ممتاز قادری کیس اور دوستوں کے اظہاریے


husnain jamal (3)

 کب لباسِ دنیوی میں چھپتے ہیں روشن ضمِیر

جامۂ فانُوس میں بھی شعلہ عُریاں ہی رہا

ذوق کا یہ شعر ہے اور ہم ہیں۔ شاعر تلامیذ الرحمن کہلائے جاتے تھے، کیا غلط تھا۔ حالیہ واقعات کی ایک لہر ایسی اٹھی کہ سب کے چہروں سے نقاب اتار گئی۔ جو دوست دن رات محبت کا پرچار کرتے نہیں تھکتے تھے، ان آنکھوں نے ایک انسان کی موت پر انہیں شاداں و فرحاں دیکھ لیا۔ اپنے ہی جیسے لاکھوں انسانوں کے جذبات کا احترام نہ کر کے خدا جانے وہ کیا ثابت کرنے کے چکر میں ہیں۔ ہمارا میڈیا اس معاملے میں شدید کنٹرولڈ رہا۔ معاملہ ہی کچھ ایسی نوعیت کا تھا کہ جتنی کوریج دی جاتی اتنی ہی بے چینی اور نقض امن کا خطرہ ہوتا، قلعی مگر سوشل میڈیا پر کھل گئی۔ شقاوت قلبی کے ایسے اظہاریے نظر آئے کہ دور جاہلیت کی یاد تازہ ہو گئی۔ جو لوگ اس موقف کے حامی تھے کہ موت کی سزا کو ختم کر دینا چاہئیے، وہ حمایت موقوف کیے بیٹھے ہیں۔ جو لوگ اس اصول کے پرچارک تھے کہ ہمیں باہمی احترام کو فروغ دینا ہے اور اپنے لوگوں سے پیار اور محبت کی بات کرنی ہے، وہ مردہ دفنائے جانے کا انتظار بھی نہ کر سکے۔ جن کو امن کی بے لوث آشا تھی وہ بدامنی اور نفرت کے غوث بن گئے۔ فقیر سمیت جو ہر بات پر بیانیے کا رونا روتے تھے، انہیں آج کوئی بیانیہ نہیں سوجھتا، دانتوں میں انگلی دبائے بیٹھے ہیں اور دیکھتے جاتے ہیں کہ ردعمل کی خواہش کیا اتنی شدید ہو سکتی ہے؟

ایک محترم دوست کہنے لگے، یار ہم خود قبائلی ہیں، دشمن دار لوگ ہیں، لیکن جب ہمارے دشمن کا بھی جنازہ اٹھتا تھا تو ہمارے گھر میں سوگ ہوتا تھا، ایک وقت کھانا نہیں بنایا جاتا تھا۔ وہ لوگ جو رونا روتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کے اقدار قبائلی ہیں، بات بات پر جھگڑتے مناظر عام ہیں، مبارک ہو، ان کا رونا بھی آج دفن ہوا۔ قبائل کے باسی بلاشبہ ہم سے بہت زیادہ مہذب ہیں۔ سیاست، نفرت کی سیاست، لاشوں پر بیان بازی، جنازوں کے اٹھنے سے پہلے ہی جھگڑے، یا خدا، اٹھارہ سو ستاون ہو، انیس سو سینتالیس ہو یا دو ہزار سترہ آ جائے، نہیں بدلنا ہم نے! نسلیں گزر گئیں، عمریں بیت جائیں گی، مہذب مکالمے کا خواب پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔ جو ہماری تحریر ایک برس سے پڑھتے آ رہے ہیں، انہیں معلوم ہونا چاہئیے کہ ہمارا موقف کیا ہو گا۔ اور اگر ہمارا موقف خود ہمارے اور ہمارے پڑھنے والوں کے ذہن میں واضح ہے تو اس قدر ہاہاکار مچانا چہ معنی دارد؟ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ ہم اصولی موقف، امن، سیکولرازم، محبت، رواداری وغیرہ کا راگ الاپتے الاپتے آ گئے اپنی اوقات پر۔ مہذب طریقے سے بات کیجیے، وقت کا انتظار کیجیے، ایک عدالتی فیصلہ تھا، اس پر عمل درآمد ہوا، لبرلز کے معاملے میں تو یہ ہے کہ اگر آپ فیصلے کے حق میں ہیں اور ساتھ ساتھ آپ پھانسی کی سزا کو درست بھی نہیں سمجھتے اور تمام عمر اس کے خاتمے کے لیے دہائی دیتے آئے ہیں، تو بھئی خاموش ہو جائیے یا کم از کم اپنے موقف کی پاس داری کیجیے، بقول ظفر اقبال

