مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے


farnoodیہ دل آج کی صبح ممتاز قادری کے لئے اتنا ہی اداس ہے جتنا کہ اس شام اداس تھا جب سلمان تاثیر کا سینہ چھلنی کیا گیا تھا۔ سلمان تاثیر کو ماردیا گیا تھا اور ممتاز قادری کو مروا دیا گیا ہے۔ جنہوں نے مارا جنہوں نے مروایا ان کے چہرے واضح ہیں۔ وہ آج کی صبح اپنے سگے بچوں کو ڈرائیور کے ساتھ کالج اور یونیورسٹی روانہ کر کے راولپنڈی پہنچ چکے ہیں، تاکہ اپنے روحانی بچوں کو برانگیختہ کرنے کا فریضہ انجام دے سکیں۔ فرصت میں ہوں تو دیکھ لیجیئے گا۔

1929 ء میں لاہور کے ایک پبلشر راج پال نے توہین آمیز مواد پہ مبنی ایک اشتعال انگیز کتاب شائع کی۔ اگرچہ انگریز سرکار نے راج پال کو چھ ماہ کی سزا سنائی، مگر اشتعال کی بلائیں چھ ماہ کے وظیفے سے کہاں ٹلتی ہیں۔ ایشیا کے بڑے خطیب اور جری راہنما سید عطاو ¿اللہ شاہ بخاری نے ایک تقریر میں گرج برس کر کہا

”میں دیکھ رہا ہوں کہ امی عائشہؓ میرے سامنے کھڑی ہیں، رو رہی ہیں اور مجھ سے کہہ رہی ہیں کہ محمدﷺ کے نام لیوا موجود ہیں اور راج پال ملعون ابھی تک زندہ ہے؟ تم لوگ روز حشر اپنے نبی کو کیا جواب دوگے؟“

سید عطا اللہ شاہ بخاری کی معجز بیانی برف کی سلوں میں آگ لگا دیا کرتی تھی، ایک زندہ وجود ان کی للکار کی تاب کہاں لاسکتا تھا۔ پھر ایسے وجود کہاں اپنے آپ میں رہ سکتے ہیں جن کے شعور اور لاشعور پہ جذبات کے سوا کسی دوسری جنس کا بسیرا ہی نہ ہو۔ ابھی شاہ صاحب کی وجد آفرینیاں جاری تھیں کہ غازی علم الدین کی داڑھ گرم ہوگئی، گھر کی راہ لی، خنجر کو دھار لگائی، راج پال کی دکان پہ پہنچا اور جذبہِ عشق ومستی کو خون پلا کر ہاتھ کھڑے کر دیئے۔ غازی علم الدین کو سزا ہوئی، تو شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا تھا ”ہم باتاں کرتے رہ گئے اور ترکھان کا بیٹا بازی لے گیا“۔

