کیا قوم کو تقسیم کرنا اور جذبات مشتعل کرنا ضروری ہے؟


adnan Kakar

آپ ممتاز قادری کے خلاف ہو سکتے ہیں اور یہ سوچ سکتے ہیں کہ ریاست نے درست کیا۔
آپ ممتاز قادری کے عمل کے حق میں ہو سکتے ہیں اور یہ سوچ سکتے ہیں کہ ممتاز قادری نے بھی اپنا فرض ادا کیا اور ریاست نے بھی اپنا فرض ادا کیا۔
آپ ممتاز قادری کے حق میں ہو سکتے ہیں اور یہ گمان رکھ سکتے ہیں کہ ریاست نے غلط کیا۔

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ممتاز قادری نے غلط کیا، تو ریاستی قانون نے اسے اس غلطی کی سزا دے دی ہے۔ پھر اشتعال پھیلا کر آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟خاکسار تو نہیں، لیکن لبرل ازم کے بہت سے داعی تو سزائے موت کے بالکل ہی خلاف ہیں اور اسے ختم کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ سزائے موت کے مخالف لبرلز میں سے ہیں تو پھر تو ویسے ہی پھانسی پر خوش ہونا آپ کے اپنے نظریات کے خلاف ہے۔ جو حالت غم میں ہیں، انہیں سکون سے غم سے نبرد آزما ہونے دیں۔

دشمن مرے تے خوشی نی کریے ہوے سجنا وی مر جانا

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ممتاز قادری نے درست کیا، اور وہ جنتی ہے، تو اب ہنگامے کرنے سے وہ واپس نہیں آئے گا۔ ممتاز قادری کی نماز جنازہ پڑھیں، مغفرت کی دعا کریں۔ جب اگلا الیکشن آئے تو ووٹ کا فیصلہ کرتے ہوئے اس بات کو یاد رکھیں۔ کیا توڑ پھوڑ کرنا اور دوسرے کیمپ پر حملے کرنا ضروری ہے؟ اگر آپ کے خیال میں اسے اس دیس کی عدالت سے انصاف نہیں ملا ہے تو اب قاتل و مقتول دونوں ہی منصف حقیقی کی عدالت میں ہیں اور وہاں بجز انصاف کے کچھ نہیں ہو گا۔ بس یہ خیال رکھیں کہ غم کہیں فتنے میں نہ بدل جائے۔

اور فتنہ قتل سے بھی کہیں بڑھ کر ہے

 لیکن، آپ کا جو بھی نقطہ نگاہ ہو، ایک موت کا احترام کرنا بہتر ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 324 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

4 thoughts on “کیا قوم کو تقسیم کرنا اور جذبات مشتعل کرنا ضروری ہے؟

  • 01-03-2016 at 4:54 pm
    Permalink

    بہترین متوازن تحریر

  • 01-03-2016 at 7:06 pm
    Permalink

    متوازن بات کی ، بہت خوب۔

  • 02-03-2016 at 5:15 pm
    Permalink

    اچھی بات کہی عدنان کاکڑ صاحب نے۔ہمیں اسی احساس کی ضرورت ہے۔

Comments are closed.