ہاں میں بزدل ہوں


zafar kakarبرطانوی ناول نگار فریڈریک مریات نے اپنی کہانی ’ کرہ قمر کا ایک سفر‘ میں اندھیرے کی مشین دیکھی تھی۔ منشور سے نکلنی والی روشن شعاعیں اندھیرے کی مشین بوتلوں میں ڈال کر قید کرتی تھی۔ ابتدائی انسان کی سب سے بڑی جدو جہد آگ جلانے کی تھی۔ جدید انسان کی محنت کی انتہا اندھیری راتوں کو منور کرنے کی ہے۔ ایک مصور جب کوئی شاہکار تخلیق کرتا ہے تو روشنی کے شیڈ ہی اس کے فن پارے کو لازوال بناتے ہیں۔ ایک شاعر کو اندھیرا ہٹانے کے لئے خورشید آستینوں والوں کو آواز دینی پڑتی ہے۔ دانتے ’ڈیوائن کامیڈی ‘میں اندھیروں سے نبرد آزما ہے۔ روشنی کی تلاش میں شیکسپئیر کو ’ اندھیرے کا شہزادہ‘ تخلیق کرنا پڑتا ہے۔ صدیوں کی تاریخ گواہ ہے کہ انسان نے کبھی اندھیرے کو پسند نہیں کیا۔ اندھیرا کس کو پسند ہے؟ دانش کا مگر میدان دوسرا ہے۔ دانشور دلیل سے اپنی بات کرتا ہے۔ کہتے ہیں دانشور کا کام سچ بولنا ہے۔ اسے اس غرض نہیں ہے کہ حالات کیا ہیں۔ وہ سچ کا علمبردار ہے اور سچ بولتا رہے گا۔ اس پیمانے پر دیکھا جائے تو فریڈریک مریات کو کہا جائے گا کہ صاحب اندھیرے کی مشین تو ٹھیک ہے لیکن کیا آپ کو معلوم ہے کہ اندھیرا کچھ نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ نظر آنے والی روشنی جب صفر ہو تو اس کو اندھیرا کہتے ہیں۔ ساغر صدیقی کو بتایا جائے گا کہ جناب والا پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ خورشید آستینوں والے کہیں نہیں پائے جاتے اور دوسری بات یہ ہے کہ انسانی آنکھ جب سفید سے سیاہ کے اسکیل پر کوئی رنگ نہ دیکھ سکے تو اسے اندھیرا کہتے ہیں۔ دانتے کو آج کا سائنس بلد دانشور بتائے گا کہ فوٹونز کے نظر نہ آنے کو اندھیرا کہتے ہیں۔ فوٹون رروشنی کی بنیادی اکائی ہے۔ اس کی کمیت صفر ہوتی ہے۔ اس کا لائف ٹائم سٹیبل ہوتا ہے۔ اس کا الیکٹرک چارج زیرو ہوتا ہے۔ شیکسپیئر کو کہا جائے گا کہ آپ کے’ اندھیرے کا شہزادہ‘ جنٹلمین ہے یا شیطان ہمیں اس سے بحث نہیں لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ اندھیرا چار سو سے سات سو نینو میٹر کی ویو لینتھ والی روشنی کی غیر موجودگی کو کہتے ہیں۔ یہ سچ کا مطلق اظہار ہے۔ سچ کے ایسے علمبرداروں کے نزدیک سماج کی نوعیت، اس کے حالات، اس کے باسیوں کا ذہنی پس منظر ثانوی اصول ہیں۔ بنیادی اصول یہ ہے کہ سچ بولا جائے اور ڈنکے کی چوٹ پر بولا جائے۔ جو اس سچ کا ساتھ نہ دے ان کو بزدلی کا طعنہ دیا جائے۔

