ممتاز قادری کو سزائے موت: چند خیالات


mohd usman awanمحمد عثمان اعوان

بالآخر 29 فروری کو ممتاز قادری صاحب کو پھانسی دے دی گئی۔ میں اس پہ بالکل بات نہیں کرنا چاہتا کہ غلطی کس کی تھی۔ سلمان تاثیر گناہگار تھے یا ممتاز قادری؟ لیکن میں اپنی رائے دینے کا پورا حق رکھتا ہوں اور لازم نہیں کہ آپ بھی میری رائے سے متفق ہوں۔ لیکن ایک پڑھا لکھا انسان ہونے کے ناطے ہمیں ایک دوسرے کی رائے کو برداشت ضرور کرنا چاہیئے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ ممتاز قادری نے قانون کو ہاتھ میں لیا۔ اور میں اس بات سے بالکل متفق نہیں ہوں کہ ایک انسان کسی دوسرے انسان کے غلط یا صحیح ہونے کا فیصلہ کرتے ہوئے قانون کو ہاتھ میں لے۔ لیکن ایک چیز واضح ہے کہ ممتاز قادری سے پہلے سلمان تاثیر نے قانون کو ہاتھ میں لیا اور رد عمل کے طور پر ممتاز قادری نے انہیں قتل کیا ۔

ناموس رسالت کا قانون شریعت اور پاکستان کے قانون دونوں میں موجود ہے۔ اب اگر اس قانون کو کالا قانون کہنا جرم نہیں ہے تو پھر ممتاز قادری بھی مجرم نہیں ۔ اور سلمان تاثیر کے قتل کے تیسرے دن رحمان ملک کا بیان آیا کہ میرے سامنے گستاخِ رسول آ جائے تو میںبھی اس کو قتل کر دوں۔ اب اگر وزیر داخلہ ایک ملک کے قانوں کو ہاتھ میں لے کر اتنی بڑی بات کر سکتا ہے تو ممتاز قادری نے کیا غلط کر دیا۔ چنانچہ اگر ممتاز قادری مجرم ہے تو جرم سلمان تاثیر کا بھی تھا۔ غلط اور صحیح ایک طرف لیکن ممتاز قادری نے جو کیا عشق اور محبت میں کیا جبکہ سلمان تاثیر سب کچھ شاید روشن خیال بننے کے لیے کر رہا تھا۔

موت سے کچھ روز قبل کامران شاہد کے پراگرام فرنٹ لائن میں جب سلمان تاثیر سے ایک لڑکے نے سوال کیا کہ 14ویں پارے کے چھٹے رکوع میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ جس نے رسول اللہ سے استہزا کیا، اس سے بدلہ میں خود لوں گا۔ یہ خدا تعالی کہہ رہا ہے تو آپ اس کے قانوں کو جھٹلا کے کہہ رہے ہیں کہ بندے کا قانون ہے، یہ خدا کا قانون نہیں ہے؟ تو انھوں نے نظر انداز کرتے ہوئے جواب دیا کہ اگر اللہ خود بدلہ لے گا تو پھر کسی کو ضرورت نہیں ہے قانون بنانے کی؟

اب اگر یہ اللہ کا قانون ہے اور کسی بندے کو ضرورت نہیں بیچ میں آنے کی تو آپ کیوں اس کی مخالفت کر رہے تھے۔ اور پھر اللہ کے قانون میں ٹانگ اڑانے کا نتیجہ کیا ہوا کہ میرے رب نے اپنے ہی محافظ کے ہاتھوں گولیاں مرواکر قصہ ہی ختم کر دیا۔ اور قرآن کی آیت میں اپنے نبی پاک ﷺ کی عزت کے بدلے کا وعدہ پورا کر دیا۔

ناموسِ رسالت ایسا مسئلہ ہے جس پہ تمام مراتبِ فکر اور مسالک کے لوگ یکجا ہیں۔ وہ تمام لبرلز جو کہتے ہیں کہ پاکستان میں مسلک پرستی ختم ہونی چاہیئے کیا ا±ن کو نظر نہیں آتا کہ ممتاز قادری کے جنازے میں شیعہ، س±نی، وہابی، دیوبندی اور اہل حدیث ایک ہی صف میں کندھے سے کندھا ملائے کھڑے ہیں۔ ممتاز قادری کے اس عمل سے ایک بات کا پتہ تو چل گیا کہ تمام مسالک کے لوگ نبی پاک ﷺ کی عزت اور نامو س کے معاملے میں یکجا ہیں۔ چنانچہ اللہ کے قانوں کو کالا قانون کہہ کے سلمان تاثیر نے اس ملک کے 98% سے ذیادہ لوگوں کے احساسات کو مجروح کیا۔ اس واقعے سے تمام حکمرانوں کو سبق سیکھنا چاہیئے کہ جب مسئلہ اللہ اور رسول کی عزت کا آ جائے تو اپنے ہی محافظ باغی ہو جاتے ہیں۔

