میڈیا کے ڈھول کا پول


mujahid aliممتاز قادری کی سزائے موت پر عملدرآمد اور اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات بلاشبہ خبریت اور عام لوگوں کی دلچسپی کے لحاظ سے گزشتہ دو روز کے دوران رونما ہونے والے معاملات میں اہم ترین تھے۔ تاہم ملک کا میڈیا سرکاری پابندیوں کی وجہ سے ان کے بارے میں صحافیانہ پیشہ وارانہ اصولوں کے مطابق نہ تو خبریں فراہم کر سکا اور نہ ہی اس حوالے سے متوازن اور غیر جانبدارانہ تجزئیے دیکھنے یا پڑھنے کو ملے ہیں۔ حکومت نے پیش بندی کے طور پر ملک کے تمام میڈیا ہاﺅسز کو متنبہ کر دیا تھا۔ اسی لئے 29 فروری کو پھانسی کی اطلاع سامنے آنے کے بعد اسلام آباد اور ملک کے مختلف شہروں میں لوگوں کے احتجاج اور ردعمل کا بلیک آﺅٹ کیا گیا۔ اس اہم ترین خبر کو بھی دوسری غیر اہم اور غیر ضروری خبروں کے بعد ضمنی طور پر نشر کیا گیا۔ اس کے باوجود الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی پیمرا نے 29 فروری کو ” انتباہ “ کے عنوان سے ایک خط تمام میڈیا ہاﺅسز کو روانہ کیا جس میں خبردار کیا گیا تھا کہ پیمرا اتھارٹی نے چیئرمین کو کسی بھی ٹی وی چینل کو بند کرنے کا اختیار تفویض کر دیا ہے۔ اس طرح ملک کے طاقتور الیکٹرانک میڈیا کو ” بھیگی بلی “ بنانے کا پوری طرح اہتمام کر لیا گیا تھا۔

پاکستان اس وقت کئی طرح کے مسائل سے دوچار ہے لیکن ان میں سب سے اہم مسئلہ ملک میں جمہوریت کی بقا ، احیا اور آزادی اظہار کے متعلق ہے۔ حکومت کے علاوہ ملک میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے متعدد گروہ اور لوگ یہ چاہتے ہیں کہ ان کے نقطہ نظر کو اہمیت دی جائے اور میڈیا معاملات کو اسی طرح سمجھے اور پیش کرے جو ان کے پیش کردہ زاویہ نظر کے مطابق ہو۔ یہ سارے گروہ اپنے اپنے طور پر صحافیوں اور میڈیا مالکان کو متاثر کرنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے اختیار کرتے رہتے ہیں۔ لیکن ان میں سب سے طاقتور اور مؤثر خود حکومت وقت ہے جو اپنے اداروں اور وسائل کے بل بوتے پر میڈیا کو صرف وہی تصویر دکھانے اور وہی تصور پیش کرنے کی اجازت دینا چاہتی ہے جو قومی مفاد اور ملکی سلامتی کے بارے میں اس کے تجویز کردہ اصولوں کے مطابق ہو۔

ممتاز قادری کی سزائے موت پر عملدرآمد کے بعد رونما ہونے والے واقعات کی کوریج کے حوالے سے بھی ریاستی قوت کو میڈیا کو دبانے اور اپنی بات منوانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ حکومت نے یہ تصور کر لیا کہ اگر اس خبر کے عام ہونے کے بعد لوگوں کے احتجاج کے بارے میں غیر جانبدارانہ خبریں نشر ہوں گی اور تصویری رپورٹیں سامنے آئیں گی تو اس سے ملک میں اشتعال پیدا ہو گا اور لوگوں میں غم و غصہ بڑھے گا۔ اسی طرح یہ بھی طے کر لیا گیا کہ یکم مارچ کو راولپنڈی میں ممتاز قادری کی نماز جنازہ کے لئے جمع ہونے والے اجتماع کی خبریں نشر کرنا بھی قومی مفاد اور ملکی سلامتی کے خلاف ہو گا۔ اسی لئے انتہائی سخت الفاظ میں تمام ٹیلی ویژن چینلز کو انتباہ جاری کیا گیا اور اس میں دیگر باتوں کے علاوہ سرکاری ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والے ٹیلی ویژن اسٹیشنوں کو بتا دیا گیا کہ پیمرا ان کی تمام نشریات پر نظر رکھے ہوئے ہے اور کیبل آپریٹرز اور ٹی وی چینلز ڈسٹری بیوٹرز کو ہدایات جاری کر دی گئی ہیں کہ کسی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ٹیلی ویژن چینل کے خلاف سخت اور فوری کارروائی کی جائے۔