اس طرح کی ایک بحث ہماری تاریخ میں موجود ہے جب مولانا امین احسن اصلاحی نے ’تدبر القرآن‘ میں رجم کی سزا پر بحث کی ہے۔ اس بحث کو پڑھنے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے مخالفین مطلق سچ کے علمبردار ہیں جبکہ مولانا کہتے ہیں کہ ہر جرم میں مجرم کے حالات اور جرم کی نوعیت کو دیکھا جاتا ہے۔ مدعا یہ ہے کہ ایک شخص نے قتل کیا ہے۔ عدالت نے اسے سزا دے دی اور بات ختم ہو گئی۔ لیکن مدعا اتنا سادہ بھی نہیں ہے۔ ممتاز قادری نے قتل کسی ذاتی دشمنی کی بنیاد پر نہیں کیا بلکہ مذہبی جذبات کے تحت کیا۔ ان جذبات کی آبیاری کرنے والے اس سماج میں لاکھوں کی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ہمارا موقف یہ تھا کہ کسی بھی شخص کو سزا دینا معاشرے کے کسی فرد کا نہیں بلکہ عدالت کا ہے۔ ممتاز قادری پر مقدمہ بنا اور عدالت نے اسے سزا دے دی۔ ممتاز قادری کی موت کے بعد ممتاز قادری کا نام لے کر لبرل ازم کے نام پر سچائی کے بھنگڑے ڈالنا جانے کونسی دانشوری ہے؟ کسی سے اختلاف کی نوعیت ذاتی ہو یا فکری، اس کی موت کی صورت میں بے معنی ہو جاتا ہے کیونکہ مرنے والا اپنے دفاع کے لئے موجود نہیں ہوتا۔ اپنی تمام تر فکری اختلاف کے باوجود بھی کسی کی موت پر خوشی منانا اچھا عمل نہیں ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ ممتاز قادری کا عمل کسی ذاتی دشمنی پر مبنی نہیں تھا بلکہ ایک سوچ کی بنیاد پر تھا۔ اس سوچ کے حامی اسی سماج کے رہنے والے لوگ ہیں۔ ہمیں ان سے مکالمہ کر کے ان کو قائل کرنا ہے کہ سزا دینے کا اختیار صرف عدالت کا ہے سماج کے اشخاص کا نہیں۔ مکالمے کی روایت کو برقرار رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ کسی گروہ کے محبوب شخص کی موت پر کم از کم خوشی نہ منائی جائے۔ لیکن معلوم ہوا کہ ہم تو بزدل ہیں۔ ہمارے کاندھوں پر سچ کا بوجھ ہے جو ہم نے کسی بھی صورت ادا کرنا ہے۔ ہمیں معلوم ہوا کہ ہم سماج میں مکالمے کے فروغ کے لئے کا م نہیں کر رہے بلکہ ہم میدان جنگ میں کھڑے سپاہی ہیں جن کا کام دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر للکارنا ہے۔ حیرت زدہ ہوں کہ ہمارے کچھ بہی خوا کہتے، لکھتے تو ہیں کہ ہم ’سزائے موت‘ کے خلاف ہیں لیکن ممتاز قادری کی موت پر خوش ہیں۔ جن کا مسئلہ سچ ہے وہ کم از کم یہ توجان لیں کہ سچ نہ جامد عمل ہے اور نہ بے موقع و بے محل بولنے کی چیز ہے۔ ہم میں سے ہر بچے نے اپنے ماں باپ سے ضرور پوچھا ہو گا کہ میں نے کیسے جنم لیا؟ سچ کا تقاضا یہ تھا کہ وہ ہمیں اس تخلیق کا عمل بتا دیتے مگر حفظ مراتب یہ تھا کہ وہ یہی کہتے کہ تمہیں میرے پاس پریاں چھوڑ گئی تھیں۔ انسان سماج کی بنیادی اکائی ہے۔ سماج کے مراتب کا لحاظ کرنا بنیادی انسانیت کا اصول ہے۔ باچا خان کے انتقال کو اٹھائیس برس گزر گئے لیکن باچا خان یونیورسٹی پر حملے کے بعد جب باچا خان کا نام لے کر ان کے کردار پر کیچڑ اچھالنے کو کوشش کی گئی تو ہمیں بہت تکلیف پہنچی تھی۔ انتظار حسین کی موت کے تین بعد جب ایک دانشور نے ان پر تنقید کی تھی تو ادب سے محبت کرنے والوں کی آنکھیں نم دیکھی تھیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ممتاز قادری اس دیس کے لاکھوں لوگوں کا ہیرو ہے۔ ابھی اسے دفن بھی نہیں کیا گیا کہ ہماری سچ میں لتھڑی دانشوری سنبھل نہیں رہی۔ ممکن ہے ہماری بات غلط ہو اور ہمارے دوست سچ کہتے ہوں مگرہماری تربیت اس دیس کے ایک پسماندہ ،قبائلی روایتوں سے بھرے سماج میں ہوئی ہے۔ اس سماج کی روایتوں نے ہمیں صرف بہادری سکھائی ہے۔ دشمن کے ساتھ لڑنا کیسے ہے؟ اپنی انا اور شملے کی اونچائی کی خاطر خود کو اور دشمن کو تباہ کیسے کرنا ہے، یہ ہم بچپن میں سیکھ گئے تھے۔ ہم نے انسانی زندگی کو تباہ کرنے والے بہادری کے سارے اصول بھلا دیئے۔ یاد رکھا تو صرف اتنا کہ کسی کی موت پر شادیانے نہیں بجائے جاتے۔ ایک روشن مستقبل کا خواب بنا۔ اس سماج کو بہتر بنانے کا خواب ۔ اس سماج کو بہتر بنانے کے لئے سمجھا کہ جنگ اصول اور مکالمے کی ہے۔ کسی کے جذبات کو مجروح کر کے کوئی جنگ جیتنا ہمارے پیش نظر نہیں۔ ریاست موجود ہے۔ ریاست کے باب میں سچ بولنے کا موقع آئے گا۔ میں بھی کھل کر بولوں گا۔ آپ بھی کھل کر بولیے گا۔ لیکن انسانی موت پر میرا ضمیر ماتم کے علاوہ کسی سچ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا۔ ایک دن کے لئے سچ کو سانس لینے دیں۔ میں ایسے سماج کا باسی ہوں جہاں چار سو اندھیرے پھیلے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ اندھیرا چار سو سے سات سو نینو میٹر کی ویو لینتھ والی روشنی کی غیر موجودگی کو کہتے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ فوٹون رروشنی کی بنیادی اکائی ہے۔ اس کی کمیت صفر ہوتی ہے۔ اس کا لائف ٹائم سٹیبل ہوتا ہے۔ اس کا الیکٹرک چارج زیرو ہوتا ہے۔ فوٹونز کے نظر نہ آنے کو اندھیرا کہتے ہیں لیکن اس کے باوجود میں اندھیرے سے ڈرتا ہوں۔ ہاں میں بزدل ہوں، کیونکہ مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 83 posts and counting.See all posts by zafarullah

