موت کا منظریعنی مرنے کے بعد ۔۔۔۔


 jamal yasinوجاہت بھائی، ماشاللہ حسنین میاں اتنا اچھا لکھنے لگے ہیں کہ ان کے کالم کا انتظار رہتا ہے۔ خود ستائی کے لیے معذرت خواہ ہوں (جی ہاں، اپنے بیٹے کی تعریف کرنا بھی خود ستائی کے ذیل میں آتا ہے کہ وہ بھی آپ ہی کی تخلیق ہے)۔ کل اچانک خیال آیا کہ ہمارے مرنے پر تو یقیناً حسنین میاں ایک معرکة الارا کالم لکھ دیں گے، جس میں اپنے دل کا سارا درد سمیٹا ہو گا، مگر افسوس کہ ہم وہ شاہکار پڑھنے سے محروم رہیں گے۔ کہ مصدقہ اطلاعات کے مطابق (جی ہاں وجاہت بھائی، اب کے مصدقہ) عالم بالا میں “ہم سب” تک رسائی ممکن نہ ہو گی۔ سوچا کیوں نہ ان کی زبان میں ہم خود ہی ان کے تاثرات پیش کرنے کی کوشش کریں۔ لیجیے پڑھنا شروع کیجیے؛

“سانحہ تو بہت چھوٹا سا لفظ ہے۔ اس قیامت کو گزرے ایک ہفتے سے زیادہ ہو چلا ہے مگر قلم اٹھانے کی ہمت نہیں ہو رہی۔ وہ جو ہمارے ہر کالم کی داد دیا کرتا تھا، کسی بھی بے محل شعر یا غیر موزوں فقرے کی نشان دہی کیا کرتا تھا، جب وہ ہی نہ رہا تو کس کے لیے لکھا جائے۔ ابو کے انتقال کی خبر ایک ایسا تیر بن کر سینے میں ترازو ہوئی ہے کہ شاید تا عمر یہ زخم مندمل نہ ہو سکے۔ ویسے تو اکثر اولاد یہی کہتی ہے کہ ہمارے والد ایک باپ نہیں ایک دوست تھے مگر ہمارے ابو صحیح معنوں میں ہمارے دوست تھے۔ فلموں پر بحث کرنا، سٹیج ڈراموں کی جگت شئیر کرنا، حتی کہ ہم تینوں باپ بیٹے سگریٹ اور سگار بھی اکٹھے پیا کرتے۔ جب بھی ملاقات ہوتی ہمیشہ شگفتہ موڈ میں ملتے اور اکثر ہم تینوں ایک دوسرے پر جگتیں کرتے۔ ابو امی کی لڑائی اپنی مکمل زندگی میں ہم نے کبھی نہ دیکھی۔ شاید ایک آدھ دفعہ چند گھنٹوں کے لیے بول چال بند ہوئی ہو تو ہو، ورنہ، غصہ کرنا یا چیخنا چلانا ناممکن تھا۔ الحمدللہ وہی عادت ہم دونوں بھائیوں کو بھی ابو کی طرف سے ورثہ میں ملی ہے۔ اکثر سخت گیر باپوں کی طرح انہوں نے کبھی ہم پر کلاس میں اول آنے کے لیے دباو نہیں ڈالا، ہمیشہ کہتے کہ بیٹا محنت کرتے نظر آؤ، پھر جو بھی نتیجہ ہو گا، ہم تم سے گلہ نہیں کریں گے، ہاں، اوسط سے کچھ بہتر ضرور رہنا ۔۔۔۔

ہر بات میں ہم بچوں پر کامل اعتماد کرنے کی ہی وجہ ہے کہ خدا کے فضل و کرم سے ہم کسی امتحان میں فیل نہیں ہوئے اور شاہراہ زندگی پر بغیر کسی بڑی رکاوٹ کے گامزن ہیں۔ میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ابو نے ہماری ہر جائز و ناجائز خواہش پوری کی مگر اتنا ضرور ہےکہ اپنے وسائل میں رہتے ہوئے ہماری کسی فرمائش کو حتی الامکان رد بھی نہیں کیا۔ جب میں اپنی ملازمت کے سلسلے میں لاہور شفٹ ہوا تو انہوں نے انتہائی خوش دلی اور محبت سے خدا حافظ کہا اور ابتدائی مشکلات سے نمٹنے کے لیے ہمیشہ حوصلہ بڑھاتے رہے۔ بلکہ یہاں تک کہ ہم دونوں بھائیوں کی ملک سے باہر جانے کے لیے بھی ہمیشہ حوصلہ افزائی کی۔ یہی دیکھتے ہوئے میرے سب دوست میرے والدین کو آئیڈیل والدین کہتے ہیں۔

