مولانا فضل الرحمن اور دھمکیوں کی سیاست


mujahid aliجمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن آج کل نواز شریف حکومت سے ناراض ہیں اور انہیں دھمکانے کے لئے نت نئے بہانے تراش رہے ہیں۔ پہلے پنجاب اسمبلی میں عورتوں کے تحفظ کے قانون کو بنیاد بنا کر انہوں نے کئی روز تک مسلم لیگ (ن) اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو ہدف تنقید بنایا۔ حالانکہ یہ قانون ملک کے ایک کمزور طبقے کے ساتھ ہونے والے ظلم و زیادتی کے خاتمہ کے لئے ایک اہم اور ضروری قدم تھا۔ اب ملتان میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دھمکی دی ہے کہ وہ جس وقت چاہیں ملک میں حکومت کو گرانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جو لوگ بھی مولانا فضل الرحمن کے طرز سیاست ، اقتدار کی ہوس اور کسی نہ کسی طور حکومت کا حصہ بنے رہنے کی عادت اور ضرورت کو جانتے ہیں۔ وہ ضرور اس بات پر حیران ہیں کہ حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود مولانا نے یہ نیا تماشا کیوں شروع کیا ہے۔ کیا وہ ملنے والی سہولتوں اور مراعات کو کم سمجھتے ہوئے اب ان میں اضافہ کا ”مطالبہ“ کر رہے ہیں۔ کیونکہ اگر مولانا حکومت گرانے کی پوزیشن میں ہوتے تو وہ اس حیثیت کو دھمکی کے طور پر استعمال کرنے کی بجائے یہ کام کر گزرتے۔

یوں تو ایک جمہوری نظام کا حصہ بننے والی کسی جماعت کو بھی یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی حکومت کو غیر جمہوری ہتھکنڈوں سے گرانے کی بات کرے۔ لیکن اگر کوئی جماعت مذہبی سیاست کی دعویدار ہو اور اسلامی اصولوں کے مطابق ملک میں تبدیلیاں لانے کی خواہش کا اظہار بھی کرتی رہتی ہو، تو اس کا یہ عمل غیر جمہوری ہونے کے ساتھ غیر اخلاقی بھی کہلائے گا۔ خاص طور سے مولانا فضل الرحمن سے تو ضرور یہ پوچھا جا سکتا ہے کہ ایک طرف تو آپ اسلام اور شریعت کے بارے میں اتنے حساس ہیں کہ ایک بے ضرر سا صوبائی قانون بھی آپ کے لئے وجہ اشتعال بنا ہوا ہے۔ چونکہ آپ اسے اسلامی اصولوں اور شعائر کے خلاف سمجھتے ہیں۔ لیکن اسی بحث میں جب آپ اپنا سیاسی وزن اور حیثیت ثابت کرنے کے لئے حکومت گرانے کی صلاحیت کی بات کرتے ہیں تو اس سیاسی جھوٹ کو آپ کون سی شرعی دلیل کے مطابق درست اور حق ثابت کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن کی قیادت میں ان کی جماعت نے گزشتہ دو دہائیوں میں صرف اقتدار اور مفاد کی سیاست کی ہے۔ یوں تو یہ طریقہ کار بھی کسی لحاظ سے نہ تو شرعی ہے اور نہ اصولی سیاست قرار دیا جا سکتا ہے لیکن اس کے باوجود مولانا اور ان کے اتنے ہی شرعی اور اخلاقیات کے پابند ساتھی ایسی سیاست کرنے کو برا نہیں سمجھتے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہو گی کہ مولانا اور ان کے رفقا باریش ہیں اور وہ اس قسم کے حلیے میں نظر آتے ہیں جو اس ملک میں اسلامی دکھائی دینے کے لئے ضروری قرار پایا ہے۔ حالانکہ شلوار قمیض پہننا ، سر پر ٹوپی سجانا اور کندھے پر رومال لٹکانا سماجی روایت تو ہو سکتی ہے ، اس کا اسلام کے اصولوں اور روایات سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا۔

