ ہم واہ واہ کر اٹھے۔

پھر فرمایا، ’میرے بچو، بعض دفعہ ان پڑھ اور بے عقل لوگ جہالت میں غلط الفاظ استعمال کر جاتے ہیں۔ اس لیئے معاف کرنا بہترین عمل ہے۔ اور ہم حضورؐ کے امتی ہیں، ہمارا کام مارنا نہیں معاف کرنا ہے۔ ارے ذرا ادھـر تو آؤ، مجھ سے گلے ملو، واہ واہ آج کے دور میں کتنے اچھے نوجوان ہیں‘۔ ہم باری باری حضرت کے گلے لگ گئے اور یوں لگا جیسے کسی نے آگ پر پانی برسا دیا ہو۔

کاش ممتاز قادری کو کوئی عبدالرحمن اشرفی ہی مل جاتا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضرور نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 36 posts and counting.See all posts by inam-rana

10 thoughts on “اک قتل جو میں نہ کر سکا

  • 01-03-2016 at 5:03 pm
    Permalink

    سر وہ عبدالرحمٰن صاحب کی تشریح بھی بیان فرما دیں جو انھوں نے کی۔

  • 01-03-2016 at 5:54 pm
    Permalink

    I dont’t want to know what Asharafi Sb said to you. Its enough that he wisely transofrmed your heart and brain. Allah Unn Par Raham Farmaye.

  • 01-03-2016 at 6:11 pm
    Permalink

    آمین

  • 01-03-2016 at 7:37 pm
    Permalink

    بہت عمدہ ،مگر یہ الفاظ الگ الگ کیوں شائع ہوئے ہیں، پڑھنا دوبھر ہوگیا ہے، بڑی کوفت ہوتی ہے، اسے ٹھیک کرنا چاہیے۔

  • 01-03-2016 at 8:27 pm
    Permalink

    بہت عمدہ۔

  • 01-03-2016 at 10:30 pm
    Permalink

    خوبصورت!

  • 02-03-2016 at 12:48 am
    Permalink

    سر شاید سائٹ اپلوڈ میں مسلئہ آیا۔ یا شاید میں نے اسکو ٹائپ کسی عربی ایپ پر کیا اس لیے۔

  • 02-03-2016 at 1:24 am
    Permalink

    ؔبہہ چکا ہے خون پانی کی طرح انسان کا
    معتدل پھر بھی مزاج عالم فانی نہیں
    سیماب اکبرآبادی
    اعتدال کی دہائی دیتے لوگ اور ہماری شتاب طبیعت، دونوں لگا نہیں کھاتے۔ اب اس بابت کیا کہیں کہ قصہ زمین بر سر زمین کی روایت ہمارے اجتماعی سرشت کا ایک نمایاں پہلو ہے ۔ مجھ جیسے کم علم عشق کی سرمستی میں حرمتِ محبوب کا مطلب ہر اس رویے کا خاتمہ بلجبر سمجھتے ہیں جو ہمارے مزاج سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔
    سمجھنے کی بات یہ ہے کہ عنفوانِ عدل اپنی فطرت میں مقتدرہ کا نہیں بلکہ فرد کا ذمہ ہے، ہونا تو یہ چاہیے کہ انسان انصاف کی کھاٹ سب سے پہلے اپنے ضمیر کے آنگن میں بچھا کر تنقیہ نفس کرے کہ کس برتے پہ وہ دوسروں کی اور پتھر اچھالنے پہ اتاولا ہوا جاتا ہے۔
    انعام رانا خوشنصیب تھے کہ انہیں ایک عالم با عمل کی راہنمائی نصیب ہوئی ورنہ یا تو وہ کسی پنج ستارہ کوٹھری میں اپنے انجام کا انتظار کر رہے ہوتے یا پھر ان کے جنازے پہ منڈلاتے کَر گَس اپنے اپنے رزق کا حصہ پا رہے ہوتے۔
    علی بابا

  • 02-03-2016 at 10:17 am
    Permalink

    lekin salman taseer koi jahil, admi nahin tha , wo governor tha . is lye ye mantaq yahan paste nahin ki ja sakti.

  • 03-03-2016 at 12:59 am
    Permalink

    Story Achi banai hai….magar……..merey bhai……Mumtaz qadri ki phansi K pechey kya mansha hai humari hukumat ki aur kitne paise leay hain is jald bazi K……..:) yaar ek baat tu batao……Reymond devis ki phansi main itni jald bazi agar humri hukumat dekha deti tu yehi haal hota un america aur us k ghulaamo ka ….JO Aaj hum Musalmaano ka ho raha hai…….:)

Comments are closed.