اس نوٹس کا مقصد یہ ہے کہ پیمرا اتھارٹی نے بظاہر جو اختیار ہنگامی طور پر چیئرمین کو دیا تھا کہ کسی سنگین خلاف ورزی پر وہ کوئی چینل بند کر دیں، عملی طور پر یہ اختیار ملک کے کیبل آپریٹرز کو تفویض کیا گیا ہے کہ وہ جب اور جس طرح چاہیں، کسی بھی چینل کا گلا گھونٹ دیں اور اپنی مرضی کے مطابق سینسر نافذ کر دیں۔ یہ طریقہ کار تمام مسلمہ جمہوری اور اخلاقی اصولوں کے خلاف ہے۔ پیمرا کا ادارہ ایک انتظامی ادارہ ہے جو براہ راست حکومت کی نگرانی میں کام کرتا ہے۔ اگرچہ اسے خود مختار ادارے کی حیثیت سے پیش کیا جاتا ہے اور مشاورتی سطح پر میڈیا مالکان اور صحافیوں کے نمائندوں کو بھی رائے میں شامل کیا جاتا ہے۔ لیکن یہ ادارہ اپنے چیئرمین کے توسط سے وہی احکامات جاری کرتا ہے جو حکومت وقت کی مرضی و منشا ہے۔ ایسے کسی سرکاری انتظامی ادارے کو کسی بھی جمہوری سیٹ اپ میں میڈیا کو کنٹرول کرنے کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔ البتہ بدنصیبی کی بات ہے کہ ملک کے میڈیا ہاﺅسز اور صحافتی تنظیمیں اس ادارے کے وجود اور اس کے اختیارات کو چیلنج کرنے اور مسترد کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

پاکستان کے سیاسی اور سماجی تناظر میں حکومت اگر کسی معاملہ پر میڈیا کو کنٹرول کرتی ہے یا ہدایات جاری کرتی ہے اور دھمکیاں دیتی ہے تو یہ کوئی عجیب واقعہ نہیں اور نہ ہی اسے خبر کہا جائے گا۔ تاہم جب ملک بھر کا میڈیا اس قسم کے سرکاری کنٹرول کو قبول کر لیتا ہے اور حکومت اور اس کے ایک ادارے کا یہ دعویٰ اور اختیار تسلیم کر لیتا ہے کہ قومی مفاد کیا ہے۔ کس چیز میں ملک کی سلامتی مضر ہے۔ کون سی خبر کس طرح لوگوں تک پہنچنی چاہئے اور کس موضوع پر کس قسم کی گفتگو کی اجازت دی جا سکتی ہے۔ تو یہ رویہ میڈیا اور اس کے نمائندوں کے ان دعوؤں کے برعکس ہے کہ وہ ملک میں جمہوریت کے حقیقی ” واچ ڈاگ “ یا نگران کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں اور ملک کے حکمرانوں کو کسی بھی طرح تنقید کا نشانہ بنانے کی ہمت و حوصلہ رکھتے ہیں۔ ممتاز قادری کے معاملہ کی کوریج کو روک کر حکومت نے میڈیا پر اپنے کنٹرول کر ثابت کیا ہے اور میڈیا نے اس اختیار کو تسلیم کر کے جہوریت اور آزادی اظہار کے حوالے سے اپنے فرض سے لاعلمی اور غفلت کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ صورتحال ملک میں جمہوری مثبت تبدیلیوں کے خواہشمند سب لوگوں اور اداروں کے لئے افسوسناک اور لمحہ فکریہ ہونی چاہئے۔

اس میں دو رائے نہیں ہو سکتیں کہ پاکستان میں صحافیوں نے شجاعت و حوصلہ کی قابل قدر مثالیں قائم کی ہیں۔ الیکٹرانک میڈیا کے ظہور پذیر ہونے کے بعد اس میڈیم سے متعلق لوگوں نے البتہ ان سنہری روایات کو آگے بڑھانے کی کوشش نہیں کی۔ اب حرف زنی ، پگڑیاں اچھالنے اور ذاتی حملے کرنے کو تنقید قرار دیا گیا ہے اور ملک میں نشر ہونے والے ٹاک شوز اپنی فارم اور ہیئت کے اعتبار سے ماہرین ہی نہیں عام دیکھنے والوں کی نظر میں بھی اپنی قدر و قیمت کھو چکے ہیں۔ کیونکہ اب اینکرز کا کام کسی موضوع پر صحت مندانہ اور معلوماتی گفتگو نہیں ہے بلکہ مقبولیت کی سند اسے ملتی ہے جو زیادہ ہنگامہ برپا کر سکے، بحث کے شرکا کو اشتعال دلا کر ایک دوسرے پر رکیک حملے کرنے پر آمادہ کر سکے اور ایسے موضوع تلاش کر سکے جو عوام میں جمہوری شعور بیدار کرنے کی بجائے سطحی جذباتیت اور نعرے بازی کو فروغ دیں۔ اس قسم کی نکتہ چینی کے جواب میں کہا جاتا ہے کہ لوگوں کو اختیار حاصل ہے کہ وہ ناپسندیدہ پروگرام نہ دیکھیں۔ بلاشبہ لوگوں کے پاس یہ اختیار موجود ہے لیکن پاکستان میں تفریح کے مواقع نہ ہونے اور ہر چینل پر ایک طرح کے پروگرام نشر ہونے کے باعث عام دیکھنے والے کا یہ اختیار محدود ہو چکا ہے۔ اس صورت میں لوگ دلچسپی سے پروگرام دیکھتے بھی ہیں اور پھر اسے پیش کرنے والے اور شرکا کے بارے میں غیر مہذب گفتگو بھی کرتے ہیں۔ کمرشل مفادات کا اسیر میڈیا اس بات سے پریشان نہیں ہے کہ وہ ملک میں کس قسم کی مزاج سازی کر رہا ہے۔ اس کا واحد مقصد زیادہ سے زیادہ دیکھنے والوں کو ” گھیرنا “ اور اپنی آمدنی میں اضافہ کے لئے کوشش کرنا ہے۔