چونکہ ان سب ملاﺅں نے اب اس ترکیب کا نام اسلام رکھ لیا ہے جسے وہ بوقت ضرورت اپنے موقف کو حق اور خود کو معتبر ثابت کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ اس لئے اس پرچہ ترکیب کے استعمال کے مطابق سب کچھ جائز اور اسلامی قرار دیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس قسم کی دین فروشی کے مرتکب ہوتے ہوئے کیا مولانا فضل الرحمن اور ان کے ساتھیوں کو واقعی کبھی احساس نہیں ہوتا کہ وہ اس رویہ سے خود اس عقیدہ کی حرمت کو کس قدر نقصان پہنچا رہے ہیں جس کا نام لے کر وہ مفاد حاصل کرنے، اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے اور لوگوں میں یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی ساری سعی صرف اسلام کا نام سربلند کرنے کے لئے ہے۔ عام لوگ جب شریعت کے ان علمبرداروں کی مفاد پرستی اور سیاسی مقاصد کے لئے بھاگ دوڑ کو دیکھتے ہیں تو ان کے دلوں میں شبہات کا پیدا ہونے لازمی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے اس بیان میں یہ اعتراف کرنے کے بعد کہ وہ ووٹ حاصل کرنے اور اس کی بنیاد پر حکومت بنانے کی قوت و صلاحیت تو نہیں رکھتے، لیکن اگر وہ چاہیں تو بغیر ووٹ کی طاقت کے ووٹ کی بنیاد پر بننے والی حکومت کو گرا سکتے ہیں۔ اس بیان میں جمہوریت کے علاوہ ووٹ اور ووٹر کی بھی توہین کی گئی ہے۔ اس بیان کے ذریعے جمعیت علمائے اسلام کے قائد نے دراصل یہ واضح کیا ہے کہ وہ نہ تو جمہوری روایات کو مانتے ہیں اور نہ ہی عوام کے حق رائے دہی کا احترام کرتے ہیں۔ ایک ایسا ہی شخص اس قسم کے مضحکہ خیز دعوے کر کے راحت اور خوشی محسوس کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی بات میں وزن پیدا کرنے کے لئے کہا ہے کہ ممتاز قادری کی سزائے موت کے بعد پیدا ہونے والی عوامی ناراضی اور ہم مل کر اس حکومت کا تختہ الٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کا یہ بیان اس حوالے سے بھی حیرت انگیز ہے کہ ایک روز قبل ہی ان کی جماعت کے ایک رہنما اور اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ محمد خان شیرانی نے ممتاز قادری کی سزا کو قانون شکنی کا نتیجہ قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ اس نے مذہبی جذبات میں یہ اقدام کیا تھا لیکن اس نے قانون ہاتھ میں لیا، اسی لئے اسے اس کی سزا بھگتنا پڑی ہے۔ کوئی بھی قانون پسند اور آئین کا احترام کرنے والا شخص (وہ خود کو بھی ان لوگوں میں شامل کرتےہیں) اس طرز عمل کی تائید نہیں کر سکتا۔ ممتاز قادری کی سزائے موت کے بعد عام طور سے پائی جانے والی جذباتی کیفیت میں اسے ایک متوازن اور ہوشمندانہ بیان سمجھا جا رہا تھا۔ یہ بات چونکہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ اور ایک مذہبی رہنما نے کی تھی، اس لئے یہ توقع کی جا رہی تھی کہ اس سے ماحول بہتر کرنے میں مدد ملے گی اور جذبات میں اس سزا پر ریاست اور نظام کے بارے میں عدم اعتماد کا اظہار کرنے والے عناصر کی حوصلہ شکنی ہو گی۔ لیکن اب مولانا شیرانی کی پارٹی کے لیڈر نے ممتاز قادری کی نماز جنازہ پر اکٹھے ہونے والے جم غفیر کو اپنے سیاسی مقصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ مولانا فضل الرحمن اور ان کے ہم مسلک، قادری کی سزائے موت کو درست بھی سمجھتے ہیں اور اس کے خلاف چلائی جانے والی تحریک کا حصہ بھی نہیں تھے۔ اس سے بھی صرف یہی نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ قومی یا مذہبی مفاد کی بجائے مولانا کی سیاست کا محور ذاتی مفاد اور منفعت رہی ہے۔

