ریاست کی عملداری کا سوال


umar farooq29 فروری کی صبح کو ایک اچھی خبر ملی کہ شرمین عبید چنائے نے دوسرے بار آسکر ایوارڈ جیت لیا۔ یہ خبر اتنی بڑی اور اتنی خوشی کا باعث تھی کہ ایک عجیب سے خوشی اور جشن کی سی کیفیت میرے اندر جاگی اور بے ساختہ الفاظ منہ سے نکلنے لگے۔ یہ خبر ایک تپتی دھوپ میں تازہ اور ٹھنڈی ہوا کا جھونکا محسوس ہوئی۔ ایسے لگا کہ یہ ان تمام طبقوں کی فتح ہے اور کامیابی ہے جو اس تپتے صحرا میں کانٹوں سے بھرپور راستے پر صنف نازک کے حقوق کی جنگ لڑتے آ رہے ہیں۔ یہ خبر ان تمام لوگوں کی قربانیوں کا ثمر محسوس ہوئی جو اس عظیم جدو جہد میں غیر ملکی ایجنٹ، یہودیوں کی سازشوں کے آلہ کار اور نہ جانے اور کون کون سے القابات اور فتوے سہہ کر اس جہان سے کوچ کر گئے یا کروا دیے گئے۔

29 فروری کی صبح ہی ایک اور خبر بھی ملی کہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو قتل کرنے والے ان کے محافظ ممتاز قادری کو پھانسی سے دی گئی اور یہ کام پاکستان کی عدلیہ کی طرف سے سنائے جانے والے فیصلوں کی روشنی میں سر انجام دیا گیا۔ یاد رہے کہ ممتاز قادری نے گورنر سلمان تاثیر کو اس وقت اسلام آباد کی کوہسار مارکیٹ میں قتل کر دیا تھا جب قادری صاحب گورنر صاحب کی حفاظت کی ڈیوٹی پر مامور تھے۔   پھانسی کی خبر کے بعد حسب توقع رد عمل بھی دیکھنے کو سامنے آیا اور ابھی تک آ رہا ہے۔

میں اس سارے منظر نامے میں عجیب سے کیفیت سے دوچار ہوں۔ میں یہ سوچ رہا ہوں کہ جس ملک میں ہم نے ستر ہزار سے زائد شہریوں کو دہشت گردی اور انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھا دیا اور اس کے بعد بھی ہمارے اندر یہی کچھ موجود ہے تو پھر تو یہ ستر ہزار کچھ زیادہ نہیں ہیں۔ میں یہ سوچ رہا ہوں اسی ملک میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو طاقت کے بل بوتے پر اور پر تشدد طریقے سے اپنا نقطئہ نظر دوسروں پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور اس کے لیے وہ معصوم بچوں کو ذبح کرنے، ہمارے فوجی جوانوں کے گلے کاٹنے، مسجد، مزار، بازار، ہسپتال اور اسکولوں میں پھٹنے کو بھی عین شرعی اور عین اسلامی سمجھتا ہے تو کیا ہم ان کے ان اعمال کو بھی ٹھیک مان لیں؟ کیا ہم انہیں بھی فرزندان اسلام کا نام دے دیں کیونکہ ان کے خیال میں سارے کے سارے پاکستانی اس نظام کے تحت زندگیاں گزار رہے ہیں جو کہ ان کے بقول غیر شرعی نظام ہے تو کیا ان کے تمام اقدامات کو درست مان لیا جائے؟

ارے بھائی ایسا نہیں ہو سکتا۔ ہم کسی بھی ایسے شخص کے کسی بھی ایسے اقدام کو جو کہ اس ملک کے قانون اور آئین سے متصادم ہو کو کیسے ٹھیک کہہ سکتے ہیں؟ اور اگر ہم اپنے اپنے مذہبی جذبات کے دھاروں میں بہہ کر ایسا سوچ رہے ہیں تو پھر ہم ان ستر ہزار پاکستانیوں کی جانوں کے ضیاع  کوجو کہ کسی خود کش حملے، کسی بم حملے، کسی فائرنگ یا دہشت گردی کی کسی بھی دیگر صورت میں ہوا، کو ٹھیک سمجھ رہے ہیں۔ ہم تو جانے انجانے میں دہشت گردوں کو جو کہ اپنے مذہبی جذبات کی روشنی میں پاکستان میں شریعت کے نفاذ کے لیے معصوموں کے خون کی ندیاں بہا رہے ہیں کو سپورٹ کر رہے ہیں۔

آرمی پبلک سکول میں اپنے معصوم بچوں کے گلے کٹوانے کے بعد جب ساری سیاسی قیادت اور فوجی قیادت ایک جگہ مل بیٹھی اور اتفاق رائے سے ایک منصوبہ بنایا اور اس کو نیشنل ایکشن پلان کا نام دیا اور اس میں ریاست کی طرف سے ایک واضح پیغام دیا کہ اس ملک میں ہم کسی بھی سطح پر اور کسی بھی طریقے یا ذریعے سے دہشت گردی اور انتہا پسندی کو مزید برداشت نہیں کریں گے اور اس کا ہر ممکن طریقے سے قلع قمع کیا جاوے گا تو اس وقت امید کی ایک کرن جاگی کہ چلو دیر آید درست آید اب صحیح سمت کی طرف قدم بڑھا دیے ہیں تو منزل تک بھی پہنچ جائیں گے۔ لیکن کچھ ایسی طاقتیں موجود ہیں جو کہ اس قوم کی ڈرائیونگ سیٹ پر براجمان ہو کر اس کو دوبارہ سے اسی دلدل میں دھکیل دینا چاہتی ہیں کہ جس دلدل سے شاید اب کی بار باہر نکلنا کبھی ممکن نہ ہو پائے گا۔ ریاستی نظام کو جس طرح سے یرغمال بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں تو کیا یہ ریاست اتنی بے بس ہو چکی ہے کہ ایسے عناصر کو قانون اور آئین کے دائروں میں رہنے کا پابند بنا سکے؟ ضرب عضب کی کامیابی پر ترانے تو ہم گا رہے تھے لیکن اب کی صورتحال کو دیکھ کر سر چکرا کر رہ گیا کہ صورت حال تو آپریشنوں کے بس سے بھی باہر ہوتی نظر آرہی ہے۔ ہم کیوں ایسی طاقتوں کے خلاف اب بھی کارروائی کرنے سے گریزاں ہیں جو کہ اس قوم کے جذبات کو بھڑکا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہیں؟ ہم کیونکر ان قوتوں کے خلاف کوئی ایکشن لینے سے گریزاں ہیں جو ریاستی عملداری کو چیلنج کرتے پھرتے ہیں؟ ایک آپریشن ان کے خلاف بھی ہو جانا چاہیے کیونکہ یہ ریاست کی بقاء کا سوال ہے۔ یہ ریاست اور میں بسنے والے شہریوں کے مستقبل کا سوال ہے۔ یہ ریاستی عملداری کا سوال ہے۔


Comments

FB Login Required - comments