ابو “سب رنگ” کو جنون کی حد تک پسند کرتے تھے اور 1975 کے بعد کے تمام شمارے آج بھی ان کی الماری میں قرینے سے رکھے ہوئے ہیں۔ وہ محبت کے اظہار کو بشری کمزوری سمجھتے تھے مگر اپنے عمل سے انہوں نے ہمیشہ ثابت کیا کہ ان کو خاندان سے بڑھ کر کوئی عزیز نہیں۔ انہیں سرپرائز دینے کا بہت شوق تھا اور اس کے نتیجے میں ہمارے چہروں پر چھائی حیرانی سے بہت لطف اندوز ہوتے تھے۔ ایک دفعہ اپنی دہلی پوسٹنگ کے دوران فون کیا کہ فلاں پرواز سے ان کے ایک دوست اپنی فیملی سمیت آ رہے ہیں، ذرا جا کر ائیرپورٹ سے لے لینا۔ خیر جناب ہم بن ٹھن کر ائیر پورٹ پہنچے کہ ابو کے دوست پر اچھا اثر پڑے گا۔ جب تمام مسافر نکل چکے تو دور سے ایک صاحب براون سوٹ میں نظر آئے۔ میں نے ساتھ آئے کزن سے کہا کہ دیکھنا ان صاحب کی شکل ابو سے کتنی ملتی ہے۔ تھوڑی دیر میں کیا دیکھتے ہیں کہ امی ابو ہنستے ہوئے سامنے سے چلے آ رہے ہیں۔ یقین مانیں ایسی خوشی زندگی میں پھر کبھی نہیں ملی۔ اور ابو کے چہرے پر جو شریر سی مسکراہٹ تھی وہ آج بھی یادداشت میں محفوظ ہے۔ میری چھوٹی بہن جو ان دنوں ہمارے پاس لاہور میں مقیم تھی وہ تو حیرت اور مسرت کے مارے رو پڑی۔

سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کیا لکھوں۔ خیالات و واقعات کا ایک سمندر ہے جو سینے میں موج زن ہے۔ ان کی ساری زندگی کو ایک کالم میں کیسے سمیٹا جا سکتا ہے۔ جب سے ابو گئے ہیں، ہم دونوں بھائی ایک دوسرے سے نظریں چرائے پھر رہے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ابو کی باتیں شروع ہو جائیں اور جس طوفان کو ہم دونوں اپنے اپنے دل میں چھپائے ہوئے ہیں وہ امڈ آئے اور سنبھالنا مشکل ہو جائے۔ امی اور بہن کی حالت بڑی مشکل سے قابو میں آئی ہے، اگر ہم دونوں بھی شدت سے رو اٹھے تو کہرام مچ جائے گا اور ابو کو رونا دھونا سخت ناپسند ہے۔ ابو کی ریٹائرمنٹ کے بعد ہم نے بارہا اصرار کیا کہ دونوں بھائی لاہور میں ہیں، آپ اور امی بھی یہیں شفٹ ہو جائیں مگر ان کو اپنا ملتان اتنا عزیز تھا کہ ہمیشہ ٹالتے رہے۔ اور دوسری ملازمت ملنے کے بعد تو ایک معقول بہانہ ان کے ہاتھ آ گیا۔ حالانکہ ان کے پوتا پوتی بھی انہیں بے طرح یاد کرتے اور ان کی دلی خواہش تھی کہ ہم دادا دادی کے ساتھ رہیں، مگر شاید ان کے نصیب میں دادا کا قرب نہیں تھا۔ چونکہ ابھی تک ذہنی طور پر میں نے ابو کی جدائی کو قبول ہی نہیں کیا اس لیے اختتامیہ میں لحد، کفن، جنت وغیرہ سے متعلق اشعار لکھنے سے گریز ہی کروں گا۔ بس یہی التجا ہے کہ انہیں اپنی دعاوں میں یاد رکھئیے اور ہمارے لیے دعا کیجیے کہ ہم اہل خانہ کو صبر آ جائے اور ان کی جدائی کو خدا کا فیصلہ سمجھتے ہوئے قبول کر لیں۔

(بھائی جمال یٰسین، انشا پردازی کی جولانیاں اپنی جگہ، لیکن عجب ناشدنی تحریر ہے یہ۔ باقاعدہ خواہش ہو رہی ہے کہ اسے سنسر کر دیاجائے حرف اول سے آخر تک۔ ہم نہیں چاہتے کہ بھائی حسنین کو یا ہم میں سے کسی کو بھی کبھی ایسی تحریر لکھنا پڑے۔

وہ بھی شاید رو پڑے ویران کاغذ دہکھ کر

میں نے اس کو آخری خط میں لکھا کچھ بھی نہیں

درخواست ہے کہ آپ اپنی باغ و بہار شخصیت کی طرح کچھ رنگ، رس، روپ اور روشنی کی بات کریں۔ جنازہ انسانی زندگی کا حصہ ہے لیکن فی الحال اگر بار امانت اٹھانے کی مہلت عطا کی جائے تو عنایت ہو گی۔

شاید کبھی ہم بار امانت بھی اٹھائیں

اب تک تو جنازے ہی اٹھانے میں لگے ہیں)


Comments

FB Login Required - comments

3 thoughts on “موت کا منظریعنی مرنے کے بعد ۔۔۔۔

  • 02-03-2016 at 10:43 pm
    Permalink

    کمنٹ لیس! کمنٹ لیس! 🙁 :'(

  • 03-03-2016 at 12:47 am
    Permalink

    بہت شاندار اور بے حد جاندار تحریر۔

    • 03-03-2016 at 4:12 pm
      Permalink

      عزیزو۔ واضح کر دوں کہ یہ مضمون اپنے پیاروں کی محبتیں آزمانے یا ہمدردیاں سمیٹنے کی غرض سے ہرگز ہرگز نہیں لکھا گیاـ محرک صرف وہی خیال تھا جو ابتدایئہ میں بیان کیا گیا۔بہر حال آپ سب کا دل دکھا نے پر دلی معذرت اور وعدہ کہ آیؐندہ ایسا درد انگیز انشاؐییہ لکھنے سے گریز کروں گا۔

Comments are closed.