25 thoughts on “ہاں میں بزدل ہوں

  • 01-03-2016 at 7:09 pm
    Permalink

    بہت عمدہ لکھا ۔ ماشااللہ

    • 01-03-2016 at 10:36 pm
      Permalink

      شکریہ سر

  • 01-03-2016 at 7:58 pm
    Permalink

    بہت ہی اچھا لکھا ہے ماشااللہ

    • 01-03-2016 at 10:36 pm
      Permalink

      شکریہ

  • 01-03-2016 at 8:35 pm
    Permalink

    آپ نے بہت خوبی سے ایک سچ کو بیان کیا۔ کاش سب کو یہ بات سمجھ آسکے کہ یہ کسی فرد سے جھگڑا نہیں ہے اور کسی کی موت پر خواہ وہ دشمن ہی کیوں نہ ہو، دئے نہیں جلائے جاتے۔ اس طرح ڈائیلاگ کا راستہ ہی رکتا ہے، سماج کی بھلائی کا عمل شروع نہیں ہوتا۔ ممتاز قادری چلا گیا لیکن ہمیں اس معاشرے میں جینا ہے اور اسے سب کے جینے کے قابل بنانے کی کوشش کرنا ہے۔

    • 01-03-2016 at 10:37 pm
      Permalink

      آپ کی محبتوں کا مشکور ہوں سر۔ آپ نے پڑھ لیا لکھنا ثمربار ہوا۔

  • 01-03-2016 at 9:26 pm
    Permalink

    خوشی اس حوالے سے نہیں ہے کہ ممتاز قادری کو پھانسی چڑھا دیا گیا بلکہ یہ اس لحاظ سے ہے کہ بے گناہ انسان کو قتل کرنے والے کو سزا دی گئی اور یہ واضح کیا گیا ہے کہ اب ہر ایک اپنے خیال اور اپنے عقیدے کو قانون بنا کر معاشرے کو یرغمال نہیں بنا سکتا،کسی شخص کو ملکی قانون سے آگے بڑھ جانے کا حق نہیں۔

    • 01-03-2016 at 10:37 pm
      Permalink

      ہاں لیکن ہر خوشی کا اظہار عوامی فورم پر کرنا ضروری تو نہیں۔ خصوصاََ جہاں کسی طبقے کی کثیر تعداد کے جذبات مجروح ہوتے ہوں اور امن عامہ کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

  • 01-03-2016 at 10:02 pm
    Permalink

    بہت خوب۔۔۔۔ خان صاحب! اللہ آپکو جزائے خیر دے!

    • 01-03-2016 at 10:38 pm
      Permalink

      سلامت رہیں

  • 01-03-2016 at 10:19 pm
    Permalink

    انتہائ بہتر اور قابل عمل سوچ ۔…. ﷲ اجر عطا فرمائے

    • 01-03-2016 at 10:39 pm
      Permalink

      دل نادان صد آداب

  • 01-03-2016 at 11:07 pm
    Permalink

    حکمت کے بغیر علم ایسے ہی ہے جیسے کسی نادان بچے کے ہاتھ میں تیز دھار آلہ۔ یہی شاید اس دور کا المیہ ہے۔
    بہت کمال فن سے بیان کیا۔
    اللہ آپ کو خیر و برکت اور سلامتی دے

  • 01-03-2016 at 11:27 pm
    Permalink

    بہت پختہ، بہت متوازن، بہت متاثرکن۔ انتہائی شدید ضرورت کی تحریر۔ بہت دعائیں۔

  • 01-03-2016 at 11:44 pm
    Permalink

    حکمت کے بغیر علم ایسے ہی ہے جیسے کسی نادان بچے کے ہاتھ میں تیز دھار آلہ۔ یہی شاید اس دور کا المیہ ہے۔
    بہت کمال فن سے بیان کیا۔
    اللہ آپ کو خیر و برکت اور سلامتی دے.

  • 02-03-2016 at 12:21 am
    Permalink

    اگر ریاست کے ایک درست اقدام پر خراج تحسین پیش کرنا کوئی غیر اخلاقی ہے تو آپ واقعی بزدل ہیں.. ہر بندہ یہاں اپنی ڈیڈھ انچ کی الگ ماجد تعمیر کرنے کے چکر میں ہے.

