راجندر سنگھ بیدی کی کچھ یادیں ….


\"satya\"راجندر سنگھ بیدی کے چھوٹے بھائی سردار ہربنس سنگھ آج کل ٹرائی سٹیٹ واشنگٹن ڈی سی کے اسی علاقے میں رہتے ہیں جہاں میں اقامت پذیر ہوں ادبی محفلوں اور جلسوں میں ان کے ساتھ اکثر ملاقات ہوتی رہتی ہے اور ہم دونوں ان کے مرحوم بھائی کے بارے میں اپنی اپنی یادوں کا تبادلہ کیا کرتے ہیں

راجندر سنگھ بیدی سے یہ پہلی ملاقات نہیں تھی، لیکن ان کے اپنے ماحول میں ان کو دیکھنے، باتیں کرنے، سگرٹ نوشی کے آداب سیکھنے اور گفتگو میں اردو سے پنجابی یا پنجابی سے اردو میں آمد و رفت ، ان سب کا مزہ مجھے پہلی بار ملا۔ روزمرہ کی چیزوں کے بارے میں جو پھول ان کے منہ سے جھڑتے تھے، وہ اپنی مثال آپ تھے۔

”سب سے گھٹیا سگرٹ پاسنگ شو ہے۔ پاسنگ شو؟ میرے خُٹّے پر مارا ! یعنی برابر سے گذرنے والے کو متاثر کرنے کے لیے سگرٹ پیا جائے!“

”داڑھی مونچھیں ہوں تو چومنا کیا ضروری ہے؟ یعنی آپ کی ریش اور بروت اس کے منہ اور ناک میں پھنستی جائیں ۔۔ بس اپنا کام کرو ،ازار بند سنبھالو اور راستہ ناپو!“
(مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ فارسی میں مونچھ کو ’بروت‘ کہتے ہیں!)

بلونت گارگی تو بنیا در بنیا ہے، اپنی اصل سے بھی اورنسل سے بھی۔ ستپال، کیا تم نے کبھی سنا ہے کہ کوئی بنیا بھی سکھ سجایا گیا ہو؟ سب ذاتوں کے لوگ سنگھ سجائے گئے، براہمن، کھتری، اروڑے، حتےٰ کہ چمار اور چوہڑے بھی، لیکن بنیا لوگ تو مغلوں کے ساتھی تھے، ان سے سکھوں جیسی کسی مارشل قوم کو کیا لینا؟ انہیں تو دینا ہی دینا ہے!“

\"1419425821-881--c_e,g_nw,h_0,w_800,f_none,s_1--82b3148ecdca55e4b9018de3ae6072c1cde92dd7--\"ڈاک خانے میں ساتھ کے ٹیبل پر ایک سکھ تھا۔ مجھے سے سگرٹ کی ڈبیا مانگ کر لے گیا، کہنے لگا، گھر پی کر دیکھوں گا۔ میں نے کہا، پہلے اپنی بیوی کو بھی پلا لینا، ورنہ اس کے قریب بھی نہ پھٹکنا ۔۔۔ دوسرے دن پوچھا تو بولا، یار، کھانسی ہی اتنی آ گئی کہ سگرٹ پھینک دی اور گھر سے باہر نکل گیا ۔ یہ رہی تمہاری باقی ماندہ ڈبیا …. سالا، جھلّا سکھ سردار!“

تم تو، ست پال، اردو ایسے بولتے ہو،جیسے قبض کشا لینے کے بعد بھی کوئی پاخانے میں بیٹھا ہوا مشق ِ سخن کر رہا ہو نیچے سے!“

”دو طرح کے اردو والوں سے سخت نفرت ہے، ایک وہ جو خود کو اہل ِ زبان سمجھ کر پنجابیوں کو جانگلی سمجھتے ہیں اور دوسرے وہ جو سکھوں کے بارے میں بیوقوفی کے لطیفے سناتے ہیں !“

”مجھے درجنوں ایسے لطیفے یاد ہیں لیکن وہ سب پر فٹ کیے جا سکتے ہیں، پٹھانوں پر یا جاٹوں پر “

