ناموسِ رسول ﷺ کی سوگند


 masood munawarمیں اللہ کا ایک عاجز و مجبور بندہ ہوں۔ میں نے اپنی والدہ مرحومہ سے سیکھا کہ ایک مسلمان کا کام اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی ، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور حاکم وقت کے بنائے ہوئے قوانین پر اس طرح چلنا ہے کہ ایک اتھارٹی کا دوسری سے تصادم نہ ہو ۔ تینوں اداروں کے درمیان باہمی رطب و ضبط موجود  رہے اور حاکمِ وقت ایسے قوانین بنائے  جو قرآن اور سُنّت سے متصادم نہ ہوں ۔ ہم جس طرح ، جس سطح اور جس معیار کے مسلمان ہیں ، ہم پوری کوشش کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ وسلم کی ناموس کا علم بلند رہے اور آپ کے احکامات کی مکمل پیروی ہو ۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ناموسِ رسالت ہے کیا ؟

اللہ تعالیٰ کے ہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا جو مقام ہے ، اُس کا اندازہ ہم انسان نہیں رکھتے ۔ اسی لئے بعض شعرا نے کہا کہ اللہ ہی اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مرتبہ جانتا ہے ۔ اقبال نے تو اسوہ ء حسنہ کو انسانیت کا عملی منشور قرار دیا اور کہا :

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
کہ گر بہ او نرسیدی تمام بو لہبی ست

چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر نقطہ بہ نقطہ اور حرف بحرف عمل کرنا ہی ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا تحفظ ہے۔ جو شخص اپنی روز مرہ زندگی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکامات پر عمل پیرا نہیں ہوتا ،  اُس کی اطاعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ وہ منافق ہے اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا غدار ہے ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے غداری ، گستاخی کی ماں ہے لیکن اس کم علم معاشرے میں غداری پر کوئی پابندی نہیں مگر سارا زور زبانی جمع خرچ پر ہے ۔

زبان کا زخم بہت گہرا ہوتا ہے ۔ پرانے پنجابی لوگ کہا کرتے تھے کہ اپنے دشمن کی دیوار تلے آ جاؤ مگر اُس کی کہی بات تلے مت آؤ ۔ یہی روایت عربوں کے یہاں تھی کہ :

جراحت السنان لہ التیام
ولا یلتام ما جرح اللسان

کہ نیزے کا زخم بھر جاتا ہے مگر زبان کا لگایا ہوا زخم نہیں بھرتا ۔

یہ انا اور کبر کی آواز ہے جو لفظ سے مجروح ہو نے پر بلند ہو جاتی ہے ۔ ہم اسی زبانی روایت کے لوگ ہیں ۔ ہم گفتار کی رفتار سے چلنا تو سیکھ نہیں پائے مگر لفظ کے گرداب میں پھنس کر رہ جاتے ہیں ۔ ہماری روایت یہ ہے کہ اکثر نوجوان اپنے والد یا والدہ سے یہ کہہ رہے ہوتے ہیں کہ  ” وہ اُن کی بڑی عزت کرتا ہے مگر وہ اُن کی بات نہیں مان سکتا ” ۔

ہمارا یہی رویہ مذہب میں بھی در آیا ہے کہ ہم اقرار باللسان کے چیمپئین ہیں مگر تصدیق بالقلب کے بزدل بھگوڑے ۔ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کون کون سی باتوں سے ہر روز گریز کرتے ہیں ، ذرا ہم مل کر اس کا جائزہ لیتے ہیں ۔
1۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے ، مگر یہ شاذ ہی ہوتا ہے کہ ہم ایک دوسرے سے مسکرا کر ملتے ہوں ۔  ہماری پیشانیاں خشونت اور شکنوں سے آلودہ رہتی ہیں۔

2 ۔ آپ نے فرمایا کہ مومن ، مومن کا بھائی ہے ۔ اور جو اپنے لئے پسند کرتے ہو وہی اپنے بھائی کے لئے پسند کرو ، مگر ہم اپنے لئے بنگلہ کار اور بنک بیلنس پسند کرتے ہیں اور مسلمان بھائی کے لئے غربت اور مصائب۔ ہم اُسے ان مصائب سے نکالنے کے لئے صرف وعدے کرتے ہیں ۔ کیا یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی نہیں ہے جبکہ اس حکم میں قرآن بھی شامل ہے ، جس میں لکھا ہے ، ” انما لمومنون اخوۃ ” کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں ۔ کیا ہمارا آج کا مسلمان آپس میں بھائی بن کر رہتا ہے ؟ نہیں بلکہ فرقہ بندی نے بھائی چارے کی روایت ہی ختم کردی ہے ۔ کیا اس طرزِ عمل سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اللہ کو تکلیف نہیں ہوتی ؟

3 ۔  فرمایا گیا کہ جس نے خود کھالیا اور اُس کا ہمسایہ بھوکا رہا وہ مسلمان ہے ہی نہیں۔ مگر اس فرمانِ رسالت کے حوالے سے ہمارے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ ہم اپنے بنگلوں  یا ریستورانوں میں چرغوں اور بریانیوں کی افراط میں مست رہتے ہیں یا پھر مسجد کے حجروں میں حلوے اور کھیر کی خوشبو میں بسے رہتے ہیں، جب کہ یتیم ، مسکین اور بیمار لوگ عذاب سہتے رہتے ہیں ۔ کیا یہی ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت؟