    • 02-03-2016 at 1:40 am
      Permalink

      آپ کی مسجد سلامت، ہمارا میخانہ سلامت۔ تزئین جاری رکھیں شاید بہار آ ہی جائے۔ہمارے میخانے میں نہ سہی آپ کی مسجد میں سہی۔
      غالباَ شاد عظیم آبادی نے لکھا تھا
      یہ بزم مے ہے یاں کوتاہ دستی میں ہے محرومی
      جو بڑھ کر خود اٹھا لے ہاتھ مینا اسی کا ہے

  • 02-03-2016 at 9:09 am
    Permalink

    دونوں طرف سے آگ برابر لگی ھوئ….کل سلمان تاثیر کے شھادت پر لوگ ببانگ دھل خوشیاں منا رھے تھے اور قاتل کے بوسے لیے جارھے تھے کسی کو یہ خیال نہی تھا کہ مقتول بھی مسلمان پاکستانی اور انسان ھے یہاں تک کے اسکے بچیوں کی بہت ہی ذاتی قسم کی تصاویر کو بھی اپلوڈ کرکے اسکے جسدِ خاکی کے ساتھ ساتھ عزت کا جنازہ بھی نکالا جارھا تھا اور اج قاتل کے پھانسی پر مقتول کے چاھنے والے بنگھڑے ڈال رھے ہیں جنکو کل وہ سب کچھ خلاف انسانیت دیکھای دے رھا تھا اج وہ خود وھی سب کچھ کر رھے ھیں …وقت وقت کی بات ھے باقی سب اس ہمام میں پورے کے پورے ننگے ہیں نہ تولہ کم.نہ تولہ ذیادہ …..ھاں ھم سب بزدل ہیں ایک نمبر کے

  • 02-03-2016 at 11:41 am
    Permalink

    سہی کہا اپ نے ہر جگہ اپنے جذبات کا اظہار نہیں کیا جا سکتا، مگر مشکل حالات میں سچ کے ساتھ کھرے بھی تو رہنا ہوتا ہے نا. کیا ہم سچ کہنا بند کر دیں کے لوگوں کے جذبات (دوسروں کو اپنے غلط عقیدے کی بنیاد پر سرعام قتل کرنے والے جذبات) مجروح ہوتے ہیں. ہاں اسس بات پر بحث ہو سکتی ہے کے اپنی بات کو کیسس طرح کہا جاۓ، مگر سچ بات کو کسی کی ناراضگی یا کسی خطرے کے اندیشے سے نہ کہنا بزدلی ہوگی اور یہ بزدلی کیے لوگوں کے ایمان کو ضرور ہلانے گی.

  • 02-03-2016 at 1:10 pm
    Permalink

    کیسے کرلیتے ہو یار ایسے تخیلاتی باتیں؟ اس میں شک نہیں قانون ہاتھ میں لیا مگر پاکستان میں جب سیلیکٹو جسٹس ہوتا ہے تو لوگ اسی طرح جنازوں میں امڈتے ہیں۔ بات قانون کی ہے تو جناب آپ کے تاثیر صاحب نے کہا کہ وہ عدالت کے فیصلہ یعنی آسیہ کی سزا کو نہیں مانتا، تاثیر نے یہ بھی کہا کہ قانون “کالا” ہے۔

    بات اگر آپ قانون اور عدالت کو کرو تو یکطرفہ تو نہ کر نا بھائ۔ ماڈل ٹاون واقعہ میں ملوث دونوں بھائیوں پر قتل کا مقدمہ درج اور وہ ایسے ہی مزے کررہے ہیں۔ آپ کی ایان علی صاحبہ ہوا کے جھونکے کی طرح آزاد گھوم رہی ہیں۔

    قصہ مختصر، جب ریاست ایک کانسٹیبل کو پھانسی اور طاقتور کو کھلا چھوڑتی ہے تو ایسے ہی ممتاز قادری جیسے کردار جنم لیتے ہیں۔ کبھی ناموس رسالت کے نام پر تو کبھی ناموس بےنظیر کے نام پر۔

    فی الحال تو کل سیکولر بیانیہ کے جنازہ نکلنے پر آپ سے تعزیت کرتا ہوں۔ یقینا عوام جو گھروں اور سڑکوں پر ہے وہ ان سے بالکل متفق نہیں جو فیس بک اور انٹرنیٹ کو حقیقی دنیا سمجھتے ہیں اور نہ عوام کسی حکومت اور اسٹبلشمنٹ کے بیانیوں سے متفق ہیں۔ باقی، رہے نام اللہ کا۔