اس تضاد بیانی سے مولانا فضل الرحمن کی حقیقت تو ظاہر ہو جاتی ہے لیکن پاکستان میں چونکہ کسی سطح پر غلطی تسلیم کرنے یا اس کی بنیاد پر احتساب کا رواج نہیں ہے، اس لئے غیر ذمہ دارانہ اور متضاد بیانات دینے اور بے بنیاد دعوے کرنے کے باوجود نہ کسی جماعت کی شہرت کو نقصان پہنچتا ہے اور نہ ہی ایسا رویہ اختیار کرنے والے لیڈر کی حیثیت متاثر ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی لیڈر کسی بھی قسم کا دعویٰ کر کے خبروں میں جگہ پا سکتا ہے اور ضرورت پڑنے پر اس سے منحرف ہو سکتا ہے۔ مولانا کا زیر نظر بیان ایک جائز حکومت کو گرانے کے بارے میں ہے۔ لیکن انہوں نے نہ تو یہ ضرورت محسوس کی کہ یہ بتائیں کہ ایک ایسی حکومت کو گرانے کی بات وہ کس بنیاد پر کر رہے ہیں جس کا وہ خود حصہ بھی ہیں اور اگر اس دعوے کی تکمیل کا وقت آ گیا تو وہ کون سی حکمت عملی اختیار کریں گے۔ ان کے پاس کون سی ایسی طاقت ہے کہ ان کے کہنے سے لوگ اپنے کام کاج چھوڑ کر سڑکوں پر نکل آئیں گے اور حکومت کو رخصت ہونے پر مجبور کر دیں گے۔ وہ یہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ ملک کی ایک مقبول جماعت اور ایک منظم مذہبی جماعت کے لیڈر 2014 میں ایسی ہی کوشش کر چکے ہیں لیکن وہ اس مقصد میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ حالات میں کوئی ایسی تبدیلی رونما نہیں ہوئی ہے کہ اب مولانا فضل الرحمن ایسی ہی کسی کوشش میں کامیاب ہو سکیں۔ البتہ وہ اس قسم کی باتوں کے ذریعے حکومت کو دباﺅ میں لانے کی کوشش ضرور کر سکتے ہیں۔ یہی مولانا فضل الرحمن کا مقصد بھی ہے۔

اسی طرز سیاست نے اس ملک میں جمہوریت اور اس کی روایت پر عام لوگوں کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ پاکستان اپنی مختصر تاریخ میں جمہوری نظام استوار کرنے کے لئے کئی بار مشکلات کا شکار ہو چکا ہے۔ متعدد بار فوجی کمانڈروں نے سیاستدانوں کو نااہل اور خود کو عقل کل سمجھتے ہوئے نظام درست کرنے کا دعویٰ کیا اور حکومت پر قبضہ کرلیا۔ ہر مرتبہ یہ طریقہ ناکام ہوا۔ اور آئین کی عملداری پر لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس بھی پہنچی۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں جب بھی کسی سیاسی حکومت کے دور میں کوئی غلطی ہوتی ہے یا بے شمار مسائل میں سے بعض کے حل کی صورت پیدا نہیں ہوتی تو فوج کو اقتدار سنبھالنے کی دعوت دینے والے لوگ جھنڈے اور بینر اٹھا کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں۔ حالانکہ بار بار تجربوں سے ثابت ہو چکا ہے کہ یہ طریقہ اس ملک کے مسائل کا حل نہیں ہے۔ پاکستان چار صوبوں پر مشتمل وفاق کا نام ہے اور ایک فنکشنل جمہوری نظام ہی ان چاروں اکائیوں کو اکٹھا رکھنے اور مل جل کر مسائل حل کرنے کی واحد امید ہو سکتا ہے۔ ایسے میں جو لوگ بھی کسی بھی عذر کی بنا پر جمہوریت اور جمہوری عمل کے نتیجہ میں قائم ہونے والی حکومت کو گرانے کی بات کرتے ہیں وہ لوگوں کی ناراضگی کو اپنے مفاد کے لئے تو استعمال کر سکتے ہیں لیکن اس سے اس ملک کے مسائل حل کرنے میں کوئی مدد نہیں مل سکتی۔