آج ابھی جب ایک ناخواندہ غریب باپ کے ناخواندہ غریب بیٹے کے جنازے کے لئے پنڈی میں صفیں ترتیب دی جارہی ہیں تو علامہ اقبال کا کہا بار بار یاد آرہا ہے۔ ایک سوال مسلسل تعاقب میں ہے کہ ہمیشہ ترکھان کے بچے ہی کیوں بازی لے جاتے ہیں، اور یہ کہ پیشوائے امت ہمیشہ باتیں ہی کرتے کیوں رہ جاتے ہیں۔ یہ تاریخ ہے کہ سیانے ہمیشہ اکسانے کے فرائض انجام دیتے ہیں اور کسی معصوم ماں کا سادہ لوح فرزند بے وجہ کی دہکتی آگ میں جھونک دیا جاتا ہے۔ سرمایہ دار جب افغان کوہساروں میں آخری معرکہ لڑ رہے تھے توحق وباطل کی ایک لکیر کھینچ دی گئی۔ معرکہ سر کرنے کو وہی پیشوا بروئے کار آئے جو پندار کے صنم کدے میں قیامت برپا کرنے کا ہنر جانتے تھے۔ چوک چوراہوں اور منبر ومحراب پر ”ایمان افروز” خطبے دینے والوں کی اکثریت انہی حلق پھاڑ خطیبوں کی تھی جو مفت کی تعلیم بھی ادھوری چھوڑ بھاگے تھے۔ کامل دس برس تک یہ چھانٹ چھانٹ کر صحیفوں سے جہاد کے فضائل نکال کر لاتے رہے۔ ہنگامی حالات میں جس زبان سے جو تشریح پھوٹی وہی مستند ٹھہر گئی۔ ان کے کہے پہ ماوں نے گلے سے زیور کھینچ کر نچھاور کیا۔ نوجوان ہجوم در ہجوم الجہاد الجہاد کے نعرے لگاتے ہوئے ہلمند وشبرغان پہنچے۔ اکثریت ان نوجوانوں کی تھی جنہیں قرآن وحدیث کی روشنی میں صاف صاف بتادیا گیا تھا کہ حق وباطل کے اس معرکے میں خون دینے کے لئے والدین سے اجازت لینا اپنی عاقبت برباد کرنے والی بات ہے۔ حورانِ بہشت کی لوٹ سیل لگی ہے، جو پہلے آئے گا وہ پہلے پائے گا۔ جو نوجوان مارے گئے، جہاں تھے وہیں زمین میں گاڑ دیئے گئے۔ جو زخمی ہوئے، وہ واپس انہی ماؤں کے متھے مار دیئے گئے، جن سے اجازت لینے کی اجازت نہیں تھی۔ پیشوا خود کہاں کھڑے تھے؟ زنان خانوں میں اپنے بچوں کو بٹھا کر کچھ نایاب حدیثیں سنا رہے تھے۔ یہ امت کے کچھ خاص بچے تھے جن کے لئے والدین کی حکم عدولی گویا خدا کے کسی فرمان سے روگردانی تھی۔ سینکڑوں علما جو امت کے نوجوانوں کو جہاد کے لئے اکسارہے تھے، خود انہیں افغانستان جانا کب نصیب ہوا، خبر ہے؟ ہم بتلائیں کیا۔؟ یہ سینکڑوں علمائے کرام تب افغانستان گئے جب ان کی اپنی اولاد بن بتائے افغانستان پہنچ گئی۔ بیٹوں کی تصویریں جیب میں لیئے پھرتے تھے، فارسی کا ایک جملہ رٹے ہوئے تھے، ہر کماندان کو تصویر دکھاکر پوچھا کرتے تھے ”آغا ایں پسرِ ما کجا است؟“ حضور میرا یہ بچہ کہاں ملے گا؟ بچہ ہاتھ لگتے ہی گدی سے دبوچتے، اور غصے میں پوچھتے ”تمہیں احساس بھی ہے کہ تم اپنی بیمار ماں اور بوڑھے باپ کو کس حال میں چھوڑ کر آئے ہو؟“۔ دوسری طرف اپنا بچہ کراچی کے مدرسے میں بھیجنے والی مظفر گڑھ کی مائی رحمت دس ماہ بعد اپنی آنکھیں بیٹے کے لئے پگڈنڈیوں پہ بچھائی کھڑی تھی کہ نامہ بر چلا آیا۔ رنجیدگی سے خط پڑھ کر سنایا گیا کہ مائی آپ کا بچہ افغانستان میں شہید ہوگیا ہے۔ اپنی اولاد کو چار آسیاب کے مورچوں سے گھسیٹ لانے والے شیخ مائی کے پاس پہنچے اور دلاسہ دیا کہ اماں۔! پریشان نہ تھی ، تیرا پتر قیامت دے ڈینھ ستر بندیاں کو بخشویسی“۔ ماں! پریشان مت ہو تمہارا بچہ آخرت میں ستر افراد کی بخشش کروائے گا۔ یعنی کہ