4 ۔ ہمارے آقائے نامدار نے تو رشوت لینے اور دینے والے دونوں فریقوں کا دوزخی قرار دیا ہے۔ کیا رشوت لیتے اور دیتے وقت ہمیں کبھی شرم آئی کہ یہ نبی اکرم کی حکم عدولی اور گستاخی ہے ؟

5 ۔ اشیا میں ملاوٹ کرنے ولے کو ادارہ  رسالت نے لا اُمتی قرار دیا اور ہمارا معاشرہ ملاوٹ کرنے والے لوگوں اور ملاوٹ شدہ چیزیں کھا کر بیماریوں میں مبتلا رہنے والوں کا معاشرہ ہے ۔ لیکن نہ تو ہمیں کبھی یہ احساس ہوا کہ ہمارا عمل حضور سرورِ کائنات کی شان میں گستاخی ہے۔ مگر اپنی غلطی کون مانتا ہے ۔ فردِ جرم تو دوسرے پر عائد کرنی ہوتی ہے ۔ سو اُس کے لئے شکار موجود ہیں ۔ کسی کو بھی قتل کر دو ۔

6 ۔ کیا کوئی کرپٹ ، بھتہ خور ، بجلی چور ، ٹیکس چور معاشرہ ناموسِ رسالت کا علمبردار ہو سکتا ہے ؟ ہم نے اپنے طرزِ عمل سے اپنا راستہ اسوہ ء حسنہ سے الگ کر لیا ہے۔ ہمارا اسلام منہ زبانی ہے ۔ ہم اپنی زندگی ابو لہب کی طرح گزار کر درود شریف کے پل پر سے گزر کر جنت میں پہنچنا چاہتے ہیں۔ مگر ایسا ہو نہیں سکتا ۔

رہا ممتاز قادری کا معاملہ ، تو وہ ایک نوجوان آدمی تھا ۔ اُس نے جس مقصد کے لئے قتل کیا وہ اُس کی ذاتی ذمہ داری ہے۔ پورے معاشرے کی نہیں۔ کیونکہ اللہ نے واضح الفاظ میں فرمایا  ہے کہ کوئی بوجھ اُٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھائے گا ۔ ممتاز کو سزا پاکستان کی عدالت نے دی ۔ یہ حاکمِ وقت کے قانون کے مطابق ہوا ۔ جیل حکام نے اُسے دار پر لٹکایا ۔ اس پر جو ردِ عمل ہو رہا ہے اُسے خُدا دیکھ رہا ہے ۔ جن لوگوں نے دین کو اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ سے لے کو خود سنبھالا ہوا ہے ، وہ اپنے کئے کے خود ذمہ دار ہیں ۔ اس کا ذمہ دار معاشرہ ہر گز نہیں بلکہ دو ادارے ہیں ۔ عدالت اور جیل حکام ۔ جن کی سزا عام آدمی کو نہ دی جائے ۔ یہ میری استدعا ہے ۔
اور میں کون ؟ اللہ کا ایک عاجز و مجبور بندہ !


Comments

FB Login Required - comments

مسعود منور

(بشکریہ کاروان ناروے)

masood-munawar has 11 posts and counting.See all posts by masood-munawar

2 thoughts on “ناموسِ رسول ﷺ کی سوگند

  • 02-03-2016 at 2:14 am
    Permalink

    ملک ممتاز صرف ایک نوجوان نہیں تھا، بلکہ ایک ایسا شخص تھا جس نے اپنی ذمہ داری،جسے پورا کرنے کی اس نے اللہ تعالی کو حاظر وناظر جان کر پولیس کمانڈو بنتے وقت قسم کھائی تھی، پوری نہیں کی۔ ایک ایسا خائن جس نے اپنے حلف کا احترام نہیں کیا، بلکہ اسی نہتے کو گولیوں سے بھون دیا جس کی حفاظت پر اُسے مامور کیا گیاتھا۔

    توہین رسات غلط ہے، لیکن اس کی سزا موت کس آیت یا حدیث سے ثابت ہوتی ہے؟ کیا استعماری ٹٹو ضیا الحق کا قانون اللہ کا قانون ہے؟

    آپ اللہ کے عاجز بندے ہونگے، لیکن بظاہر آپ بھی اصل مسلے سے نظریں چرا رہے ہیں۔ عدالت اور جیل حکام نے قانون کے مطابق فیصلہ کیا۔

    آپ کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ صیح یا غلط عمل کے بدلے سزا یا جزا دینے کا اختیار دین کی رو سے اللہ کے ہاتھ میں ہے، کسی قادری یا قریشی یا حنیفی یا رضوی، جعفری کے ہاتھ میں نہیں ہے۔

    اگر بندوں نے ہی اللہ بن کر فیصلہ کرنے کی جسارت کرنی ہے تو پھر اس معاشرے اور اس ملک کے مستقبل پر فاتحہ پڑھ لیجئے، کیونکہ اس ملک میں تو ہر گروہ دوسرے کو گستاخ رسول اور گستاخ اللہ قرار دینے کے درپے ہے، اور ہر گروہ میں ہزاروں “پراسرار غازی” تاک میں بیٹھے ہے کہ “شہید” ہو کر آنجہانی ہو جائے۔

  • 03-03-2016 at 8:09 am
    Permalink

    متوان اور مدلل تحریر، لیکن بے عملی اور لاقانونیت کے شکار معاشرے میں کون سنتا ہے!

Comments are closed.