اسے بھی پاکستان کی بدنصیبی کہنا چاہئے کہ ملک میں جب بھی اصلاح اور بہتری کے لئے فوج نے اقتدار سنبھالا ہے تو ملک کی انہی مذہبی جماعتوں نے بڑھ کر اس کا ساتھ دیا ہے جو نظریہ پاکستان اور اس کی بنیاد پر ملک میں اسلام نافذ کرنے کی بات کرتے نہیں تھکتیں۔ مولانا فضل الرحمن سمیت یہ سارے لوگ دراصل جمہوریت کی بجائے شخصی حکومت پر یقین رکھتے ہیں اور اسی راستے سے اپنی مرضی کی شریعت اور اسلام نافذ کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ غیر جمہوری قوتوں کے ہاتھ مضبوط کئے ہیں۔ اس طریقے سے وہ اسلام لانے میں تو کامیاب نہیں ہوئے البتہ عوام کی تائید کے بغیر بھی اقتدار کے مزے ضرور لوٹتے رہے ہیں۔ لیکن یہ عناصر جمہوری دور میں یوں میدان عمل میں نکلتے ہیں گویا وہی جمہور کے اصل نمائندے ہیں اور ملک میں اصلی اور حقیقی جمہوریت نافذ کروا کے ہی دم لیں گے۔ اسی دوہری حکمت عملی کی وجہ سے یہ عناصر ہمیشہ عوامی تائید سے محروم رہے ہیں۔ لیکن وہ اپنا طرز عمل تبدیل کرنے اور عوام کے فیصلہ کرنے کی صلاحیت پر بھروسہ کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے۔

مولانا فضل الرحمن کے حکومت الٹنے کے بیان کے بعد بھی اس قسم کے تبصرے سننے میں آئے ہیں کہ مولانا سیاسی نابغہ ہیں اور سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں کیونکہ انہیں پتہ ہے کہ کب کون سی بات کر کے کیا فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ کچھ اسی قسم کی رائے پیپلز پارٹی کے معاون چیئرمین آصف علی زرداری کے بارے میں بھی سامنے آتی رہتی ہے۔ لیکن اگر اس ملک میں واقعی جمہوریت کو عوامی سطح پر قابل اعتبار بنانا ہے تو اس رویہ کے خلاف کام کرنے کی ضرورت ہے کہ سیاست جھوٹ اور جوڑ توڑ کا ایک کھیل ہے۔ پاکستان کے لوگوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ جمہوریت عوام کی رائے سے چلنے والا ایک ایسا نظام ہے جس میں فریب اور دھوکہ دہی کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مولانا کا بیان خواہ نیم مزاحیہ انداز میں حجت کے طور پر ہی دیا گیا ہو لیکن اسے قبول نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان ایسے غیر سنجیدہ رہنماﺅں کے اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ بیانات سے ناقابل تلافی نقصان برداشت کر چکا ہے۔ اب اس ملک کی بقا کے لئے ایسی باتوں اور لیڈروں سے پناہ مانگنا ضروری ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 415 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali