لاکھوں کا ہجوم اور چپ کا روزہ


razi uddin razi دو روز سے تماشہ دیکھ رہا ہوں اور خاموش ہوں۔ لیکن میں کب تک خاموش رہ سکتا ہوں۔ ضبط کی بھی تو ایک حد ہوتی ہے۔ سب کہتے ہیں کہ خاموشی ظلم کی تائید کے مترادف ہے لیکن پھربھی سبھی خاموش ہیں۔ ایک طرف لاکھوں کا ہجوم اور دوسری جانب چپ کا روزہ رکھنے والے ہمارے جیسے نام نہاد دانشور۔ ہجوم کی ایک اپنی نفسیات ہوتی ہے اور اس کا ایک اپنا دباﺅ ہوتا ہے سو اس دباﺅ نے ہمارے بہت سے دوستوں کو خاموش کرا دیا۔ ایسے میں اگر کوئی بولا بھی تو بہت نپے تلے انداز میں۔جان کی امان پاتے ہوئے، چونکہ چنانچہ کی گردان اور اس کے ساتھ علم الدین کی کہانی بیان کرتے ہوئے اور یہ بتاتے ہوئے کہ۔ اقبال نے حسرت کے ساتھ کہا تھا کہ ترکھان کا بیٹا بازی لے گیا۔ اس کے بعد جُز میں کُل ملا کر بات شروع کی جاتی ہے کچھ ذکر اسی دوران شرمین عبید کا ہوتا ہے پھر کپکپاتے ہونٹوں کے ساتھ قانون کی بالا دستی کی بات کی جاتی ہے۔ بس ایک راگ ہے جو سبھی الاپ رہے ہیں اور اس راگ کی تان اس بات پر ٹوٹتی ہے کہ معاشرہ دو انتہاﺅں میں تقسیم ہو چکا ہے اور ایسے میں ہمیں دلیل اوراعتدال کا راستہ اختیار کرنا چاہئے۔ کوئی مجھے بتائے تو سہی کہ اعتدال کی بات کس سے کی جائے ؟ کیا دلیل کے ساتھ ہم ان سے بات کریں جو گولی کی زبان میں بات کرتے ہیں۔ جو قاتل کو ہیرو بناتے ہیں اور قانون کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ ہمیں ایک ایک کر کے قتل کئے جاتے ہیں اور ہم سرِ تسلیم خم کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے قتل کا بازار گرم کر رکھا ہے اور ہم کہتے ہیں کہ کسی کی موت پر خوش نہیں ہونا چاہئے خواہ وہ قاتل ہی کیوں نہ ہو۔ عجب منافقت ہے کہ پہلے ہم کہتے تھے کہ ریاست کی رِٹ کہاں ہے؟ اور اب ریاست نے رِٹ دکھائی تو ہمیں یہ فکر لاحق ہو گئی کہ اس سے معاشرے میں انتہا پسندی اور تشدد کو ہوا ملے گی جیسے معاشرہ پہلے تو بہت معتدل، روادار اور عدم تشدد پر یقین رکھتا ہے۔ ہجوم کے مخالف سمت چلنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن اگر ہجوم دیوانہ وار موت اور تباہی کی جانب بڑھ رہا ہو تو ہمیں اس میں شامل نہیں ہونا چاہئے۔ بس فیصلہ تو ایک ہی کرنا ہے۔ اور فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ہم قاتلوں کے ساتھ ہیں یا قتل ہونے والوں کے ساتھ۔ اور یہ بھی طے شدہ بات ہے کہ ہم نے قتل ہونے والوں میں شمار ہونا ہے۔ ہم ایک ساتھ مارے جائیں گے یا ایک ایک کر کے ؟ یہ فیصلہ ہم نے نہیں ’انہوں‘ نے کرنا ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

10 thoughts on “لاکھوں کا ہجوم اور چپ کا روزہ

  • 02-03-2016 at 5:18 am
    Permalink

    جناب رضی صاحب۔۔۔۔
    اس لائن پہ اور لکھیں یہ تھوڑا ہے مگر ہاں لائن اور آہنگ یہی چاہئے۔ وہ ہجوم ہے مگر بس ہجوم ہے۔ ہم سب ہیں اور ہجوم نہیں ہیں۔
    خود اپنا قامت زیبا ہے میرا اک اک یار
    ہر اک رقیب کے احباب کے برابر ہے۔

  • 02-03-2016 at 7:34 am
    Permalink

    ہمارے جیسے چپ نہیں بلکہ سکتے میں ہیں یہ دیکھ کر کہ جہالت کن انتہاؤں کو چھو رہی ہے

  • 02-03-2016 at 11:58 am
    Permalink

    اقبال کو تنقید کا نشانہ بنانے سے پہلے یہ بات بھی زہن نیشن کرنی چاہیے کہ اقبال نے اسی قسم کی جمہوریت کے کےلئے ہی یہ کہا تھا
    جمہوریت ایک طرز حکومت ہے
    جس میں بندوں کو گنا کرتے ہہیں تولا نہیں کرتے۔

  • 02-03-2016 at 12:00 pm
    Permalink

    اقبال کو تنقید کا نشانہ بنانے سے پہلے یہ بات بھی ذہن نشین کرنی چاہیے کہ اقبال نے اسی قسم کی جمہوریت کےلئے ہی کہا تھا کہ
    جمہوریت ایک طرز حکومت ہے جس میں
    بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے

  • 02-03-2016 at 1:11 pm
    Permalink

    دین کافر فکر و تدبیر و جہاد دین ملا فی سبیل الله فساد.
    یہ بھی علامہ نے لکھاہے

  • 02-03-2016 at 8:31 pm
    Permalink

    میں خو فزده هوں اب یۃ سب دیکھ کر . کچھ بولتے هوے ڈر لگتا هے.

  • 02-03-2016 at 9:20 pm
    Permalink

    رضی الدین دضی صاحب بهت عمده اور شاندار تحریر هے.آپ نے حق ادا کر دیا..

  • 02-03-2016 at 10:03 pm
    Permalink

    فکرانگیزصورت حال میں ایک فکرانگیز تحریر

  • 03-03-2016 at 11:04 pm
    Permalink

    جب اونچے انتہائی اونچے سروں کے شوریدہ راگ چل رہے ہوں تو دھیمے کہاں جائیں۔
    انتظار کیجئے، لوگ لکھیں گے۔ اب جلوس کے نتھنوں میں تھوڑی ٹھنڈی ہوا جا لینے دیجئے۔

  • 04-03-2016 at 3:31 am
    Permalink

    قانون کا مذاق اڑائے والے جھلا کی بھی خوب کہہ آپ نے۔۔۔نشریاتی اداروں میں بیٹھ کر آئیں کو گالی دینے والے اور ببانگ دھل عدالتی فیصلوں کے پرخچے اڑانے والے غالبا احترام قانون کے داری ھیں۔۔ماں کیا گولی مارنا ھ قانون کو ھاتھ کی لینا ھے جرم ھے تو بھی صرف ممتاز قادری ھی کیوں؟جس سے گزاروں لوگوں کے جذبات جڑے تھے۔۔ مصطفی کانوں جوتی کا فرزند اور آپ کا ریمنڈ ڈیوس کیوں نھیں؟؟؟

Comments are closed.