ہم ایسے سادہ دلوں کو وہ دوست ہو کہ خدا

سبھی نے وعدہِ فردا پہ ٹال رکھا ہے

چلیئے اگر مجھے کل پہ ٹال رہے ہیں تو خود کیوں نہیں ٹل جاتے؟ اور پھر یہ آپ کے بچے؟ میرا حساب روزِ حشر اور جناب کا معاملہ کھڑے کھلوتے؟ میرے حصے میں آزمائشیں اور آپ کے لئے آسائشیں؟ دیکھیے اب علامہ اقبال یاد آگئے

ہم کو تو میسر نہیں مٹی کا دیا بھی

گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن

اہلِ تشیع کی مجلسوں میں جانا میرا پرانا مشغلہ ہے، کہ اسے میں بر صغیر کی روایت جانتا ہوں۔ عطاواللہ عیسی خیلوی کا ”قمیض تیڈی کالی” ہو یا پھر نوحہ خواں ندیم سرور کا ”لبیک یا حسین“ ہو، دونوں شوق کی تسکین کا برابر سامان کرتے ہیں۔ بم دھماکوں میں جی کو لگانے کی ہر ممکن تدبیر توکی، مگر طبعیت کو شبِ برات کے پٹاخے ہی راس آئے۔ وہ وقت میری یادوں سے کسی جونک کی طرح چمٹاہوا ہے جب سنی بھی سبیلیں لگایا کرتے تھے۔ اب تو شیعہ بھی لگا لیں تو غنیمت ہی جانیئے۔ کراچی میں ایک بار سلمان ربانی کے ساتھ مرکزی جلوس میں گئے، دھر لیئے گئے۔ چھوڑے گئے تو مشکل سے پہچانے گئے۔ بتانا یہ ہے کہ جانا پھر بھی نہیں چھوڑا۔ اب اسلام آباد شفٹ ہوگیا ہوں تو سبوخ سید کی معیت میں اور امجد عباس کی قیادت میں یہ سلسلہ جاری ہے۔ عزاداری کے اس طویل مشاہدے میں ایک بات قطعا سمجھ نہ آئی کہ یہ ماتم اگر عاشورہ کا ایسا ہی جزِ لاینفک ہے، تو قبا پوش علمائے کرام اور دستار بند مشائخ عظام یہ تکلف کیوں نہیں فرماتے؟ قصائی کا بچہ تو جگر چاک کر بیٹھتا ہے اور صاحبزادوں کے گریبان تک پہ سلوٹیں نہیں آتیں۔ ایسا کیوں ہے کہ دین کے بہت ہی بنیادی سے فرائض کے معاملے میں گفتار کا ذمہ پیشواو ¿ں نے اپنے سر لے لیا ہے اور عملی کردار ترکھان کے بچوں کو سونپ دیا ہے؟ کیا راولپنڈی کے ایک منبر سے چیختے چلاتے کسی مفتی حنیف قریشی کا فرض منصبی یہی رہ گیا کہ وہ دو وقت کی روٹی کے لئے جوتیاں چٹخاتے کسی ناخواندہ ممتاز قادری کو قتل پہ اکساکر سولی تک پہنچاتا پھرے؟ یعنی خود تو آپ پتنگ پہ لنگڑ ڈالنے کے روادار بھی نہیں اور معصوم نوجوانوں کو ستاروں پہ کمند ڈالنے کا ہنر سکھانے پہ کمر بستہ رہیں؟ مگر نوجوان ہیں کہ پل دو پل کو رک کر غور نہیں کرتے کہ الٰہی یہ ماجرا کیا ہے۔