جھوٹ بولا ہے تو قائم بھی رہو اس پر ظفر

آدمی کو صاحب کردار ہونا چاہئیے

یہ تو نری دوعملی ہے کہ آپ اسے اپنی اخلاقی فتح قرار دیں اور اگلے سال کسی پھانسی پر پھر سے موم بتیاں جلا لیں۔ بہ صد معذرت، فقیر اس معاملے پر اپنی کوتاہ فہمی کے ہاتھوں مجبور ہے شاید۔ ہمارے جن بھائیوں کا غم ابھی تازہ ہے، کیا یہی موقع تھا کہ آپ ان سے اس طرح کے مکالمے کرتے۔ بھئی سیدھی سی بات ہے، ہوا کسی کی نہیں ہوتی، چراغ آج کسی کے بجھتے ہیں کل کسی اور کی باری آ جاتی ہے، مکالمہ اس سطح پر رکھیے کہ کل کو مڑ کر دیکھیں تو آپ کو شرمندگی اور اگلی نسلوں کو حیرت نہ ہو۔

جب نوکری شروع کی تو بہت سے مسائل سامنے کھڑے تھے۔ لوگوں کا رویہ ناقابل فہم حد تک تکلیف دہ ہوتا تھا، ایک وقت آیا کہ نوکری چھوڑ دینے کا خیال گھر کر گیا۔ والد سے مشورہ کیا، کہنے لگے، یار یہ دیکھو یہ میری یونیفارم کا کوٹ ہے نا؟ مجھے جب کوئی آدمی الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے، تو چاہے وہ کوئی افسر ہو یا کوئی اور ہو، میں یہ سوچتا ہوں کہ یہ میرے کوٹ سے باتیں کر رہا ہے، میں اسی کوٹ کی حیثیت سے اس کو جواب دے دیتا ہوں، گھر آتا ہوں، کوٹ کو جھاڑ کر ہینگر پر ٹانگ دیتا ہوں، میں آزاد ہوتا ہوں۔ تو جان لیجیے کہ فقیر نے بھی زندگی کا ہر معاملہ آج تک اسی کوٹ کے اندر سے نمٹایا ہے، والد گرامی کی عطا یہ کوٹ نہ ہوتا تو انا کا اژدھا نوکری سمیت نہ جانے کس کس مقام پر خوار کروا چکا ہوتا۔ صاحبو، عرض یہ ہے کہ جہاں آپ کی انا کا غبارہ کسی بھی معاملے میں پھیلتا ہے، وہاں اس کا پھٹ جانا بھی یقینی ہوتا ہے، ایسے غباروں سے یا کہہ لیجے پانی کے بلبلے جتنی اوقات رکھنے والی اپنی فکری کامیابی پر ایسا ردعمل کسی دانا کو زیب نہیں دیتا۔ ہمارا معاشرہ، ہمارے لوگ، ہم سے محبت کرنے والے، ہم سے بات کرنے والے، ہمیں پڑھنے والے اور ہم سے روز ملنے جلنے والے ہم سے بجا طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ ہم اپنے اقدار اور اپنی روایات کا پاس اس حد تک ضرور کریں کہ جس کو اردو میں اخلاق اور انگریزی میں Courtesy  کہتے ہیں۔ ہم انہیں میں سے ہیں، ہماری جڑیں بھی یہیں ہیں، ہمارا تنا بھی اسی مٹی میں گڑا ہے، ہماری شاخیں بھی اسی دھرتی میں پنپنی ہیں، ہمارے پتے بھی یہیں گرنے ہیں اور ہمارا پھل بھی یہیں لگنا ہے۔ ولائتی کھاد ہو یا دیسی ہو، اگر حد سے زیادہ ڈال دی جائے تو جڑیں تک جل جاتی ہیں پیارے دوستو! لکھنا اور سوشل میڈیا پر کوئی بھی پوسٹ کرنا، آپ کے کردار کا عکس ہیں، جس طرح ظاہری لباس پر توجہ دی جاتی ہے، کوشش کیجے کہ عکس بھی سنور جائے تو کیا کہنے!


