سوچ کو پھانسی کون دے گا؟


ramishقاتل کو پھانسی دی جا سکتی ہے سوچ کو نہیں۔ سوچ تبدیل کی جا سکتی ہے لیکن ضروری ہے کہ پہلےکوئی یہ مانے کہ وہ غلط سوچتا ہے، جو یہاں تک سوچ لے گا وہ تبدیل بھی ہو جائے گا۔ جب آپ نے ایک کمرے میں قید کر لیا خود کو، دروازے ہی بند کر دیئے، کھڑکیاں روشندان سب بند ہیں، اندر بس آپ ہیں اور وہ خیالات ہیں جو کسی دلیل یا عقل کے محتاج نہیں تو پھر آپ کی بات ہم تک کیسے پہنچے گی، ہماری ہوا آپ تک کیسے آئے گی۔ اگر آپ مولوی کو مذہب مانیں گے تو پھر ہم مسجد میں امام کی جگہ تو لینے سے رہے کہ یہ ایک کم عقل ، جذباتی اور باتوں سے ورغلانے والے مرد کا منصب ہے جو آپ ان تمام خصوصیات والی عورت کو نہیں دے سکتے۔ لبرل ، سیکولر، آزاد خیال، مغرب نواز، ملحد، غدار، کافر۔۔۔ نئے سے نئے لفظ کو گالی سمجھیں اور ہمیں نوازیں۔ ایک ہم ہیں کہ فرق ہی نہیں پڑتا۔ شہباز بھٹی کی برسی ہے، سلمان تاثیر کے قاتل کو سزا ہوئی، اطمینان مجرم کو سزا ملنے پر تھا جسے لوگوں نے موت کی خوشی سمجھا۔ موت کی خوشی تو تب منائی گئی تھی جب  راشد رحمان کے قتل کے بعد ان کے گھر کے سامنے ڈھول بجائے گئے۔

مایوسی ہوتی ہے جب ہم ظلم کے جواز تراشنے والوں اور ہیرو کہنے والوں کا ہجوم دیکھتے ہیں، اداسی ہوتی ہے جب بھی کہیں کوئی بےگناہ کسی نفرت اور جنون کا نشانہ بنتا ہے، کبھی تو یہ گمان گزرتا ہے کہ محسن نقوی سچ کہتے تھے

اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسن

دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو جلا کر

خیال آتا ہے کہ ہم کس ہارے ہوئے لشکر کے سپاہی ہیں۔ کہاں لڑ رہے ہیں جہاں دیوار سے سر ٹکراتے ٹکراتے مر جائیں گے یا غالب گمان ہے کہ مار دیئے جائیں گے کیونکہ ہم مالٹے کو مالٹا کہتے ہیں، گول ہے، لال ہے اور کھٹا ہے جیسے اشارے نہیں دیتے۔  ایسے بات کرنے کا فن نہیں سیکھ سکے کہ ایک جانور ہے چار ٹانگوں اور اعلی نسلوں والا جس کی دم کبھی سیدھی نہیں ہوتی ، وفاداری بشرطِ استواری کی امید ہے مگر پاگل ہو گیا تو آپکو کاٹ بھی سکتا ہے۔ چوپائے کو چوپایہ ہی کہتے ہیں۔ ساغر صدیقی کہتے ہیں

معبدوں کے چراغ گل کر دو

قلب انسان میں اندھیرا ہے

۔۔۔اور جب مایوسی کے اس بحرِ بےکراں میں علی جعفر زیدی کی کتاب “باہر جنگل اندر آگ” کھولی تو اس ایک سطر پہ نظر پڑی اور ساری مایوسی یوں بھاگی جیسے ہم بچپن میں لوگوں کے گھروں کی بیل بجا کر بھاگتے تھے۔ ایک بار ڈوبتے سورج نے کہا ” کوئی ہے جو میری جگہ لے سکے؟ مٹی کے ننھے منے دیئے نے جواب دیا “میں کوشش کروں گا (رابندر ناتھ ٹیگور)


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “سوچ کو پھانسی کون دے گا؟

  • 02-03-2016 at 6:41 pm
    Permalink

    You should justify your existence, would you be able to left your imprint or not is irrelevant. Keep trying, keep trying with smile.

  • 04-03-2016 at 1:40 am
    Permalink

    Weldon Ramish Fatima….
    Keep on writing, not necessary that it is right or wrong…… It is enough to express yourself, and tell the world in which way you think….. I am 200% agreeing your thinking and understandings the burning issues

  • 04-03-2016 at 8:28 am
    Permalink

    مختصر مدلل اور پیاری تحریر

Comments are closed.