کیا میں یہ کہنا چاہ رہا ہوں کہ وہ سارے جعلی منجن جو مذہب کی پیکنگ میں دستیاب ہیں، وہ اگر مشائخ خود استعمال کرلیں تو ہم اسے جائز مان لیں گے؟ نہیں، ایسا نہیں ہے۔ جو ناجائز ہے وہ بہرطور ناجائز ہی ہے۔ اس کھلے تضاد کو سامنے رکھنے کا مقصد صرف نوجوانوں پہ یہ واضح کرنا ہے کہ بات در اصل وہ نہیں ہے جو آپ کو پڑھائی گئی ہے۔ بات دراصل وہ ہے جو آپ سے چھپائی گئی ہے۔ سچی بات تو وہ ہے جو مشائخ اپنی سگی اولادوں کو پڑھاتے ہیں۔ یہ جو آپ کو بتلائی گئی ہے یہ تعبیر کی عالمانہ بنت کاری کے سوا کچھ نہیں ہے۔ افغان جہاد کے وقتوں میں تو چلیں بارود کی گھن گرج تھی کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی، مگر اب تو دیکھ لیجیئے کہ ا ±س وقت کس عیاری سے حدیث کا اگلا اور پچھلا حصہ کاٹ کرصرف بیچ کا حصہ سنایا جاتا تھا۔ یہی دیکھ لیجیئے کہ پینتس برس قبل افغانستان میں جس آیت کی تعبیر کچھ تھی، وہ دس برس قبل وزیرستان پہنچ کر کچھ سے کچھ کیوں ہوگئی۔ ٹھیک یہی معاملہ ان گستاخانِ رسول کا ہے۔ کچھ دیر کے لئے رک جایئے، پورے اطمینان سے غور کیجیئے کہ سید عطاو ¿ اللہ شاہ بخاری کی تقریر پر راج پال کی گردن اتارنے والا غازی علم الدین بریلوی مکتب فکر کے مسلمانوں کے لئے غیر اہم کیوں ہے؟ اسی طرح مفتی حنیف قریشی کی تقریر سن کر سلمان تاثیر کے سینے میں برسٹ اتارنے والا ممتازقادری دیوبندی مکتب فکر کے لئے ثانوی درجہ کیوں رکھتا ہے؟ تاریخ میں ایک اور نام غازی عبدالقیوم کا بھی ملتا ہے۔ اس نام کی برسی صرف بریلوی مکتب فکر کیوں مناتا ہے؟ ان سوالوں کا اہلِ مذہب کے پاس صرف ایک ہی جواب رہا ہے کہ خدا چاہے تو گناہ گاروں سے بھی دین کا کام لے لیتا ہے۔ لاحول ولاقوہ۔ سوچتا ہوں کہ اگر خدا نہ ہوتا تو صحیفے بیچ کھانے والے وظیفہ خوار کہاں کی روٹی توڑتے۔ سوچیئے اور بار بار سوچیئے کہ گستاخوں کی گردنیں اتارنے کے لئے اور خود کش حملوں کے لئے ترکھان موچی چوکیدار، ڈرائیور اور خوانچہ فروش اور خانسامے کا ناخواندہ بیٹا ہی کیوں بروئے کار آتا ہے؟ ظاہر ہے پڑھا لکھا دماغ دنیاداری کا ادراک رکھتا ہے۔ غیر شعوری طور پہ ہی سہی، وہ سیانوں کا طریقہ واردات سمجھتا ہے۔ تعبیر کی الجھنوں میں الجھ تو جاتا ہے، مگر وقت لگتا ہے۔

ممتاز قادری کی پھانسی یوں تو ایک نئے وقت کی صورت گری ہے، مگر بات وہی ہے کہ مجنوں جو مرگیا ہے تو جنگل اداس ہے۔ قیامت کا دکھ پھر یہ ہے کہ آج وہ مشائخ بیک آواز نوجوانوں سے مخاطب ہوں گے جن کی گردونوں پہ سلمان تاثیر اور ممتاز قادری دونوں کا ہی خون ہے۔ یہ کل بھی مطمئن تھے یہ آج بھی مطمئن ہیں۔ کیونکہ ممتاز قادری زندہ تھا تو ان کے لئے لاکھ کا تھا، اب مر گیا ہے تو سوا لاکھ کا ہوگیا۔ کفن فروش اس کے مزار کی چادریں بیچ کر کھاتے رہیں گے، مگر کیا یہ نوجوان بھی کچھ سوچیں گے؟ شاید کہ سوچ لیں، مشکل مگر یہ ہے کہ مشائخ نے یہ بات صحیفوں سے ثابت کردی ہے کہ مذہب کے دائروں میں سوچنا قطعی حرام ہے۔ ٹھیک ہے میرا نہیں بنتا تو نہ بن، اپنا تو بن۔