بلونت گارگی تو اپنے کسی ڈرامے، (غالباً ”لوہا کُٹ) پر ایک شارٹ فلم بنوانے کی تجویز لے کر آیا تھا، جلدی ہی واپس چلا گیا ، لیکن میں بیدی صاحب کے پاس پندرہ بیس دن رہا۔ ان کی ”ایک چادر میلی سی“ کو فلمانے کے بارے میں کچھ تجاویز بھی دیں، جو انہوں نے مسکراتے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے رد کر دیں، ”تمہیں فلموں کی کیا سمجھ! تم اپنی کہانیاں لکھو یا شاعری کرو!“

راجندر سنگھ بیدی کے افسانوں کو ایک بار پھر پڑھنے کا یہ ایک اچھا موقع تھا۔ جب وہ کام کر رہے ہوتے یا کسی سٹڈیو میں گئے ہوتے تو میں ان کی کتابوں کو چھان رہا ہوتا۔ ان کے افسانوں پر بات چیت رات سونے سے پہلے ہوتی۔ وہ میری کہانیوں کی قدر کرتے تھے اور اپنی کہانیوں کے بارے میں میرے رائے کو بھی اس قابل سمجھتے تھے کہ اس پر بات چیت کی جائے۔ ”دانہ و دام“ میں مشمولہ افسانے مجھے اس لیے پسند تھے کہ ان میں ہندوستان (پنجاب) کی دیہاتی بو باس ہے، جو میرے اندر بھی رچی بسی ہوئی ہے۔مثال کے طور پر ایک کہانی کا عنوان ’بھولا‘ ہے۔ ایک بیوہ ماں کا یہ بچہ اپنے نانا سے کہانی سنتا ہے تو اسے پتہ ہوتا ہے کہ دن کو کہانی سننے سے مسافر رستہ بھول جاتے ہیں۔ وہ خود اپنے ماموں کو لاتے ہوئے جب راستہ بھول جاتا ہے تو اسے اپنا یہ ’گناہ‘ یاد آتا ہے کہ اس نے دن کے وقت نانا سے کہانی سنی تھی۔ اس طرح ایک بچہ جب اپنی ماں سے پوچھتا ہے کہ وہ کہاں سے آیا ہے، تو اس کی ماں اسے بتاتی ہے، ”تمہارا باپ ایک سو بیالیس گھنڈیوں والا جال لے کر رام تلائی یا شاہ بلّور کے جوہڑ میں مچھلیاں پکڑنے گیا، وہا ں نہ مچھلی تھی، نہ کچھوا، صرف جونکیں تھیں۔ ایک ننھا سا مینڈک، عمر جولاہے کے گھر کے سامنے روئی کے ایک گالے پر آرام سے بیٹھا ہوا برسات کی خوشی میں گا رہا تھا۔ وہ تم تھے۔ تمہارا باپ تمہیں اٹھا لایا اور ہم نے پال لیا۔“
\"tumblr_n8jt6mzDOI1teii31o1_500\"جب میں نے بیدی صاحب سے کہا کہ یہ کہانی میری بھی سنی ہوئی ہے، تو انہوں نے پیار سے ایک دھپا میرے سر پر مارا اور کہا، ”کیسے ہو سکتا ہے؟ یہ کہانی تو میں نے گھڑی ہے!“ دوسرا دھّپا زور کا بھی ہو سکتا تھا، اس لیے میں خاموش ہو گیا۔
پنجاب کے دیہات کی زندگی میں یہ متداول کہانیاں اپنی چاشنی اور پراسرار رموز کی وجہ سے ہر بچہ سنتا ہے اور ساری عمر یاد رکھتا ہے۔ راجند ر سنگھ بیدی اور بلونت سنگھ دونوں نے اپنے بچپن کی یادوں کو مجتمع کر کے ان کا استعمال اپنی کہانیوں میں میں کیا ہے۔ ایک اور کہانی جس پر کئی گھنٹوں تک ہم بات چیت کرتے رہے، ”اشٹکا“ ، یعنی ’آٹھ اصول ‘ہے۔ اس میں پنچ تنتر کا حکایات کا تانا بانا ایسے بُنا گیا ہے کہ اگر کسی کو یہ نہ بتایا جائے کہ یہ کہانی راجندر سنگھ بیدی کی ہے، تو وہ اسے پنچ تنتر کی کہانی ہی سمجھے گا۔ ایک شکاری کو، جو تیر کمان سے معصوم جانوروں کا شکار کرنا چاہتا تھا ، ان جانوروں نے اپدیش دیا۔
ایک سو بکریوں کا مارنا برابر ہے ایک بیل مارنے سے
ایک سو آدمیوں کا مارنا برابر ہے ایک براہمن مارنے کے
ایک سو براہمنوں کا مارنا برابر ہے ایک استری مارنے کے
ایک سو استریوں کا مارنا برابر ہے ایک گربھ وتی (حاملہ) استری مارنے کے
ایک سو گربھ وتی استریوں کا مارنا برابر ہے ایک گائے مارنے کے۔“