    • 02-03-2016 at 3:35 pm
      Permalink

      میرے محترم!
      پہلے تو یہ نوٹ کر لیجیے کہ سلمان تاثیر میرا نہیں تھا پیپلز پارٹی کا تھا اور خاکسار کو بدقسمتی سے ابھی تک سیاسی کارکن کہلوانے کا شوق نہیں رہا۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر سلمان تاثیر نے واقعی توہین رسالت کی تھی تو پھر ان کے خلاف اسی توہین رسالت کے قانون کے تحت مقدمہ درج کروانا چاہیے تھا۔ کیا اس قانون کے محافظوں کو یقین تھا کہ سلمان تاثیر طاقتور ہونے کی بنا پر اس قانون کی گرفت سے بچ جائے گا؟ اگر ایسا ہی تھا تو اس سے سلمان تاثیر کے موقف کو تقویت ملتی ہے کہ قانون میں غریب پھنستا ہے اور طاقتور بچ جاتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اس خاکسار کو میاں برادران سے کیا لینا۔ ماڈل ٹاﺅن میں جی آئی ٹی رپورٹ دیکھ لیجیے۔ اگر آپ کو رپورٹ پر اعتبار نہیں ہے تو پھر ماڈل ٹاون کا استغاثہ طاہر القادری ہیں۔ یہ سوال ان سے پوچھیے کہ وہ کیوں خاموش ہیں۔ ہاں سیکولر جنازہ اگر کہیں کہیں نکلا ہے تو اس پر مجھ سے قطعی تعزیت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ خاکسار کو اس سے کوئی تکلیف نہیں پہنچی ہے۔ ایک پر بات البتہ میںآپ سے متفق ہوں کہ بیانیہ تشکیل دینا واقعی عوام کا کام نہیں ہے۔

      • 02-03-2016 at 8:26 pm
        Permalink

        ” ایک پر بات البتہ میںآپ سے متفق ہوں کہ بیانیہ تشکیل دینا واقعی عوام کا کام نہیں ہے۔”

        یہ تو میں نے کہا ہی نہیں، آپ تو اپنے دل کی بات بات میرے پر میرے تھوپ رہے ہیں۔ میں جو کہا وہ اتنی بری اردو میں بھی نہیں لکھا کہ آپ جیسا دانشور نہ سمجھ سک۔ رہا عوام کی نلیفائ کرنے کا تو کل سے میں بڑا حسین منظر دیکھ رہا ہوں کہ تمام لبڑان پاکستان اکثریت کہ اہمیت نہیں مان رہے، ایک کہتا ہے کہ جنازے کا بڑا ہونا کوئ بات نہیں تو دوسرا کہ رہا کے عوام کا کسی “بےوقوفی” والی بات پر عمل کرنا کوئ پیمانہ نہیں۔

        جناب، ایسی باتیں تو اسلامسٹ کرتے ہیں جو جمہور کے بجائے کوالٹی اور اہلیت کو معتبر جانتے ہیں۔ اہل لبڑان کا “شریعت” کی طرف مائل ہونا مزے دار عمل ہے۔ امید ہے کہ جو عوام کا بےوقوف کہ رہے ہیں انہی عوام کی اس بےوقوفی جس میں میاں صاحب کو چنا اسے بھی جہالت کہیں گے اور نلیفیائ مانیں گے۔

  • 02-03-2016 at 5:03 pm
    Permalink

    Zafar Sb,
    Very Well written. Aap Ne Intihai Munasib Tarah Se Apni Baat Ki Hey. Log Na Janey kiyun Siyaq o Sabaq Se Hut Kar comments Karney Lag Jatey Hein. Ek Aap Se Secularism Ki Taziyat Kar Raha Hey Tou Doosra aap Ko “Sirf” Buzdil Kehney Par Bhi Khush Nahi Hey.