Comments

FB Login Required - comments

29 thoughts on “مجنوں جو مر گیا ہے تو جنگل اداس ہے

  • 01-03-2016 at 4:51 pm
    Permalink

    بہت عمدہ

  • 01-03-2016 at 5:13 pm
    Permalink

    تضادات کا مجموعہ بنتا جا رہا ہے یہ میرا معاشرہ
    کہیں قاتل کے وکیل ہیں تو کہیں مقتول شناخت

  • 01-03-2016 at 5:41 pm
    Permalink

    no sympathy with salman taseer sorry

  • 01-03-2016 at 6:31 pm
    Permalink

    بہت خوب ، شاندار ۔ اس پر ایک بھرپور کمنٹ کے ساتھ اپنی وال پر شئیر کر رہا ہوں۔ جیتے رہیے، خوش رہیے۔

  • 01-03-2016 at 6:47 pm
    Permalink

    مجھے راھزنوں سے گلہ نہیں تیری راہبری پہ سوال ہے۔

  • 01-03-2016 at 6:51 pm
    Permalink

    ایک صاحب نے بتایا کہ انہوں نے ایک مجلس میں امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد صاحب سے بھی یہ سوال کیا تھا کہ دوسروں کے بچوں کو تو آپ جہاد پر بھجوانے کا درس دیتے ہیں اور آپ کے بچے امریکہ میں پڑھ رہے ہیں تو قاضی صاحب نے فرمایا کہ آپ کا بھائی ہے بلا لو اسے مجھے اعتراض نہیں۔
    لیکن بات وہی کہ اپنے بچوں کو تو”کفار ” کے پاس اعلی تعلیم کے لئے بھجواتے ہیں اور ہم عامیوں ،عاصیوں کو چنت کی امید دلا کر مروا دیتے ہیں

    • 02-03-2016 at 12:49 pm
      Permalink

      میں اسکا جواب یوں دوں گا کہ دن رات عربوں کو وہابی کہ کر گالیں دیتے ہو اور پھر تم اور کفار انکا تیل بھی استعمال کرتے ہو۔

  • 01-03-2016 at 8:57 pm
    Permalink

    umda

  • 01-03-2016 at 10:06 pm
    Permalink

    فرنود صاحب! آپکے بارے عامر خاکوانی صاحب کے الفاظ جو انہوں نے آپ کا کالم شئیر کرتے وقت لکھے، میرے بھی عین وہی خیالات ہیں۔۔۔۔۔ بہت خوب لکھا آپ نے۔۔۔۔۔ ذہن کو جھنجھوڑتی اور سوچنے پر مجبور کرتی خوبصورت تحریر!! ماشاء اللہ

  • Pingback: Love (Hate) Story: 4 Jan 2011 – 29 Feb 2016 | Madd o Jazar

  • 01-03-2016 at 10:27 pm
    Permalink

    Marvelous ,superb, amazing words

  • 01-03-2016 at 10:51 pm
    Permalink

    سلامت رہیں فرنود بھائی! بہت ہی عمدہ تحریر۔ دیر سے پڑھی مگر شکر ہے کہ محروم نہ رہا!

  • 01-03-2016 at 10:58 pm
    Permalink

    اور ان صاحب سے یہ بھی پوچھ لیں کہ خدا نہ ہونے کا کیا مطلب اور نعوذباللہ خدا نہ ہوتا تو اس جیسے دانشوڑ وجود میں آ پاتے؟؟