\"Prof._Desnavi_addressing_Mr._Rajinder_Singh_BediDr._Ashfaq_AliMr._Balwant_Singh\"ان کے افسانے ”گرم کوٹ“ پر میں نے راجندر سنگھ بیدی سے جم کر بحث کی۔ میں نے کہا کہ یہ کہانی ’آدرش وادی‘ یعنی idealistic ہے۔ متوسط طبقے کی زیریں سطح پر ایک گھر، ایک خاوند، ایک بیوی، بچے ۔۔۔سخت سردیوں کا موسم اور خاندان کے سربراہ کے پاس گرم کوٹ کا نہ ہونا، یہ سب مل کر کہانی کا تانا بانا بنتے ہیں۔ کہنے لگے کیا آدرش وادی کہانی ترقی پسند نہیں ہو سکتی؟ میں نے پوچھا، خاندان کے سربراہ کا خودکشی کے بارے میں سوچنا اور صرف یہ سوچ کر باز رہ جانا کہ نہر میں تو گھٹنوں گھٹنوں تک پانی ہے، ڈوبنا غیر ممکن ہے، ترقی پسند اقدار کے منافی ہے۔ بولے، ”تم میری کہانی لکھی سنگھ کے بارے میں پڑھو اور پھر مجھ پر یہ سوال کرو۔“
اس کہانی کا عنوان ’آلو‘ تھا، میں نے پہلے بھی پڑھ رکھی تھی، لیکن ان کے اصرار پر دوبارہ پڑھی۔ اس میں ایک نوجوان کا اشتراکیت کو سمجھنے کا ڈھنگ اور اس کے بیوی بچوں کی ضروریات ِ زندگی کے مابین سیدھا ٹکراﺅ ہے۔ وہ ہر روز گھر واپس آتے ہوئے سبزی منڈی کے باہر کھڑے چھکڑوں سے بچے کھچے ، گلے سڑے آلو چن کر جیب میں بھر کر گھر لے آتا ہے۔ اس کی بیوی آلوﺅں کو ابال کر بچوں کا پیٹ بھرتی ہے۔ پھر ایک دنا یسا ہواکہ چھکڑا چلانے والوں کی یونین نے اسی کردار، یعنی لکھی سنگھ کے کہنے پر ہڑتال کر دی ۔ آلو سبزی منڈی سے غائب ہو گئے۔ اس شام جب وہ لوٹا تو بچے آلوﺅں کے انتظار میں بھوکے بیٹھے تھے، جب وہ خالی ہاتھ آیا تو بچے رونے لگے، بیوی نے اس سے جھگڑا کیا اور مزدور تحریک کے بارے میں جلی کٹی سنائی۔ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور اپنی بسنتی کے بارے میں سوچا کہ وہ رجعت پسند ہو گئی ہے۔
میں نے کہا، ”یہ طنز کہ وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا اور اپنی بیوی کے متعلق یہ خیال اس کے دل میں جاگزیں ہوا، ”کس پر ہے؟ اشتراکیت کے فلسفے پر یا ہماری معیشت پر؟“
بولے، ”جو تم سمجھ لو، لیکن اب تو آدرش واد کا مطلب تمہاری سمجھ میں آ گیا ہے نا؟“


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