مذہبی برداشت کے فروغ کی ضرورت


aimal khan سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کے قاتل ممتاز قادری کو سزائے موت کے فیصلے اور خاص کر پھانسی کے بعد اس کیس کے حوالے سے گرم بحث و مباحثہ شروع ہے۔ لگتا ہے کہ عرصے تک اس کیس کی بازگشت سنائی دے گی۔ بحث کے ایک طرف وہ لوگ ہیں جو مذہبی تشدد کے مخالف اور میانہ روی اور برداشت کی تلقین اور قانون کی بالادستی کی بات کرتے ہیں دوسری طرف وہ لوگ ہیں جو کسی بھی فرد کی طرف سے کسی بھی مقدس کاز کے لئے قانون کو ھاتھ میں لینے کے فعل کو جائز سمجھتے ہیں اور پاکستان جیسے مسلم معاشرہ میں رائج قوانین کی پاسداری کی بجائے مذہبی جوش اور جذبے میں فرد واحد کو فیصلے سنانے اور اس پر عملدرامد کی اجازت دیتے ہیں۔ اس اختلاف کے باوجود دونوں نکتہ نظر کے لوگ توہین رسالت حتی کہ تمام مقدس مذہبی شخصیت کی توہین یا مذہبی مقامات کی بی حرمتی کے خلاف ہے اور ا س کو قابل سزا جرم سمجھتے ہیں مگر سزا کی نوعیت، مقدمے کی اندراج اور سزا دینے کے طریقہ کار وغیرہ پر اختلاف نظر موجود ہے۔

اگر عام لوگ اس فیصلے کی مخالفت کریں جو قانون اور عدالتی نظام کو پوری طرح نہیں سمجھتے تو قابل فہم ہے۔ مگر تعلیم یافتہ اور قانونی موشگافیوں سے واقف لوگوں کی مخالفت سمجھ سے بالا تر ہے۔ مذہب سے لگاو اور سلمان تاثیر کے قاتل سے ہمدردی اپنی جگہ مگر اس کو سنائی جانے والی سزائے موت کے فیصلے کو جوڈیشل قتل قرار دینا اور وہ بھی معاشرے کے سب سے زیادہ قانون آشنا طبقے یعنی وکلا کی جانب سے ایک انتہائی افسوسناک اور تشویشناک امر ہے۔

سلمان تاثیر کا بظاہر قصور گورنر کی حیثیت سے ایک لڑکی جس پر توہین رسالت کا الزام تھا سے ملاقات اور تسلی کے چند الفاظ اور اس کے ساتھ بےانصافی اور زیادتی نہ ھونے کا دلاسہ یا داد رسی تھا۔ جبکہ اس پر توہین کا کوئی براہ راست الزام نہیں تھا۔ ایک فرد واحد نے اپنی تئیں اس پر نہ صرف الزام لگایا، سزا بھی سنائی بلکہ خود سزا بھی دی۔ کسی بھی مہذب اور قانون پسند معاشرے کو چاہے جمہوری ھو حتی کہ مذہبی بھی فرد واحد کو اس بات کی کھلی چھٹی نہیں دی جا سکتی کہ وہ قانون کے مروجہ ذرائع اور اصولوں کو بالائی طاق رکھ کر قانون کو ہاتھ میں لیں اور خود منصف بھی ٹھہرے اور جلاد بھی۔ محض جذبات کی بنیاد پر نہ تو قوانین بنتے ہیں اور نہ فیصلے ھوتے ہیں۔ عقل اور شعور کا تقاضہ یہ ہے مقصد چاہے کتنا ہی اعلی و ارفع نہ ھو کسی نہ کسی قانون یا ضابطے کا احترام، لحاظ یا پیروی کرنی پڑتی ہے، لاقانونیت اور بدامنی پھیلنے اور انصاف کے مروجہ اصول والوں کی پامالی کے خدشے کے پیش نظر مذہب یا قانون شہریوں کو قانون کی احترام کا درس دیتی ہے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ھو اور کسی کے ساتھ ناانصافی نہ ھو۔ چاہے ملزم ھو یا متاثرہ فرد دونوں کے حقوق ہیں۔ متاثرہ فرد یا اس کے لواحقین کی فریاد اور ملزم کو صفائی کا موقع دئے بغیر انصاف ناممکن ہے۔ اس لئےغصے یا جذبات پر قابو پانے، صبر، برداشت اور قانون کے مروجہ ذرائع سے رجوع اور عدالتی عمل اختیار کرنے کی تلقین کرتی ہے۔ پاکستان کے مخصوص مذہبی اور سماجی پس منظر میں جب توہین رسالت کے قوانین کی غلط استعمال اور جھوٹے مقدموں کی کئی مثالیں موجود ہے تو اس معاملے کے کیسوں میں قانونی اور عدالتی طریقہ کار اختیار کرنا اور اس پر انحصار کرنا بہت ضروری ہے