  • 01-03-2016 at 11:48 pm
    Permalink

    کٹھ ملوں کی سیاست ہمیشہ منفی جذبے کی ترویج، منفی سوچ کی تبلیغ اور منفی اندازِ فکر کی پرداخت پر مبنی ہوتی ہے۔ یہ اسلئے کہ ان “عالموں” کو علم چھو کر بھی نہیں گزرتی ہے۔ ایسے “علما” علم کو رٹنے، دہرانے اور بہ آوازبلند دہرانے کی ورزش کی وجہ سے فکری فالج کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کی سوچ جامد ہوتی ہے۔ یہ تاریخ کے غلام ہوتے ہیں۔ یہ ہمیشہ روایات کو توڑنے کی ہوہ ہاہ کرتے ہیں لیکن خود ایسے قبیح روایت پسندی کا شکار ہوتے ہیں کہ انہیں اپنے فکری اور ذہنی وجود کے گر بُنا شفاف خول کی جھلک بھی نظر نہیں آتی ہے۔

    یہ مداری نما مذہبی سیاسی رہنما اپنی کم علمی پر پردہ ڈالنے کے لئے لوگوں کی جذبات کو برانگیختہ رکھنے کی کوئی نہ کوئی وجہ ڈھونڈ نکالتے ہیں۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ لوگوں کی آزادانہ سوچنے کی صلاحیت ختم ہو، کیونکہ اگر آزادی فکر ہو تو ان کے مکروہ وجود سے فورا ہی کسی بھی ذی حس کو کراہت آنے لگتی ہے۔

    ان کا علاج پھانسی نہیں، کیونکہ پھانسی سے ان کے ہاتھ “سوا لاکھ” کا ہاتھی لگ جاتا ہے۔

    ان کا حل یہ ہے کہ حکومت، ریاست، سماج اور معاشرہ ان کی فکری تنگدستی کے پھیلاو کو روکنے کے لئے یکجا ہو کر ان کی سیلِ غلاضت کے آگے بند باندھے۔ علمی اور عقلی جہاد کے علاوہ ان کٹھ ملاوں کا کوئی علاج نہیں ہے۔ یہ جہالت اور گمراہی کے پیداوار ہیں۔ ان کا علاج علم ہے۔ لیکن اس علاج کو کارگر ہونے میں وقت درکار ہوتا ہے۔ اور ہمارے پاس اس ملک میں وقت کی کوئی کمی نہیں ہے۔

  • 02-03-2016 at 12:07 am
    Permalink

    واہ مبشر اکرم صاحب، معذرت، فرنود عالم کیا خوب ترقی دی ہے مضمون کو۔ اور ہاں مبشر اکرم صاحب کو مبارک کہ ان کے مرکزی خیالوں والے مضمون کی بہت خوب تشریحات و توضیحات و تشریحات آنا شروع ہوگئی۔
    مُبارک ہو 🙂

  • 02-03-2016 at 12:39 am
    Permalink

    Spot on. very well written. The problem is we are taught that we are legends but world thinks we are crap. Its conflict between delusion and reality.

