تعلیم و تدریس کی ریوڑیاں


ejaz awanیہ خبر بعض حلقوں میں نہایت حیرت سے سنی اور پڑھی گئی کہ شہر ملتان میں پبلک سروس کمیشن نے سرکاری سکولوں کے لئے تحریری امتحان میں کامیاب ہونے والوں کے انٹر ویو لئے اور ملتان شہر سے ہی 22 ہیڈ ماسٹر منتخب کر ڈالے ۔ ہم یہ تو جانتے تھے کہ ملتان میں بہت سے دانشور موجود ہیں جیسے کہ ڈاکٹر انوار احمد، ڈاکٹر علمدار حسین۔ لیکن یہ علم نہیں تھا کہ اب بھی ملتان میں بہت ہی قابل اور ذہین اساتذہ بھی موجود ہیں ۔ دوسرے نمبر پر جو خوش نصیب ضلع رہا وہ بھی ملتان کا پڑوسی ضلع ہے ، مظفر گڑھ ۔ جہاں سے 15 اساتذہ خوش نصیب رہے اور تیسرے نمبر پر بھی ان ہی کا پڑوسی ضلع بھکر رہا جہاں سے 14 خوش نصیب اساتذہ کے نام قرعہ فال نکلا ۔ یہ تعداد زیادہ بھی ہو سکتی تھی لیکن ناچیز کا اندازہ ہے کہ ان شہروں سے اتنے ہی قابل اساتذہ تھے جنہوں نے تحریری امتحان پاس کیا اور انہیں ہیڈ ماسٹر منتخب کر لیاگیا ۔ ہم تو رشک کر رھے اہل ملتان پر ۔ماشاء اللہ۔ اس انٹر ویو بورڈ نے ثابت کر دکھایا کہ سرائیکی خطے میں کیسے کیسے عظیم دانشور موجود ہیں بس ان کو موقع ملنے کی دیر ہے پھر ان کا کمال دیکھئے۔

دوسری طرف ہم سمجھتے تھے کہ ذہانت و لیاقت پنجاب کے مرکزی شہر لاہور میں ہی جمع ہو چکی ہے ۔ لیکن کمال دیکھئے کہ تخت لاہور سے صرف 4 اساتذہ منتخب ہو پائے ۔ اب تو اہل ملتان اور جنوبی پنجاب کو یہ گلہ نہیں رہنا چاھئے کہ تخت لاہور ان کے حق پر ڈاکہ ڈال لیتا ہے۔ کیا ہوا جو پنجاب کے مرکز اور شمال میں رہنے والے اساتذہ منہ دیکھتے رہ گئے۔ انہوں نے بڑا عرصہ عیش کر لی۔ اب ملتان میں الگ انٹرویو سنٹر بنا دیا گیا ہے تو پھر کیا اب بھی وہ اپنے اہل علاقہ کی خدمت نہ کریں گے تو کب کریں گے۔ روف کلاسرا تو پہلے ہی لکھتے رھتے ھیں کہ جنوبی پنجاب کے ممبران پارلیمنٹ اتنے خوفزدہ ہیں کہ لاہور اور اسلام آباد جا کر بالکل گونگے ہو جاتے ھیں۔ چلیں اب ان کا شکوہ بھی دور ہوا۔ کسی نے تو ملتان اور جنوبی پنجاب کا بھلا سوچا۔ ہم تو ایک عرصے سے قائل ہیں کہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنا دیا جانا چاھئے کہ ان کی پسماندگی اسی طرح دور ہو سکتی ہے۔ جاگیرداروں، مخدوموں اور وڈیرہ شاہی کے ہاتھوں پسے ہوئے جنوبی پنجاب کے باسی اگر تعلیم حاصل کر لیتے ہیں تو بہت خوشی کی بات ھے کہ ان کو ترجیحی بنیادوں پر اہم عہدوں کے لئے منتخب بھی کر لیا جاتا ھے ۔ اگر ملتان میں موجود انٹرویو بورڈ نے یوں نوکریاں جنوبی پنجاب میں ہی بانٹنا ہیں تو پھر بہتر ہو گا کہ الگ صوبہ بنا ہی دیا جائے ۔ چکوال کی ریوڑیاں بہت مشہور ہیں لیکن ان کو اس بار ایک ہی ریوڑی مل پائی، باقی کی ریوڑیاں جنوبی پنجاب کے دانشور لے گئے ۔


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “تعلیم و تدریس کی ریوڑیاں

  • 03-03-2016 at 6:25 am
    Permalink

    بہت خوب. آپ نے ایک اہم نقطے کی طرف توجہ دلائی

    • 03-03-2016 at 8:55 am
      Permalink

      شکریہ ۔ اس بار یہ بہت انوکھا انتخاب رہا کہ 140 سے زیادہ اساتذہ جنوبی پنجاب سے منتخب ہوئے جبکہ مرکزی اور شمالی پنجاب سے صرف 50 اساتذہ منتخب ہوئے

Comments are closed.