Comments

FB Login Required - comments

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 146 posts and counting.See all posts by husnain

10 thoughts on “ممتاز قادری کیس اور دوستوں کے اظہاریے

  • 01-03-2016 at 9:23 pm
    Permalink

    mumtaz qadri ki phansi per aik mohazzab ehtejaaj…article ka naam yeh hona chahiye tha

  • 01-03-2016 at 9:31 pm
    Permalink

    آج “مٹھی بھر” شدت پسند عناصر پنڈی کی سڑکوں پر قاتل کے غم میں بدحال دکھائی دئیے۔ یہ خودکو اللہ اور اس کے رسول کا عاشق بھی کہتے ہیں اور ایک خائن قاتل کے مداح بھی ہیں۔ سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے عاری ان بندریوں کی ڈور مداری “علما” کے ہاتھوں میں ہیں۔ یہ ناچتے ہیں، مداری ڈگڈی بجاتے ہیں۔ تماشا، رقص، جاری رہتا ہے۔ یہ پاکستان کا “مثبت امیج” اس طرح دکھاتے ہیں کہ جس قاتل کو طویل قانونی عمل سے گزارنے کے بعد جرم ثابت ہونے پر اعلی عدالتوں نے سزائے موت دی، یہ اسی کے گن گاتے ہیں، پاکستان کا، اسلام کا، تماشا بناتے ہیں۔

    • 02-03-2016 at 11:05 am
      Permalink

      جنازے میں شرکت کرنے والا ایک ایک بندہ لازم نہیں کہ کسی ملا، عالم، پیشوا کے اشارے، ڈور یا شہہ پر وہاں ہر قسم کی رکاوٹ عبور کر کے پہنچا ہو..
      جہاں تک قانونی کارروائی اور اصولی تقاضے کی بات ہے تو آسیہ مسیح کا قانونی فیصلہ تو اس سے پہلے سے عملدرآمد کا منتظر ہے، وہاں کیوں ایسی مستعدی نہیں؟

    • 02-03-2016 at 6:30 pm
      Permalink

      Aadab!
      hazoor agar madareyon nay kal dogdage baje de hote na,to moon chopaty pherty Aanjanab.
      lakhoon ka majma tha,mjal hay jo darakat ka pata be tora gaya ho….haqayq ka samna kejyia,tanqeed ap ka haqq hay,mgr haqeqatoon ko to mat jotlaeyay…

  • 01-03-2016 at 11:24 pm
    Permalink

    پاکستانی قوم الجھ گئی قادری کے چکر میں
    اور میاں جی اینڈ کمپنی بیچ کر کھا گئی PIA اور دوسرے قومی ادارے

  • 02-03-2016 at 12:10 am
    Permalink

    تحریر کا جمال …….. روز روشن کی طرح عیاں……. بہترین اور لاجواب
    جیتے رئیے حضور

  • 02-03-2016 at 11:04 am
    Permalink

    کسی بھی قومی سطح کے واقعے، سانحے یا حادثے پر ردعمل کی انتہاؤں کے بیچ توازن اور اعتدال کی راہ کی بات کرنا قرین قیاس ہے کہ ہمیشہ جب بھی ایسا کچھ واقع ہوتا ہے تو پہلے درجے میں دو متضاد درجے کے ردعمل اور پھر اعتدال پسندی پر زور دیتی آوازیں سُنے جانا ایک معمول ہے۔

    قاضی جاوید اپنی کتاب “پاکستان میں فلسفیانہ رجحانات” کے ذیل میں کہتے ہیں کہ پاکستانی انٹیلی جنسیا کا محبوب طرز عمل ہی یہی رہا ہے کہ باہم مُتضاد آراء اور متوازی طرز ہائے فکر میں درمیانی بات کرنا، اگر اس رویئے کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو وجہ فکری کمٹمنٹ کی عدم موجودگی، پولیٹیکل کریکٹنیس کی جستجو اور ہر کسی کو خوش کرنے کے ساتھ ، اپنی انفرادیت اور یکتائی کی بی جا خواہش کا اظہار بھی ہے۔

    پیش نظر تحریر بھی اس فکری کھوکھلے پن کا اظہار ہے۔

    مذمت ہائے لبرلاں کی صف میں آنا ، شقاوت کا الزام دھرنا اور کسی نامعلوم قبائلی اینٹیٹی کا حوالہ جس کے مقام کے تعین سے کم از کم میں تو قاصر ہوں پھر اجتماعی مذمت کا پہلو نکال لینا ۔ کیا زوال آگیا ہے!!!

  • 02-03-2016 at 1:29 pm
    Permalink

    عمدہ بات کی حسنین صاحب, لیکن لگتا ہے سوشل میڈیا کے شہسواروں سے ڈر کر تو نہیں مگر شاید تعلق داری کی وجہ سے ھاتھ ہلکہ ہی رکھا. 🙂

  • 02-03-2016 at 6:26 pm
    Permalink

    Good…aytadal par mabne tajzeya…hasham sab ke har tehreer man mohabat ka parchar hota tha,mgr agly din on ke haqeeqat be Ayan hoe!!!Afsos es bat ka hay kay rawaeyay man dogla pan hay,har do taraf.

Comments are closed.