  • 02-03-2016 at 1:38 am
    Permalink

    آقا علیہ السلام اپنے جانثار صحابہ کی مجلس میں تشریف فرما تھے، چودھویں کے روشن چاندکے گرداگرد ستاروں کی حسین محفل۔۔۔ ایک قتل کا مقدمہ درپیش تھا، ایک باندی کو کسی نے قتل کردیا تھا اور قاتل کا کچھ پتہ نہ تھا، مقدمہ کی صورت حال پیچیدہ ہورہی تھی، جب کسی طرح قاتل کا نشان معلوم نہ ہوا تو آقا علیہ السلام نے اہل مجلس سے مخاطب ہوکر فرمایا:
    “انشد اللہ رجلا لی علیہ حق فعل ما فعل الا قام”
    “جس شخص نے بھی یہ کام کیا ہے، اور میرا اس پر حق ہے تو اسے میں اللہ کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ وہ کھڑا ہو جائے”
    آقا علیہ السلام کی زبان مبارک سے یہ الفاظ سن کر ایک نابینا شخص اس حالت میں کھڑا ہوگیا کہ اس کا بدن کانپ رہا تھا، اور کہنے لگا کہ:
    “یارسول اللہ میں اس کا قاتل ہوں، یہ میری ام ولد تھی اور اس کی میرے ساتھ بہت محبت اور رفاقت تھی، اس سے میرے دو موتیوں جیسے خوبصورت بچے بھی تھے، لیکن یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کیا کرتی اور آپ کو برا بھلا کہا کرتی تھی، میں اسے روکتا مگر یہ نہ رکتی، میں اسے دھمکاتا پریہ باز نہ آتی۔ کل رات اس نے آپ کا ذکر کیا اور آپ کی شان اقدس میں گستاخی کی تو میں نے ایک چھری اٹھائی اور اس کے پیٹ پر رکھ کر اس چھری پر اپنا بوجھ ڈال دیا یہاں تک کہ یہ مر گئی”
    نابینا صحابی یہ سارا واقعہ سنا کر خاموش ہو چکے تھے۔
    معاملہ بہت نازک اور کیس سیدھا سیدھا “دہشت گردی” بلکہ “فوجی عدالت” کا تھا۔
    ایک شخص نے “قانون ہاتھ میں لے لیا تھا۔”
    “از خود مدعی اور از خود جج” بنتے ہوئے ایک انسان کو قتل کردیا تھا۔۔
    “حکومت کی رٹ” چیلنج ہوچکی تھی۔
    حکومت بھی کسی راحیل، پرویز، زرداری یا نواز کی نہیں، خود سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی۔۔۔
    “محض مذہبی جذبات” کی بناء پر ایک انسان کو قتل کیا جاچکا تھا۔
    عدالت میں کوئی کیس، تھانے میں کوئی رپٹ درج کرائے بغیر۔۔۔۔۔!!
    “مذہبی جنونیت” کی روک تھام شاید بہت ضروری تھی اور “جذباتیت” کا قلع قمع بھی۔۔۔۔
    پھر وہ لب ہلے جو “ان ھو الا وحی یوحی” کی سند لئے ہوئے تھے۔
    جن کا ہلنا بھی وحی، جن کا خاموش رہنا بھی وحی تھا، جن سے نکلے ہوئے الفاظ قیامت تک کے لئے قانون بن جاتے تھے، جن کا غصہ بھی برحق اور جن کا رحم بھی برحق تھا، جو جان بوجھ کر باطل کہہ نہیں سکتے تھے اور خطا پر ان کا رب ان کو باقی رہنے نہیں دیتا تھا۔۔۔۔!!
    سب کان ہمہ تن گوش تھے
    فضاء میں ایک آواز گونجی، وہی آواز جو سراہا حق تھی۔۔۔
    “الا۔۔۔! اشھدوا۔۔۔! ان دمھا ھدر”
    “سنو۔۔۔! گواہ ہو جاؤ۔۔۔۔! اس لونڈی کا خون رائگاں ہے”
    (اس کا کوئی قصاص نہیں)
    (سنن نسائی، ابو داؤد، سندہ صحیح)

    • 02-03-2016 at 11:00 pm
      Permalink

      بھائی یہ احادیث اور واقعات کس کو سناتے ہیں یہاں تو لکھا ہی اس بنیاد پر جاتا ہے کہ پہلے مذہب کو بدنام کرو.. علماء مشائخ کو لعن طعن کرنے کے نام پر ثابت کرو کہ مذہب بالخصوص اسلام کا امن اور عمل سے کوئی تعلق نہیں اور لفظوں کا کھیل ایسا کھیلو کہ پڑھنے والا داد بھی دے اور مشائخ کو گالیاں دے کر دین سے بھی جائے اس کے نس نس میں نفرت بھر دو

    • 03-03-2016 at 9:30 am
      Permalink

      Iss tarah ki ahadees parhnay ka baad yedh samajhna mushkil ho jata hai k woh jo ek burhiya sarkar (SAAW) per kachra phenka karti thi…aur uski bemari per uski ayaadat ko jaatay thay…aur Taif ka waqia…jab logon k itnay sataanay per bhi baddd-dua na ki….to kia Madina mein Islamic state ka qiyaam say pehlay aur baad ka islam mukhtalif tha?

  • 02-03-2016 at 8:33 am
    Permalink

    بہت عمدہ تحریر

    یہ پارسا جو طریقت کی بات کرتے ہیں
    یہ داغ داغ ہیں، اپنا بچاؤ چاہتے ہیں
    بلال

  • 02-03-2016 at 12:56 pm
    Permalink

    ” تاریخ میں ایک اور نام غازی عبدالقیوم کا بھی ملتا ہے۔ اس نام کی برسی صرف بریلوی مکتب فکر کیوں مناتا ہے؟ ”

    فرنود صاحب کل تو دنیا نے یہ دیکھا کہ تمام مکاتب فکر اکٹھا تھے، قطع نظر کے غلط کام کے لئے یا صحیح۔ آپ ماضی کا رونا رو کر حال پر پانی پھیرنے کی سعی تو نہیں کررہے؟

    دوسرا اب جبکہ جنازہ نے سیکولر بیانیہ کا جنازہ نکال دیا ہے اور مغربی اخبار(کیونکہ پاکستانی آزاد میڈیا تو کل ایک بار پھر رکھیل کا کردار ادا کیا) نے یہ اعتراف کیا کہ قادری کے جنازہ میں لاکھوں کا جم غفیر یہ ثابت کرتا ہے کہ توہین رسالت کے قانون سے کھیلنا آسان نہیں، کیا یہ اخذ کیا جائے کے تمام پاکستانی مسلمان دہشتگرد کے حامی کیونکہ انہوں نے تمام اقسام کی “اسٹبلشمنٹ” کو “ہری جھنڈی” دکھادی؟

  • 02-03-2016 at 2:05 pm
    Permalink

    لگتا یوں ہے کہ یہ بے پیندہ تو ہے ہی ساتھ لوٹا بھی ہے۔اسی لیے سب کچھ گڈمڈ کر رہا ہے۔ہمیشہ پیادہ ہی سب سے آگے ہوتا ہے۔کسی بھی نظام کے اندر ہر انسان ہر کام نہیں کرتا اور اگر ایسے مان لیا جاۓ تو پھریہ حضرت ایک بچہ تو پیدا کر کے دکھائیں۔اساسی بات یہ ہے کہ رسول اللّٰہ کی ذاتِ گرامی،آپکی ناموس اور ختم نبوت ایک مسلمان کے لیے سب سے اہم ہے اور اگر کہیں سے ان امور کی طرفتوہین کا اندیشہ بھی ہو تو اسکے لیے سدّباب کرنا لازم ہے۔اسکے لیے کسی علامہ قاری حافظ بخاری یا قریشی کا انتظار نہیں کیا جاۓ گا۔جو کوئی بھیاس سعادت کو حاصل کر سکے وہی کامیاب ہے چاہے وہ کوئی ترکھان ہو اور چاہے سیّد۔

  • 02-03-2016 at 3:23 pm
    Permalink

    ھیک ہے میرا نہیں بنتا تو نہ بن، اپنا تو بن۔ GEO . Dada …… darya ko kooze m band kar dia …… but damagh to abhi bi boiling poit cross kar rahe hn logun k . ye bat samjne m 25 years aur lage ge aur 25000 qadri peda ho chuke hn ge

  • 02-03-2016 at 4:59 pm
    Permalink

    Justice is served… Good enough for me.

  • 02-03-2016 at 9:15 pm
    Permalink

    ais tera to operation zarb e azab ma b poor soilders shaheed ho raha ha aus ka bara ma ky kahe ga app log .MNAs ka beta shaheed ne hota

  • 03-03-2016 at 9:23 am
    Permalink

    بہت خوب لکھاہے،دیرگاہ سلامت رہیں اورفریضہ سمجھ کرایسی تحریریں لکھتے رہیں۔اورہم سب کاش بصارت کی بجاءے بصیرت سے دیکھنے کاہنرسیکھ لیں۔

  • 12-04-2016 at 10:41 pm
    Permalink

    Farnood Alam sahib boht dinon se ghaeyb hain koi ata pta maloom ho to please bta dain k aub kidr ziyart hogi jnab ki

Comments are closed.