مروجہ قانونی اور عدالتی پراسس کی تکمیل کے بعد سزائے موت کا فیصلہ کیا گیا اور نچلی عدالت سے لیکر صدرمملکت سے سزائے موت میں نرمی کی اپیل تک تمام قانونی راستے استعمال کیے گئے اور صدرمملکت کی جانب سے معافی کی اپیل مسترد ھونے کے بعد ان کو پیر کی صبح راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں پھانسی دی گئی۔

ھونا تو یہ چائیے تھا کہ ایسے اھم اور حساس کیس میں بخیرکسی دباو اور پریشر کے میرٹ کی بنیاد پر عدلیہ کے فیصلے کو سراہا جاتا اور ایک انتہائی حساس اور ھائی پروفائیل مقدمے میں قانون کی بالادستی کی تعریف کی جاتی مگر فیصلے کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی اور وہ بھی وکلا کی جانب سے۔ قانون کی ابجد سے آگاہ تعلیم یافتہ طبقے کی جانب سے مخالفت معاشرے میں انتہا پسندی کے سرطان کی بیماری کی طرح پھیلاو کی غمازی کر رہی ہے۔

اس انصاف پر مبنی فیصلے سے عدلیہ کا وقار بلند ہوا اور ملک کی ساکھ بہتر ہوئی۔ کیونکہ اس فیصلے سے قانون کی بالادستی قائم اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کیے گئے۔ اور قتل جیسے ظالمانہ عمل میں ملوث فرد چاہے وہ کتنا طاقتور کیوں نہ یا اس کےحامیوں اور پر ستاروں کی تعداد کتنی کم یا زیادہ کیوں نہ ھو مگر مجرم کو اپنے جرم کی سزا مل گی۔ مزید یہ کہ احتجاج کا حق ہر شہری کو حاصل ہے مگر احتجاج کے نام پر توڑ پھوڑ اور بے گناہ شہریوں کی جان و مال کو نقصان پہنچانا ایک ناپسندیدہ اور قانون شکن عمل ہے۔ اگر انصاف کے مسلمہ اداروں اور انصاف کی فراہمی کے مروجہ طریقہ کی بجائے مذہبی جنون اور جذبات کی بنا پر فیصلوں کی اجازت دی گی تو یہ عمل ملک کو بدامنی ، لاقانونیت اور انارکی کے حوالے کرنے کے مترادف ھوگی۔ اور یہ فیصلہ ہم نے کرنا ہے کہ ہم نے پاکستان کو ایک انتہاپسند، پرتشدد اور مذہبی عدم برداشت کے سپرد کرنا ہے یا ایک میانہ رو، روادار اور برداشت کا حامل ملک بنانا ہے


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “مذہبی برداشت کے فروغ کی ضرورت

  • 27-03-2016 at 5:10 pm
    Permalink

    اگر قانون دانوں کی طرف سے اس معاملے کی مخالفت کی گئی۔۔۔تو اس سے تو یہ ثابت ھوتا ھے کہ دال میں کچھ کالا تھا۔۔۔۔اور وہی تعریف وکلاء کی کیوں نہ ھونی چاہیئے کہ انھوں نے ایک ھائی پروفائل کیس میں عدلیہ کی مخالفت کی
    ۔۔۔

Comments are closed.