مالکان کی اس حرص میں صحافیوں کے ایک طبقے نے بڑھ چڑھ کر ساتھ دیا ہے۔ اسی لئے اس تجارت میں حاصل ہونے والی آمدنی کا کچھ حصہ اس بااثر اور ممتاز ترین صحافیوں کے حصے میں بھی آتا ہے۔ لیکن الیکٹرانک میڈیا یا اخباری صحافت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے ورکنگ جرنلسٹ یا صحافی مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ مالکان ان کو مناسب معاوضہ دینے سے گریز کرتے ہیں اور وہ اپنے ضمیر کی آواز کے خلاف ایسے اداروں کا حصہ بنے رہنے پر بھی مجبور ہیں جو حکومت سے ڈرتے ہیں، پیمرا جیسے اداروں کو رہنما مانتے ہیں اور صحافتی اقدار کے مطابق ایڈیٹوریل ٹیم کو موثر اور طاقتور بنانے سے انکار کرتے ہیں۔ یہ صورتحال روز بروز خراب ہو رہی ہے۔ ملک کی صحافتی تنظیمیں اس منفی رجحان کی روک تھام کے لئے کوئی قابل ذکر اقدام کرنے میں ناکام ہیں۔ نہ یہ ورکنگ جرنلسٹوں کو تحفظ فراہم کر سکتی ہیں، نہ ان کے پیشہ وارانہ حقوق کی جنگ لڑتی ہیں اور نہ ایسے ادارے قائم کرنے میں کامیاب ہو رہی ہیں جو خود مختاری سے خبروں کی ترسیل اور مباحث کے مواد پر نظر رکھ سکیں۔ شکایت آنے کی صورت میں صحافتی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کی گوشمالی کر سکیں۔

اس صورتحال کا نتیجہ ہے کہ ملک کا صحافی بھی پریشان ہے اور میڈیا سے توقع رکھنے والا قاری اور ناظر بھی حیران ہے اور خبر کی صداقت اور گفتگو کے معیار کے بارے میں مسلسل شبہ کا شکار ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک کے میڈیا ہاﺅسز دولت پیدا کرنے کی مشینیں تو بن چکے ہیں لیکن نہ وہ اپنے کارکنوں کی فلاح کے بارے میں پریشان ہیں اور نہ سرکاری کنٹرول انہیں ہراساں کرتا ہے۔ ان حالات میں جمہوریت ، اعلیٰ سماجی اقدار اور بہتر نظام کی باتیں بے مقصد ہو کر رہ جاتی ہیں۔ ان اصطلاحات کو بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے ضرور استعمال کیا جاتا ہے لیکن درحقیقت وہ اپنے معانی کھو چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سوشل میڈیا پر سرگرم بھی ہوتے ہیں اور وہاں پھیلنے والی جھوٹی سچی خبروں کو سچ بھی مانتے ہیں۔ جب بھی ملک کے حکمران خبر کی ترسیل کے راستے روکیں گے اور میڈیا حکومت کا یہ حق تسلیم کرے گا تو اس سے افواہ سازی اور پریشان خیالی کا راستہ ہی ہموار ہو گا۔ یہی اس وقت ملک کے میڈیا کے لئے سب سے زیادہ تشویش کی بات ہونی چاہئے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 452 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

2 thoughts on “میڈیا کے ڈھول کا پول

  • 02-03-2016 at 8:31 am
    Permalink

    خوب ترجمانی کی

  • 02-03-2016 at 1:12 pm
    Permalink

    عمدہ، حقیقت یہ ہے کہ بہت سے آزادی کے متوالے صحافی حکومت کے “نظریہ ضرورت” کے حامی نظر آئے اور پابندی کو بمع ذلت کھلے دل سے قبول کیا۔

    میرے نزدیک یہ پابندی اس لئے بھی تھی تاکہ عوام قادری کے جنازے میں لوگ نہ آئیں یا پتہ نہ چلے مگر صاحب آج کے انٹرنیٹ کے زمانہ میں یہ پابندیاں مذاق ہیں۔ اللہ کا اپنا نظام ہے جو زمینی میڈیا کا محتاج نہیں۔

Comments are closed.