گوتم نے خود کشی کر لی ہے


naseer nasirروش ندیم! تمہارے لیے باآسانی ایک نظم لکھی جا سکتی ہے

اس مشکل کے باوجود

کہ تمہاری نظمیں پڑھتے ہوئے

ٹشو پیپر بھیگ جانے کے ڈر سے

رویا نہیں جا سکتا

ہنسا بھی نہیں جا سکتا

کہیں دھیان کی گمبھیرتا نہ ٹوٹ جائے

جانے کیسے

تم حریری کاغذ کی کشتی پر

سات سمندر پار کرتے ہو

سدھارتھ کے ساتھ اونچی آواز میں باتیں کرتے

بلکہ ٹھٹھے لگاتے ہو

اور دہشت کے موسم میں نظمیں لکھتے ہو

اس موسم میں تو نظمیں نہیں لاشیں لکھی جاتی ہیں

اور نوحے پڑھے جاتے ہیں

ravish nadeemروش ندیم! تمہیں دیکھنے کے لیے تمہیں مِلنے کی ضرورت نہیں

تم سے پہلے تمہاری عینک کے شیشے نظر آ جاتے ہیں

اور تمہاری آنکھیں

ہونٹوں سے زیادہ مسکراتی ہیں

تمہاری ما بعد جدیدی محبت قابلِ رشک ہے

تم کسی کو گھر نہیں بلاتے

اور منیلا کے بغیر کہیں نہیں جاتے

تربوز کا شیک پیتے ہوئے یوں گھبراتے اور شرماتے ہو

جیسے کوئی ” ترقی شدہ ” پینڈو پہلی بار “پی” رہا ہو

روش ندیم! تمھارے دکھ کی انامیکا

گوتم کے قدموں سے بڑی ہے

اور منٹو کی عورتیں

تمہارے اتہاس کی سطریں ہیں

گوتم کو تو عمر بھر پتا نہ چلا

کہ دکھ عورت کی کوکھ سے نکلا ہے

وہ عورت ہی تھی

جس نے اُسے جنم دے کر موت کو گلے لگا لیا

اور وہ بھی عورت تھی

جسے وہ بستر میں سوتا چھوڑ آیا تھا

اور حالتِ مرگ میں اسے

دودھ اور چاول کی بھینٹ دینے والی بھی ایک عورت تھی

وہ، کپل وستو کا شہزادہ

گاڑی وان کو دکھ سمجھتا رہا

اور بڑھاپے، بیماری اور موت پر

قابو پانے کی ناکام کوشش کرتا رہا

لیکن اتنا نہ جان سکا

کہ گیان دھیان انچاس دنوں کا نہیں

ساری عمر پر محیط ہوتا ہے

اور عرفان و آگہی کا دریا

حقیقی زندگی کے کناروں سے پھوٹتا ہے

آج اگر گوتم کو اعلی ترین ڈگری

اور بہترین تجربے کے باوجود

نوکری کے لیے سفارش کی ضرورت پڑتی

تو اسے معلوم ہوتا کہ دکھ کیا ہے

روش ندیم! گوتم نے غزہ نہیں دیکھا

اور خود کش دھماکوں میں اُڑتے ہوئے

انسانی اعضا نہیں دیکھے

گوتم نے عظیم جنگیں

اور آبدوزوں میں مرنے والوں کی آبی قبریں نہیں دیکھیں

گوتم نے مارکسی ادب نہیں پڑھا

وہ پانچ اور سات ستارہ ہوٹلوں کا دربان بھی نہیں رہا

ورنہ نروان کے لیے کبھی فاقے نہ کرتا

بلکہ واڈکا پی کر

کسی غیر ملکی محبوبہ کے نیم برہنہ پہلو میں
شانتی کی نیند سو رہا ہوتا

روش ندیم! تم نے شاید صبح کا اخبار نہیں دیکھا

گوتم کو اب نوکری کی ضرورت نہیں رہی

اس نے چوک میں ڈگری جلا کر

خود کو بھی آگ لگا لی تھی

بے چارہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی

نروان پا چکا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

خیر چھوڑو

ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے

کہیں اسے تجریدی مکھیاں اور تنقیدی ڈائنو سار نہ کھا جائیں

بھوکے پیٹ تو لیکچر بھی نہیں دیا جا سکتا !


Comments

FB Login Required - comments

4 thoughts on “گوتم نے خود کشی کر لی ہے

  • 02-03-2016 at 1:30 am
    Permalink

    گوتم نے غزہ نہیں دیکھا

    اور خود کش دھماکوں میں اُڑتے ہوئے

    انسانی اعضا نہیں دیکھے

    گوتم نے عظیم جنگیں

    اور آبدوزوں میں مرنے والوں کی آبی قبریں نہیں دیکھیں

    گوتم نے مارکسی ادب نہیں پڑھا

    وہ پانچ اور سات ستارہ ہوٹلوں کا دربان بھی نہیں رہا

    ورنہ نروان کے لیے کبھی فاقے نہ کرتا

    بلکہ واڈکا پی کر

    کسی غیر ملکی محبوبہ کے نیم برہنہ پہلو میں
    شانتی کی نیند سو رہا ہوتا
    Zabardast Janab!

  • 02-03-2016 at 12:11 pm
    Permalink

    بہت شکریہ مجاہد مرزا صاحب!

  • 02-03-2016 at 12:40 pm
    Permalink

    خیر چھوڑو
    ناشتہ ٹھنڈا ہو رہا ہے
    کہیں اسے تجریدی مکھیاں اور تنقیدی ڈائنو سار نہ کھا جائیں
    بھوکے پیٹ تو لیکچر بھی نہیں دیا جا سکتا !

    کیا خوبصورت نظم کہی ہے روش ندیم صاحب کے نام

  • 02-03-2016 at 3:08 pm
    Permalink

    شکریہ رفیع اللہ میاں صاحب!

Comments are closed.