  • 02-03-2016 at 5:39 pm
    Permalink

    اسلوب کی تعریف کئے بنا رہا نہیں جاسکتا۔ پر مرکزی خیال پر رائے زنی کی ہمت کریں تو بچنا مشکل رہاہے۔
    دیکھیں سر۔ اس ملک کو آگے لیجانا ہے۔ میرے خیال سے آپ کی نیت بھی ایسی ہی ہے۔ اب ایک مجرم تھا، دن دھاڑے سب کے سامنے قتل کیا۔ قانون شہادت دیکھتا ہے، اِس وقت کی عدالت کو شائد پاکستان کی تاریخ کی آزاد ترین عدالت قراردی جاسکتی ہے، سرعت سے کیس چلنے کی وجہ دہشت گردی کے دفعات تھے، ایکشن پلان کے تحت صدر مملکت کو سزا میں ردو بدل کرنے کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے، یہاں سارے راستے ممتاز کو پھانسی گھاٹ تک پہنچانے کیلئے اتفاقاً سیدھے ہوئے تھے۔
    اب اس کیس کا موازنہ کسی اور کیس سے ملاکر بحث کی جائے تو انجام تک پہنچنا محال ہے۔ سلمان تاثیر ایک امیر آدمی تھا عیاشی سے زندگی گزاری، پھر اُس جرم کی پاداش میں مرگیا جسے اُس نے ارتکاب ہی نہیں کیا تھا۔ دوسری طرف ایک غریب سپاہی جس کی زندگی کسی بھی لحاظ سے قابل رشک نہیں ہوتی، ایک ہولناک موت “پھانسی” پاگیا۔ کیونکہ مجذوب کو علم نہیں تھا کہ وہ کیا کرنے والا ہے اور اُس کا انجام کیا ہوگا، ورنہ وہ کبھی بھی یہ ہمت نہ کرپاتا، دیکھیں قانون اور سزا کا خوف لازمی ہے، عین پھانسی کے اگلے روز ایک وفاقی وزیر قادری کے حامیوں کے ہتھے چڑھ گیا، وزیر کو ہاتھ تک نہیں لگایا گیا، کیوں؟ وہاں پر موجود سب کو پتہ چل چکا تھا، خوف سب پر طاری تھا، یہ فائدہ ہوتا ہے کہ نتائج کی پرواہ کئے بغیر سزا سنانے کا۔۔۔ اچھی تبدیلیاں آرہی ہیں، جنرل صاحب نے ایکسٹینشن لینے سے معذرت کرلی ہے، ابھی ہم نے اتنا ہی سفر طے کیا ہے حالانکہ ایک سرکاری افسر اپنی نوکری کی ایکسٹینشن خود لے، مہذب لوگ اس پر جوتے مارینگے، پر کچھ بہتری ضرور ہے۔ اب بہت سے ایڈوینچرسٹس کو پتہ چلے گا کہ قانون بہرحال موجود ہے، ڈاکٹر عاصم جیسے لوگ پکڑے جارہے ہیں، آہستہ آہستہ ماڈل ٹاون سے بھی دھند واضح ہوجائے گی، طاہرالقادری جیسے لوگ بھی اپنا اثر کھودینگے، جینئین جمہوریت آئے گی، جینئین جموری لوگ آئینگے، یہ وقت لیتاہے، آپ رکاوٹ نہ ڈالیں، اسے اپنی رفتار سے چلنے دیں

    • 04-03-2016 at 3:21 am
      Permalink

      ایک اور بھی مجرم تھا جس نے نہ صرف دن دھاڑے بلکہ نشریاتی ادارے میں بیٹھ کر آئین کو گالی دی تھی۔۔۔۔اور عدالتی فیصلے کے پرخچے اڑائی تھے۔۔۔۔آپ جناب اس پہ بھی روشنی ڈالئے
      ؟

Comments are closed.