میں نے ایک بار اپنے بابا جی سے پوچھا کہ کسی کے مرنے کے بعد ہم کیسے معلوم کر سکتے ہیں کہ وہ شخص اللہ کی نظر میں کتنا مقبول تھا۔ آپ فرمانے لگے بیٹا اس کے جنازے میں چلے جاو۔ اللہ جس سے محبت کرتا ہے اپنے بندوں کے دلوں میں ا±س کے لیے محبت ڈال دیتا ہے اور جنازے کی صفیں بتا دیتے ہیں کہ کون اللہ کی نظر میں کتنا مقبول تھا۔ آج ممتاز قادری صاحب کے جنازے میں اتنے لوگ موجود تھے ک لیاقت باغ چھوٹا پڑ گیا۔ پورے پاکستان میں ہر چند کلومیٹر کے بعد غائبانہ نمازِ جنازہ پڑھی گئی۔

ناموس رسالت کا قانوں ہماری شریعت اور قانون دونوں میں ہے۔ لیکن جب حکومت اس پہ عمل درآمد کرنے میں ناکام ہو جاتی ہے تو پھر یہی کام وہاں کے لوگ بخوبی انجام دے دیتے ہیں۔ ہم وہ واحد قوم ہیں جو چاہے سارا سال مسجد نہ بھی جائیں مگر اللہ اور ا±س کے رسول کی عزت کے معاملے پہ مرنے مروانے پہ آ جاتے ہیں۔ میرا سوال صرف یہ ہے کر اگر ممتاز قادری سلمان تاثیر کو نہ مارتا تو کیا پیپلز پارٹی کی حکومت سلمان تاثیر کو سزا دیتی؟ میں قادری صاحب کے اس طرح قانون کو ہاتھ میں لینے کو بالکل پسند نہیں کرتا مگر جب کچھ لوگوں نے قادری صاحب پر الزامات لگا کر سلمان تاثیر کے قصیدے پڑھنے شروع کر دیے تو میں یہ سب لکھنے پہ مجبور ہو گیا۔ اِس وقت قادری کو پھانسی سے زیادہ ضروری کام یہ تھا کہ ملک میں شریعت کورٹ کو اختیارات دیئے جائیں اور ناموسِ رسالت کے معاملے میں کسی شخص کو قانوں ہاتھ میں لینے کی اجازت نہ دی جائے، لوگون کو یقین دیانی کرائی جائے کہ گستاخی کرنے والے کو سزا لازمی دی جائے گی۔ اور مستقبل میں کسی اور سلمان تاثیر کو اجازت نہ دی جائے کہ اللہ کے قانون میں کیڑے نکالنے کی کوشش کرے۔ اِس ملک کی 89% عوام کے احساسات کو 2% لبرلز کی خوشی کے لیے ٹھیس نہ پہنچائی جائے۔

حیرانی مجھے اس بات کی ہے کہ ممتاز قادری صاحب کی سزائے موت پہ سب سے زیادہ خوشیاں وہ منا رہے ہیں جو پھانسی کی سزا کے ہی خلاف ہیں۔

قادری صاحب کی سزائے موت کو انصاف کہنے والوں سے میں اختلاف رگھتا ہوں کیونکہ یہ انصاف نہیں بلکہ طاقت کا استعمال تھا۔ صرف اس لیے کہ قادری ایک غریب آدمی تھا تو پھانسی دے دی گئی ، ایان علی کو سزا کیوں نہیں دی گئی؟ شاہرخ جتوئی کو پھانسی کیوں نہیں ہوئی؟ بلدیہ ٹاو¿ن اور ماڈل ٹاو¿ن کے قاتلوں کو سزاکیوں نہیں ملی؟ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کو سزا کیوں نہیں ملی؟صرف اس لیے کیونکہ وہ تمام طاقت ور ہیں اس لیے گزارش صرف اتنی ہے کہ اس طاقت کے کھیل میں مذہب کو مت گھسیٹیے۔

میں جلسے جلوسوں میں مشتعل ہو کر آگ لگانے والوں کو بالکل پسند نہیں کرتا۔ میں قانوں کو ہاتھ میں لینے کے بجائے یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت شریعت کورٹ کو اختیارات دے اور آئندہ ناموس رسالت کے تمام مسائل کو شریعت کے مطابق حل کیا جائے۔ اگر آپ کو میری تحریر سے اختلاف ہے تو رکھیے۔ میں آپ کی رائے کی قدر کرتا ہوں۔ ممتاز قادری کو سزا اگر قانون کے مطابق ہوئی ہے تو میں بھی قانون کا پابند ہوں۔ مگر میں اس انتظار میں بھی ہوں کہ کب شاہرخ خان جتوئی، ماڈل ٹاو¿ن، بلدیہ ٹاو¿ن اور ایسے ہی کئی طاقتور قاتلوں کو بھی قانون کے مطابق سزا ملے گی۔


Comments

FB Login Required - comments

One thought on “ممتاز قادری کو سزائے موت: چند خیالات

  • 03-03-2016 at 6:03 pm
    Permalink

    Two wrongs make no right, what did Salman Teaseer do was inappropriate, but not illegal, there are many Ulema you may not know, who have different point of view, and argue against blasphemy law as it stands in Pakistan. Your respectable baba G misled you, the numbers of persons attending Janaza is an indication of popularity, not the standard of right or wrong. By the way the same God who caused the murder of Taseer, as per your argument, caused the hanging of Qadri. Think of the weakness of your arguments.

Comments are closed.